ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم جدید و قدیم کے درمیان حد فاصل ہیں

جی ہاں محض ختم نبوت ہی ایک اعزاز نہیں آپ کا بلکہ آپ جدید و قدیم کے مابین ایک حد فاصل بھی ہیں – لائٹ ہاؤس ہوتا ہے نا بھٹکے ہوۓ ، راہ کھوٹی کیے جہازوں کے واسطے …کہ آ جاؤ ، ادھر آؤ . کہ تمام دکھوں کے درماں اسی در پر ہیں ، بالکل ایسے ہی آپ کی ذات گرامی قدر کسی روشن چراغ کی مانند جدید اور قدیم تاریخ کے بیچ میں کھڑی ہے – اگلے روز عمران خان صاحب نے بھی کہا کہ عیسی علیہ السلام کا تاریخ میں کوئی ذکر نہیں تو ایک بحث چل نکلی – اس بحث میں ایک نکتہ یہ بھی در آیا کہ تاریخ کی کتب کون سی ہیں اور کون سی نہیں – اور ایک طبقے کی طرف سے یہ بھی قرار دیا گیا کہ الہامی کتب تاریخ کی کتب نہیں ہیں ، ان کی اس حیثیت کو تسلیم کیا جا سکتا ہے –

یہ درست اور مانا ہوا سچ ہے کہ قران کے ماسوا الہامی کتب انسانی قطع و برید سے نہ بچ سکیں ، اور یہ بھی تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ قران ایسی کسی بھی انسانی در اندازی سے محفوظ رہا – لیکن اس دعوے کو اگر تسلیم کر لیا جائے کہ ماضی کی الہامی کتب تحریف سے محفوظ نہ رہیں یا محفوظ ہیں تو دونوں صورتوں میں ان کی تاریخی حیثیت سے انکار محض ضد اور تعصب ہو گا – اس لیے موسی اور عیسی علیھما السلام کو محض تصوراتی کردار کہنا بھی ظلم ہی ہے – لیکن آج ہمارا موضوع ان کا اثبات یا انکار ہے ہی نہیں –

ہمارا تو یہ کہنا ہے کہ اس قدیم دور اور آج کے جدید دور میں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک حد فاصل ہیں – اگر آپ سے پہلے کی تاریخ انبیاء کا ذکر نہیں کرتی تو نہ کرے ، لیکن جدید تاریخ کا آغاز کہ جسے معلوم تاریخ بھی کہا جا سکتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی ہوتا ہے – اور یہ محض عقیدت نہیں بلکہ اس کے لیے لاتعداد دلائل موجود ہیں –
نبی کریم صلی اللہ علیه وسلم معلوم دنیا کے پہلے اور واحد انسان ہیں کہ جن کے صبح شام ، دن رات ، خلوت جلوت ، سفر حضر ، اٹھنا بیٹھنا ، چلنا پھرنا ، ہنسنا بولنا ، غرض ہر ہر شے مکمل محفوظ ہے –
اس حفاظت سے ہی ختم نبوت کی دلیل بھی نکلتی ہے – اللہ کا یہ فیصلہ تھا کہ اب کوئی اور نبی نہیں آئے گا سو اس نبی کی ہر ہر شے ، ہر ہر تعلیم ، ہر ہر حکم محفوظ کرنا ضروری تھا –  اس حفاظت کے اہتمام سے ہی سابقہ انبیاء کا تاریخی وجود بھی ثابت ہوتا ہے کہ معلوم تاریخ میں جب ایک آخری نبی ہونے کے دعوے کے ساتھ ، مکمل کتب ، احکام اور شریعت لے کے ایک صاحب موجود ہیں تو کس طرح ممکن ہے کہ خالق سابقہ ادوار کو یوں "لاوارث ” چھوڑ دے ؟

اب یہاں اگر کوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تاریخی وجود سے بھی انکار کر دیتا ہے تو اس ساون کے نابینا کو موجودہ ، جی ہاں موجودہ تاریخ کی بنیاد کا بھی انکار کرنا ہو گا – جی ہاں ایسے "مہربان ” بھی موجود ہیں کہ جو نبی کریم کے وجود کی تاریخی حیثیت سے بھی انکار کرتے ہیں – لیکن جدید تاریخ اب ایسی بھی قدیم نہیں کہ ڈیڑھ ہزار برس پیچھے نہ جا سکے اور معدوم تاریخ ہو کے رہ جائے –
مسلمانوں کی حدیث کی کتب محض حدیث کی کتب نہیں عالم عرب اور اسلام کی مستند ترین تاریخ بھی ہیں – ان کے ڈیڑھ ہزار سال پرانے نسخے دنیا میں موجود ہیں – یہ مخطوطے ایک حقیقت ہیں ، ان کی قدامت کی جانچ اب سائنسی بنیادوں پر بھی ہو چکی ہے – سیدنا عثمان کی شہادت کے وقت کا نسخہ ابھی بھی سمرقند کے میں موجود ہے ، اسی طرح حدیث کی انتہائی ابتدائی کتب کے نسخے عجائب گھروں میں موجود ہیں – پھر تاریخ کو صرف تاریخ نگاروں تک بھی محدود کر دیا جائے تو پہلی صدی ہجری کی تاریخ کی کتب موجود ہیں – تاریخ کی وہ کتب کہ جو صحابہ کرام اور تابعیین کے دور میں لکھی گئیں – ہاں اگر تارخ کا یہ معیار ہو کہ وہ کوئی یونانی لکھے تو اس معیار کو سات سلام – یہ معیار نہیں پست ذہن کی مرعوبیت ہے –

اور یہ بھی عجیب حقیقت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اور بعد کی تاریخ کے محفوظ ہونے میں عجیب تفریق ہے – اصل میں اسلام "لاجک ” اور علم کا دین تھا – اس کے ماننے والے علم سے خصوصی تعلق رکھتے تھے – یہی وجہ ہے کہ جب بدر کی جنگ میں کفار قید ہو کے آئے تو ان میں سے بہت سوں کو اس شرط پر قید سے رہائی ملی کہ کچھ مسلمانوں کی اتالیقی کریں یعنی انھیں لکھنا پڑھنا سکھا دیں اور گھر جائیں –
علم سے اس گہرے تعلق نے اس امت کو کتاب سے خصوصی محبت عطا کر دی – مسلمان جس طرف گئے ، جہاں جہاں فتوحات کیں ، وہاں کی تاریخی اور جغرافیائی کیفییت بھی رقم کرتے گئے – یہ ترقیم محض اپنے نبی کی علم سے محبت کے سبب تھی – اور اس تمام تر تاریخی ریکارڈ کی ترتیب کا سبب اصل میں قدرت کا یہ اہتمام تھا کہ آپ کی ذات جدید اور قدیم کے مابین حد فاصل تھی –

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...