معلومات

بلوچستان کے ویرانوں میں کھڑی یہ شہزادی کون ہے ؟

صوبہ بلوچستان میں کئی ساحلی مقامات اور خوبصورت وادیاں موجود ہیں ، جن کا کوئی ثانی نہیں۔ مگر کئی مقامات کی خوبصورتی سے لوگ واقف تک نہیں، یہاں تک کہ سالوں سے خاموش کھڑی ایک شہزادی کو کچھ سال قبل تک کوئی نہیں جانتا تھا ، تاہم مکران کوسٹل کے پہاڑی سلسلے میں پتھر سے تراشے گئے اس پتھر کے مجسمے کو اب ”امید کی شہزادی“ کے نام سے جانا جاتا ہے ۔

کراچی سے 190 کلومیٹر دور موجود اس مجسمے کی شہزادی نے ایک شاہی انداز کا لباس پہن رکھا ہے ۔ دراز قد یہ شہزادی ایک آن کے ساتھ کھڑی دکھائی دیتی ہے ، تاہم اسے دیکھنے میں ایسا لگتا ہے کہ جیسے اسے کسی چیز کی امید ہو ۔ اس مجسمے امید کی شہزادی کا نام ہولی وڈ کی مشہور اداکارہ انجلینا جولی نے 2002میں تجویز کیا ۔ انجلینا جولی نے اس وقت اقوام متحدہ کی خیر سگالی کی سفیر کی حیثیت سے اس علاقے کا دورہ کیا اور وہ ہنگول نیشنل پارک کی سیر کیلئے آئیں تو انہوں نے سالوں سے اس پہاڑی سلسلے میں موجود شہزادی کو کھڑا دیکھا ۔ اس شہزادی کو دیکھتے ہی ان کے ذہن میں یہ نام آیا اور انہوں نے سالوں سے اس مقام پر موجود اس مجسمے کی شہزادی کا نام ”امید کی شہزادی یعنی پرنسز آف ہوپ“ تجویز کردیا ۔

امید کی اس شہزادی کا نام پھر زبان زد عام ہوگیا اور سالوں سے موجود اس مجسمے کو ایک پہچان سی مل گئی ۔ اس سے قبل بحیرہ عرب کے ساحل کے قریب خاموشی سے کھڑے اس مجسمے سے ہوائیں اور مٹی کے طوفان ٹکراتے، شدید بارشیں ہوتیں لیکن وہ اپنی شناخت کے بغیر وہی موجود رہتی ۔ اس مقام پر اس جیسا ہی ایک اور مجسمہ اسفنکس (Sphinx) موجود ہے ۔ یہ مصر کے مشہور مجسمے اسفنکس سے ہی مشابہت رکھتا ہے ، اس ویران صحرا میں کھڑی یہ شہزادی کا واحد دوست یہی ایک مجسمہ تھا ۔ ماہرین کے مطابق یہ مجسمے 750سال قدیم ہیں اور ایک تاریخی ورثہ ہیں ۔

تحریر : ام عمارہ

لکھاری کے بارے میں

انتطامیہ اُردو صفحہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment