خبریں معلومات

روشنی اور اندھیرے سے بجلی بنانے والے ’’ریورس سولر پینلز‘‘

حال ہی میں ایسے سولر پینلز بنائے گئے ہیں جو سورج کی روشنی اوررات کےاندھیرے میں زمین کی گرمی سے بجلی بنا ئیں گے۔اس پینل کو امریکا کی یونیورسٹی میری لینڈ کے ماہرین نے تیار کیا ہے ۔ دن کے وقت سورج سے زمین تک صرف روشنی ہی نہیں پہنچتی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ گرمی بھی پہنچتی ہے جسے ہم دیکھ تو نہیں سکتے لیکن محسوص ضرور کر سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق عام سولر پینلز دن کے وقت میںسورج کی روشنی جذب کرکے اسے بجلی میں تبدیل کرتے ہیں ۔رات کے وقت زمین سے یہ گرمی خارج ہوتی ہے اور واپس خلاء کا رُخ کرتی ہے، جو رات کے وقت زمینی سطح کے مقابلے میں خاصی ٹھنڈی ہوتی ہے۔یہی وہ گرمی ہے جسے استعمال کرتے ہوئے بجلی بنائی جاسکتی ہے، اس عمل کو سائنسدانوں نے ’’آپٹیکلی کپلنگ ود ڈیپ اسپیس‘‘ کا نام دیا ہے۔اس عمل میںماہرین روایتی سولر سیلز کے ساتھ کچھ غیر روایتی مادّے بھی شامل کرنے پر کام کررہے ہیں جو مرکری یا ایسی ہی کسی دھات پر مشتمل ہوں گے۔

دن کے اوقات میں یہ سولر پینلز دھوپ سے بجلی بنائیں گے جب کہ رات میں زمین سے اٹھتی گرمی استعمال کرتے ہوئے بھی بجلی بنانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔البتہ رات کے وقت ایسے ’’ریورس سولر پینلز‘‘ سے بجلی کی خاصی کم مقدار بنے گی لیکن پھر بھی وہ ایسے بہت سے کاموں میں مفید رہے گی جنہیں کم توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق، رات کے وقت ایسے کسی ریورس سولر پینلز کی کارکردگی، دن کے مقابلے میں 25 فی صد ہوگی، تاہم یہ بھی اس لحاظ سے قابلِ قبول ہے، کیوں کہ زمینی حرارت ہر حال میں خلاء میں چلی جاتی ہے، جس سے فی الحال ہم کوئی فائدہ نہیں اٹھا رہے۔دن اور رات میں مسلسل بجلی بنانے والے یہ ریورس سولر پینلز جلد مارکیٹ میں پیش کر دیے جائیں گے۔