بلاگ

پاور پولیٹکس کے شہکار یوٹرن

پاکستانی سماج کا مسئلہ کرپشن، بدحال سیاسیات اور اقتصادیات اس قدر نہیں جتنا کہ اخلاقیات کا ناپید ہونا ہے۔ عطاء اللہ شاہ بخاری اور خضر حیات ٹوانہ قیامِ پاکستان کے مخالف تھے۔ پاکستان بن گیا تو ایک ملتان میں واقع اپنی کوٹھری میں مقیم ہو کر فقر و فاقہ پر مائل ہوا۔ دوسرا مٹھ ٹوانہ میں اپنے ڈیرے پر جا بیٹھا۔ کہا کہ حقِ حکمرانی و سیاست اُن کا ہے جنہوں نے یہ ملک بنایا۔ خاکسار تحریک والے بھی کبھی اقتدار کی ہوس میں بے جا مبتلا نہ ہوئے۔ البتہ جمیعت العلماء اسلام اور جماعتِ اسلامی دونوں ہی نہ صرف پاور پالیٹکس کا حصہ بنیں بلکہ اقتدار کے مزے لوٹنے کیلئے وہ سب کچھ کیا کہ جو قطعاً زیبا نہ تھا۔ قیامِ پاکستان کے مخالف مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے پاکستان کو ”ناپاکستان“ کہا۔

بعد ازاں اسی پاکستان میں ان کی بنائی ہوئی جماعت پاور پولیٹکس کی سرخیل رہی۔ مولانا مفتی محمودؒ نے قیامِ پاکستان کے بارے میں برملا کہا کہ ”ہم اس گناہ میں شامل نہیں“۔ بعد ازاں اپنی جماعت سمیت قبلہ مفتی صاحب پاور پولیٹکس کی دلدل میں اس حد تک دھنسے کہ روداد پڑھ کر ہی سانسیں پھول جاتی ہیں۔ بھٹو صاحب کی ذہانت، سیاسی سوجھ بوجھ اور پاکستان کیلئے خدمات اپنی جگہ ناقابلِ انکار حقائق ہیں مگر جس کو پہلے ”ڈیڈی“کہا پھر اسی کے خلاف سڑکوں پر آئے اور اقتدار کی مسند تک پہنچے۔ مفتی محمود مرحوم نے پی این اے کی بھٹو مخالف تحریک میں اسٹیبلشمنٹ کی چھپر چھایا تلے سیاست کرنا مناسب جانا۔ آج بزعم خود جماعت اسلامی اور جے یو آئی کو جمہوریت بہت عزیز ہے مگر ایک ڈکٹیٹر کے ہاتھوں ملک کے منتخب وزیراعظم کو ناجائز پھانسی دینے کے معاملے پر ذرا ان کا حال دیکھئے۔ لیاقت بلوچ نے کہا تھا کہ ”بھٹو کو بلاتاخیر پھانسی دے دی جائے“۔ یہ بیان یکم اپریل 1979 ء کو روزنامہ امروز میں شائع ہوا۔

امروز نے ہی 7 فروری 1979 ء کو پی این اے کے سربراہ مفتی محمود کا بیان یوں رپورٹ کیا۔ ”سپریم کورٹ نے بھٹو کی اپیل کے سلسلہ میں جو فیصلہ سنایا ہے وہ انصاف کے تمام تقاضے پورے کرتا ہے“۔ (اعوذ باللہ) جنرل ضیاء نے اپنے تئیں ملک بچانے کے لئے بھٹو کو پھانسی دی بلکہ عدالتی قتل کروایا مگر دوسری جانب قوم پرست جی ایم سید کے سیاسی غبارے میں نئی ہوا بھی بھری۔ علاوہ ازیں ولی خان کو ان کی اہلیہ سمیت مارشل لاء لگانے کیلئے اپنا ہم خیال بھی بنایا۔ پھر ایم کیو ایم بنانے کا وہ بدترین فیصلہ کیا کہ جس کا خمیازہ ملک و ملت آج تک بھگت رہے ہیں۔ اپنے ناجائز اقتدار کیلئے مذہب کا ایسا بدترین استعمال کیا کہ جس کی نظیر نہیں ملتی۔بے نظیر بھٹو نے بائیں بازو کی جماعت کی سربراہ ہوتے ہوئے طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا۔ پیپلز پارٹی کے جنرل نصیر اللہ بابر طالبان کو بنانے والوں میں شامل تھے۔ علاوہ ازیں صاحبزادہ یعقوب علی خان کو وزیرخارجہ کے طور پر قبول کیا اور امریکی آشیرباد کی حامل اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر جعفری صاحب کو گورنر سٹیٹ بنک لگایا۔ وہی بے نظیر کہ جن کے من میں فوج مخالف جذبات کا اک سیل رواں موجیں مارتا تھا، انہوں نے جنرل اسلم بیگ کو تمغہ جمہوریت سے بھی نوازا۔ مولانا فضل الرحمن نے ایم آر ڈی تحریک سے سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا۔ وہی مولانا جنہوں نے عورت کی حکمرانی کے خلاف فتویٰ دیا تھا۔

اُن پر مرحوم حمید گل صاحب نے خود بھی زور ڈالا اور کچھ عرب ممالک سے بھی یہ خدمت لی۔ مگر فضل الرحمن ڈٹ گئے اور اقتدار کی خاطر بے نظیر حکومت کا ساتھ دیا۔ اقتدار کے مزے لوٹے۔ پھر وزیراعظم جونیجو کے بعد نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کے چہیتے ترین فرد بن کر ابھرے۔ اقتدار کا ہما ان کے سر پر بار بار سجایا، بٹھایا گیا۔ آج وہی نواز شریف اسٹیبلشمنٹ سے دشمنی مول لئے بیٹھے ہیں۔ وہی نواز شریف جو بے نظیر کا نام سننا گوارا نہیں کرتے تھے وہ انہیں بہن کہنے پر مائل ہوئے۔ ان کے ساتھ میثاقِ جمہوریت بھی کیا۔ مولانا فضل الرحمن کے پاور پولیٹکس میں یوٹرن کے قصے گویا اک طرفہ تماشا۔ یہ وہی صاحب ہیں جو نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی کرپشن پر سیخ پا ہو کر گرج دار تقریریں فرماتے رہے۔ ایم آر ڈی سے شروعات کرنے والے فضل الرحمن نے ہی پاور پالیٹکس کے کار پردازوں کی سواریوں پر سوار ہو کر ایم ایم اے کے ذریعے صوبے میں حکومت بنائی۔ لازماً مال بھی خوب بنایا۔ پاور پالیٹکس کے شہکار یوٹرنز کے قصے طویل ہیں۔ ابھی کل ہی کی بات ہے۔ لاڑکانہ سے پیپلز پارٹی اپنی ہاری ہوئی صوبائی سیٹ ایک بار پھر سے ہار گئی۔

جیتنے والے کو جے یو آئی کی مدد بھی حاصل تھی۔ یاد رہے کہ مولانا عین اسی وقت اپنے مارچ، جلسے یا دھرنے میں پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی محو مشاورت بھی ہیں اور مدد کے طلب گار بھی۔ حتیٰ کہ جس پارلیمان کو وہ غیر حقیقی، لاقانونی اور دھاندلی کی پیداوار کہہ رہے ہیں اُسی پارلیمان کا حصہ ان کے صاجزادے اسد محمود بھی ہیں اور جمیعت کے کچھ دیگر لوگ بھی وہاں موجود ہیں۔ ان سب کا منتخب ہونا مولانا کے نزدیک بالکل ٹھیک ہے۔ علاوہ ازیں جب موجودہ وزیراعظم عمران خان نواز حکومت مخالف دھرنے میں مکمل زور و شور سے مشغول تھے تو یہی مولانا جو کچھ اس بارے کہتے تھے آج وہی سب کچھ پورے شد و مد سے خود کرنے پر مائل ہیں۔ پاور پالیٹکس کے حصہ داران کی یاد داشت اسقدر کمزور کیوں ہوتی ہے؟ نواز شریف کہا کرتے تھے کہ یوسف رضا گیلانی کرسی چھوڑ کر پہلے الزامات سے بری ہوں پھر چاہے مسند پر واپس آجائیں۔ مگر وقت آنے پر خود استعفیٰ نہ دیا۔ حالانکہ الزامات گیلانی صاحب سے زیادہ گھناؤنے تھے۔ عمران خان کے دھرنے کی مخالفت کرنے والے آج کس منہ سے دھاندلی کی بات کرتے ہیں اور خود دھرنوں پر مائل ہیں؟ کیا آج انہیں ملکی معیشت تباہ ہونے کا خدشہ نہیں؟ موجودہ حکومتی پارٹی جب خود اپنا جمہوری حق دھڑلے سے استعمال کر رہی تھی تو آج امن و امان کے نام پر رستے کیوں روکے جا رہے ہیں؟ نواز شریف کیطرح عمران خان بھی یقینا مستعفی نہیں ہوں گے۔ یقینا پاکستانی سماج کا مسئلہ کرپشن، بدحال سیاسیات اور اقتصادیات اس قدر نہیں جتنا کہ اخلاقیات کا ناپید ہونا ہے۔