بلاگ کالمز

رب کا شکر

ایک عجیب و غریب خیال دماغ میں‌ آیا اور مزید شاخیں نکالتا چلا گیا، آئیے آپ بھی اِس خیال کا حصہ بنیے۔رض کریں جو ہم ہیں، ہماری جسمانی ساخت اور ہمارا اپنے گِرد و پیش پر ردِعمل جس موجودہ حالت میں ہے، اِس کے بجائے ایک بالکل مختلف اور ہمارے قابو سے باہر ہوتا تو زندگی کے اطوار و ضوابط کتنے مختلف ہوتے؟ ہیں نہ عجیب و غریب خیال۔ چلیں کچھ مثالوں‌ سے بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔فرض‌ کریں کہ ہمارا ماتھا ایک شفاف سلیٹ یا اسکرین کی طرح ہوتا، اور ہماری سوچ اور خیالات غیر ارادی طور پر اُس پر ایک فلم کی طرح چل رہے ہوتے اور ہم سے بات کرنے والا اُن کو پڑھ بھی سکتا۔ بس اب تصور تو کیجیے کہ ایسی صورت میں ہمارا ایک دوسرے سے ملنا جُلنا کس قدر مشکل ہوجاتا، شاید ایسی صورت میں ہمارا تو ایک دوسرے کے سامنے آنا ہی ترک ہوجاتا،

یا ہم ایک دوسرے سے اپنا ماتھا چُھپاتے پِھرتے کہ کہیں ہمارے اصل ارادے ظاہر نہ ہو جائیں۔چلیں ایک اور صورتحال کا گمان کیجئے، کہ ہمارے سر پر ایک عدد بلب کی طرح کا ایک اشارہ سا لگا ہوتا اور جب بھی ہم میں سے کوئی جھوٹ بولتا، بے ایمانی کرتا یا کسی اور برائی کا ارتکاب کرتا تو وہ بلب فوراً روشن ہوجاتا یا اُس کی روشنی کا رنگ ہمارے رویے کے مطابق بدلتا رہتا تو کیا کیا اونچی شانوں والے پکڑے جاتے اور کئی پیکر حق و صداقت کٹہرے میں‌ کھڑے ہوتے۔یا کچھ ایسا ہوتا کہ ہمارے خیالات کی ایک مقررہ مدت ہوتی، یعنی کہ ہر 24 گھنٹے بعد ہمارے تمام غیر محفوظ شُدہ خیالات خود بخود ہمارے ذہن سے محو ہوجاتے تو آپس میں بات چیت کتنی مشکل ہوجاتی؟ غیر تحریر شدہ یادوں کے بغیر زندگی کتنی بے معنی سی ہوجاتی؟

ہماری حالت ایک خودکار مشین جیسی ہو کر رہ جاتی، جو احساس اور کھٹی میٹھی یادداشتوں کے بغیر کتنی پھیکی سی ہوتی اور محض وقت گزاری ہی ہمارا سب سے اہم مقصد رہ جاتا۔قدرت نے ہماری ساخت اور ہمارا ردِعمل کچھ اِس طرح سے مرتب کیا ہے کہ ہمیں بہت سا کنٹرول عطا کردیا ہے۔ ہم جو چاہیں، جب چاہیں اور جس سے چاہیں اپنے خیالات کا اظہار کرسکتے ہیں، جتنی منافقت چاہیں برت سکتے ہیں کہ دل میں کچھ ہو اور ہونٹوں اور چہرے پر کچھ۔ اب یہ ہر ایک کا انفرادی عمل ہے کہ وہ اپنے ظاہر و باطن میں کتنے پردے رکھتا ہے، اندر اور باہر سے ایک سا انسان ہے یا مکمل طور پر دو مختلف شخصیات کا مالک۔یہ انسان کی سوچ اور اظہار کی آزادی ہی ہے جس کی بناء پر وہ ترقی کی معراج پر ہے اور رُکنے کا نام نہیں‌ لے رہا، گوکہ اِس آزادی کا ہم نے بہت غلط استعمال بھی کیا مگر ہم مجموعی فوائد سمیٹتے چلے جارہے ہیں، کیونکہ ایک آزاد منش اور نجی زندگی کے تحفظ والا ذہن ایک بہتر اور واضح سوچ اور سمت رکھتا ہے۔

یہ مقامِ شکر بھی ہے کہ ہم ایک دوسرے سے چُھپے ہوئے ہیں، مکمل طور پر ظاہر نہیں ہیں اور رب بھی ہمارے عیب چھپانے والا اور دوسروں‌ کے عیب چھپانے کا حکم دیتا ہے، شاید اِس لئے کہ ہم شرمندگی سے بچ سکیں اور ہمارا بہتر رُخ ہی دنیا کے سامنے رہے کیونکہ لوگ اتنے اعلیٰ ظرف نہیں کہ وہ بھی رب کی طرح عیب چھپائے رکھیں اور تھوڑی سی کوشش سے معاف بھی کردیں۔تو آئیں، رب کا شکر ادا کریں کہ اُس کی نعمتیں شمار سے باہر اور مسلسل ہیں، بِن مانگے بہت کچھ مل رہا ہے اور مانگنے پر مزید کی توقع، صرف یہی نہیں بلکہ آج تک نہ میرے اور آپ کے عیب عیاں کرے اور نہ ہی گناہگار ترین بندے سے بھی اُس رب نے کبھی منہ پھیرا۔