بلاگ

صدام کی شہادت اور اقوامِ متحدہ کی بے بسی

یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب محترمہ عابدہ حسین امریکا میں پاکستان کی سفیر تھیں ۔ اس دوران امریکا کے چیف آف سٹاف جنرل پاول سے ان کی ملاقات ہوئی ۔ دوران گفتگو جنرل نے پاکستانی ایٹم بم کے بارے میں ان سے مختلف چبھتے ہوئے سوالات کئے ۔ جن میں ایک سوال یہ بھی تھا ” آپ کا کیا خیال ہے کہ پاکستان جو ایٹم بم بنا رہا ہے کیا وہ اسے کبھی استعمال کر سکے گا “ ذہین و فطین اور حاضر دماغ و حاضر جواب عابدہ حسین نے اس سوال کا جواب نفی میں دیا ۔ پاول نے مصنوعی اظہار حیرت کرتے ہوئے پوچھا ” پھر پاکستان اسے بنانے پر کیوں تلاہوا ہے؟ “ فہیم و فریس پاکستانی سفیر نے ایک لحظے کا توقف کئے بغیرترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہا ” کیا امریکا کبھی ایٹم بم استعمال کرسکے گا ، اگرنہیں توپھر اس نے جوہری اور کیمیائی ہتھیاروں کا ایک بڑا ذخیرہ اپنے اسلحہ خانوںمیں کیوں رکھا ہوا ہے ؟ “

جواب میں جنرل نے ڈپلومیٹک لیکن مختصر ترین الفاظ سے کام لیتے ہوئے کہا ” ہم اس ذخیرے کو کم کر رہے ہیں “ عابدہ حسین نے اس پر پوچھا ” کتنا کم کررہے ہیں اور ہمارے پاس تو بقول آپ کے ہے ہی کیا “ یہ جواب سنتے ہی جنرل پاول کی چوڑی پیشانی پر شکنیں نمودار ہوئیں اور اس نے رعونت آمیز مخصوص امریکی لہجے میں کہا ” محترمہ میں اخلاقیات ( MORALITY) کی بات نہیں کر رہا ، ( REALITY) بتانا چاہتا ہوں اور وہ حقیقت یہ ہے کہ امریکا اس لئے ایٹمی اسلحہ کا بڑا ذخیرہ رکھ سکتا ہے کہ وہ امریکا ہے اور آپ اس لئے ایک آدھ بم بھی نہیں بنا سکتے کہ آپ پاکستان ہیں “

یہ تو کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں کہ امریکی اسلحہ ساز لیبارٹریوں ، کارخانوں اور پلانٹوں میں ایسے مہلک ترین ہتھیار تیار ہو رہے ہیں ، جو عالم انسانیت اور امنِ عالم کے لئے ایک مستقل خطرہ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔دنیا جان چکی ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی مغربی ممالک نے محدود، وسیع اور لا محدود پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی بھی درجہ بندی کر رکھی ہے ۔ (الف)روایتی (ب) جوہری (ج) غیر روایتی غیر جوہری دعویٰ کیا جاتا ہے کہ امریکا اور اس کے چہیتے ممالک کے پاس ان تینوں میں سب سے کم مقدار یا تعداد میں غیر روایتی اور غیر جوہری ہتھیار پائے جاتے ہیں ۔ یہ دعویٰ سفید جھوٹ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا ۔ اُن کی جو مقدار یا تعداد امریکا اور اس کے دامن بردار ممالک بتاتے ہیں وہ مبینہ تعداد اور مقدار سے لاکھوں گنا زیادہ ہے ۔ یہ معلوم ہونا چاہیے کہ غیرروایتی اور غیر جوہری ہتھیار در حقیقت کیمیائی ہتھیار ہیں ۔ یہ ہتھیار گیسوں اور مفاعل مادوں کا آمیختہ،مرکب اور مجموعہ ہوتے ہیں۔ ان کی چار قسمیں ہیں ۔ (1) خون کو متاثر کرنے والے (2) نظامِ تنفس کو متاثر کرنے والے ( 3) جلانے والے (4) رگوں پر اثر انداز ہونے والے ۔ اِن مختلف کیمیائی ہتھیاروں کے اجزائے ترکیبی میں ہائیڈرو جن سائنائید ، سائناجن کلو رائیڈ ، کلورین ، کلورو پکرین ، فوسجین ، سلفر مسٹرڈ ، نائٹرو جن مسٹرڈ ، لیوی سائٹ ، ٹے بن ، سیرن ، سومن ، وی ایکس ایسے کیمیائی مادے نمایاں ہیں ۔ یہ ہتھیار عمومی طور پر گیس کی شکل میں ہوتے ہیں ، جنہیں ایک انچ یا اس سے بڑی ٹیوبوں میں بھرا جاتا ہے اور یہ فضا سے گرائے جاتے ہیں ۔

یہاں یہ امرتوجہ طلب ہے کہ صدام حسین کے عراق پر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تیاری کا الزام لگانے والے بش کے امریکا کا حال یہ ہے کہ اُس کے کیمیائی اسلحہ کے گوداموں میں ہر وقت کم از کم 30ہزار ٹن کیمیائی ہتھیار موجود رہتے ہیں ۔ صدام تختہ دار پر جھول کر امر ہوگیا لیکن 11 سال سے زائد عرصہ گزر چکنے کے باوجود امریکی سراغرساں عراق کے اسلحہ کے انباروں میں سے ایک ملی میٹر سائز کی کیمیائی اسلحہ سے بھری ایک ٹیوب بھی برآمد نہیں کر سکے ۔یہاں یہ یاد رہے کہ تنہا عالمی طاقت ہونے کا دعویدار امریکا ابلاغیاتی محاذ پر مس انفار میشن ، ان انفارمیشن، ڈس انفار میشن اور انٹر پریٹیشن کے جو ہتھیار صدام حکومت اور صدام کی شخصیت کی کردار کشی کے لئے استعمال کرتا رہا ہے ، وہ ان کیمیائی ہتھیاروں سے بھی کہیں زیادہ ہلاکت آفریں ہیں ۔

ایک اور تحقیقی جریدے کی رپورٹ کے مطابق مصر کے صدر حسنی مبارک نے 1994 ءمیں سوڈان کے جنرل بشیر کو یہ سمجھایا تھا کہ ” اگر تم گندم میں بھی خود کفالت حاصل کرنے کی کوشش کرو گے تو امریکا تمہارے پیچھے پڑ جائے گا “ ایسے میں امریکا اس صدام حسین کو کیسے معاف کر سکتا تھا جس نے مشرقِ وسطیٰ میں سب سے پہلے ایٹمی پروگرام کو بامِ تکمیل تک پہنچایا اور واشگاف الفاظ میں واضح کیا کہ عراق کے ایٹمی پروگرام کا بنیادی مقصد مشرقِ وسطیٰ کے تمام ممالک کو اسرائیل کی متوقع ایٹمی دہشت گردی سے محفوظ کرنے کیلئے جو ہری چھتری اور نیو کلیائی ڈھال فراہم کرنا ہے۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ خلیجی جنگ کے بعد عراق کی تباہ کاری کی ذمہ داری صرف اور صرف امریکا ہی پر عائد نہیں ہوتی بلکہ ظلم تو یہ ہے کہ اس جرم میں اقوامِ متحدہ بھی برابر کی شریک ہے ۔ اقوامِ متحدہ کا ہر ادارہ امریکا کا تابع مہمل ہے ۔ اقوامِ متحدہ ایک ایسا ربوٹ ہے جس کا ریموٹ کنٹرول امریکا کے ہاتھ میں ہے ۔اپنی صحیح ولادت سے لیکر تا دم تحریر کبھی بی اقوامِ متحدہ کبھی بھی خود مختار اور آزاد ادارہ نہیں رہا ۔ 1948 ءمیں یہ ادارہ قائم ہوا اور 1950 ءمیں یہ اس حد تک بڑی طاقتوں کے زر خرید غلام کا روپ دھار چکا تھا کہ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے پہلے مستقل نمائندے اور اردو ادب کے لافانی ادیب اور دانشور پطرس بخاری کو اس ادارے کے داخلی نظام کا بغور معائنہ کرنے کے بعد اپنے مخصوص انداز میں یہ ریمارکس دینا پڑے تھے When there is problem between two small nations, the problem disappear. If the problem is between one big and one small nation the small nation disappear and if the problem is between two big nations then the UNO disappears. بیسویں صدی کے آخری عشرہ میں جب امریکا نے نیو ورلڈ آرڈر کے نام سے دنیا کا عالمی حکمران بننے کا جنونی ایجنڈا پیش کیا اور بعد ازاں مشرقِ وسطیٰ کے سب سے ترقی یافتہ ملک عراق کی تباہ کاری کا منصوبہ پینٹا گون ، سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور وائٹ ہاﺅس کے شیطانوں نے مرتب کیا تو اس موقع پر چونکہ ایک بڑی طاقت کے مقابلے میں چھوٹی طاقت کو مسمار کرنے کا ایجنڈا حیلوں بہانوں سے اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل کے سامنے رکھا گیا تو پطرس بخاری کے یہ الفاظ سو فیصد درست ثابت ہوئے : If the problem is between one big and one small nation the small nation disappear بش نے بڑی طاقت کے حکمران ہونے کے ناطے اقوامِ متحدہ کی بد ترین تذلیل کی ۔ اس موقع پر اقوامِ متحدہ کے جن باضمیراراکین نے عراق پر حملے سے قبل امریکی حکمران کو یہ مشورہ دیا کہ وہ اقوامِ متحدہ سے رجوع کرے تو اس نے انتہائی متکبرانہ اور فرعونی انداز میںاسے مسترد کر دیا ۔

طنز اس پر بس نہیں ، اس نے نا صحان مشفق پرپھبتی کستے ہوئے بتایا کہ۔امریکا کوئی سکول کا بچہ نہیںکہ اسے کلاس روم سے باہر جانے کا اجازت نامہ حاصل کرنے کے لئے سکول انتظامیہ کو درخواست دینا پڑے۔ ”بش کے اصل الفاظ یہ تھے “ :” امریکا کو اپنے عوام کے دفاع اور سلامتی کے لئے کسی بھی بین الاقوامی ادارے سے اجازت نامہ حاصل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں “ اِدھربش کے یہ الفاظ فضاﺅں میں گونجے اور اُدھر چند ہی دنوں بعد 6 اگست 1990 ءکو اقوامِ متحدہ نے عراق پر معاشی پابندیاں عائد کر دیں ۔ صدام کو پھانسی دینے کی سزا پراظہار حیرت کرنے والی سادہ لوح عالمی برادری کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ جس جونیئر بش کی ڈکٹیشن پر گرین زون میں قائم امریکا کے زیرِ انتظام عدالت نے صدام کو پھانسی کا حکم سنایا ، وہ جونیئر بش اس سینئر بش کا بیٹا تھا کہ جب وہ ٹیکساس کی ریاست کا گورنر تھا تو اس کے عہد گورنری میں 152 افراد کو سزائے موت دی گئی۔ امریکی تاریخ میں دوسری عالمی جنگ کے بعد جونیئر بش کا باپ وہ پہلا سفاک ترین گورنر تھا جس کے دور میں اتنی زیادہ تعداد میں پھانسیاں دی گئیں ۔ ان پھانسی پانے والوں میں عورتیں ، معذور شہری ، کم عمر نوجوان اور حتیٰ کہ غیر ملکی تک شامل تھے ۔ کہتے ہیں کہ صدام کی سزائے موت کے فیصلے پر عملدر آمد کے لئے قومی و بین الاقوامی مسلمہ قوانین کا احترام نہیں کیا گیا ۔

قتل و غارت ، خونریزی ، دہشت گردی ، سفاکیت ، درندگی ، آدم خوری اورقصابیت جونیئر بش کے جینز میں ہے۔ کون نہیں جانتا کہ ویانا کنونشن آن ڈپلو میٹک ریلیشنز کے تحت کسی بھی غیر ملکی کو سزائے موت نہیں دی جا سکتی۔ 1990 ءکے بعدامریکا میں ایمل کانسی کو سزائے موت دی گئی جو ویانا کنونشن آن ڈپلو میٹک ریلیشنز کی کھلم کھلا خلاف ورزی تھی ۔ جونیئر بش تو اپنے باپ کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں ۔ سینئر بش کے بارے یہ بات زبان زدِ عام ہے کہ وہ سٹیٹ آف دی یونین اور معمول کے بیانات میں بھی غیر ملکی لیڈروں تک کو قتل کرنا اپنا حق بتایا کرتے تھے ۔ شکوہ کرنے والے شکوہ کرتے ہیں کہ صدام کو عید الاضحی کے روز پھانسی کیوں دی گئی۔ ان شکوہ کرنے والے انسانیت دوست تجزیہ نگاروں اور مبصروں کو کون بتائے کہ جونیئر بش کے والدسینئر بش کی عمومی شہرت مﺅرخ یہی لکھے گا کہ وہ فوری سزائے موت اور بلا امتیاز ہلاکتوںکا زبردست حامی تھا ۔ یہاں یہ یاد رہے کہ جونیئر بش تو امریکا کا نام نہاد حکمران ہے وہ ایک کٹھ پتلی ہے اس کی اصل ڈوریاں تو سینئر بش کی انگلیوں میں ہے۔ جونیئر بش اپنے ” پاپا “ کی خوشنودی کے لئے ڈریکولا تک بننے سے بھی دریغ نہیں کرے گا ۔ یہاں یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل ٹائپ ربوٹس آخر وائٹ ہاﺅس اور پینٹا گون کے اشاروں پر رقص کرنے پر کیوں مجبور ہیں ۔

اس کا ایک تاریخی پس منظر ہے خبر و نظر کے افق پر نگاہیں رکھنے والے ذی شعور دانشور جانتے ہیں کہ امریکا نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرلز تک کو 1960 ءکے واقعہ کے بعد ہمیشہ کے لئے خوفزدہ اور دہشت زدہ کر کے رکھ دیا ہے ۔ 1960 ءکے شرمناک واقعہ کے بعد بعد ازاں جو بھی شخص یو این او کا سیکرٹری جنرل بنا وہ اپنی کھال ، آل ، مال اور جان بچانے کے لئے امریکی صدر کی ڈکٹیشن پر حرف بہ حرف عمل کرنے پر مجبور ہوگیا ۔ ہُوا یوں کہ 60 کی دہائی میں ڈاگ ہیمر شولڈ اقوامِ متحدہ کا سیکرٹری جنرل تھا ۔ اُس کی خواہش تھی کہ کانگو کے مسئلہ پر وہ امریکا اور روس کے مابین سرد جنگ کا حل تلاش کرے ۔ اس کے لئے ڈاگ ہیمر شولڈ متحرک بھی ہوا ۔ وہ اِس حد تک سر گرمِ عمل ہوا کہ وہ کانگو میں پیٹرک لو ممبا سے بات چیت کے لئے جہاز پر روانہ ہوا ۔ یہ جہاز کانگو کی جانب محوِ پروا ز تھا ۔ امریکیوں نے اس جہاز کو کریش کروا دیا ۔ نتیجتاً ڈاگ ہیمر شولڈ ”جرمِ مصالحت کاری “ میں مارا گیا اور سی آئی اے نے ریشہ دوانیاں کر کے کانگو میں سول وار شروع کروائی اور اس دوران اسے مروا دیا گیا ۔ تب سے یو این او کا ہر سیکرٹری جنرل ڈاگ ہیمر شولڈ کے انجام کو ہمیشہ اپنے پیش ِ نظر رکھتا ہے اور وائٹ کے ”نادر شاہی احکامات “کی تعمیل کو اپنے عہد ے ، پروٹو کال اور گلو بل سٹیٹس سمبل کے تحفظ کی حتمی ضمانت جانتا ہے ۔ ۔۔ اس کے باوجود سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان کا یہ جرا¿ت مندانہ بیان ریکار ڈ پر موجود ہے کہ امریکی قبضہ کے بعد عراق میں صدام دور سے کہیں زیادہ ہلاکتیں ہوئیں. کیا 6 لاکھ معصوم اور نہتے عراقیوںکے قتل کے جرم میں جونئیر بش، کولن پاول،ڈک چینی،کنڈولیزا رائس اور رمزے فیلڈبھی پھانسی کی سزا کے مستحق نہیں ۔

تحریر: حافظ شفیق الرحمن