بلاگ

رقص کرتا سماج

ایک دور تھا جب برنارڈ شا اور آسکر وائلڈ جیسے مصنفین کو پڑھنے کا چسکہ لگا ہوا تھا، ان کے ڈراموں کے کردار کتاب کے صفحات سے اتر کو میری ذات میں گھومنا پھرنا شروع ہو گئے، نتیجہ یہ نکلا کہ منفرد اور الٹی سیدھی باتیں کرنا ایک عادت بن گئی۔ ایک بار خاندان کے ایک دیندار بزرگ سے فلموں پر بات ہو رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے فلموں میں سب سے زیادہ ان کی کہانی اچھی لگتی ہے، اس کے بعد اداکاری، پھر نغموں کا نمبر آتا ہے ۔۔ تاہم رقص سخت ناپسند ہے۔میں نے جواب میں کہا کہ میرا معاملہ اس سے بالکل الٹ ہے۔ سب سے زیادہ رقص لطف دیتا ہے اور اگر طوائف کا ہو تو کیا ہی بات ہے۔۔ اس کے بعد نغمے اور پھر اداکاری۔۔۔ البتہ کہانی بالکل پسند نہیں آتی۔ان حرکتوں کے باعث خاندان میں نظریاتی طور پر بے دین اور عملی طور لڑکیوں کا شکاری قرار دے دیا گیا۔ حالانکہ درحقیقت دامن میں سوائے چند بے ضرر واردات قلبی کے اور کچھ نہ تھا، ان میں بھی فقط نظروں کی زبانی اظہار محبت تک معاملہ پہنچ پایا، گفتگو کی نوبت کبھی نہیں آئی۔ گناہ بے لذت کی ترکیب کا حقیقی مفہوم اسی وقت سمجھ میں آیا تھا۔

ماضی کا یہ قصہ کچھ یوں یاد آیا کہ یوٹیوب پر گھومتے پھرتے کسی شادی کی تقریب میں ایک پیشہ ور رقاصہ کی ویڈیو دیکھ لی۔ اس لڑکی کے بدن کی جنبش میں رقص کی نفاست کم اور طلب کی کثافت زیادہ نمایاں تھی۔ تال اور گت کی سمت اور تھی جبکہ نرت بھاؤ کوئی دوسری کہانی سنا رہے تھے۔ کچھ دیر رقص دیکھتے دیکھتے بے خیالی میں اس کی ذات کو اپنے اوپر اوڑھ لیا اور پھر جسقدر وہ میری ہستی پر حاوی آتی گئی اسی قدر رقاصہ کی ذات کی پرتیں کھلتی گئیں۔میں نے دیکھا کہ اس کے تھرکتے بدن پر لگی آنکھیں اردگرد کھڑے مردوں کی جانچ پرکھ کر رہی تھیں، ذہن جمع تفریق میں لگا ہوا تھا ۔۔۔ اسے جسم لہراتے وقت موسیقی پر بھی دھیان دینا پڑ رہا تھا، گیت کے بول پر بھی توجہ مرکوز رکھنا تھی، یہ بھی دیکھنا تھا کہ کس کے ہاتھ میں قیمتی نوٹ لہرا رہا ہے اور کون وارفتگی کے عالم جیبیں خالی کرنے کو تیار کھڑا ہے۔۔

اس نے نوٹ لینے کے لیے مجمع میں جاتے وقت ایسا انداز اختیار کرنا تھا کہ ایک حد سے زیادہ دست درازی کا حوصلہ کوئی نہ کر سکے، اس نے لمحوں میں فیصلے کرنے تھے، کسی کو نظر بھر دیکھنا تھا، کسی پر مسکراہٹ اچھالنی تھی، کسی سے شرما جانا تھا، بڑی مالیت کا نوٹ تھامے ہاتھ سے چند لمحوں کے لیے اپنا ہاتھ مس کرنا تھا ۔۔۔ عقابی نظریں ایسے مردوں کی تلاش میں تھیں جنہیں اپنی مردانہ وجاہت کا زعم ہو اور وہ پیسوں کے انبار ہاتھ میں تھامے اس رقاصہ سے اس زعم کی تصدیق چاہتے ہوں۔۔۔

اسے یہ بھی علم تھا کہ رقص جتنا طویل ہو گا اتنی ہی رقم بڑھے گی، اس لیے اپنی توانائی تھوڑی تھوڑی کر کے خرچ کرنی تھی، گیت میں کئی بول ایسے مل جاتے تھے جو اسے ایک جگہ ٹھہر کر شرمانے، لجانے، مسکرانے، رونے اور اداسی دکھانے کا موقع فراہم کر دیتے تھے اور وہ ان لمحات میں تھکن سے چور جسم کو کچھ آرام دے لیتی تھی۔اگرچہ طویل مشق کے باعث اس کا بدن بہت سے مراحل خودبخود طے کرتا رہتا تھا مگر وہ کسی بھی لمحہ غافل نہیں رہ سکتی تھی کیونکہ اس کے اردگرد موجود لوگوں کی جیبوں میں محدود رقم تھی اور اس کے جسم کی سکت کی بھی ایک مخصوص حد تھی۔ اس نے ان دونوں عوامل کو ذہن میں رکھتے ہوئے محدود وقت کو زیادہ سے زیادہ اپنے حق میں ڈھالنا تھا۔

اس کے ذہن کے کسی گوشے میں حساب کتاب بھی چل رہا تھا کہ اس رات کی کمائی میں سے کسقدر حصہ اس تقریب کے معاملات طے کرانے والے کے پاس جائے گا، کتنے پیسے نائیکہ ہتھیا لے گی، زمین پر بکھرے نوٹوں کو اکٹھا کرنے والوں کو کیا کچھ دینا پڑے گا، علاقے کے تھانیدار کی جیب میں کتنے نوٹ جائیں گے اور جو بچا کھچا جو اس کے نصیب میں آئے گا کیا وہ اس مشقت کا جائز معاوضہ ہو گا بھی یا نہیں۔اس دوران کبھی کبھی وہ لمحہ موجود سے غافل بھی ہو جاتی تو خیال آنے لگتا کہ ناز و ادا کی مشینی نمائش کے بعد اس نے گھر بھی لوٹنا ہے، ایک ماں کے طور پر بچے کی فرمائشیں کسی گوشے میں کھڑی پکار رہی تھیں، بیوی کے روپ میں شوہر سے رشتے کی پیچیدگیاں پردہ تخیل پر لہرا رہی تھیں، کبھی کبھار محبوبہ کے طور پر ساعت وصل کی تمنا بھی دل پر اترنے لگتی تھی۔

ویڈیو ختم ہوئی تو میں بھی اپنی ذات کے حصار میں واپس آنے لگا۔۔ مراجعت کے ان لمحات میں یہ بات عیاں ہوئی کہ ایک سیاستدان سے لے کر ایک بیوروکریٹ تک اور ایک کاروباری سے لے کر ملازم پیشہ تک۔۔ پیسہ کمانے کی تگ و دو میں سب اسی رقاصہ جیسے تجربے سے ہر روز گزرتے ہیں۔ رزق کی تلاش میں سرگرداں جسم اور اس کے اندر کی روح ایک لمحے میں کئی معاملات پر سوچ رہی ہوتی ہے، اور انتخاب کی کشمکش سے گزر رہی ہوتی ہے۔ سب خود کو بیچتے ہیں اور تمام لوگ تگڑے گاہک کی تلاش میں نگاہوں کو متحرک رکھتے ہیں۔

بس ایک خیال بار بار آتا رہا کہ ایک طبقہ ایسا ضرور ہے جو ان تمام کیفیات اور تجربات سے بلندتر ہو جاتا ہے، یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے خود کو کسی اعلیٰ آدرش کے لیے وقف کر دیا ہے۔ ایک لمحے کے لیے خیال آیا کہ یہ جو زمین کا نمک کہلاتے ہیں، کبھی انہیں بھی کھنگالنا چاہیے کہ یہ کیسے تجربات اور کس قسم کی کیفیات سے بھرے رہتے ہیں۔پھر عقل نے سمجھایا کہ یہ ادراک کی بڑی سطح ہے جس کے لیے ان کی ذات کو اپنے اوپر اوڑھنا ناکافی ہے، انہیں سمجھنے کے لیے ان جیسا بننا پڑے گا۔یہ خیال آتے ہی اس بھاری پتھر کو بغیر چومے ایک طرف رکھ دیا اور یوٹیوب پر کسی اور رقاصہ کی ویڈیو ڈھونڈنے میں مصروف ہو گیا۔

تحریر : مجاہد خٹک