اہم بلاگ معلومات

رؤف کلاسرہ کا پروگرام بند کیوں ہوا؟

انڈس گروپ نے آفتاب اقبال کے ساتھ مل کرنیوز چینل لانچ کرنےکافیصلہ کیا, آفتاب اقبال کی گڈوِل کو استعمال کرنےکیلیے اسے 30 فیصد شیئرزکامالک بنایاگیا,چینل لانچنگ کا فیصلہ ہو گیا تو سامان کی خریداری کافیصلہ ہوا,آفتاب اقبال کا بھائی ایم ڈی بنایاگیا, اس نے چینل کیلیےسامان خریدنے کی بجائے کرائے پرلینے کافیصلہ کیا, پی سی آر کاسامان, گاڑیاں,کیمرے وغیرہ کرائے پرحاصل کرلیےگئے, ساتھ ہی ایم ڈی نے اپنے رشتہ دار اورجاننے والے اہم پوسٹوں پرلگادیے اورانکی تنخواہیں لاکھوں میں, مثال کے طور پرٹرانسپورٹ ہیڈ اس کا رشتہ دارتھا ڈیڑہ لاکھ سیلری لگائی, کچھ فریش لوگ لاکھ روپے سے زائدپر بھرتی کرلیےگئے, ٹیسٹ ٹرانسمیشن سے اب تک تقریباً ایک سال میں کمپنی نے 2 ارب کانقصان کیاتو مالک کے کان کھڑےہوئے, تحقیقات کیں توانکھیں کھل گئیں۔

معلوم ہوا کہ آفتاب اقبال کےبھائی نے جو سامان چینل کیلیے جس کمپنی سےکرائے پرلیا, وہ کمپنی اسکی اپنی ہی تھی, یعنی کرائے کہ مد میں اتنے پیسےکمالیے جتنے کاسامان تھا,اورسامان بھی اپنا,ایک اورمثال, بولان کیری ڈبہ ماہانہ 45ہزار پرہائیرکیاگیا, کتنےعرصے میں قیمت پوری ہوگئی ہوگی؟مالک نے ایم ڈی کو نکال دیا, کیس کردیا, ٹرانسپورٹ ہیڈ اوردیگرکوایم ڈی نےبھگادیا تھا, مالک نے ان سب کو گرفتارکروا دیااور کیس چل رہاہے, کیا آپ نے دیکھا کہ آفتاب اقبال کا شو کب سے نیا نہیں آرہا؟ ریکارڈنگ بند تھی, پرانے چل رہےتھے, مالک نے رؤف کلاسرہ کو ایم ڈی بنانےکا سوچا لیکن کلاسرہ صاحب نہ مانے, مالک نے نقصانات کے بعدچینل کوبیچنے کافیصلہ کیاہے, اسلیے سفارشی لوگ نکال دیے,انڈس نیوزمیں ایک گوری اینکر50 لاکھ ماہانہ پرتھی اسے نکال دیا, کلاسرہ کا پروگرام ماہانہ 70 لاکھ بجٹ لےرہاتھا اسے بھی بند کردیاگیا, اسکےعلاوہ تقریباً 20 لوگ نکالےگئے جو کئی لاکھ ماہانہ پرسفارشی اوررشتہ دارتھے. مالک اب چینل کو منافع بخش دکھا کربیچنا چاہ رہاہے, ملازمین کی تنخواہیں ماہ تک لیٹ ہوچکی ہوئی ہیں جبکہ 30 فیصد کا کَٹ لگانے کا بھی فیصلہ ہوچکاہے۔

فراڈیوں کے خلاف کیس ہوچکاہے, ایم ڈی آفتاب اقبال کا بھائی تھا, کیا خیال ہے کہ آفتاب اقبال کو اس سارے فراڈ کاعلم نہیں ہوگا؟ جبکہ وہ 30 فیصد کا مالک بھی ہے. اب کلاسرہ صاحب اس بارے میں زبان کھولنے کی بجائے حکومت کو الزام دیں یا خلائی مخلوق کو, یا GIDC کیس پر شور مچانے کو وجہ قرار دیں. حقیقت بدل نہیں سکتی ہے. نوٹ : ذاتی طور پر میں کلاسرا صاحب کو ایک ایماندار صحافی سمجھتا ہوں. ان کا دل سے احترام ہے. اس لئے ان کے بارے غیر اخلاقی کمنٹ کر کے تکلیف نا پہنچائیے گا.