بلاگ

قید کے سترہ سال

دنیا کا بیشتر حصہ عالمی وبا کووِڈ_١٩ کی لپیٹ میں ہے۔ اس مہلک وبا کے تاحال لاعلاج ہونے کے باعث حفاظتی تدابیر پر ہی پورا زور ہے۔ احتیاطی تدابیر میں سرِفہرست "سماجی دوری” اور "قرنطینہ” (لاک ڈاون) ہے۔ "اپنی مرضی” کے اسیر انسانوں کو اپنی بقا کی (باسہولت) محصوری بھی قید کی مانند ہے۔۔۔۔۔ قید کے تذکرے کے ساتھ ہی سب سے پہلا خیال جو زہن میں آتا ہے، وہ امریکا کی ظالمانہ قید میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا ہے۔ قید کا یہ عرصہ زندگی کا نہیں ایک کمزور بیمار قیدی کے روز جینے روز مرنے کا سترہ سالہ (مارچ ٢٠٠٣ تا ٢٠٢٠ ) طویل اذیت ناک سفر ہے۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی قومی منظر نامے کے ہر اہم موڑ پر سامنے آنے والا سگنل ہے۔ حالیہ امریکا طالبان امن معاہدہ ہو یا موجودہ وبا کورونا کی ہلاکت خیزیاں، عافیہ ایک بار پھر موضوع بحث ہیں۔

یاد رہے ۔۔۔۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی امریکہ کی جامعات سے اعلیٰ تعلیم یافتہ پاکستانی شہری ہیں۔ تعلیم کے ذریعے دنیا میں مثبت تبدیلی ان کا خواب تھا۔ ان کے ساتھ پیش آنے والے الم ناک واقعات تعبیر کی راہ میں رکاوٹ بن گئے۔ انہیں٣٠ مارچ ٢٠٠٣ء میں پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں کراچی سے اغوا کر کے لاپتا کیا گیا۔ اکتوبر ٢٠٠٨ء میں برطانوی نَومسلم صحافی ایوون ریڈلے نے افغانستان میں امریکی مرکز بگرام ایئر بیس کی جیل میں موجود "قیدی نمبر ٦۵٠” کے ڈاکٹر عافیہ ہونے کا انکشاف عالمی میڈیا کے سامنے کیا۔ ان کے ہمراہ تحریکِ انصاف کے سربراہ کی حیثیت سے عمران خان بھی تھے۔ ایوون ریڈلے نے عافیہ پر امریکی فوجیوں کے شرمناک اور دل دہلا دینے والے مظالم کا انکشاف کے ساتھ ان کی رہائی کی اپیل کی۔

ڈاکٹر عافیہ کو ٢٠٠٩ء میں امریکی قیدیوں پر حملہ کرنے اور مارنے کے الزام میں افغانستان سے امریکا منتقل کیا گیا۔ قتل کی کوشش کا نام نہاد مقدمہ چلا کر عدالت میں جرم ثابت کیے بغیر ٨٦ سال قید کی سزا سنائی گئی۔ڈاکٹر عافیہ کو سیاسی قیدی کہا گیا۔ اس لحاظ سے ان کے کیس کو سیاسی طور پر ڈیل کیا جانا چاہیے تھا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی حکومتیں یکےبعد دیگرے آتی جاتی رہیں لیکن کسی حکومت کے دور میں بھی ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی سنجیدہ عملی کوششیں نہیں کی گئیں۔ ڈاکٹر عافیہ کو قوم کی بیٹی سب نے ہی کہا، رہائی کے وعدے بھی کیے۔ لیکن یہ وعدے اور دعوے زبانوں اور میڈیا کی سکرین سے قانونی و عملی شکل میں نہ ڈھل سکے۔

ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے پاکستان کی قومی اسمبلی نے ٢١ اگست ٢٠٠٨ء کو پہلی قرارداد منظور کی اُس وقت شاہ محمود قریشی وزیر خارجہ تھے۔ سینیٹ نے عافیہ کی رہائی کے لیے ١۵؍ نومبر ٢٠١٨ء کو قرارداد منظور کی تب پھر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی تھے۔ حالیہ امریکہ طالبان کے مابین دوحہ امن معاہدہ کے موقع پر بھی شاہ صاحب وہاں موجود تھے اور معاہدے کا کریڈٹ عمران خان کو دے رہے تھے۔ یہ عمران خان بھی وہی ہیں جنہوں نے ٢٠٠٨ء میں سب سے پہلے عافیہ کے لیے آواز بلند کی تھی۔ ٢٠١٨ء عافیہ رہائی کو اپنے انتخابی منشور کا حصہ بنا کر عافیہ کی وطن واپسی کی کوششوں کا وعدہ کیا تھا۔ وہ عمران خان آج پاکستان کے وزیرِاعظم ہیں۔

منظر نامہ تبدیل ہوا ۔۔۔۔۔ دوحہ امن معایدہ کے ضمن میں طالبان لابی کی بھرپور فتح سامنے ہے۔ طالبان عافیہ کو اپنے قیدیوں میں پہلے ہی شمار کر کے ان کی رہائی کی بات کرتے رہے ہیں۔پاکستان اور اس کے اعلیٰ حکام نے دوحہ معاہدے میں جس طرح ہر ممکن معاونت بہم پہنچائی وہ عافیہ کیس کے سلسلے میں طالبان کی معاونت کیوں نہیں لے سکتے؟ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے ہر ممکنہ راستے سے کوششیں کی جانی چاہیں :کورونا وائرس کی پیشِ نظر امریکہ سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ۔۔۔ امریکہ طالبان مزاکرات کے تحت قیدیوں کے تبادلے میں کوئی موقع ۔۔۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے ذریعے قیدیوں کے تبادلے کی ڈیل ۔۔۔گذشتہ دنوں پاکستان کے ماہرِ قانون داؤد غزنوی نے ڈاکٹر عافیہ پر مبنی اپنی کتاب "عافیہ ان ہرڈ”(Aafia unheard) میں ان کی رہائی سے متعلق قانونی نکات اور راستے بھی بیان کیے ہیں۔

ایک راستہ یہ بتایا گیا کہ (مسلسل ٹارچر کے باعث) عافیہ صدیقی کا ذہنی توازن اور طبیعت ٹھیک نہیں لہٰذا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر انہیں پاکستان واپس لایا جا سکتا ہے۔ یہ خالص قانون پر مبنی ایک راستہ ہے۔ اس صورتِ حال میں پاکستان بغیر کسی سودے بازی کے عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کر سکتا ہے۔تازہ گھمبیر صورتِ حال کورونا وائرس کی ہے۔ اس خدشے کے پیشِ نظر ایران اور امریکہ جیسے دشمن ممالک نے بھی ایک دوسرے کے ملکوں سے اپنے اپنے قیدیوں کی حفاظت اور رہائی کا فوری مطالبہ کر دیا ہے۔ سی این این کے مطابق امریکی جیلوں میں کورونا پھیل گیا ہے۔ حفاظت و احتیاط کی صورتِ حال بہت پریشان کن ہے۔ کئی اموات متوقع ہیں۔ پاکستان میں بھی قیدیوں کی مشروط ریائی کا کام شروع ہو گیا ہے۔ ایسے میں قومی سطح پر ڈاکٹر عافیہ اور ان جیسے دیگر مظلوم قیدیوں کی واپسی کی کوشش حکومت کی اہم سفارتی کامیابی ہو گی۔
ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے اس سے زیادہ بہترین حالات شائد کبھی نہیں رہے ۔۔۔ وزیرِ خارجہ اور وزیرِ اعظم دونوں ہی ابتدا سے اب تک عافیہ کیس کے مشاہدہ کار ہیں ۔۔۔ پنجاب اسمبلی کے سپیکر چودھری پرویز الٰہی نے دفترِ خارجہ سے عافیہ کی رہائی کے لیے کوششوں کی پرزور اپیل کی ہے۔ یہ دیگر سیاستدانوں کے لیے یاددہانی ہے۔ وزیرِ اعظم عمران خان تو رہائی کے وعدے کے مقروض بھی ہیں ۔۔۔۔

عمران خان کا وزیراعظم بننے سے قبل کہنا تھا :’’ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا غیروں کی قید میں رہنا وقت کے حکمرانوں کے لیے انتہائی شرم ناک ہے۔ اگر ہم عافیہ کو رہا نہ کروا سکے تو یہ بدترین مایوسی والی بات ہوگی۔‘‘عمران خان صاحب! آج وقت نے آپ کو حکمران بنا دیا،آپ کے پاس اختیار آ گیا ہے۔ قومی غیرت پر لگے شرمندگی کے اس ناسور کو ختم کرنے کب اٹھیں گے؟ شائد کہ آپ کا یہ کارنامہ ملک و قوم کو کورونا کی وبا سے نجات دلا سکے !!!

رضوانہ قائد