صحت

کیا ایک صدی پرانی ویکسین کورونا سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہو رہی ہے؟

محققین کے لئے یہ بات کافی حیران کُن ثابت ہو رہی تھی۔ آخر کیسے ایک صدی پرانی ویکسین کورونا کے خلاف انسانی قوت مدافعت کو بڑھا سکتی ہے۔ٹی بی ایک وبائی مرض ہے جو کہ بیکٹریا سے پھیلاتا ہے جبکہ کورونا ایک دوسرا وبائی مرض ہے جو کہ وائرس سے پھیلتا ہے۔ ان دونوں میں ایک قدر مشترک ان کے پھیلنے کا طریقہ ہے۔ اس کے علاوہ ان کے درمیان کوئی بھی مشترک چیز نہیں۔ لیکن مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ ٹی بی کے خلاف استعمال ہونے والی ویکسین اس وائرس کے خلاف لڑنے میں ایک خاص قوتِ مدافعت پیدا کر رہی ہے۔ اس بات کے ثبوت کے طور پہ محققین کے پاس ایک وسیع ڈاٹا موجود ہے۔ اس ڈاٹا کے مطابق وہ ممالک جہاں یہ ویکسین استعمال ہو چکی ہے وہاں کورونا سے اموات کی شرح دوسرے ممالک کی نسبت تیس فیصد کم ہے۔ یہ ڈاٹا دیکھنے سے پہلے ہمیں کورونا اور اس قبیل کے دوسرے وائرسز کے عمل کا طریقہ کار جان لینا چاہیے۔

کورونا وائرس جب مریض کے خلئیوں میں داخل ہوتا ہے تو یہ اپنی نقلیں بنانا شروع کر دیتا ہے۔ اس عمل کے دوران مریض کے سیلز خود ساختہ موت یا ایپاپٹوسس کے عمل کے تحت خود کو مار دیتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں وائرس کی کڑوڑوں نقلیں پھیل جاتی ہیں اور دوسرے خلئیوں کو متاثر کرنے چلی جاتی ہیں۔ بعض کیسز میں یہ وائرس ایسے خامرے/پروٹین ریلیز کرتا ہے جو مریض کے خلئیوں کو مرنے سے روک دیتے ہیں۔ ان کو Inhibitors بھی کہتے ہیں۔ یہ عمل وائرس کو اپنی آبادی من چاہی مرضی کے مطابق بڑھانے دیتا ہے۔ اور پھر وائرس سیل کو مرنے دیتا ہے۔بعض اوقات مریض کے خلئیے اندر جاتے وائرس کا ایک حصہ پکڑ لیتے ہیں اور اس کو اپنے باہر لٹکا دیتے ہیں جو کہ امیون سسٹم/نظام مدافعت والے خلئیوں کو اطلاع دیتا ہے کہ اندر وائرس ہے۔ جس پر وہ امیون سیلز آتے ہیں اور اس خلئیے کو تباہ کر دیتے ہیں۔ تاکہ باقی خلئیے وائرس سے متاثر نا ہوں۔ اسطرح جسم کسی بھی وائرس کیخلاف لڑتا ہے۔ یوں یہ وائرس ایک جسم کو متاثر کرتا ہے۔

لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک ویکسین جو کہ بیکٹریا کے خلاف لڑنے کے لئے استعمال ہوئی ہے وہ اس بیماری کے خلاف لڑنے میں کیسے مدد کر رہی ہے؟ بی سی جی ویکسین سالانہ دس کڑوڑ تیس لاکھ سے زائد لوگوں کو لگائی جاتی ہے۔ جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں اس ویکسین کو لگانے کی شرح انتہائی کم ہے جیسا کہ نیدرلینڈ اور امریکہ میں یہ ویکسین لگوانا اتنا ضروری نہیں سمجھا جاتا جبکہ وہیں روس ،برازیل، انڈیا ، چین پاکستان جیسے ممالک میں یہ ویکسین لگوانا ایک طرح سے لازمی ہے۔ کیونکہ یہاں ٹی بی کی شرح حد سے زیادہ ہے۔۔ یہ ویکسین انیس سو انیس میں دو فرانسیسی سائنسدانوں البرٹ کیمیٹ اور کیمیلی گورین نے بنائی تھی۔ سوویت یونین دنیا کا وہ پہلا ملک تھا جس نے اس ویکسین کے استعمال کو لازمی قرار دیا تھا ۔ اس ویکسین میں ٹی بی کے کمزور جرثومے موجود ہوتے ہیں۔ ویکسین جو کہ اسی بیماری کے مردہ یا ناکارہ جرثومے رکھتی ہے اپنے ظاہری اثرات کے ساتھ کچھ پوشیدہ اثرات بھی رکھتی ہیں۔ ان اثرات کو ہم آف ٹارگٹ ایفیکٹ کے نام سے جانتے ہیں۔ اس مظہر کے تحت ویکسین اپنے خاص اثر کے علاوہ دوسرے اثرات بھی دکھاتی ہے۔ بی سی جی ویکسین جو کہ ٹی بی کے مریضوں کو لگائی جاتی ہے اس ویکسین کے دوسرے اثرات میں نظام تنفس کی بیماریوں سے مدافعت کے ساتھ ساتھ وائرس سے ہونے والی بیماریوں کے خلاف مدافعت بھی ہے۔ اس کے علاوہ یہ لپراسی ، بلیڈر کینسر اور السر کے خلاف بھی اثر دکھاتی ہے۔

سپین اور پرتگال ہمارے سامنے دو مثالیں ہیں۔ سپین میں یہ ویکسین لگوانا انیس سو اکیاسی تک لازمی نہیں تھا جبکہ پرتگال میں یہ تھا۔ اب جبکہ سپین اور پرتگال کی شرح اموات دیکھیں تو ایک بہت بڑا فرق سامنے آتا ہے۔ اسی طرح سے مشرقی جرمنی اور مغربی جرمنی کو بھی ریسرچرز ایک مثال کے طور پہ دیکھ رہے ہیں کیونکہ مشرقی جرمنی جہاں پہ یہ ویکسین لگوانا لازمی تھا وہاں پہ شرح اموات مغربی حصے کے مقابلے میں بہت کم ہے.اگر ہم اعداد و شمار کو دیکھیں تو ایسے ممالک جہاں یہ ویکسین استعمال ہو رہی ہے وہاں پہ کورونا کے مریضوں کی شرح 38 افراد فی دس لاکھ ہے جبکہ اس کے مقابلے میں دوسرے ممالک میں یہی شرح 358 افراد فی دس لاکھ ہے۔ اسی طرح شرح اموات بھی ویکسین والے ممالک میں چار اعشاریہ دو آٹھ افراد فی دس لاکھ جبکہ ویکسین استعمال نا کرنے والے ممالک میں یہی شرح چالیس افراد فی دس لاکھ سامنے آتی ہے۔ ایسے میں محققین اس بات پہ یقین کر رہے ہیں کہ یہ ویکسین کورونا کے خلاف لڑنے میں قوت مدافعت بڑھا رہی ہے۔ کیونکہ اس کے استعمال والے ممالک میں کورونا سے متاثر مریضوں کی شرح اس ویکسین کو استعمال نا کرنے والے ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ اس تحقیق کو مدنظر رکھتے ہوئے آسٹریلیاء نے اپنے ملک میں ویکسین کے ٹرائل بھی شروع کر دئیے ہیں جن کے نتائج اگلے کچھ دنوں تک سامنے آ جائیں گے۔

گو اس تحقیق کا سب سے کمزور پوائنٹ یہ ہے کہ اکثر ویکسین ایک خاص عرصے تک کار آمد رہتی ہیں۔ جیسا کہ یہی بی سی جی ویکسین دس سال تک کاآمد رہ سکتی ہے۔ ایسے میں یہ بات کرنا عجیب ہے لیکن بہت سے چوٹی کے سائنسدان جیسا کہ رابرٹ گیلو جو کہ ایچ آئی وی نامی وائرس جو کہ ایڈز پھیلاتا ہے اس کو دریافت کر چکے ہیں کہتے ہیں کہ یہ تحقیق کورونا کے خلاف ہماری لڑائی میں ایک بہت بڑی کامیابی ثابت ہوگی۔

بی سی جی ویکسین کی وجہ سے کڑوڑوں انسانوں کی اب تک جانیں بچ چکی ہیں۔ ایسے میں کہا جا سکتا ہے کہ اس ویکسین کی وجہ سے ہمارے نظامِ مدافعت میں کچھ ایسے میموری سیلز رہ گئے ہیں جو کہ ہمیں اس کورونا وائرس کے خلاف لڑنے میں مدد دے رہے ہیں۔ سائنس تحقیق و جستجو کا نام ہے۔ مغرب کی جو بات ہم سے انہیں ممتاز کرتی ہے وہ یہ اچھوتے خیالات سوچنا ہی ہے۔ لیکن یہ تحقیق فقط خیالات کا نچوڑ نہیں بلکہ اس کے پیچھے بہت زیاد حقائق و ثبوت پڑ ے ہیں۔ مشرقی جرمنی کے مقابلے میں مغربی جرمنی کی مثال ہو یا پرتگال کے مقابلے میں سپین کی یا پھر برازیل اور امریکہ کا موازنہ ہو یا روس و انڈیا میں کیسز کی کم شرح ہو۔ یہ سب کڑیا ں ہمیں اس ویکسین کے استعمال کی طرف سوچنے پہ مجبور کر دیتی ہیں کہ آخر کچھ تو خاص ہےاس ویکسین کے اسستعمال میں جو ان ممالک میں کورونا کی تباہ کاریوں کو روکے ہوئے ہے۔ مزید برآں اگلے کچھ ماہ تک آسٹریلیا کے ٹرائلز کا نتیجہ بھی سامنے آجائے گا جو کہ اس تحقیق کو ثابت کرنے یا جھٹلانے میں ہماری مدد کرے گا۔

تحریر ضیغم قدیر