بلاگ کالمز

سفید پوشی کا بھرم

عمومی طور پر قلم کاروں کا قلم رؤسا کے خلاف برسر پیکار ہوتا ہے یا پھر غرباء کی غربت اور کسمپرسی انکا موضوع گفتگو ہوتی ہے، لیکن ان دو انتہاؤں کے درمیان بھی معاشرے کی ایک اکائی موجود ہوتی ہے، جسے مڈل کلاس کہا جاتا ہے یا پھر ہمارے ہاں انکے لئے ایک خاص اصطلاح ’’سفید پوش‘‘ طبقہ بھی استعمال کی جاتی ہے۔ میرا یہ خیال یہ ہے کہ اس طبقے کے مسائل یا تو دانستہ یا پھر نا دانستہ طور پر موضوع سخن نہیں بن پاتے، یا پھر ان کے مسائل بھی سفید پوشی کی نذر ہی ہو جاتے ہیں۔لوئر مڈل کلاس اور مڈل کلاس میں زیادہ تعداد ان افراد کی ہوتی ہے جو درمیانے درجے کے سرکاری ملازمین ہوتے ہیں یا پھر کسی چھوٹے کاروبار سے وابستہ ہوتے ہیں۔ خاندان میں ایک ہی فرد کمانے والا ہوتا ہے اور کئی کھانے والے۔

کراچی اسکول آف بزنس اینڈ لیڈرشپ کے ایک پروفیسر ڈاکٹر جواد عبدالغنی کے مطابق پاکستان کا شمار اس وقت ایشیاء پیسیفک کے ان پانچ ممالک میں ہوتا ہے جہاں مڈل کلاس کمیونٹی کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ایک تحقیق کے مطابق 20 ہزار سے لے کر 50 ہزار ماہانہ آمدنی والے افراد کو مڈل کلاس یا سفید پوش طبقے میں شامل کیا جاتا ہے اگر اسکی مزید تقسیم کر دی جائے تو ماہانہ ایک لاکھ تک کمانے والے افراد بالائی متوسط طبقہ میں شامل ہیں۔ پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں غیر منطقی توہمات اور غیر ضروری رسومات کا زور ہے، وہاں اپنے خاندان اور حلقہ احباب میں مختصر آمدنی کے ساتھ تمام تر معاشرتی روایات کے مطابق شامل ہونا ایک مشکل امر ہے۔
جہاں ایک جانب تو اولاد کو اچھے اداروں میں تعلیم دلوانے کے لئے کوشش اور انکی بہترین پرورش کی خواہش دل میں موجزن ہوتی ہے تو دوسری طرف بیٹیوں کے جہیز اور شادیوں پر اخراجات کی فکر والدین کے بالوں میں قبل از وقت ہی چاندی کا سامان کیا کرتی ہے۔عید، شب برات ہو یا پھر کوئی خوشی و غم کا موقع، ایسے افراد کو بس یہ فکر کھائے جاتی ہے کہ انکا آؤٹ ہونے والا بجٹ کیسے قابو میں آئے گا؟ چونکہ انکی لگی بندھی آمدن سے تو مہینے بھر کا سودا سلف، بچوں کی فیسیں اور دیگر ضروریات زندگی چل رہی ہوتی ہیں اوپر سے یہ اضافی اخراجات بھونچال مچادیتے ہیں، اور پھر یہ شرمندگی و خوف کہ اگر ان کی جانب سے مندرجہ بالا تمام معاملات کو خوش اسلوبی سے نمٹانے کے خاطر خواہ انتظامات نہ کئے گئے تو ان کے سماجی رتبہ پر حرف آسکتا ہے

یا یہ فکر بھی دامن گیر رہتی ہے کہ ان کے بچے ایسے مواقع پر احساس کمتری کا شکار نہ ہو جائیں۔ ستم تو یہ ہے کہ ایسے افراد تو کسی سے قرض مانگنے کے قابل بھی نہیں رہتے کہ ’’لوگ کیا سوچیں گے‘‘۔ہم اس سفید پوشی کی مثال یوں سمجھ سکتے ہیں کہ ایک شخص کو اپنی بیٹی کی شادی کرنی ہے لہذا اس مقصد کے لئے اسے جہیز بھی بنانا ہوگا، بہترین ضیافت کا اہتمام بھی کرنا ہوگا اور رائج معاشرتی رسوم و رواج کو ملحوظ خاطر بھی رکھنا ہوگا تو وہ بیچارا باپ جو کہ پہلے ہی اس کی تعلیم و پرورش پر اپنی جمع پونجی صرف کرچکا ہے بینک سے لون لے کر یا پھر کسی سے ادھار پکڑ کر معاشرے کی تسکین پر وار دے گا۔ یہ طبقہ جسے ہم ’’سفید پوش‘‘ کہتے ہیں بنیادی طور پر معاشرتی طبقات کی دو انتہاؤں کے درمیان ایک پل کی مانند ہے،جس میں غربت سے نکل کر متوسط طبقے میں شامل ہونے والے افراد کم ہی اپنا قدم اگلی منزل یعنی اپر کلاس میں رکھ پاتے ہیں

( کم از کم بدعنوان معاشرے میں حق حلال کا رزق کمانے والے کم ہی افراد اس میں کامیاب ہو پاتے ہیں)۔ حکومت اس تفاوت کو کم کرنے کے لیے کیا کر رہی ہے یا کیا کر سکتی ہے یہ اس وقت میرا مطمع نظر نہیں لیکن میں اس وقت فقط اس بات پر کلام کر رہا ہوں کہ آخر وہ کون سے معاشرتی رویے یا روایات (ٹیبوز) ہیں جو اس عوام کو اس طبقاتی کشمکش کی چکی میں پیس کر رکھ دیتی ہے؟ کیوں مڈل کلاس کے ذہن میں ہمیشہ یہ سوال ابھرتا ہے کہ اسے اپر کلاس تک پہنچنے کے لیے اس طبقہ جیسے معیارات ہی اپنانے ہوں گے؟ یہ اور اس قسم کے جانے کتنے سوالات ہیں جو ہمارے ازہان میں ٹکراتے رہتے ہیں مگر ہم اس کا تریاق کرنے کے قابل نہیں ہیں یا شاید بحیثیت معاشرہ کرنا ہی نہیں چاہتے۔ کیا ہم سب نے ایسے موضوعات پر کبھی سوچا ہے؟ میری ذاتی رائے میں اس میں قصور ہمارے معاشرتی رویوں کا ہے، نہ جانے کتنے ہی لوگ اس سفید پوشی کا بھرم رکھتے رکھتے سفید چادر اوڑھ کر سو ہی جاتے ہیں۔