بلاگ

رشتوں کی مٹھاس کہاں گئی؟

حال ہی میں سامنے آنے والے دو واقعات نے ہر درد مند انسان کو دکھ کی لپیٹ میں لے لیا۔ ایک جگہ ماں اپنے 8 سالہ بچے کو گلا دبا کر ہلاک کر دیتی ہے تو دوسری جگہ بیٹا اپنی ماں کو چھریوں کے وار کرکے مار ڈالتا ہے۔ میڈیا چلا چلا کر ماں اور بیٹے کی سفاکی کو بیان کر رہا ہوتا ہے لیکن واردات ہونے کے بعد کا واویلا بھلا کیا بہتری لاسکتا ہے؟نہ تو قتل ہونے والے واپس آئیں گے اور نہ ہی یہ واردات کرنے والے کبھی نارمل زندگی کی طرف پلٹ سکیں گے اور ان سے جڑے تمام رشتے ہمیشہ اس واردات کے نقصان کا دکھ جھیلیں گے۔قابل غور بات تو یہ ہے کہ ایک ماں اور ایک بیٹا بے حسی یا اشتعال کی اس حد کو آخر کیسے پہنچے جہاں وہ اِس طرح کے تلخ اقدام اُٹھانے سے بھی باز نہیں آتے۔ اگر جعلی پیر کے کہنے سے بیٹے کو قتل کرنے والی ماں کو آپ جہالت کے پردے میں لپیٹ بھی دیں تو اس بیٹے کے اس عمل کو کیا عنوان دیں گے جو ایک قابل، تعلیم یافتہ اچھے منصب پر فائز تھا، اچھی جگہ رہائش رکھتا تھا، بیوی اور ماں کو ساتھ زندگی بسر کر رہا تھا۔

محلہ میں اور آفس میں لوگوں کو ساتھ اٹھتا بیٹھتا تھا۔ آخر کسی بھی مقام پر کسی بھی فرد کو اس کی ذہنی کیفیت کا اندازہ کیوں نہیں ہوسکا؟ اگر کسی نے اندازہ کر بھی لیا تھا تو صورتحال بہتر بنانے کا کیوں نہیں سوچا؟ اسےعلاج کی طرف متوجہ کیوں نہیں کیا؟یہ ایک حقیقت ہے کہ نہ ہمیں انسان کے نفسیاتی مسائل کا شعور ہے اور نہ ہم اسے قابل علاج سمجھتے ہیں، اور ان عوامل سے بچنے کی بھی کوئی کوشش نہیں کرتے جو ان امراض میں اضافہ کا سبب بن رہے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں دو کروڑ سے زائد افراد دماغی و اعصابی امراض میں مبتلا ہیں جبکہ ایک جریدے میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق ان کےعلاج کیلئے پاکستان میں صرف ایک ہزار ماہرین موجود ہیں، یعنی ہر دو لاکھ افراد کے لئے صرف ایک ماہر۔ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے

کہ ہم جہاں اپنی جسمانی صحت کی طرف سے حساسیت کا مظاہرہ کرتے ہیں وہیں اپنی ذہنی صحت کی طرف سے بھی فکرمندی اختیار کریں، اور یاد رکھیں کہ دلوں کا سکون اللہ کی یاد میں ہے۔ اس دنیا میں ہر آن ہونے والی ایجادات، ٹیکنالوجی، مادہ پرستی، گلیمر، برانڈڈ مصنوعات کی چکا چوند، اچھے اسٹیٹس کی خواہش اور آگے نکلنے کی دھن نے انسانی زندگی میں ایک خلا پیدا کردیا ہے۔ وہ اس بات کو بھولتا جا رہا ہے کہ حقیقی خوشی چیزوں کا ہجوم جمع کرنے میں نہیں، رشتوں کی مٹھاس سے لطف اندوز ہونے میں ہے۔ وہ منصب اور پیسوں سے سکون و خوشی حاصل کرنا چاہتا ہے اور یہ بات بھول جاتا ہے کہ سکون اللہ اور اس کے بندوں سے جڑنے سے حاصل ہوتا ہے۔آج کے انسان کو اپنا ظاہر سنوارنے کی فکر تو بہت لاحق ہے،

جبھی گلی گلی بیوٹی پارلرز اور جمنازیم کی بہتات نظر آتی ہے لیکن اپنے باطن کو سنوارنے کی فکر سے بے خبر ہے۔ لازم ہے کہ ہم اس سبق کو پھر سے یاد کریں کہ صبر، شکر، ایثار، قربانی، تحمل، درگزر، پیار، محبت، خدمت، صداقت، حیا اور قناعت باطن کو سنوارے والی صفات ہیں جو معاشرے کو تازگی اور خوشبو فراہم کرتی ہیں۔ ہمیں ایسے پھول نہیں چاہئیں جن میں رنگ تو ہو خوشبو نہ ہو، ہمیں ایسے رشتے بھی نہیں درکار جو ماں، بہن، بیوی بیٹے کا روپ تو رکھتے ہوں مگر ان میں موجود صفات کی مٹھاس سے خالی ہوں۔معاشرہ میں بڑھتے ہوئے اس خلا کو ہمیں خود ہی پر کرنا ہوگا۔ ہر ماں اس بات کاعہد کرے کہ اپنی گود میں موجود نسل کو رشتوں کے تقاضے اور ان کی ادائیگی کا درس دے گی۔ نوجوان نسل کا نصاب تیار کرنے والے اور انہیں پڑھانے والے اساتذہ اس بات کاعہد کریں کہ نوخیز ذہنوں کو صبر و برداشت، تحمل اور روحانی ترقی کا سبق دیں گے۔ ملک کے دانشور اس بات کا عہد کریں کہ وہ اپنی دانش سے اس خلا کو پر کرنے کے طریقے سکھائیں گے۔

میڈیا یہ عہد کرے کہ وہ اپنے مقاصد میں موجود ’’تربیت و آگہی‘‘ پر پورا اترتے ہوئے ذہنی صحت کے موضوع کو عنوان بنائے گا، اور اپنے پروگرامز میں ایسےعوامل سے گریز کرے گا جو اس مرض کو بڑھاوا دیتے ہوں۔حکومت اس بات کا عہد کرے کہ وہ ملک کے طول و عرض میں پھیلے جعلی پیروں اور خود ساختہ حکیموں اورعطائیوں کا خاتمہ کرے گی اور عوام کی ذہنی صحت کی بہتری اپنے ایجنڈے میں شامل کرے گی، اور ہم سب مل کر دنیا کے سب سے بڑے روحانی معالج پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم کی تعلیمات پر عمل کرکے دنیا میں بہتری لانے کی کوشش کریں گے کیونکہ حقیقتاً یہی خیر اور فلاح کی راہ ہے۔