ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

قواعد اردو از ابن صف

بچو کبھی تم نے یہ سوچا کہ تم گھر میں پٹتے کیوں ہو؟ تمھارے بزرگ تمھارے مشوروں پر عمل کیوں نہیں کرتے؟ تم آئے دن بیمار کیوں رہتے ہو؟ اکثر تمہار معدہ خراب کیوں رہتا ہے؟تم اگر سوچو تو یہ بات تمھاری سمجھ میں نہیں آ سکتی۔ لہذا میں تمھیں بتاؤں گا۔سنو ان سب کی ایک ہی وجہ ہے، وہ یہ کہ تم قواعد اردو سے ناواقف ہو۔ پس قواعد اردو وہ علم ہے جس کہ نہ جاننے سےآدمی لولا لنگڑا، گونگا بہرہ، اندھا غرضیکہ بالکل اپاہج ہو جاتا ہے۔

اگر ہم اردو قواعد کو بیچ سے پھاڑ دیں گے تو اس کے دو حصے ہو جائے گیں۔ تب ہم ایک حصے کو علم صرف کہیں اور دوسرے کو علم نحو۔ ابھی ہم تمھیں صرف علم صرف کے متعلق کچھ بتائیں گے۔علم صرف میں سب سے پہلی چیز لفظ ہے۔ لفظ کے معنی لغت میں منہ سے کسی چیز پھینکنے کے ہیں مثلاً تھوک بلغم اور قے وغیرہ۔ اور اگر کوئی تمھارے منہ پر گھونسہ مارے اور تمھارا ایک دانت ٹوٹ کر گر پڑے تو اسے بھی لفظ ہی کہیں گے۔ دانت ٹوٹنے کے ساتھ ہی اگر خون نکل پڑے اور درد بھی ہونے لگے تو خون اور درد کو معنی کہیں گے۔۔۔۔کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ دانت خود بخود ٹوٹ کر گر جاتے ہیں نہ خون نکلتا ہے اور نہ ہی درد ہوتا ہے۔ ایسے دانتوں کو مہمل کہتے ہیں جیسے بوڑھوں کے دانت۔

تعریف: پس ثابت ہوا کہ وہ الفاظ جو معنی نہیں رکھتے مہمل کہلاتے ہیں اور معنی دار الفاظ کو کلمہ بھی کہتے ہیں۔ فائدہ: اگر منہ میں ایک بھی لفظ نہ ہو تو حلوہ یا دودھ نصیب ہوتا ہے۔ تنبہیہ: دانتوں کی حفاظت کرنا ہر ایک کا فرض ہے ورنہ وہ مہمل ہونے سے پہلے ہی لفظ بن جاتے ہیں اس لئے ہمیشہ کالی نوس منجن اور مسواک برش استعمال کرو۔

جملہ: تم نے اکثر دیکھا ہو گا کہ جو بچے تم لڑائی میں جیت نہیں پاتے وہ تمھارے دانت کاٹ لیتے ہیں اس طرح وہ اپنے بتیسیوں دانت استعمال کرتے ہیں۔ ایک دانت تمھارا کچھ نہین بگاڑ سکتا۔ مگر جب بتیسیوں دانت استعمال کئے جاتے ہیں تو تم بلبلا اٹھتے ہو پس ثابت ہوا کہ الفاظ کا ایسا مجموعہ جس سے پوری پوری بات سمجھ میں آ جائے جملہ کہلاتا ہے۔

کلمہ کی قسمیں: تم یہ پڑھ چکے ہو وہ لفظ جو معنی رکھتا ہے کلمہ کہلاتا ہے۔ اب ہم تمھیں کلمی کی پہلی پشت سے روشناس کراتے ہیں۔ شجرہ کلمہ، اسم ۔ ضمیر۔ فعل ۔ صفت ۔ حرف ۔۔۔۔اسم اور اس کی قسمیں: اسم وہ کلمہ ہے جس کے بغیر زندگی تلخ ہو جائے۔ اس کی دو قسمیں ہیں ۔ اسم معرفہ اور اسم نکرہ۔

اگر تم کسی سے اس کا اسم شریف دریافت کرو اور وہ جواب دے دے تو ہم اسے اسم معرفہ کہیں گے جیسے رام کھلاون، محمد فاضل اور ایڈورڈ ہشتم وغیرہ۔اگر تم کسی سے اس کا اسم شریف دریافت کرو اور وہ جواب نہ دے پائے تو وہ اسم نکرہ کہلائے گا جیسے بکرا، کتا ، چمگادڑ، چھپر کھٹ، چرکٹ اور مونگ پھلی وغیرہ۔ فائدہ: اکثر اسم دریافت کرنے پر لوگ رشتے دار نکل آتے ہیں۔
تنبیہ: کبھی کسی ایسے کتے سے اسم نہ پوچھنا جس سے تمھاری اچھی طرح جان پہچان نہ ہو ورنہ تمھیں معلوم کر کے بہت مایوسی ہو گی کہ جسے تم اسم نکرہ سمجھ رہے تھے وہ جملہ نکلا۔

اسم کی قسمیں گنتی کے لحاظ سے: گنتی کے لحاظ سے اسم کی دو قسمیں ہیں۔(1) واحد (2) جمع۔ واحد:وہ اسم ہے جو کسی تنہا چیز کے لئے بولا جائے۔ الو ، ٹماڑ ، اونٹ ، اود بلاؤ وغیرہ تنبیہ: یہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ دنیا میں بہتری ایسی چیزیں بھی ہیں جو بیک وقت واحد اور جمع دونوں ہوتی ہیں جیسے پائجامہ جو نیچے سے جمع اور اوپر سے واحد ہوتا ہے۔

اسم کی قسمیں بلحاظ جنس: اللہ پاک بڑا مسبب الاسباب ہے اس نے ہر نر کے لئے مادہ اور ہر مادہ کے لئے نر پیدا کیا ہے۔ جنس کے لحاظ سے اسم کی دو قسمیں ہی ہیں (1) مذکر (2) مؤنث مذکر: ایسے اسموں کو کہتے ہیں جو نر کے لئے بولے جائیں جیسے حرامزادہ ، الو کا پٹھا ، سور کر بچہ۔ مونث: ایسے اسموں کو مونث کہتے ہیں جو مادہ کے لئے بولے جائیں جیسے حرامزادی، الو کی پٹھی، سور کی بچی۔

ضمیر اور اس کی قسمیں۔
ضمیر بہت فائدہ مند چیز ہے اگر تم خوف کی وجہ سے کسی کا اسم شریف نہ بتا سکو تو اس کی جگہ بے دھڑک ضمیر استعمال کر سکتے ہو مثلا والد صاحب کی جگہ “وہ” اور ڈنڈے کی جگہ “یہ” متکلم ہیڈ ماسٹر صاحب کی بیت کو کہتے ہیں اور حاضر غائب سمجھنے کے لئے روزانہ اپنے کلاس کے رجسٹر مطالعہ کیا کرو۔

فعل اور اس کی قسمیں۔۔ فعل وہ کلمہ ہے جس کی جگہ مشینیں لے لیتیں تو زیادہ اچھا تھا۔ بلحاظ معنی فعل کی دو قسمیں ہیں۔

فعل لازم اور فعل متعدی۔
اگر تم کسی گدھے کو چھیڑو تو اسے لازم ہے کہ تمھارے ایک عدد لات رسید کرے۔ پس لات مارنے کے فعل کو فعل لازم کہتے ہیں۔ کلاس میں اگر تم سے فعل لازم کی تعریف پوچھی جائے تو فورا ایک گدھا تلاش کرو۔ اگر گدھا نہ ملے تو تم خود ہی ماسٹر صاحب کو فعل لازم اچھی طرح سمجھا دو۔ اگر امتحان میں ایسا کرو گے تو ہمیشہ اول آؤ گے۔

فعل متعدی کو مرض متعدی بھی کہتے ہیں جیسے تپ دق ہو جانا، ہیضہ ہونا، طاعون آنا، گردن توڑ بخار آنا وغیرہ۔ زمانہ: فعلوں میں زمانے بھی پائے جاتے ہیں۔ یہ تین قسم کے ہوتے ہیں (1) ماضی (2) حال (3) مستقبل۔ حال: قوالی سنتے سنتے بعض بزرگ اچھلنے کودنے لگتے ہیں یہی حال کہلاتا ہے اکثر بڑے کمرے کو بھی کہتے ہیں مگر ایسی صورت میں اس میں ہائے خطی کی بجائے ہائے ہوز ہو۔ مستقبل: ہر وہ چیز جو قطعی لغو ہو مستقبل کہلاتی ہے۔ بلکہ بعض علماء کی رائے تو یہ ہے کہ مستقبل کوئی چیز ہی نہیں ہے۔ اس لئے جو چیز سمجھ میں نہ آئے اسے مستقبل ہی سمجھو۔

ماضی:یہ ایک قسم کا نشہ ہے۔ مختلف قسم کی منشیات کی آمیزش سے کئی قسم کے ماضی بنتے ہیں
(1) ماضی قریب: ہلکا سا نشہ جو کسی سخت قسم کے تمباکو سے آ جائے (2) ماضی بعید: شراب میں افیون گھول کر پینے سے جو نشہ آ جائے (3) ماضی شکیہ: وہ شخص جو خود تو شرا پیتا ہو مگر اپنی بیوی کے چال چلن پر شک ہونے پر اسے قتل کر کے کہیں فرار ہو جائے ایسے فعل کو ہم ماضی شکیہ کہیں گے۔ ماضی استمراری: یہ کم از کم پندرہ قسم کی منشیات کی آمیزش سے تیار ہوتا ہے۔ بعض اوقات اسے استمراری بندو بست بھی کہتے ہیں۔

ماضی تمنائی: شراب کی تمنا دل میں لئے ہوئے دنیا سے رخصت ہو جانا۔ ماضی شرطی: شرط باندھ کر شراب پینا ۔۔تنبہیہ: خبردار کلاس میں ماضی و حال کی مشق ہرگز نہ کرنا ورنہ نتیجے کے ذمے دار تم خود ہو گے۔مضارع: یہ ایسا فعل ہے کہ اس سے حال اور مستقبل دونوں سمجھے جاتے ہیں یعنی ایسی اچھل کود جو قطعی سمجھ نہ آئے۔ تنبہیہ: اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کہ تم کسی لیڈر کو تقریر کرتے دیکھ کر اس کے فعل کو مضارع سمجھ لو ، ممکن ہے کہ جس زبان میں وہ تقریر کر رہا ہو وہ تمھاری سمجھ سے بالاتر ہو ۔ فعل امر: یہ ایسا فعل ہے جسے تم ہرگز پسند نہ کرو گے اس لئے اس کی تعریف نہ کی جائے۔۔۔۔۔۔۔۔فعل نہی: چھٹی ہونے سے قبل ہی اسکول سے کھسک لینے کو فعل نہی کہتے ہیں۔۔تنبہیہ: فعل نہی کی مشق روزانہ کرو ورنہ تمھارے پاس ہونے کی ذمہ داری نہ لی جائے گی۔ اس بات کا ہمیشہ خیال رکھو کہ فعل کے ساتھ فاعل کا ہونا اشد ضروری ہے۔ اگر کسی وجہ سے تم فاعل مہیا نہ کر سکو تو اسی وقت بری لذمہ ہو سکتے ہو جب فاعل کا میڈیکل سرٹیفیکیٹ داخل کر دو اور ہاں دیکھو بعض اوقات فعل اور فاعل کے ساتھ ایک عدد معفول بھی درکار ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر گھبرانا نہ چاہیے۔ ایسی صورت میں ہمیشہ فاعل کو رشوت دے کر منا لو۔ خدا نے چاہا تو وہ خود ہی اپنے معفول ہونے کا بھی اعلان کر دے گا۔ اس لئے کہ رشوت بڑے بڑے دیش سیوکوں تک کو سیدھا کر دیتی ہے۔

صفت:
(1) کلوٹی لڑکی (2) ولائتی الو (3) پانچویں بندریا ۔۔۔ اوپر کی مثالوں میں لڑکی ، الو اور بندریا کے متعلق کچھ کہا گیا ہے ، وہی ان تینوں کی صفت ہے۔ جس کی صفت بیان کی جاتی ہے اسے موصوف کہتے ہیں اس طرح لڑکی ، الو اور بندریا موصوف ہوئے اور کلوٹٰ ، ولائتی اور پانچویں صفت۔ پس ثابت ہوا کہ وہ کلمہ جو کسی کی چغلی کھائے اس کو صفت کہتے ہیں اور جس کی چغلی کھائی جائے اسے موصوف کہتے ہیں۔ تنبیہ: ہمیشہ یاد رکھو کہ الل پاک چغل خور کو کبھی معاف نہیں کرتا۔ لہذا جب کبھی کلاس میں صفت پڑھائی جانے لگے فوراً واک آؤٹ کر جاؤ اگر اس پر بھی ٹیچر باز نہ آئے تو اسکول میں اسٹرائک کرا دو۔

صفت کی تین قسمیں ہیں (1) صفت مشتبہ (2) صفت نسبتی (3) صفت عددی۔ ۔۔ وہ صفت ہمیشہ اپنے موصوف کی چغلی کھاتی رہے صفت مشتبہ کہلاتی ہے۔وہ صفت جو صرف نسبت ہی نہیں بلکہ شادی بھی کرا دے صفت نسبتی کہلاتی ہے۔
صفت عددی وہ نا معقول صفت ہے جس میں اعداد اور ہندسے پائے جاتے ہیں۔ تم اس کے متعلق کچھ معلوم کرنا ہرگز پسند نہ کرو گے۔

حرف ۔۔حرف وہ کلمہ ہے جو اردو کی ابتدائی کتابوں میں اکثر پایا جاتا ہے۔حرف کی قسمیں:حرف جار: اس کو مرتبان بھی کہتے ہیں۔یہ اچار ، چٹنی اور مربے وغیرہ رکھنے کے کام آتا ہے۔حرف ندا: اس کو کوہ ندا بھی کہتے ہیں۔اس کا پتہ طائی کے بیٹے حاتم نے لگایا تھا۔حرف مندبہ: وہ کلمہ ہے جسے حاملہ عورتیں بکثرت استعمال کرتی ہیں۔ جیسے لیموں، مٹی اور آمچور وغیرہ۔اس کلمے کو استعمال کرنے والے کو مندوب کہتے ہیں۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ مندوب نہیں مجذوب کہتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔۔۔حر ف عطف: وہ کلمہ ہے جسےکسی کا سایہ عاطفت نہ نصیب ہو۔۔حرف استثناء: بات کرتے وقت کھانسی یا چھینک آ جائے تو اسے حرف استثناء کہیں گے۔۔۔حرف علت: یہ دراصل حرف علالت تھا کثرت استعمال کی وجہ سے حرف علت رہ گیا ۔ مراد اس سے وہ کلمہ ہے جو مرنے کے بعد بیماروں کو کھلایا جاتا ہے تاکہ قبر میں بھی کوئی بیماری نہ ہونے پائے۔ حرف شرط اور جزاء: وہ کلمہ جو شرط بد کر دوڑنے پر گر پڑنے کے بعد منہ سے نکلے حرف جزا کہلاتا ہے۔ اگر گر پڑے والے کے والدین آپس میں شرط بد کر اسے دوبارہ دوڑا دیں ، اسے ہم حرف شرط کہیں گے۔ بچو علم صرف کا بیان ختم ہو گیا۔ اب تمھیں تحلیل صرفی کرنا سکھایا جائے گا۔

تحلیل صرفی کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے ایک جملہ لکھ لو پھر اس کے ٹکڑے کر دو۔ اگر ٹکڑے برابر کے نہ ہوں تو کسی بڑھئی سے مدد لو۔ اگر جملہ ملائم ہو تو ٹکڑے کرنے سے بہتر یہ ہو گا کہ اس کا قیمہ کرلو۔ ایسے قیمے کو تحلیل صرفی کہیں گے۔
قواعد اردو کا پہلا حصہ ختم ہوا۔ دوسرے حصے میں تم علم نحو کا بیان پڑھو گے۔ اسے پڑھ کر تم اپنے جسم میں ایک خاص قسم کی توانائی محسوس کرو گے، تم نے حکیم اجمل خان مرحوم کا نام ضرور سنا ہو گا۔ ان کے دوا خانہ کی ساری دوائیں ترکیب نحوی ہی سے تیار کی جاتی تھیں۔ اسٹیفن نے جو انجن تیار کیا تھا اس میں بھی ترکیب نحوی لگائی تھی۔ مشہور سائنسدان فرنکلن ٹوسٹ پر مکھن کی بجائے ترکیب نحوی لگا کر کھاتا تھا۔ اس لئے وہ آسمان پر چمکنے والی بجلی کو گرفتار کر کے تمھاری تاریک گلیوں کو چمکانے میں کامیاب ہوا۔ زیادہ تعریف قانون کے خلاف ہے۔ اگر اس سے آگے معلوم کرنا چاہتے ہو تو میری لکھی ہوئی کتاب قواعد اردو کا دوسرا حصہ نکال کر پڑھو۔ تمام پرائیویٹ حالات کھول کھول کر لکھ دئیے گئے ہیں۔

 

تبصرے
Loading...