بلاگ

پاکستان تحفظ موومنٹ

پی ٹی ایم پر بات کریں تو کچھ قابل احترام پشتون دوست شکوہ کرتے ہیں: آپ پنجاب کے رہنے والے ہیں آپ نے فاٹا میں دیکھا کیا ہے؟ آپ کو کیا معلوم ہم پر کیا بیتی؟ان دوستوں سے پورے احترام کے ساتھ یہ کہنا ہے کہ اگرچہ فاٹا کے حالات ہم نے دیکھے نہیں مگر ہمیں احساس ہے کہ وار زون کیسا ہوتا ہے۔ یہ احساس اس وقت کرب میں بدل گیا جب ڈی چوک پر ایک احتجاجی کیمپ میں ٹاک شو کی ریکارڈنگ کرتے ہوئے ایک پشتون بیٹی نے سب کو مجھ سے باتیں کرتے دیکھا تو میرا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگی’’ زما کونترے ، زما کونترے‘‘۔میں نے عبد الرحیم سے پوچھا یہ بیٹی کیا کہہ رہی ہے۔ عبد الرحیم نے بتایا ڈرون حملے میں اس کا گھر تباہ ہو گیا ، اس نے کچھ کبوتر رکھے ہوئے تھے وہ بھی مارے گئے۔اس بیٹی کا یہ دکھ بظاہر ننھا سا سہی لیکن کسی نیزے کی انی کی طرح آج بھی میرے دل میں پیوست ہے۔کئی بار ایسا ہوا ہے کہ میں تنہا بیٹھا ہوتا ہوں اور میرا وجود اس بچی کو یاد کر کے کانپ جاتا ہے۔

زما کونترے، زما کونترے۔پھر میں یہ سوچ کر دل کو تسلی دیتا ہوں کہ اور کچھ نہیں کر سکا تو انٹر نیشنل لاء کی روشنی میں ڈرون حملوں کے خلاف اردو اور انگریزی میں کتاب لکھ کر میںنے اپنی اس بیٹی کے دکھ کو زبان تو دی۔ ایک دن عباس تابش کا شعر پڑھا تو یہ دکھ پھر سے تازہ ہو گیا: ’’ اس کو کیا حق ہے یہاں بارود کی بارش کرے اس کو کیا حق ہے مرے رنگلے کبوتر مار دے‘‘ ہم نے فاٹا کا یہ دکھ اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن ہم نے یہ قیامت اپنی آنکھوں سے دیکھی کہ ڈرون کے ذریعے جب ہمارے بچوں کے چیتھڑے اڑ رہے تھے اور نیویارک ٹائمز لکھ رہا تھا کہ فاٹا میں بچوں نے مل کر کھیلنا چھوڑ دیا ہے کہ کہیں ڈرون حملہ نہ کر دے ،جب ہم اس پر لہو رو رہے تھے تو کچھ بغلیں بجا رہے تھے۔

آج یہی بغلیں بجانے والے این جی اوز کے کارندے پی ٹی ایم کے میمنہ میسرہ پر کھڑے ہوتے ہیں تو وہی پشتون بچی یاد آتی ہے۔ زما کونترے ، زما کونترے۔ وہ دن بھی یاد ہے جب نقیب اللہ محسود کے قتل پر اسلام آباد میں احتجاج ہوا۔ دفتر سے گھر آتے دیکھا، اونچے شملوں والے بزرگان پریس کلب کے باہر کھڑے تھے۔میرے قارئین گواہ ہیں میں نے لکھا فاٹا کے بزرگ اپنا حق مانگنے اسلام آباد آئے ہیں تو ہم گھروں میں کیسے بیٹھ سکتے ہیں۔ ہم اپنے بزرگوں کے ساتھ ہیں۔ تاریخ کا ورق پلٹ کر دیکھیے کون تھا جو اس جائز احتجاج میں پشتون بھائیوں کے ساتھ نہیں تھا؟ یہ تصویر تو سوشل میڈیا پر موجود ہے کہ منظور پشتین تقریر کر رہے ہیں اور عمران خان تالی بجا رہے ہیں اور اجمل وزیر ساتھ بیٹھے ہیں۔میرے جیسوں کا عالم یہ تھا کہ پشتو کی تقریر کا ایک لفظ سمجھ میں نہ آتا لیکن ہر شام وہاں جاتے۔ یہ تو بہت بعد میں پتا چلا ہم گالیاں کھانے جاتے تھے۔

کچھ لوگوں نے اسے محض ایک خاص عصبیت کا عنوان بنا دیا ہے۔ جنگ یا آپریشن جہاں ہوتا ہے وہاں المیے پھوٹتے ہیں۔لیکن ہم نے دیکھا این جی اوز کے جو کارندے کل تک منہ سے جھاگ اڑاتے تھے کہ آپریشن کرو آپریشن کے بعد انہوں نے صف ماتم بچھا لی ۔ہم نے فاٹا تو نہیں دیکھا لیکن ہم نے ان منافقین کو پینترے بدلتے دیکھا ہے ۔ ہم نے لہو رنگ نتھنوں والے ان بے شرم کارندوں کو امن کے نقاب اوڑھتے دیکھا ہے۔ جی ہاں ہم نے فاٹا تو نہیں دیکھا لیکن ہم نے یہ دیکھا کہ جب پی ٹی ایم کے لوگ الیکشن میں اترے تو عمران خان نے تالیف قلب کے لیے ان کے مقابلے میں اپنا امیدوار تک نہیں دیا۔وہ جیت کر اسمبلی میں آئے اور ان میں سے ایک نے سابقہ فاٹا کی نشستوں سے متعلق 26 ویں آئینی ترمیم کا بل پیش کیا تو پوری اسمبلی نے ان کا ساتھ دیا۔ مبصرین نے لکھا کہ عمران کو اس فیصلے سے سیاسی نقصان ہوا لیکن عمران نے اس کی پرواہ نہیں کی۔لینڈ مائنز کے خاتمے کا مطالبہ تھا ، ریاست نے بتایا کہ 43 فوجی ٹیمیں اس کام میں لگی ہوئی ہیں اور 44 فیصد علاقہ کلیئر کرا لیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: جب پہلا اسلامی ملک ایٹمی قوت بنا!

چیک پوسٹوں کی صورت حال پر شکوہ تھا ان کے معاملات بہتر کر دیے گئے اور اس کا اعتراف خود پی ٹی ایم نے کیا۔مسنگ پرسنز کا معاملہ بہت سنگین ہے تا ہم اس میں بھی پیش رفت جاری ہے۔یاد رہے کہ اس کا شکار بھی صرف پشتون نہیں ، دیگر لوگ بھی ہیں۔ ہم جیسوںنے تو سب سے پہلے یہ مسئلہ آمنہ مسعود جنجوعہ کے منہ سے سنا تھا۔ مسائل موجود ہیں لیکن ان کے حل کے لیے کوشش کرنا ایک چیز ہوتی ہے اور ان کی بنیاد پر شورش کھڑی کر دینا ایک بالکل دوسرا معاملہ ہے۔ حکومت میں پشتون نمایاں ہیں تاہم اگر کسی کا خیال ہے کہ پشتونوں میں سے قوم پرست اعلی درجے پر فائز ہیں تو پی ٹی ایم کے دو لوگ بھی اسمبلی میں ہیں۔ آپ ہی بتائیے مسائل کو مل بیٹھ کر حل کرنا مناسب رویہ ہے یا نفرت ،ہیجان اور تصادم کو فروغ دینا؟

جی ہاں ہم جیسوں نے فاٹا نہیں دیکھا لیکن ہم نے فرستہ بیٹی کے قتل پر ہونے والے احتجاج میں پی ٹی ایم کے لوگوں کی زہر بھری اور نفرت بھری تقاریر سنی ہیں۔ طریق واردات بالکل واضح ہے۔ ایسی تحریکوں کا طریق واردات ہمیشہ سے یہی رہا ہے۔آخری مرحلہ آنے تک عام لوگوں کو کنفیوژن میں رکھو، حقیقی مسائل کو بنیاد بنائو اور نفرت اور زہر کو سماج میں انڈیل دو۔ ہم نے فاٹا تو نہیں دیکھا لیکن وہ ویڈیوز دیکھی ہیں جن میں فوج کو اشتعال دلانے کی کوشش کی جاتی ہے اور اہتمام سے اسے شوٹ کیا جاتا ہے۔انسانی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ مسلح بغاوت سے پہلے ایسے ہی مراحل آتے ہیں۔ پشتون اس قوم کا قابل فخر اثاثہ ہیں۔ پشتون ہی پاکستان ہیں ۔پاکستان کا کون سا شہر اور کون سا ادارہ ایسا ہے جہاں پشتون نہ ہوں۔پاکستان میں دکھوں کی مالا میں ہم سب پروئے ہوئے ہیں۔ نقیب اللہ کو انصاف نہیں ملا تو سانحہ ماڈل ٹائون اور سانحہ ساہیوال کے متاثرین کو بھی نہیں ملا۔ پشتون تحفظ موومنٹ کیوں؟ آئیے پاکستان تحفظ موومنٹ چلائیں۔ مل کر قدم بہ قدم ، ایک پرچم تلے۔