ادب بلاگ

پر اثر شخصیت

بڑا انسان وہ ہے جس کی محفل میں کوئی خود کو چھوٹا محسوس نہ کرے۔ ہر چیز اپنے ہونے کا ثبوت دیتی ہے ایک چھوٹا ساذرہ آنکھ پھوڑ کر اپنے ہونےکا ثبوت دے سکتا ہے ۔ جس طرح ہر چیز اپنے ہونے کا اظہار کرتی ہے اس طرح انسان بھی اپنی شخصیت سے اپنے ہونے کا اظہار کرتا ہے۔ بندے کی شخصیت سے پتا چلتا ہے کہ وہ کس طرح کا انسان ہے۔ جب کسی شخص سے واسطہ پڑتا ہے تو اس کی بات چیت، انداز و اطوار سے پتا چلتا ہے کہ وہ کس قسم کا انسان ہے ۔ بہت سے لوگ اچھا ہونے کے باوجودبھی اپنے آپ کواچھے انداز میں پیش نہیں کرپاتے جبکہ بہت سے لوگ اتنے اچھے نہیں ہوتے لیکن ا نہیں اپنے آپ کو پیش کرنا آتا ہے جس کی وجہ سے وہ اچھے بن جاتے ہیں۔ اپنے آپ کو اچھے انداز میں پیش کرنا ایک آرٹ ہے جن کو یہ آرٹ آتا ہے ان کی پوزیشن دوسروں سے بہتر ہوتی ہے۔

جان سی میکسویل اپنی کتاب Five Level of Leadership میں لکھتا ہے کہ قیادت کی پانچ اقسام ہیں ۔ ان میں سب سے بہترین لیول”متاثرکن” قیادت ہے۔ متاثر کن قیادت کا مطلب لوگ قائد سے متاثر ہوں ۔ اگر شخصیت متاثر کن ہو تو پھر لوگ پیچھے بھی آتے ہیں اور پیروی بھی کرتے ہیں ۔ متاثرکن قیادت پراثر شخصیت سے بنتی ہے۔ انسان کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو اس کی سوچ ہوتی ہے ۔ اگر سوچ مثبت ہو تو شخصیت بھی مثبت ہو تی ہے اگر سوچ منفی ہو تو شخصیت بھی منفی ہوتی ہے۔ اگر سوچ کا بیج نہ ہو تو بہترین انسان ہونے کے باوجود بندہ صفر ہوتا ہے ۔شخصیت سوچ سے ہے بودھا کہتا ہے تم وہی ہو جو تمہاری سوچیں ہیں ۔ حضرت واصف علی واصف ؒ فرماتے ہیں ” جو تمہار ا خیال ہے وہی تمہارا حال ہے۔” دنیا کی تاریخ جتنے بڑے نام ہیں وہ کسی سوچ کا نام ہیں۔سقراط زہر کا پیالہ پیتا ہے اور مسکرا کر کہتا ہے میں تو مر رہا ہوں لیکن میری سوچ نہیں مر رہی۔ جس کو یہ یقین ہوتا ہے کہ میں مر رہاہوں میری سوچ نہیں مر رہی وہ زندہ ہو جاتا ہے۔ سوچ نسلوں میں جاتی ہے ۔ سوچ ایک سے دوسرے میں منتقل ہوتی ہے ۔افکارِ تازہ سے نمو ہوتی ہے اگر افکارِ تازہ نہ ہوں تو زندگی چھپڑ کی مانند ہو جاتی ہے جہاں پانی عرصہ دراز تک رکا رہنے کی وجہ سے بدبو دار ہوجاتا ہے۔

پراثرشخصیت کو اپنی ذات پر یقین ہوتا ہے ۔خود پر اعتماد ایک ایسی چیز ہے کہ بودھا کہتا ہے جس نے خود پر اعتماد کیا زمانہ اس کے سامنے سرنگوں ہوجاتا ہے ۔ جو شخص یقین کے ساتھ قدم ا ٹھاتا ہے منزلیں اس کا استقبال کرتی ہیں۔ویلیم جیمز کہتا ہے ہماری زندگی میں یقین کا بہت زیادہ کردار ہے کیونکہ یقین سے نتائج بنتے ہیں ۔ بندے کو ہر چیز پر یقین ہوتا ہے لیکن اسے خود پر یقین نہیں ہوتا ۔ اسے یہ یقین نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے محنت کا صلہ دینا ہے ۔ اندر ایسی چیز ضرور ہونی چاہیے جو یہ یقین پیدا کرے کہ آپ جو کر رہے ہیں وہ ٹھیک ہے۔انسان کا یقین تب پختہ ہوتا ہے جب وہ کسی سے متاثر ہوتا ہے اور اس جیسا بننے کی کوشش کرتا ہے ۔

پراثرشخصیت فیصلہ ساز ہوتی ہے ۔ لمحہ موجود میں بندہ جس حال میں ہوتا ہے وہ ماضی کے فیصلوں کی وجہ سے ہوتا ہے اگر فیصلے درست ہوں تو بندہ مطمئن اور خوش ہوتا ہے اور اگر فیصلے غلط ہوں تو بندہ پریشان ہوتا ہے ۔ ماضی کے غلط فیصلوں کی وجہ سے اگر بندہ نقصان اٹھا رہا ہے تو اسے دیکھنا چاہیے کہ اس کے فیصلے شعوری تھے ، لاشعوری تھے یا کسی کی ہاں میں ہاں ملائی تھی ۔ بڑے لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے پاس قوت فیصلہ نہیں ہوتی جس کی وجہ سے انہیں زندگی میں بار بار ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لوگوں کی ستر ستر سال عمر ہو جاتی ہے لیکن ان کے پاس قوت فیصلہ نہیں ہوتی۔ صحیح فیصلےنہ کرسکنے کی وجہ سے وہ زندگی بھر اپنے آپ کو کوستے رہتے ہیں ۔ایک دفعہ چند شیروں کو جنگل سے اٹھا کر پنجروں میں ڈال دیا گیا اور وہیں پر ان کی افزائش کا ساما ن بھی کیا گیا ۔ بچے پیدا ہو کر جب جوان ہوئے تو انہیں جنگل میں چھوڑ دیا ۔ ایک دو دن بعد ان کا پتا لگایا تو معلوم ہوا کہ ان کو جنگلی کتوں نے کھا لیا ۔ تحقیق کی گئی تو معلوم ہو ا کہ جنگلے کی قید نے ان سے شکار کی صلاحیت چھین لی۔ آ ج یہی حرکتیں ہم اپنے بچوں کے ساتھ کرتےہیں جس گھر میں چار بہنیں اور ایک بھائی ہوتا ہے وہ بھائی بھی بہن بن جاتا ہے ۔ لاڈ پیار کی وجہ سے اس کی قوت فیصلہ کمزور ہو جاتی ہے ۔ جب اس کے فیصلہ کرنے کا وقت آتا ہے تو وہ فیصلہ کبھی بہنوں کی طرف ، کبھی والد کی طرف اور کبھی والدہ کی طرف دیکھتا ہے۔ اس کی قوت فیصلہ کمزور ہونے کی وجہ سے وہ پراثر شخصیت نہیں بن پاتی۔

انداز ، طور طریقے بندے کی شخصیت کو پر اثر بناتےہیں ۔زندگی کے ہرشعبے کے طریقے ہیں ان میں کھاناپینا بہت اہم ہے ۔ہمارے مذہب میں سیدھے ہاتھ سے کھانا کھانے کی تلقین کی گئی ہے ۔ ہمارے دماغ کے دو حصے ہیں ایک دایاں اور ایک بایاں ۔ دایاں حصہ مثبت ہوتا ہے جبکہ بایاں حصہ منفی ۔آج کی جدید تحقیق یہ کہتی ہے کہ ہمارے دماغ کا مثبت حصہ تب زیادہ حرکت کرتا ہے جب سیدھے ہاتھ سے کھانا کھایا جائے۔ سیدھے ہاتھ سے کھاناکھانے سے دماغ کی مثبت توانائی غذا پراثرا انداز ہوتی ہے جو جسم کے لیے فائدہ مند ہے۔اب آہستہ آہستہ بائیں ہاتھ سے کھانا کھانا فیشن بنتا جارہا ہے جو غیر مہذب بھی ہے اور صحت کے لیے نقصان دہ بھی۔سیدھے ہاتھ سے کھانا کھانے اور تہذیب سے کھانے سے شخصیت پر اثر لگتی ہے۔ آج پارٹیوں میں لوگ اپنی پلیٹوں کو مکمل بھر لیتےہیں اور انتہائی بدتہذیبی سے کھاتے ہیں جس کی و جہ سے ان کی شخصیت سے اچھا تاثر بھی نہیں بن پاتا اور کھانا ضائع ہوجاتا ہے۔ تہذیب یہ ہے کہ پہلے وہ چیزیں جن میں کھانا ڈالنا ہے ان کو پورا کیاجائے پھر طبعیت کے مطابق مناسب کھانا ڈالا جائے ۔ کھانا کھاتے وقت ہو سکے تو نیپکین ہو اگر وہ نہ ہو تو ٹشو رکھ لینے چاہییں تاکہ کپڑے خراب نہ ہوں ۔ اگر چھوٹی چھوٹی چیزوں کو سامنے رکھ لیا جائے تو شخصیت کا پر اثر انداز میں سامنے آتی ہے۔

مہذہب اور صاف ستھر ا لباس پراثر شخصیت کی علامت ہے ۔ آج ہمارے ہاں عجیب وغریب لباس کو فیشن کا نام دیا جاتا ہے وہ کیا کسی نے کہا کہ اگر کم کپڑے پہننافیشن ہے تو دنیا میں سب سے زیادہ فیشن ایبل جانور ہیں ۔ جس طر ح کا پروفیشن ہو اس طرح کا لبا س ہونا چاہیے اگر پروفیشن کے مطابق لبا س ہے تو لوگ اچھا محسوس کرتے ہیں ۔ شخصیت کا دیکھنے والا پہلو سب سے پہلے سامنے آتا ہے ۔ لوگ بات بعد میں کرتے ہیں جبکہ لباس کو دیکھ کر اندازہ پہلے لگاتے ہیں کہ بندہ کس طرح کا ہے۔جس طرح ہر دکان میں شو کیس ہوتا ہے اور اس میں سب سے اچھی چیز کو رکھا جاتا ہے۔ یہ اس لیے ہوتا ہے کہ اپنا "دی بیسٹ” دکھایا جائے یہ لباس کے ذریعے بھی ممکن ہے ۔

ہمارے ہاں شخصی بہتری پر کام نہ ہونے کے برابر ہے ۔ ہمارے تعلیمی ادارے بچوں کی گرومنگ نہیں کر رہے ۔ بچوں کو انٹرویو دینا نہیں آتا، لباس کیسا ہونا چاہیے اس کا نہیں پتا، گفتگو کیسے کرنی ہے اس کا نہیں پتا۔ بچوں کی اکثریت کو سوال کرنے کی تمیز نہیں ہے وہ سوال کرتے ہوئے ایسے لگتے ہیں جیسے لڑ رہے ہوں ۔ سوال کرنے کا ، بات کرنے کا ، اپنی رائے کےاظہار کا ایک انداز ہوتا ہے ۔ گورے نےشخصی بہتری پر بہت کام کیا ہے ۔ اس حوالے ڈیل کارنیگی کا نام بہت اہم ہے ۔ اس کی کتابوں کاساٹھ سے زائدزبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے ۔ ہمارے ہاں ایسا کام نہ ہونے کے برابر ہے اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ شخصیت کی بہتری کے لیے امین اصلاحی صاحب کی کتاب "آدابِ زندگی” بہت اچھی کتاب ہے۔ پروفیسر جاوید ارشد صاحب نے آدابِ زندگی کے حوالے سے بہت اچھی کتاب لکھی ہے۔اختر عباس صاحب نے بچوں کے متعلق بہت اچھی کتابیں لکھی ہیں۔ ان کتابوں سے استفادہ حاصل کر کے شخصیت میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

سید قاسم علی شاہ