بلاگ کالمز

معذور افراد کو معذور نہیں ملک کا سرمایہ سمجھیے

ایک ایسا انسان جو اِس دنیا کے رنگ دیکھنے سے قاصر ہو، جس کی آنکھیں روشنی سے محروم ہوں وہ بھلا کیا کسی کام کا ہوسکتا ہے؟ کیا ایسا شخص جو ہاتھ پیروں سے معذور ہو ملک اور قوم کے کسی کام آسکتا ہے؟ یہ ہی نہیں کسی بھی قسم کی جسمانی یا دماغی معذوری کے حامل افراد کیا معاشرے پر بوجھ نہیں؟ کیا ہو، اگر تمام معذور افراد سے جینے کا حق چھین لیا جائے؟ آخر کیوں ہم بوجھ لے کر چلیں؟ اُتار پھینکتے ہیں، ارے صاحب آپ تو ناراض ہوگئے یہاں تک پڑھ کر ۔۔۔۔۔ یقین جانیں آپ سمیت ہم میں سے کوئی بھی معذور افراد سے جینے کا حق چھین لینے کے حق میں نہیں مگر انجانے میں ہم سب یہ ہی کررہے ہیں۔اندازہ لگائیے کہ مردم شماری فارم میں کہیں بھی معذور افراد کے حوالے سے معلومات کے انداراج کے لئے کوئی خانہ نہیں، کیا یہ معذور افراد سے جینے کا حق چھین لینے کے مترادف نہیں؟ کیا ہو اگر آپ سے کہا جائے کہ صرف 50 افراد کے لئے قانون سازی، رہن سہن، سہولیات اور کھانے پینے کے حوالے سے بجٹ بنائیں،

مگر کیا آپ یہ جانے بغیر کے یہ 50 افراد کون ہیں، اُن کی عمر اور جنس کیا ہے؟ اور کتنے معذور ہیں؟ حالانکہ آپ ان معلومات کے بناء بجٹ تیار نہیں کرسکتے۔ افراد کی بنیادی معلومات اور ضروریات حاصل کئے بغیر آپ اُن کو سہولیات فراہم کر ہی نہیں سکتے۔پوری دنیا میں معذور افراد کو اپنا اثاثہ سمجھتے ہوئے اُن کو سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے مگر پاکستان میں صرف ایک سفید چھڑی، بیساکھی یا وہیل چیئر دے کر سمجھا جاتا ہے کہ ہم نے حق ادا کردیا۔ کیا ہماری فٹ پاتھ، پارکنگ، بیت الخلاء، دروازے، لفٹس، یا کسی بھی تفریحی مقامات پر معذور افراد کے لئے مخصوص سہولیات موجود ہیں؟ کیا ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ معذور افراد کے مسائل کیا ہیں؟ کیا ہم نے کبھی یہ جاننا چاہا کہ وہ کیا عوامل ہیں جو اِن افراد کو خوشی دے سکیں؟

یقیناً نہیں۔سرکاری ملازمتوں میں 2 فیصد معذوری کا کوٹہ مختص کردینا اور بات ہے مگر اس پر انصاف کی بنیاد پر عمل کروانا الگ بات، معذور افراد کو نجی شعبے سمیت ہر جگہ نظر انداز کیا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں میرے پاس ایک دوست کا فون آیا جس نے کہا کہ اُس کے محلے میں ایک لڑکا ہے، جو ایک ایکسڈینٹ میں بُری طرح سے متاثر ہوا، اور اُس کا نچلا دھڑ اب حرکت کرنے کے قابل نہیں، مگر وہ لڑکا بہت حوصلہ مند ہے اور اُس نے اپنی معذوری کو اپنی کمزوری نہیں بنایا بلکہ اِسی معذوری کے ساتھ مختلف کورس کئے ہیں، بہترین ویڈیو ایڈٹنگ سیکھی ہے، اگر اُس کی ملازمت کے حوالے سے کچھ ہوسکے تو ضرور کروں۔ ایک نجی ادارے میں نوجوان کی ملازمت کے لئے میں نے بات کی، انہوں نے سُننے کے بعد کہا کہ کئی مسائل ہوسکتے ہیں، آنا جانا آسان نہیں، لیکن آپ ان کی سی وی جمع کروادیں، کبھی کوئی ملازمت ہوئی تو ضرور مطلع کریں گے۔ المیہ یہ ہے کہ جب سرکاری ادارے معذور افراد کو ملازمت دینے سے قاصر ہیں تو پھر نجی ادارے کیوں کر ایسا نہ کریں گے؟

1981ء میں معذور افراد کے حوالے سے بنائے گے آرڈینینس کے مطابق، معذور افراد کے لئے بہت سی مراعات ہیں مگر وہ صرف صفحات تک ہی محدود رہ گئیں۔ عملی طور ہر ہم معذور افراد کو صرف دھکے ہی دیتے ہیں، چاہے کسی پریس کلب کے باہر اپنی ملازمت کے حوالے سے احتجاج ہی کیوں نہ کر رہے ہوں۔ سابق صدر آصف علی زرداری صاحب نے اپنے دورِ حکومت میں یہ اعلان کیا تھا کہ معذور افراد کو قرضے فراہم کئے جائیں گے، پھر دس ارب روپے اِس منصوبے کے لیے مختص بھی کئے گئے۔ اِس منصوبے کا آغاز 2013ء میں ہونا تھا، مگر اِس سے ضرورت مندوں کے بجائے منظورِ نظر افراد کو فائدہ پہنچا گیا۔کیا ہماری عدلیہ معذور افراد کی شنوائی کے لئے کوئی مخصوص نظام رکھتی ہے؟ جہاں روزانہ کی بنیاد پر اُن کے مقدمات سنے جاسکیں، تاکہ اُن کو معذوری کے ساتھ ساتھ انصاف کے لئے بھی خوار نہ ہونا پڑے۔ کیا ہمارے نصاب میں ابتدائی طور پر کوئی ایسا سبق شامل ہے، جس میں ایک عام انسان کو یہ سکھایا جائے

کہ معذور افراد کے ساتھ کس طرح برتاؤ کرنا چاہیئے اور کس طرح اُن کی ضروریات کا خیال رکھنا چاہیئے؟افسوس کے ساتھ صرف یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہم معذور افراد کے ساتھ سوائے لفاظی کے اور کچھ نہیں کررہے، جبکہ وہ ہمارے لئے ہر میدان میں کامیابیاں سمیٹ کر ہمارا نام روشن کر رہے ہیں۔ چاہے بات ہو کھیل کی، تعلیم کی یا پھر ادب کی دنیا کی، ہر میدان میں وہ اپنی معذوری کو بہانہ بنائے بغیر ہمارے لئے بہت کچھ کر رہے ہیں۔ حقیقت میں معذور وہ نہیں، بلکہ ہم سب اُن کی ضروریات کو پورا کرنے سے معذور ہیں۔ معذور افراد معاشرے پر بوجھ ہیں، ایسا ہم کہتے نہیں مگر مردم شماری میں انہیں شامل نہ کرکے بنیادی سہولیات فراہم نہ کرکے ہم عملی طور پر ایسا کر رہے ہیں۔ ہم انہیں رحم کی نظر سے دیکھتے ہیں، اُنہیں خیرات کی نہیں اپنے حق کی ضرورت ہے، وہ حق جو حکومتِ پاکستان کا آئین انہیں دیتا ہے۔