ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

سچے روپ کے درشن

آپ نے یقیناًدیکھا ہوگا کہ بینک میں کام کرنے والے لوگ سردیوں گرمیوں میں ٹائیاں پہنے رہتے ہیں۔ یہ اِن کا ڈریس کوڈ ہوتاہے۔ یہ خوبصورت بھی لگتے ہیں‘ نکھرے نکھرے چہرے ‘صاف ستھرے کپڑے۔ لیکن کبھی اِنہیں پانچ بجے کے بعد ملاحظہ کیجئے جب بینک کے دروازے جنرل پبلک کے لیے بند ہوجاتے ہیں اورشٹر نیچے گرا دیے جاتے ہیں۔ اُس وقت بینک بند ہوجاتاہے اوراکثر بینک والے ’’کھل‘‘ جاتے ہیں۔ٹائیوں والوں کی اکثریت ایک دم سے ٹائیاں اُتار پھینکتی ہے‘ شرٹ کا اوپر والا بٹن کھل جاتا ہے اور سارے ایک دم سے عام انسانوں والے حلئے میں آجاتے ہیں۔یہ ہے اصل انسان۔ہم سب سارا دن اپنے لباس سے لے کر چہرے تک ایک نقاب اوڑھے رکھتے ہیں لیکن جب یہ نقاب اترتا ہے تو بہت مزا آتاہے۔ہمارے ایک دوست ماشاء اللہ انتہائی ڈیسنٹ اورصاف ستھری طبیعت کے مالک ہیں ‘ اونچی آواز میں بولنا بھی تہذیب کے خلاف سمجھتے ہیں ‘ لیکن گھرمیں ہوں تو صبح کے وقت جب ماؤتھ واش استعمال کرتے ہیں تواُن کے اذیت ناک غراروں کی آواز آس پاس کے سات گھروں تک جاتی ہے اورکئی لوگوں کا ناشتہ ادھورا رہ جاتاہے۔یہ جو آپ کو کئی لوگ کوٹ پینٹ ٹائی لگائے بڑے انگریز بن کر‘ چمچ او ر کانٹے سے کھانا کھاتے نظر آتے ہیں‘ یہ گھر جاتے ہی دھوتی بلکہ لُنگی پہنتے ہیں اور آلتی پالتی مار کر بیگم کے سامنے زمین پر بیٹھ جاتے ہیں کہ ’’شکیلہ ! ذرا تیل چس دے‘‘۔

ہم سب کا اندر بھی ایک ہے اور باہر بھی ایک۔ زندگی کے یہ دوروپ ہر انسان بڑی کامیابی سے نبھاتاہے‘ لیکن اصل روپ وہی ہے جسے ہم سب سے چھپاتے ہیں۔ڈٹ کے کھانا ہم سب کو پسند ہے لیکن ڈائٹنگ فیشن کا حصہ ہے اسی لیے کچھ لوگ بے شک ڈیڑھ کلو کڑاہی کے ساتھ چھ نان کھا جائیں‘ کولڈ ڈرنک منگواتے وقت بیرے کو تاکید کرتے ہیں کہ ’’ڈائٹ یا زیرو‘‘ لانا۔ہماری اکثریت میٹھا بھی پسند کرتی ہے لیکن فیشن کے لحاظ سے میٹھا سوٹ نہیں کرتا اس لیے جو لوگ چائے کے ساتھ جلیبیاں بھی کھا رہے ہوں وہ بھی احتیاطاً کہہ دیتے ہیں ’’پلیز چینی نہ ڈالئے گا‘ میں پھیکی چائے پیتا ہوں‘‘۔

باہر کے انسان کو نبھانے کے لیے بھی کیا کیا جتن کرنا پڑتے ہیں‘ میرے ایک دوست کو کافی زہر لگتی ہے لیکن موصوف ظاہر یہ کراتے ہیں کہ انہیں بچپن میں گھٹی بھی کافی کی دی گئی تھی۔ ایک دفعہ ایک ہوٹل میں مدعو تھے جہاں ان کی کافی ساری خواتین کولیگز بھی موجود تھیں۔ اللہ دے اور بندے لے۔ ویٹر نے سب کا آرڈر لیا تو فرمایا’’بھئی میرے لیے تو بلیک کافی لے آؤ‘‘۔ میں نے اُنہیں کہنی ماری کہ’’ حضور! پہلے کبھی بلیک کافی پی ہے؟‘‘قہقہہ لگا کر بولے’’بلیک کافی تو میری جان ہے‘‘۔ دس منٹ بعد اُن کی جان کپ میں سامنے آگئی۔ انہوں نے فخریہ انداز سے خواتین کی طرف دیکھا‘ کپ اٹھایا اور ایک سپ لیا۔۔۔ایک دم سے اُ ن کے چہرے کی رنگت تبدیل ہوگئی۔۔۔ جسم اکڑ گیا۔۔۔ بال کھڑے ہوگئے ۔۔۔اور ڈیلے باہر آگئے۔۔۔!!!

باہر کے انسان کو بناوٹی گفتگو کی بھی بیماری ہوتی ہے۔اس کے سامنے پیزا اور دال چاول رکھ دیے جائیں تو یہ کھاتا تو پیزا ہے لیکن اندر کے سارے ووٹ دال چاول کی طرف جارہے ہوتے ہیں۔ یہ باہر چلی ساس کھاتا ہے لیکن گھر میں فرمائش ہوتی ہے کہ ہر کھانے کے ساتھ کچی ہری مرچ ضرور رکھی جائے۔یہ سٹور سے کاٹن بڈ خریدتا ضرور ہے لیکن کان خواتین کے بالوں والی پِن ‘ ماچس کی تیلی یاگاڑی کی چابی سے ہی صاف کرتاہے۔اس کے باتھ روم میں ٹوتھ پیسٹ ضرور موجود ہوتاہے لیکن کہیں پیچھے کرکے منجن بھی رکھا ہوتاہے۔یہ ہاضمے کے لیے ہر کھانے کے بعد واک ضرور کرتاہے لیکن سونے سے پہلے ’’پھکی‘‘ کھانا نہیں بھولتا۔دُنیا والوں کے سامنے اِسے شیمپو پسند ہوتاہے لیکن گھر میں ہو تو مشورے دے رہا ہوتاہے’’شکیلہ! بیسن سے بال کتنے اچھے دُھلتے ہیں‘‘۔جواب میں فیشن ایبل شکیلہ بھی بڑے اعتما د سے بتا رہی ہوتی ہے ’’ایک دفعہ لسی سے بھی دھو کر دیکھو‘‘۔

متعلقہ مضامین

یہ اندر کا کھرا انسان بڑا سادہ ہوتاہے‘ یہ باہر والے انسان سے بالکل اُلٹ ہوتاہے۔یہ لاکھ فیشن ایبل ہوجائے پھر بھی اسے باتھ ٹب سے زیادہ بالٹی سے نہانے میں مزا آتاہے۔یہ دُنیا داری نبھانے کے لیے پینٹ تو پہنتا ہے لیکن جس دن شلوار قمیص پہن لے اُس دن عجیب سی شخصی آزادی کے احساس سے سرشار رہتاہے۔بظاہر اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ سونے سے پہلے بھی شیو کرتاہوگا‘ بال سنوارتا ہوگا۔ لیکن جس دن اسے چھٹی ہوتی ہے یہ الجھے بالوں کے ساتھ گال کھجاتا ریلیکس Feel کر رہا ہوتاہے۔یہ باہر کا انسان جو گھر سے نکلتے وقت اپنے کپڑوں پر ایک شکن برداشت نہیں کرتا‘ گھر میں رات کو سوتے وقت بیوی سے لڑ رہا ہوتا ہے کہ ’’میری پھٹی پرانی شرٹ کیوں دھلوائی ہے‘ اُسی میں مجھے اچھی نیند آتی ہے‘‘۔

فیشن ہماری نیت کو نہیں بھر سکتا‘ ہم کسی چائینز ریسٹورنٹ میں ’’پران‘‘ کھا تو سکتے ہیں ‘ پسند نہیں کر سکتے۔بلیک فارسٹ کیک ہمارے باہر کے انسان کو پسند آسکتا ہے لیکن اندر کا انسان خطائی اور کریم والے بسکٹ مانگتاہے۔ہم بڑی کوشش کرتے ہیں کہ اندرکا انسان’’ سلائڈز‘‘کہنا سیکھ جائے لیکن اندر والا ’’گھیسیاں‘ کہنے پر ہی خوش ہوتاہے۔ہم دُنیا کے سامنے ہوں تو ذرا سی چوٹ لگنے پر ’’آؤچ‘‘ کہتے ہیں لیکن اکیلے ہوں تو بے ساختہ منہ سے یہی نکلتا ہے ’’ہائے میں مرگیا‘‘۔باہر کا انسان کہتا ہے کوئی اچھی چیز دیکھ کر’’واؤ‘‘ کہو۔۔۔اندر کا انسان کہتا ہے ’’ایتھے رکھ‘‘ زیادہ بہتر ہے۔

بیڑے غرق ہوگئے ہیں اس باہر کے انسان کی فرمائشیں پوری کرتے کرتے۔ہر وقت یہی خوف لاحق رہتا ہے کہ کہیں لوگ مذاق نہ بنا لیں۔ حالانکہ سب ایک جیسے ہیں‘ سب وہی چاہتے ہیں جو ہم چاہتے ہیں۔جن لوگوں نے اس رمز کو پا لیا ہے انہوں نے بڑے طریقے سے فیشن کے اندر ہی روایت کے لیے بھی جگہ بنا لی ہے‘ یاد کیجئے چائے میں بسکٹ ڈبو کر کھانا جاہلیت کی علامت سمجھا جاتا تھا‘ آج کل ٹی وی کے اشتہاروں میں خوشنما لوگ نہ صرف چائے میں بسکٹ ڈبو کر کھاتے نظر آتے ہیں بلکہ بچوں کو بھی سکھا رہے ہوتے ہیں کہ یوں کرکے بسکٹ ڈبونا ہے اور پھر یوں کرکے منہ میں ڈالنا ہے۔’’لچھے‘‘ اب کاٹن کینڈی کے نام سے دستیاب ہیں اورساری دیسی چیزوں کو’’آرگینک فوڈ‘‘ کا نام دے کر اپنا لیا گیا ہے۔ہائے لیکن میرے جیسے تاریک راہوں میں مارے گئے ہیں۔ ہم پھونک پھونک کر ایلیٹ کلاس میں قدم رکھتے ہیں اورپوری کوشش کرتے ہیں کہ کوئی پہچان نہ لے کہ ہم نے پینٹ کی فٹنگ ٹھیک کروائی ہے۔ہمارے باہر کا انسان اتنا خوفزدہ ہے کہ ہمیں لگتاہے جس دن اس کی مرضی کے خلاف کوئی بات ہوئی‘ دنیا ہم پر ہنسے گی۔۔۔اب تو آئینہ بھی ہمیں ہمارا اصل نہیں دکھاتا۔۔۔!!!

گل نوخیزاختر

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...