بلاگ

قدرت اس وقت تک معاف نہیں کرتی..!

ایک دفعہ ایک امیر یہودی تاجریورپ کی ایک ٹرین میں سوار ہوتا ہے‘ ٹرین کے ڈبے میں ایک غریب‘ مفلوک الحال اور گندہ مندہ سا شخص بھی سفر کر رہا تھا‘ یہودی تاجر بڑی نفرت‘ کراہت اور نخرے کے ساتھ اس کی طرف دیکھتا ہے‘ اسے اس غریب شخص کے ساتھ بیٹھتے ہوئے بھی تکلیف محسوس ہوتی ہے‘ وہ اپنی ناک کو اس سے دور رکھنے‘ اپنے صاف ستھرے کپڑوں کو اس کے میلے کچیلے کپڑوں سے بچانے اور اپنے سامان کو اس کے گندے تھیلے سے دور رکھنے کی کوشش کرتا ہے‘ غریب شخص حیرت سے اس امیر تاجر کی طرف دیکھتا ہے‘ تاجر کو اس کا یوں دیکھنا پسند نہیں آتا چنانچہ وہ اس کی بے عزتی شروع کر دیتا ہے‘ وہ اسے ڈانٹتا بھی ہے‘ اسے گالیاں بھی دیتا ہے‘ اسے ٹھڈے بھی مارتا ہے اور آخر میں اسے چلتی ہوئی ٹرین سے دھکا دینے کی کوشش بھی کرتا ہے لیکن غریب شخص اس کے یہ سارے ظلم‘ یہ ساری زیادتیاں چپ چاپ سہتا رہتا ہے…

وہ منہ سے امیر شخص کے خلاف ایک لفظ نہیں نکالتا یہاں تک کہ دونوں کا سٹیشن آ جاتا ہے‘ امیر شخص کو پلیٹ فارم پر پورے شہر کے معززین‘ دانشور‘ سیاستدان‘ بزنس مین اور سکالرز دکھائی دیتے ہیں‘ وہ ٹرین سے اتر کر لوگوں سے اس اجتماع کے بارے میں پوچھتا ہے تو اسے بتایا جاتا ہے اس ٹرین میں یروشلم کا سب سے بڑا ربی سوار ہے اور یہ لوگ اس کے استقبال کےلئے پلیٹ فارم پر کھڑے ہیں‘ وہ امیر تاجر بھی ان لوگوں کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے‘ ذرا دیر بعد وہ تاجر یہ دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے وہ سارا راستہ جس شخص کی توہین کرتا رہا وہی شخص دراصل یروشلم کا چیف ربی تھا‘

مزید پڑھیں: کامیابی کا راز(فوکس فارمولہ)

تاجر خود کو اچانک گناہ گار محسوس کرتا ہے چنانچہ وہ زمین پر بیٹھ کر ربی کے پاﺅں پکڑ لیتا ہے‘ ربی مسکرا کر اس کی طرف دیکھتا اوراس سے کہتا ہے ” میرے بچے ٹرین میں‘ میں نہیں تھا‘ اس ملک کا ایک عام غریب شخص تھا چنانچہ تم نے میری توہین نہیں کی تھی‘ تم نے اس ملک کے غریبوں کی توہین کی تھی‘ تم نے اگر ایک ربی کی توہین کی ہوتی تو میں تمہیں فوراً معاف کر دیتا لیکن کیونکہ تمہارا ہدف غریب لوگ تھے چنانچہ تمہیں اب اس ملک کے تمام غریبوں سے معافی مانگنا پڑے گی بصورت دیگر اللہ تعالیٰ تمہیں معاف نہیں کرے گا“۔

یہودیوں کے کٹڑ فرقے ”ہیسے ڈک“ کی سچی داستان ہے اور اس کا مطلب ہے ہم جب کسی طبقے کے ایک شخص کی توہین کرتے ہیں تو ہم بنیادی طور پر اس ساری کلاس کی بے عزتی کر رہے ہوتے ہیں اور قدرت اس وقت تک توہین کرنے والے کو معاف نہیں کرتی جب تک وہ ساری کلاس سے معافی نہ مانگ لے۔