بلاگ

قوم پرستی بمقابلہ ایمان, اتحاد اور تنظیم

وقت ایک بار پھر منطقی کروٹ لینے والا ہے اور برصغیر ستر سال قبل والی تاریخ پھر دہرانے کو ہے۔ بر صغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا جیسے جیسے تکمیل کی جانب گامزن ہے اور بھارت مزید تقسیم کا جس طرح شکار ہورہا ہے یہ منظر اب بہت جلد وقت کے کروٹ لینے تک ہی موقوف ہے۔ کشمیری قوم پرستوں کا حالیہ سیاسی کشیدگی کو کھینچ کر کشمیر کی تحریک آزادی سے منسلک کرکے تحریک کو سبوتاز کرنا ویسے ہی ہے جیسے تحریک آزادی پاکستان کے وقت کانگریس اور اسکی طفیلی مذہبی, لسانی اور قومی تنظیموں کا محمد علی جناح اور مسلم لیگ پر بے بنیاد مذہبی, لسانی اور قومی الزامات عائد کرکے تحریک آزادی پاکستان یا تقسیم کے ایجنڈے کو سبوتاز کرنا تھا۔

کشمیری قوم پرست جو کہ بہت قلیل تعداد میں ہیں مطلب ایک اقلیتی جمہور پر مشتمل گروہ ہے جو صرف انقلاب اور نظریہ کی ڈگڈگی پکڑ کر بچہ جمہورا بچہ جمہورا کا نعرہ لگا کر مجمعہ جمع کرنے میں تو شاید کامیاب ہوجائیں مگر دراصل وہ راہ اور اسکی منزل نہ متعین کر پائیں جسکے خواب وہ باطل اور طاغوت کی پیروی میں کرنے کی کوشش کررہے ہیں صاحبان کامریڈ پنہ اور انقلاب کی باتیں امن سے کوسوں دور ہیں۔جب امن کو داؤ پر لگائے بغیر منزل تک پہچنا یا انقلاب برپا کرنا ممکن نہیں مطلب خون بہائے بغیر, قربانی دیئے بغیر منزل یعنی آزادی کا حصول ناممکن ہے تو پھر الہامی و مذہبی حکم خداوندی جہاد و قتال کو ترک کرنا کہاں کی دانشمندی اور کہاں کا انقلاب ہے۔

دوستو یہ جو قوم پرستی کا نادیدہ مگر شیطانی بھوت سر پر سوار کرلیا ہے یہ آپ کو اگر کامیابی تک لے بھی جائے تو بھی آپ وہ حقیقی انقلاب وہ حقیقی آزادی جیت نہ پائیں گے جو باطل نظریہ کی بدولت آپ کو اپنی منزل لگتا ہے۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں قوم پرستوں کو وہاں کے مجاہدین کشمیری قوم پرست یا جمہوریت نواز نہیں بلکہ شیخ عبداللہ, فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی کی طرح غدار ہی تصور کرتے ہیں۔اور وادی میں غداری کی سزا صرف موت ہے۔ غداری خواہ نظریہ کی ہو یا قومیت کی مگر انجام عبرتناک موت ہی ہے۔ قوم پرستی اور جمہوریت اس وقت بری طرح شکست کا شکار ہوجاتی ہے جب وہاں پاکستان سے الحاق کے پرزور نعرے گونجتے ہیں اور شہداء کشمیر کو پاکستانی جھنڈے میں متعکفن کرکے قرآن کے سائے ا ور تکبیر کےنعروں کے ساتھ قبر میں اتارا جاتا ہے پورے کروفر اور خوشی کے ساتھ۔

قوم پرستی اور کامریڈ ازم ایک مردہ اور باطل نطریہ ہے۔اسمیں جو لوگ برسات کے اندھے کی طرح ہرے ہرے کا خواب دیکھ کر پھونکوں سے روح ڈالنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں وہ جہاد کی بدولت حقیقی انقلاب اور آزادی کےبعد یہ کہتے ہوئے نظر آئیں گے کہ اس سب میں ہمارے قلم, علم اور جدو جہد مسلسل کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔کیا ہم نے ایسے بدکرداروں کو تاریخ تحریک آزادی پاکستان میں فراموش کردیا ہے کہ پھر سے ایسی کالی بھیڑوں کی تقلید کریں۔ ذرا کوئی مجھے تحریک آزادی پاکستان کے ان قوم پرستوں کےچند نام تو گنوائے جو قوم پرستی کے سحر میں مبتلا ہوکر تاریخ میں کامیابی حاصل کرسکے اور لوگ انکی قبروں پر جاکر فخر سے دعا کرتے ہوں انکی جدوجہدکے عوض؟

دوستو بھارت میں اسوقت چودہ الگ ریاستوں میں آزادی کی تحریک چل رہی ہے علاوعہ جموں اور کشمیر کے۔ان چودہ میں سے صرف چار تحریکیں قوم پرستی کے نظریہ کے تحت ہیں باقی دس میں کوئی نہ کوئی مذہبی اور منطقی نظریہ کارفرما ہے۔آپ میرے یہ الفاظ درج کرلیں تاریخ میں کہ بھارت جلد تقسیم ہوگا مگر یہاں تقسیم کے ایجنڈے کے تحت وہی ریاستیں آزاد ہوں گی جو قوم پرستی کی لت میں مبتلا نہیں ہونگی۔قوم پرست نظریہ والی ریاستیں ایک لاحاصل جنگ لڑتی لڑتی معدوم ہوجائیں گی یا دوبارہ بھارت کی غلامی کو خوشی خوشی زندگی کی خاطر منظور کرلیں گی۔مطلب قوم پرستی نسلوں کے خاتمے کا باعث تو بن سکتی ہے مگر مستقل امن اور قیام کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔

جبکہ دوسری جانب جہاد, قربانی, ہجرت اور آزادی کا نظریہ لیکر لڑنے مرنے والی قوم ایک دن نا صرف کامیاب ہوجاتی ہے بلکہ تاریخ کا سفر فخر سے کرتے ہوئے زندہ قوم بن کر پھلتی پھولتی ہے۔اگر آپ کو کوئی مثال جاننے اور منہ کی کھانے کا اشتیاق ہے تو پاکستان اور اسرائیل کی مثال کافی ہے۔ان کا نظریہ اور تاریخ پڑھ لو وہی بہت ہے۔ اس لیئے قوم پرستی کی جانب نہیں بلکہ ایمان, اتحاد اور تنظیم کے نظریہ کی جانب آؤ۔یہ جہاد کی مکمل تعریف ہے اور ایک مجاہد محمد علی جناح کی زندگی کا سنہرا اصول ہے۔ کشمیر سے رشتہ کیا؟ لاالہ الاللہ محمد رسول اللہ کشمیر بنے گا؟ پاکستان پاکستان زندہ آباد

تحریر : بلال شوکت آزاد

لکھاری کے بارے میں

بلال شوکت آزادؔ

فطرت سےآرمی آفیسر, شوق سےصحافی اور پیشےسےمزدور ہوں۔ پرو پاکستان, پرو اسلام اورپروانسانیت بندہ ہوں۔

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment