ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

شام میں سرکار دو عالم سے نسبت رکھنے والا صحابی درخت

میں آج آپ کو ایک ’’صحابی درخت‘‘ سے متعارف کراناچاہتاہوں ۔ یہ خوش نصیب اور سعادت مند درخت اردن (Jorden) کے ملک میں موجود ہے۔ اسے تعظیم رسولؐ کے طفیل بقائے دوام حاصل ہوگئی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ اس پوری شاہراہ پر اس درخت کے علاوہ ایک پودا بھی پنپ نہیں سکالیکن اس درخت کو آب وہوا کی شدت اور موسموں کے تغیر و تبدل سے کوئی خطرہ نہیں۔ اس درخت کاذکر ’’صحیح ترمذی‘‘میں ’’ابواب المراقب‘‘میں موجود ہے۔حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺکی عمرمبارکہ 12برس تھی جب جناب ابوطالب نے رئوسائے قریش کے ہمراہ تجارت کی غرض سے سفرشام کا عزم کیا۔ حضور اکرمﷺ نے بھی ساتھ چلنے کی خواہش ظاہر کی۔ چنانچہ آپ ؐ کو بھی ساتھ لے لیا گیا۔ مورخین کے نزدیک یہ سفر 582ء میں ہوا۔ جب یہ قافلہ بیت المقدس کے شمال میں دمشق کے قریب بصریٰ کے مقام پر پہنچا تو ایک گھنے درخت کے قریب جناب ابوطالب سواری سے نیچے اترے۔ باقی اہل قافلہ نے بھی آرام کی غرض سے سواریوں کو کھلا چھوڑ دیا۔ اس زمانے میں یہ علاقہ رومی سلطنت کے زیراقتدارتھا۔ درخت کے قریب ہی ایک گرجا تھا جس میں ایک راہب رہتا تھا۔ راہب کا لقب ’’بحیرا‘‘ (Bahira) یعنی پارسا اور نام جرجیس یا سرجیس تھا۔ Encyclopedia of Islam (Vol:1) مطبوعہ Leiden 1979، ص 922 کے مطابق اس نام کا تلفظ SERGIUS ہے۔ بحیرا اناجیل اربعہ کا بہت بڑا عالم تھا اور کتاب ِ مقدس کا درس دیا کرتا تھا اور اپنے علاقے میں نہایت قدر و منزلت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ حضرت سلمان فارسیؓ نے بھی قبل از اسلام اسی سے علم حاصل کیا تھا۔شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ نے ’’مدارج النبوہ‘‘ (جلد دوم) میں لکھا ہے کہ بحیرا کے اس علاقہ میں مقیم ہونے کی وجہ اس کی یہ تحقیق تھی کہ ادھر سےنبی آخر الزماںﷺ کا گزرہوگاچنانچہ وہ حجاز سے آنے والے ہر قافلے کو اپنی کھڑکی سے دیکھتا رہتامگر اس میں اسے وہ ہستی نظر نہ آتی۔ بحیرا بلا کا تارک الدنیا اورگوشہ نشیں بزرگ تھا۔ کبھی گرجا سےباہر آیا تھا اور نہ ہی کبھی کسی قافلے سے اس نے ملاقات کی تھی۔ لیکن اس مرتبہ وہ خلاف ِ دستور قافلے پر نظریں جمائےگرجاکے صدر دروازے پرکھڑا تھا۔ جب قافلے نے درخت کے نیچے پڑائو ڈالا تو وہ قافلے میں آکر گھس گیا اور حضوراکرمﷺ کا دست ِ اقدس تھام کر لوگوں سے مخاطب ہو کر بآواز بلند کہنے لگا:’’یہ سرکار ِ دو عالم ہیں۔ یہ رب العالمین کے رسول ہیں۔ اللہ انہیں رحمتہ للعالمین بنا کرمبعوث فرمائے گا۔‘‘(ترمذی)

اہل قافلہ بحیرا کا یہ تعامل دیکھ کر حیرت و استعجاب میں ڈوب گئے۔ رئوسائے قریش میں سے ایک نے پوچھا ’’اے بزرگ محترم! آپ کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی؟ ‘‘اس نے جواب دیا ’’جب آپ لوگ گھاٹی سے اتر کے آ رہے تھے تو میں دیکھ رہا تھا کہ تمام درخت اورپتھر ان کےسامنے سجدہ کر رہے ہیں اور بادل ا ن کے سر پرسایہ کر رہا ہے۔ یہ خصوصیت صرف انبیائے کرام کو حاصل ہوتی ہے۔علاوہ ازیں میں انہیں مہر نبوت سے بھی پہچان سکتاہوں جو ان کے دو کندھوں کے درمیان ہوگی۔‘‘

پھربحیراگرجا میں واپس چلاگیا تاکہ اہل قافلہ کے لئے ضیافت کا اہتمام کرے۔ جب وہ کھانا لے کراہل قافلہ کےپاس پہنچا تو حضوراکرم ﷺ اونٹ چرانے کے لئے تشریف لے گئے تھے۔ اس نےآپؐ کے بارے میں استفسار کیا۔ چنانچہ آپ ؐ کو بلایا گیا۔ آپؐ تشریف لائے تو ایک بدلی آپؐ کے سراقدس پر سایہ کناں تھی۔ جب آپؐ درخت کے قریب پہنچے تو اہل قافلہ درخت کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ آپؐ نے ازراہِ ادب سب سے پیچھے بیٹھنا گوارا کیا جہاں دھوپ تھی اور درخت کاسایہ ختم ہو جاتا تھا۔ فوراً درخت نے جھک کر آپ ؐکے سراقدس پر سایہ کردیا۔

’’البدایہ والنہایہ‘‘ اور سیرت ابن ہشام کے مطابق درخت کی شاخیں بے تابانہ آپؐ کے سراقدس پر جھک گئیں۔ یہ دیکھ کر بحیرا فرط ِ محبت سے مغلوب ہو کر بے ساختہ پکار اٹھا: ’’دیکھ لو درخت کا سایہ ان کی طرف جھک گیا ہے‘‘
آنکھ والا ترے جوبن کا تماشا دیکھے
دیدۂ کور کو کیا آئے نظر، کیا دیکھے

امام بیہقی نے اس واقعہ کو قدرے اختلاف کے ساتھ روایت کیاہے۔ ان کےمطابق بحیرا نے اہل قافلہ کو صومعہ کے اندر کھانے پر مدعو کیا۔ تمام قافلے والے چلے گئے لیکن حضورﷺ اسی درخت کے نیچے تشریف فرما رہے۔ جب بحیراکو حضورﷺ نظر نہ آئے تواس نے کہا ’’جس ہستی کے اعزاز میں یہ تقریب برپا کی گئی ہے وہ ہستی نظر نہیں آ رہی۔‘‘ یہ سنتے ہی ایک قریشی یہ کہتے ہوئے اٹھا کہ لات و عزیٰ کی قسم! ہمارے لئے لائق شرم ہے کہ ہم تو کھانا کھا لیں اور عبداللہ بن عبدالمطلب کا فرزند رہ جائے‘‘ اور حضورﷺ کو اپنی آغوش میں اٹھا لایا۔ ابونعیم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت کیاہے کہ جب آپؐ گرجامیں داخل ہوئے توگرجا نورِنبوت سے جگمگا اٹھا۔ شیخ عبدالرحمن جامیؔ نے کیا خوب کہا ہے:

محمد احمد و محمود ، وی را خالقش بستود
زو شد بود ہر موجود، زو شد دیدہ ہا بینا
ترجمہ :محمد مصطفی ﷺ احمد اور محمود ہیں۔ آپؐ کو خالق نے اعلیٰ صفات سے متصف فرمایا۔ آپ ؐ ہی کی بدولت ہر چیزموجود ہے۔آپؐ ہی کی بدولت ظلمتیں کافور ہوئیں اورہماری آنکھیں دیکھنےکےقابل ہوئیں۔

عصرحاضر میں سائنس بھی شجر و حجر میں شعور کے موجود ہونے کو تسلیم کرتی ہے اوراحادیث ِ نبویہؐ سے بھی یہ بات ثابت ہے۔ ارشادنبویؐ ہے کہ ’’احد‘‘ (Ohud) پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔ جبکہ ’عیر‘‘ پہا ڑ ہم سے بغض رکھتا ہے اور ہم بھی اس سے آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ میںاس پتھر کو پہچانتاہوں جو اعلان نبوت سے پہلے مجھےسلام کیاکرتا تھا۔القصہ مختصر ضیافت کے بعد بحیرا نے حضور اکرمﷺ سے سوال و جواب کی ایک نشست کی اور جناب ابو طالب سے درخواست کی کہ آپ اپنے بھتیجے کو واپس لے جائیں۔ اگر رومی انہیں دیکھیں گے تو علامات ِ نبوت اور معجزات کی مدد سے انہیں پہچان کر ان کی جان کے درپے ہوں گے۔یوں ابوطالب حضورﷺ کو لے کر مکہ مکرمہ پلٹ آئےیا واپس بھجوا دیا۔قافلہ اس مقام سے روانہ ہو گیا لیکن صاحب ِ ایمان درخت آج بھی اس مقام پر ترو تازہ ہے۔ موجودہ جغرافیائی حدود کے مطابق یہ درخت مشرقی اردن میں صفوی کے مقام پر وادی سرہان کے قریب واقعہ ہے۔ حکومت اردن نے اس کے قریب حجاز سے شام کو جانے والی تجارتی شاہراہ کے آثار بھی تلاش کرلئے ہیں اور اس درخت کی ڈاکومنٹری بھی بنائی ہے۔ اس کی اہم نشانی یہ ہے کہ یہ سینکڑوں مربع میل تک لق و دق صحرا میں اگا ہوا تنہا درخت ہے۔ مقام غور ہے کہ اگر ایک درخت کو حب رسولؐ کی بدولت حیات ِ دائمی نصیب ہوسکتی ہے تو اس دل پر موت کیسے وارد ہوسکتی ہے جو محبت ِ رسولﷺ کاگنجینہ بن جائے۔اس درخت کی مزید تفصیل کے لئے الوفا یا احوال ِ المصطفیٰ(ابن جوزی) ، سیرت حلبیہ، الخصائص الکبریٰ، المواہب اللّدنیہ اور مدارج النبوہ وغیرہ کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ چشمانِ سر سے ہمیں اس درخت کی زیارت کاموقع عطا فرمائے۔ آپ میری اس دعا پر آمین کہہ دیں۔

والسلام ۔ڈاکٹر محمد نوید ازہر
شعبہ اردو گورنمنٹ اسلامیہ کالج، ریلوے روڈ لاہور

تبصرے
Loading...