بلاگ

پرائیوٹ سکول کی ٹیچرز کے “رویے” کا حل؟؟

کچھ دن سے برھان سکول جانے سے مسلسل انکاری تھا، استفسار پر بس اتنا کہتا ٹیچر مارتی ہیں۔ہم ان ماؤں میں سے نہیں جو بچے کی بلاوجہ حمایت کریں خاص طور پر پڑھائی کے معاملے میں بچے کی شکایت پر ہم سمجھاتے آپ کام وقت پر مکمل کیا کیجئے مگر اس کا روئیہ نہیں بدلا ٹیچر کے متعلق یہاں تک کہ ہم سوچنے پر مجبور ہوگئے چار سال کے بچے پر ہاتھ اٹھانا کہاں کی عقلمندی ہے چاہے بچہ پڑھائی میں کتنا بھی سست ہو ۔اسلام نے بھی نماز، نہ پڑھنے پر دسویں سال میں سزا کا تعین کیا ہے لیکن یہ ہمارا تعلیمی نظام جہاں بچے کی نفسیات کے ساتھ برے طریقے سے کھیلا جاتا ہے، برھان کو بھی دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے اسے پڑھائی سے محبت کے بجائے بس ٹیچر کا خوف ہوم ورک کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔بسا اوقات تو وہ ہوم ورک لکھتے لکھتے کاپی پر سر رکھے ہاتھ میں پنسل دبائے سو جاتا ہے۔

ان حالات کو دیکھنے کے بعد فیصلہ کیا ٹیچر سے بات کرتے ہیں، ٹیچر صاحبہ خراماں خراماں چلتی ہوئی تشریف لائیں اور بھرپور ایٹی ٹیوڈ کے ساتھ گویا ہوتی ہیں جی فرمائیے! "وہ بات یہ ہے ہمارا لہجہ بہت نرم تھا(اپنی تعریف نہیں اساتذہ کا احترام ایسے ہی کرتے ہیں ہم) یہ سکول آنے سے کتراتا ہے کہتا ہے ٹیچر مارتی ہیں۔” ابھی بات ہمارے منہ میں تھی وہ تو پل پڑیں کہ اس کو نہ لکھنا آتا ہے نہ پڑھنا۔(لکھنا پڑھنا نہیں آتا تو پلے گروپ سے نرسری میں پروموٹ ہی کیوں کی اپنے سکول کی ریپوٹیشن بچانے کے لئے شاید نہ صرف پروموٹ بلکہ ایک عدد تمغے سے بھی نوازا تھا اور کتاب بھی سیرتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پلے گروپ سے پروموٹ ہونے والے بچے کو دی گئی، جو برھان خواہش کرتا ہے اسے پڑھ کر بھی سنائی جائے)

خیر ابھی ہم منمنا ہی رہے تھے کہ کلاس انچارج کو کمک پہنچانے سکول کی ہیڈ آگئیں جن کا بیہودہ لباس اور چہرے پر میک اپ کی تہیں چیخ چیخ کر کہہ رہی تھیں انھیں جانا کسی فیشن شو میں تھا یا شاید فیشن شو میں جگہ نہ مل سکنے کا غم غلط وہ سکول آکر کرتی ہیں خیر سے شروع ہوگئیں آپ کے دونوں بچوں کو سبق یاد ہی نہیں ہوتا۔ انداز بدترین تھا جس پر ہم نے ابھی تک شائستگی کا دامن تھامے رکھا اور عرض کی حبان تو سکول کے علاوہ ٹیوشن بھی جاتا ہے اور ہم گھر پر بھی لازما وقت نکال کر سبق سنتے ہیں، جس کے جواب میں فرمانے لگیں والدین ٹیوشن بھیج کر سمجھتے ہیں ہمارا فرض پورا ہوگیا۔

اگلا اعتراض ان کا یہ تھا آپ کے بچے تو کبھی صاف ستھرے ہو کر سکول نہیں آتے کبھی بال نہیں کٹے ہوتے جبکہ بچہ صاف ستھرا بہت چھوٹے کٹے بالوں کے ساتھ کھڑا تھا، اس سب میں ہمارا مدعا جو لے کر آئے تھے وہ ہوا میں ہی کہیں تحلیل ہوکر رہ گیا اور ہمارا ضبط جواب دیے گیا اور میدان میں اترنے کا سوچا اور ٹھنڈے سے لہجے میں عرض کی خیر جیسا آپ کے سکول کا معیار ہے اس حساب سے تو ہمارے بچے بہت صاف ستھرے آتے ہیں،۔۔ بس تنخواہ سے ذیادہ کام کرنے والی استانی صاحبہ کو جب آئینہ دکھایا گیا تو بلبلا اٹھیں،

مزید پڑھیں: کھانے کا سوڈا یا بیکنگ سوڈا کے حیرت انگیز طریقہ استعمال

سر کو بلا بھیجا ہم یوں مرد حضرات سے گفتگو نہیں کرتے مگر آج کرنی پڑی استانی صاحبہ کی زبان کے آگے سر صاحب بھی بے بس نظر آتے تھے آنجنابہ فرماتی ہیں آپ کہیں مجھے باہر ملئے گا پھر آپ کو پوچھوں گا سر کہتے معاملہ کیا ہوا ہم نے عرض کی کلاس انچارج سے بس اتنی عرض کی تھی کہ بچے کو مار پیٹ کم کیا کریں اور یہ تو کلاس انچارج بھی نہیں پھر بھی درمیان میں آکر فرمانے لگیں "آپ کے دونوں بچوں کو ہی کبھی سبق یاد نہیں ہوا”

کہنے لگے تو آپ کے بچے کی خامی بتائی ہے اسے بہتر کریں، موصوفہ پھربات کاٹتے ہوئے بولیں میں نے ایجوکیشن پر تو بات ہی نہیں کی، میں نے تو بس یہ کہا بچوں کا یونیفارم صاف نہیں ہوتا” دیدہ دلیری سے جھوٹ بولتے دیکھ کر ہم سمجھ آگئے ہمارا ان کا کوئی تال میل نہیں۔۔ آنکھوں میں آنسو بھرے ہم نے گھر کی راہ لی،صرف اپنے بچوں کا نہیں پورے ملک کے بچوں کا سوچ سوچ کر دل بہت دکھی ہے۔ کیا کسی کے پاس ان مسائل کا حل ہے؟