اسلام معلومات

"روحانی اور شیطانی لہروں کا خفیہ نظام”

کائنات میں دو قسم کی توانائیاں پائی جاتی ہیں۔۔۔ ایک مثبت اور دوسری منفی۔ کچھ اسی قسم کی توانائیاں انسان کی روح کہ اندر بھی پائی جاتی ہیں جو اس کی روحانیت یا شیطانیت کی راہ استوار کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ کائنات میں موجود یہ توانائیاں مل کر ایک ماحول تشکیل دیتی ہیں جو مثبت یا منفی شعائیں خارج کرتے ہیں اور اس سے ایک مؤثر ماحول تشکیل پاتا ہے اور یہ ماحول انسان کی شخصیت اور اس کہ آس پاس کہ لوگوں پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔۔۔ انسان کی روح کو اللہ تعالیٰ نے نور سے پیدا کیا، اس میں نا نظر آنے والی منفی اور مثبت توانائیاں موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موت کہ بعد بھی خاکی جسم تو فنا ہو جاتا ہے لیکن روح کبھی فنا نہیں ہوگی بلکل اسی طرح جس طرح (Energy) فنا نہیں ہوتی۔

رب تعالیٰ نے ایک خاص اندازے سے جسمِ انسانی کہ اندر مختلف لطائف رکھ دیے، یہی وہ مقامات ہیں جو ان منفی یا مثبت توانائیوں کہ دخول و خروج کا سبب بنتے ہیں۔ انسان کا کلام اور اسکی سوچ محض بول چال یا خیالات نہیں ہیں بلکہ یہ رب تعالیٰ کی عظیم قدرت کا شاہکار ہیں کہ انسان کہ الفاظ اور سوچ میں اللہ پاک نے ایک قسم کی (energy) رکھ دی جو ہماری شخصیت پر منفی یا مثبت اثر چھوڑتی ہے۔ جب انسان زبان سے الفاظ ادا کرتا ہے تو وہ صرف الفاظ نہیں ہوتے بلکہ وہی توانائی (Energy) ہوتے ہیں جو ہماری روح میں قدرتی طور پہ موجود ہے۔ یہ ایک حیرت انگیز بات ہے کہ الفاظ کا اثر اتنا گہرا ہوتا ہے کہ یہ ہمارے جسم میں توانائی کی لہریں پیدا کرتا ہے جو الفاظ کی مناسبت سے منفی یا مثبت ہوتی ہیں۔ یہی وہ انرجی کی وہ لہریں ہیں جو انسان کی روحانیت یا شیطانیت کا فیصلہ کرتی ہیں۔۔۔۔ انسانی تخلیق کہ آغاز سے ہی ایک منفی طاقت وجود میں آئی جسے ابلیس کہہ کر قیامت تک کے لیے بھٹکا دیا گیا۔ دنیا میں موجود تمام منفی طاقتیں کسی نا کسی طرح ابلیس لعین سے جڑ جاتی ہیں۔ اس دنیا میں ابلیس لعین ہی وہ مخلوق ہے جو انسانوں کو بھٹکا کر شیطانی رستے پر چلنے کی ترغیب دیتا ہے۔۔۔ ابلیس کے کارندے جو انسانی روپ میں شیطان کے آلہ کار ہیں وہ اس دنیا کو منفی توانائی یعنی شیطانیت سے بھرنے کے مقاصد پہ کام کر رہے ہیں۔ یہ لوگ روز اول سے ہی اللہ کے نا فرمان ٹھہرے اور آج تک ہر اس کام میں بڑھ چڑھ کر اللہ کی بغاوت کرتے نظر آتے ہیں جسے اللہ پاک نے ممنوع قرار دیا۔۔۔۔ یہ ایسی دھتکاری ہوئی قوم ہے جس نے بے شمار نعمتوں اور معجزوں کہ بعد بھی اللہ کی سر کشی کر کے شیطان کی اطاعت کی۔

یہ قوم وہی یہود ہیں جنہوں نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں شیاطین سے وہ جادو سیکھنا شروع کیا جسے فرعون کے غرق ہونے کہ ساتھ ہی موسی علیہ السلام کے صحابہ نے غرق کر دیا تھا۔ اس جادو کا نام "کبالہ جادو” ہے جو اپنے اندر ایسی طاقت اور منفی توانائی رکھتا ہے جو انسان کی عقل و بصیرت حذف کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا. اسکی مثال قرآن پاک میں فرعون کہ جادوگروں کی وہ شعبدہ بازی ہے جسکے ذریعے ان جادو گروں نے مل کر فرعون کہ دربار میں موجود تمام لوگوں کی بصیرت حذف کر کے انہیں وہی سانپ دکھلائے جو وہ دکھلانا چاہتے تھے. کبالہ جادو کہ کلمات انسانی جسم میں "منفی لہریں” پیدا کر کے مطلوبہ مقاصد حاصل کرتے ہیں۔۔۔۔ کچھ اسی طرح کی مثال فری میسنز اور اس طرح کہ دوسرے شیطانی گروہوں کی ہے جو موجودہ دور میں شیطان کے سب سے بڑے الۂ کار ہیں. یہ وہ گروہ ہیں جو اس دور میں شیطان کے مقاصد پورے کرنے میں ہر طرح کی گھٹیا سے گھٹیا اور بد سے بد تر رسومات ادا کرتے ہیں. انکے عبادت خانے (لاجز) ان رسومات کی طرز پر بنائے جاتے ہیں جنہیں ادا کرنے سے زیادہ سے زیادہ منفی لہریں ماحول میں پھیل کر انسانوں کو متاثر کر سکیں۔۔۔ انکے عبادت خانے بھی ہر شہر میں ایسے مقامات (ورٹیکس پوائنٹس) پر تعمیر کیے جاتے ہیں جہاں زیادہ سے زیادہ "منفی توانائی” کی لہریں ماحول میں پھیل کر لوگوں کو متاثر کرتی ہیں۔ ان رسومات (جن میں شیطانی بائبل پڑھنا، شیطانی جادو منتر کے کلمات پڑھنا، انسانی خون کی مانگ پوری کرنا، بچوں کے ساتھ بدکاری، مقدس کلمات کو غلیظ کرنا اور شیطان کو اپنی روح بیچنا وغیرہ شامل ہیں)۔ ان کو ادا کرنے والے شیطانی لوگ اپنی خواہشات شیطان سے پوری کروانے اور اپنی روح کو مکمل طور منفی توانائی سے بھرنے کہ ساتھ ساتھ معاشرے میں موجود دوسرے انسانوں کو بھی شیطانیت کے رستے پر لانے کے لیے ہر طرح کی ممکن کوشش کرتے ہیں۔

پوری دنیا کی میڈیا، انٹرٹینمنٹ، اور فلم انڈسٹریز سے لے کر بزنس انڈسٹریز تک ان ہی elite class لوگوں کے پاس ہیں جو مکمل طور پہ شیطان کہ تابعدار ہیں۔ مشہور ومعروف سنگرز، ایکٹرز اور دوسری فیلڈز کے معروف سلیبریٹیز ان ہی شیطانی لوگوں کی نگرانی میں کام کرتے ہیں اور ان کے شیطانی مقاصد کو پورا کرنے میں ان کی مدد کر رہے ہیں۔۔۔ انکا سب سے بڑا مقصد لوگوں میں منفی توانائی پیدا کرنا ہے۔ کیونکہ جب ایک بار کسی انسان میں منفی توانائی کی لہریں سرائیت کر جائیں تو شیطان کو اسے بھٹکانے میں زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی بلکہ وہ انسان خود شیطان کا آلہ کار بن جاتا ہے۔۔۔۔ یہ "مشہور سلیبریٹیز” محض دولت و شہرت کے لیے شیطان پرست بننے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ دنیا کے تمام مشہور و معروف سنگرز اور ایکٹرز اس وقت جانے یا انجانے میں لوگوں میں ایسی چیزیں پھیلا رہے ہیں جس میں کوئی خیر نہیں بلکہ شر ہی شر ہے۔

تمام کہ تمام کامیاب ترین انگلش سنگرز جنہیں پوری دنیا میں مقبولیت حاصل ہے، دنیا کہ ہر کونے میں انکے گانے سنے جاتے ہیں، انکے گانوں کے lyrics (الفاظ) تک کبالہ سے لکھنے کا انکشاف ہوا ہے جس میں زبردست قسم کی منفی توانائی کی لہریں موجود ہوتی ہیں جو انسانی جسم میں کانوں کہ ذریعے سے گھس کر پھیل جاتی ہیں۔۔۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ بعض اوقات لوگ ایک ہی گانے کہ ساتھ ایسے obsessed (محسور) ہو جاتے ہیں کہ دنیا و مافیہا سے بے خبر ہو جاتے ہیں۔ آپ نے یہ بھی محسوس کیا ہوگا کہ بعض اوقات گانوں کو سننے سے انسان ایسی تصوراتی دنیا میں پہنچ جاتا ہیں جسکا real life سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یہ سب اسی سبب ہوتا کہ گانے کے lyrics انسان کو اس طرز پر لے چلتے ہیں جس طرز پر وہ لے جانا چاہیں۔

ایک انگلش سنگر کہ بارے میں مشہور ہے کہ اس نے کبالہ سے لکھے ہوئے گانے کہ lyrics میوزک کنسرٹ میں گائے تو سننے والے ہجوم پر ایک ایسا سحر طاری ہوا کہ اسی سحر میں اس شیطانی سنگر نے اس ہجوم سے شیطان کہ بندے ہونے کا حلف لیا جبکہ وہ گانے کے سحر میں جکڑے جا چکے تھے۔۔۔۔۔ جس طرح سادہ الفاظ بھی اپنے اندر بہت طاقت رکھتے ہیں، اس لیے جو عام روٹین میں ہر زبان میں گانے سنے جاتے ہیں یا گنگنائے جاتے ہیں ان کہ الفاظ بھی انسانی شخصیت پر ایک خاص حد تک اثر انداز ہوتے ہیں۔۔۔گانا جس قسم کا content (مجموعہ) اپنے اندر رکھے گا اسی قسم کا اثر نفس انسانی پہ پڑے گا، پھر چاہے سننے والے کو اسکا علم ہو یا نا ہو کیونکہ یہ ایک سائیکولوجیکل (نفسیاتی) مسئلہ ہے۔۔۔۔ اللہ پاک کو ان شیطانی گروہوں کے ارادوں کا بخوبی علم تھا کہ یہ کس حد تک جا سکتے ہیں۔ شاید اسی وجہ سے اللہ پاک نے ابتداء میں ہی گانے بجانے والوں پر لعنت فرما کر مسلمانوں کے لیے گانے باجوں کو ممنوع قرار دے دیا۔۔۔۔ لیکن آج مسلمان بھی یہ پرواہ نہیں کرتے کہ وہ کس غلاظت کو اپنے کانوں میں انڈیل رہے ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو آپ دیکھیں گے کہ پچھلے کچھ سالوں سے سنگرز ایکٹرز کی البمز میں وقت سے پہلے جو ٹرینڈ یا ٹریلر کا کلچر پیش کیا جاتا ہے جو اس وقت تو لوگوں کو قبول کرنا مشکل لگتا ہے لیکن پھر ہم دیکھتے ہیں کہ وہ آنے والے وقت میں لوگوں میں بلکل نارمل طریقے سے فیشن بن جاتا ہے جیسے اس میں کوئی قباحت تھی ہی نہیں۔ یہ اسی سبب ممکن ہوتا ہے جب انسان کہ ذہن کو پہلے سے ہی ان lyrics سے اٹھنے والی لہروں کے ذریعے سے آمادہ کیا جاتا ہے۔

• آج جتنی بھی بے حیائی ہمیں نظر آ رہی ہے کیا یہ کچھ سال پہلے اسی طرح تھی ؟؟؟ ۔۔۔۔۔۔ بلکل نہیں ۔۔۔۔ آج سائیکالوجی (علم نفسیات) یہ کہتا ہے کہ انسان جو بھی دیکھتا ہے یا سنتا ہے وہ اس کے عمل اور سوچ پر گہرا اثر رکھتے ہیں، پھر چاہے انسان کو اسکا ادراک ہو یا نا ہو۔ یعنی انسان اپنے اردگرد جس طرح کی چیز دیکھے گا اور جو سنے گا وہ اس پر اثر انداز ہوں گے۔۔۔۔ تو پھر خود سوچیں کہ اگر یہی دیکھی جانی والی اور سنی جانے والی چیز اپنے اندر سحر کی آمیزش رکھتی ہو تو انسانی شخصیت پر کتنا گہرا اثر پڑے گا۔۔۔۔ ٹی وی اور جدید ٹیکنالوجی جس میں انٹرنیٹ سر فہرست ہے ان سب چیزوں پر کنٹرول رکھنے والے ان چیزوں کو اپنے ہتھیار کہ طور پر استعمال کر رہے ہیں. وہ جس طرح چاہتے ہیں انسان کی سوچ پر اثر انداز ہو کے اسکی سوچ پر قدرت رکھتے ہیں اس لیے یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ ٹی وی ایک مائینڈ چینجر (برین واش کرنے کا آلہ) ہے جس کی ڈور ان لوگوں کہ ہاتھ میں ہے جو اس میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔۔۔۔ آج فیشن کہ طور پہ اپنائی جانے والی بے شرمی اور بے حیائی کچھ سال پہلے تک معیوب تھی لیکن پھر کیا ہوا؟ ان ہی مصوم لوگوں کے ذہنوں کو شیطانی لوگوں نے ٹی وی کے زریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے فلموں، ڈراموں اور گانوں کہ ذریعے آنے والے وقت کے لیے تیار کیا۔۔۔۔۔ مسلمان تو دور عیسائیت میں بھی کچھ عرصہ پہلے تک یہ سب چیزیں معیوب سمجھی جاتی تھیں لیکن ان ہی انگلش سنگرز، ایکٹرز اور سو کالڈ سلیبرٹیز کے فلموں، ڈراموں اور گانوں کے ذریعے سب سے پہلے عیسائیوں اور دوسرے غیر مسلموں کے دماغی سوچوں کو کرپٹ کیا گیا کیونکہ وہ ان شیطانی لوگوں کہ لیے آسان ہدف تھے، مسلمان البتہ ایک عرصے تک ایمان کی مثبت توانائی کی وجہ سے اس شیطانیت سے محفوظ رہے۔۔۔۔ لیکن پھر کیا کیا گیا ؟؟؟

ان لوگوں نے مسلمانوں کو کرپٹ کرنے کے لیے انہیں حرارتِ ایمانی سے دور رکھنے کا پروگرام بنایا۔ جیسے ان شیطانی گروہوں کا سب سے بڑا ہتھیار ان کے عبادت خانے (لاجز)، انکی رسومات اور انکا شیطانی کلام ہیں، بلکل اسی طرح اللہ پاک نے بھی مسلمانوں کے لیے ایسے ایسے ہتھیار بھیج دیے ہیں جو ان شیطان پرستوں کے ارادوں کو غرق کر کے رکھ دیتے ہیں۔۔۔۔۔ وہ کیسے ۔۔۔۔؟رب تعالیٰ کا گھر مسجد جو مثبت توانائی (روحانیت) کی لہروں کا سب سے بڑا ذریعہ ہے یہ اجتماعی طور پر مسلمانوں میں مثبت توانائی منتقل کرتی ہیں اور مسلمان کو تمام شیطانی آفتوں سے محفوظ رکھنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ پھر اسکی تعمیر کے لیے کسی خاص مقام کی بھی ضرورت نہیں، جہاں بھی مسجد بن جائے گی وہ جگہ مسلمانوں کو مثبت توانائی (روحانیت) منتقل کرنے کی سب سے بڑی جگہ ہوگی لیکن اللہ پاک نے اسکے لیے بھی ایک شرط مقرر کر دی ہے کہ تمام مسلمان مردوں کو برے سے برے یا سخت سے سخت حالات میں بھی مسجد پہنچ کر با جماعت نماز ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

یہاں یہ بات سوچنے کی بات ہے کہ اللہ پاک نے کیوں با جماعت نماز ادا کرنے کا حکم دیا؟ اس لیے کہ با جماعت نماز میں جب نماز کہ کلمات ادا کیے جاتے ہیں تو وہ اجتماعی طور پر مثبت توانائی (روحانیت) کی لہریں خارج کرنے کا سبب بنتے ہیں اور ہر اس مسلمان کہ جسم میں سرائیت کرنے کہ ساتھ ساتھ آس پاس کہ لوگوں اور ماحول کو بھی روحانی نور سے بھر دیتے ہیں۔ مسجد میں با جماعت نماز کے کلمات کہنے میں اتنی تاثیر اور اتنی مثبت توانائی (روحانیت) بھری ہوتی ہے جو ایک مسجد سے نکل کر دوسری مسجد تک، دوسری سے تیسری اور یوں لا محدود چکر کے ذریعے دنیا کہ کونے کونے میں پھیل کر بیت اللہ تک پہنچ جاتی ہے اور مسلمانوں کے لیے ایک روحانی ماحول قائم کرنے کے ساتھ ساتھ منفی توانائی کی لہروں کو بھی فنا کر دیتی ہے کیونکہ کلام اللہ میں جو طاقت ہے وہ شیطان مردود کے کلام میں نہیں۔ اسی لیے باجماعت مسجد میں نماز پڑھنے کی قرآن و حدیث میں بار بار سختی سے تاکید کی گئی۔۔۔۔ لیکن آج ہم دیکھتے ہیں کہ مسجد میں جماعت کی تعداد بہت کم ہو چکی ہے۔ جتنی زیادہ جماعت اسکا مطلب اتنی زیادہ روحانیت۔ جتنی کم جماعت اتنی کم روحانیت۔ لیکن آجکا مسلمان گھنٹوں بیٹھ کر فضول سے فضول کام تو کرتا ہے لیکن چند منٹ اپنے فائدے کے لیے اللہ کی عبادت میں نہیں گزار سکتا۔ لوگ گھنٹوں بیٹھ کر گیمز، فلمیں ڈرامے ،گانے باجے، کرکیٹ فوٹٹ بال میچ اور ٹک ٹاک جیسی بے حیائی کی چیزیں تو دیکھتے ہیں جو ان میں منفی توانائی پیدا کرتے ہیں لیکن آج کا مسلمان ایسا کم عقل ہے کہ اپنی ہی مثبت توانائی (روحانی طاقت) کی خاطر مسجد میں نہیں جاتا، با جماعت نماز ادا نہیں کرتا۔

مسلمانوں کی روحانیت کو برباد کرنے کے لیے رہی سہی کسر کرونا کی وجہ سے کیے جانے والے لاک ڈاؤن کے ڈرامے نے پوری کر دی ہے۔ ایک تو لوگ پہلے ہی مساجد میں کم جاتے تھے لیکن مکمل لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہ باجماعت نمازی بھی نماز جیسی روحانیت کی توانائی سے محروم ہو گئے ہیں۔۔۔ "بیت اللہ شریف” میں جب مسلمان مجموعی طور پر "صاحب لولاک نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سکھائے ہوئے طریقے کہ مطابق حج و عمرہ جیسی رسم ادا کرتے ہیں تو "بیت اللہ شریف” سے روحانیت کی وہ زبردست لہریں تمام زمین میں پھیلتی ہیں جو شیطانی گروہوں کی مجموعی طور پر ادا کی جانے والی رسومات سے پیدا ہونے والی منفی توانائی ختم کر کے انہیں انکے مقاصد پورا کرنے سے روکتی ہے۔۔۔۔ یوں متروک حج و عمرہ کی وجہ سے مسلمان اپنی اس روحانیت سے اجتماعی طور پر محروم ہو جاتے ہیں کیونکہ کعبة اللہ شریف زمین کے اس مقام پر واقع ہے جہاں سے تمام زمین کو برابر روحانیت منتقل ہوتی ہے۔ اگر حج و عمرہ رک جاتے ہیں تو اسکا خسارہ صرف و صرف مسلمانوں کو اس صورت میں اٹھانا پڑتا ہے کہ انہیں انکے سب سے بڑے روحانی مرکز سے کاٹ کر الگ کر دیا جاتا ہے۔ یوں شیطانیت سے بچنے میں عام مسلمان کو تو مشقت اٹھانی پڑتی ہے۔۔۔۔ "بیت اللہ شریف” جو مسلمانوں کی مثبت توانائی (روحانیت) کا گڑھ ہے ظالموں نے اسے بند کر کے خود شیطان پرستوں کو دعوت دی کہ آو اب ہمارا شکار کرنا آسان ہے، ہمیں شیطان کے رستے پر چلانا اور آمادہ کرنا آسان ہے، آؤ اور ہمیں شیطانی منفی لہروں میں گھول کر گمراہ کردو۔

اسی طرح "قرآن پاک” کی مثال ہے جو دنیا کی تمام کتابوں سے عظیم تر بلکہ بے مثال ہے۔ اسکے جیسی کوئی کتاب رب تعالیٰ نے نازل کی ہے اور نا نازل ہو گی۔ اسکا ایک ایک حرف اپنے اندر خاص قسم کی "روحانی شعائیں” سموئے ہوئے ہے۔ جب جب مسلمان ان الفاظ کو ادا کرتا ہے اسکے اردگرد نور (توانائی) کے ہالے بنا دیے جاتے ہیں۔۔۔ یہ سب اسی وجہ سے ہے کہ جیسے میں نے شروع میں ذکر کیا کہ "اللہ” نے جو الفاظ ادا کرنے کی طاقت ہمیں دی ہے وہ محض الفاظ نہیں ہوتے بلکہ توانائی کا ایک ذریعہ ہوتے ہیں۔ جس طرح شیطانی گانے یا فلموں ڈراموں کے سکرپٹ کا انسان کے کانوں کہ ذریعے دل پہ گہرا اثر پڑتا ہے، بلکل اسی طرح قرآن پاک کے الفاظ میں بھی ایسی روحانیت کی لہریں ہوتی جو انسان کے کانوں کے ذریعے اسکے دل میں پہنچ کر اسکے دل کو روحانیت کی طرف مائل کردیتی ہیں۔۔۔۔ اسکی مثال آپ اس سے بھی سمجھ سکتے ہیں کہ فتنے سے بچنے کے لیے اللہ پاک نے "سورۂ کہف” کا تحفہ نازل کیا۔ اسے ہر جمعے پڑھنے والا فتنے سے بچے گا۔۔۔۔ عجمی لوگ عربی زبان نہیں جانتے لیکن انکے لیے بھی یہی حکم ہے کہ مسلمان چاہے عرب کا ہو یا عجم کا، وہ یہ سورت پڑھے، پھر چاہے اسے معانی کا علم ہو یا نا ہو، وہ عربی نا بھی جانتا ہو، تب بھی یہ سورہ اس کی دجال کہ فتنوں سے حفاظت کرے گی۔ وہ صرف اس وجہ سے کہ اللہ کہ کلام سے نکلنے والے روحانی شعائیں اس انسان کو اپنے حصار میں لے کر اسکے نفس و دل میں مثبت توانائی پیدا کر دیں گی جو اسے شیطانی یعنی منفی توانائی سے محفوظ رکھے گا۔

اسی طرح دنیا میں جتنے بھی لوگ قرآن پاک مطلب کے ساتھ یا بنا مطلب کے پڑھتے ہیں، وہ ضرور بلضرور اسے پڑھنے سے روحانیت محسوس کرتے ہیں کیونکہ اس سے نکلنے والی مثبت توانائی اس مسلمان کی روح کو تر و تازہ کر دیتی ہے۔۔۔ "(قرآن کا ترجمہ جاننا اور ترجمے کہ ساتھ پڑھنا اس روحانی شعاوں کی افضلیت و طاقت کو بڑھا دیتا ہے۔ یہ اللہ کا حکم بھی ہے لیکن اگر کوئی ان پڑھ نہیں بھی جان پاتا تو اسے بھی قرآن پڑھنے پر شیطانی شعاوں سے محفوظ کیا جاتا ہے جس طرح ترجمہ جاننے والے کو محفوظ کیا جاتا ہے)””” نبی اکرم (صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم) پر جب یہود نے جادو کیا تو آپ(صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم) کسی کام کے متعلق یہ گمان کرتے کہ آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ کام کر چکے ہیں لیکن حقیقت میں نہیں کیا ہوتا تھا تو اللہ پاک نے اپنے محبوب کو بذریعہ وہی آگاہ فرمایا کہ یہود نے آپ پر جادو کیا ہے لہذا معوذتین (سورہ فلق اور سورہ الناس) نازل کی گئیں جو جادو کا بہترین روحانی توڑ کرتی ہیں۔
اب غور کریں کہ معوذتین کیسے جادو کو ختم کرتی ہیں۔۔؟؟

معوذتین کلام الٰہی ہیں جو کائنات کہ خالق کی بھیجی ہوئی روحانی توانائی ہیں۔ انہیں پڑھنے سے انسان کہ اردگر مثبت یعنی روحانی توانائی سے لہروں کا ایک دائرہ بن جاتا ہے جو جادو کرنے والے کی طرف سے بھیجی گئی منفی یعنی شیطانی لہروں سے انسان کو بچانے کے ساتھ ساتھ ان منفی لہروں سے ٹکرا کر انہیں ہمیشہ کے لیے فنا بھی کر دیتا ہے یوں انسان جادو سے محفوظ ہوجاتا ہے۔۔۔۔ اس سب کہ علاوہ انسان کا عام بول چال میں الفاظ ادا کرنا بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اسلام نے جگہ جگہ انسانوں کا حکم دیا ہے کہ اچھے الفاظ بولا کرو، برے الفاظ مت کہا کرو، منہ سے اچھی بات نکالو ورنہ خاموشی بہتر ہے۔۔۔ کیوں سکھایا اسلام نے ایسا۔۔۔؟؟ کیونکہ الفاظ اپنے اندر ایک خاص توانائی رکھتے ہیں جو بولنے والے کہ ساتھ ساتھ سننے والے کو بھی اثر انداز کرتی ہیں۔۔۔۔ ایک جاپانی سائنسدان نے پانی پر بھی الفاظ کے اثر کو ثابت کرکے بتایا کہ پانی پر جو بولو پانی میں ویسی خصوصیات آتی ہیں، یعنی بسم اللہ پڑھ کر پیئیں تو پانی زبردست طاقت والا پاک بن جاتا ہے اور اگر گالیاں بک کر کفار کی طرح پیئیں تو وہ منفی توانائی کے ساتھ جسم میں جاتا ہے۔

انہیں الفاظ کے اثرات کی مناسبت سے ایک حدیث کچھ یوں ہے کہ۔۔۔ آپ (صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا "برا بولنے سے بہتر ہے کہ چپ رہو اورچپ رہنے سے بہتر ہے کہ اچھا بولو۔””” اسی طرح اسلام میں حکم ہے کہ اچھا سوچو، برا مت سوچو کیونکہ سوچنے سے بھی انسان کے دماغ میں ایک خاص قسم کی فریکوئنسی (لہریں) ہمیں اللہ پاک سے جوڑتی ہے۔ اسی وجہ سے اللہ نے فرمایا۔۔۔ "کہ میں انسان کے گمان پہ پورا اترتا ہوں”۔۔۔۔ اللہ پاک نے ادھر اچھے یا برے گمان کا ذکر نہیں کیا بلکہ صرف "گمان” کا لفظ نازل کیا۔ اب یہ سوچنے والے کی سوچ پر منحصر ہے کہ وہ اللہ سے کس قسم کا گمان رکھتا ہے اچھا یا برا۔بےشک اسلام کی ہر ہر آیت، ہر ہر حدیث میں انسان کے لیے رہنمائی موجود ہے۔ اگر مومن اس طرح کی چھوٹی چھوٹی بے شمار نیکیوں والی احادیث پر عمل کرنا شروع کر دے تو کوئی شک نہیں کہ وہ روح کا وہ خوبصورت بلند ترین درجہ پا لے گا جس کو عرف عام میں ہم روحانیت کے نام سے جانتے ہیں۔۔۔!!