اسلام معلومات

"پلیز ایسی گفتگو مت کیجئے”(لبرل ازم پر سیر حاصل بحث از قلم: ڈاکٹر حافظ اسامہ اکرم غوری)

please-asi-baat-mat-karin

ہمارے یہاں خالص چیزوں کا فقدان اک قحط کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ چاہے وہ جسمانی ضروریات پوری کرنے کے لیے اشیائے خوردونوش ہوں یا روحانی ضروریات پوری کرنے کے لیے عقائد و نظریات ہوں ۔ ہر چیز ملاوٹ سے اک ایسی ملغوبہ شکل اختیار کر چکی ہے جو ہمارے اذہان کو کند کر کے ہماری ذہنی نشوونما کے دروازے بند کر چکی ہے۔

آج کل ہم اپنے یونیورسٹی فیلوز یا ایلیٹ کلاس کے لوگوں سے کسی Religious matter پر ڈسکشن سٹارٹ کریں تو وہ فوراً آگے سے منہ گول سا کر کے یہ جواب دیتے ہیں”Sorry bro! I’m liberal. Don’t talk me regarding religious matter”.یہ بیچارے احساس کمتری کے مارے دو چار بول انگریزی کے بول کر خود کو فیشن کے طور پر لبرل متعارف کرواتے ہیں ۔اور میرے بھولے بھالے معصوم بھائیو خود کو لبرل ڈکلیئر کرنے سے پہلے کسی آکسفورڈ اگر نہیں تو کسی تھرڈ کلاس ڈگری کی انگلش ڈکشنری سے ہی لبرل کا مطلب تو پڑھ لیتے ۔

یہ ایک پورا "ازم ” ہے جو اپنے اندر زندگی کے تمام تر معاملات میں انسان کو ہر طرح کی بے لگام آزادی دینے کی بات کرتا ہے جو انسان کو شخصی آزادی ، نظریہ و فکر کی آزادی ، freedom of speech , freedom of expression سے شروع کر کے "تشکیک ” کے مراحل سے گزار کر Atheism یعنی الحاد پہ لا کھڑا کرتا ہے ۔آپ کو یہ سمجھنا ہے کہ اصل لبرل اور حقیقی مسلمان میں کیا فرق ہے ۔”لبرل وہ ہے جو اپنے عقائد ، نظریات ، ذاتی اور خاندانی معاملات ، لین دین ، تجارت ، تعلقات غرضیکہ ہر طرح سے وہ تمام تر الہامی اصول و قوانین کو رد کرتے ہوئے ، رب العالمین سے بغاوت کر کے اپنی من مانی کرنے کو اپنا by birth right سمجھتا ہے ۔

پیارے بھائی ! کیا اب بھی آپ خود کو ایک لبرل کہلوانا پسند کریں گے کہ جو یہ سمجھتا ہے کہ رب العالمین اور جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی حق نہیں کہ وہ میرے دن رات کا Cmplt 24 hours schedule سیٹ کر کے دیں کہ میں اس کے مطابق اپنی زندگی گزاروں ۔میں صبح نماز کے لئے کس ٹائم جاگوں، رزق حلال کس طرح کماؤں ، بزنس کس طریقے سے کروں ، جوس کونسا پیوں ، گوشت کونسا کھاؤں ، کس سے لڑوں ، کس سے ملوں ، کس سے دوستی کروں ، کس سے دشمنی کروں ، کس سے شادی کروں ، کس سے پردہ کروں یا کرواؤں ،مطلب کہ لبرل ازم ایک مکمل paradigm ہے جو اسلام سے بلکل متضاد ڈائریکشن میں Built کیا گیا ہے ۔

جبکہ اسلام اس چیز کی تو اجازت دیتا ہے کہ اگر آپ Practical Muslim نہیں ہیں یا نیک اعمال کرنے میں سست واقع ہوئے ہیں ، یا گناہ بھی کر لیتے ہیں تو "توبہ” کر لیجئے آپ پر اللہ تعالیٰ ناراض نہیں ہونگے لیکن اگر آپ رب العالمین کی Supremacy کا ہی انکار کر دیتے ہیں تو یہ عقائد اور نظریہ کی جنگ ہے جس سے آپ مسلمان نہیں رہ سکتے ۔یوں "لبرل مسلمان” کی اصطلاح ہی غلط ہے کیونکہمسلمان کے تو لغوی معنی ہی یہ ہیں کہ ” ایسا تابع فرمان اونٹ جس کو اپنے مالک کی نکیل ڈال دی گئی ہو ” ۔ جو ہر طرح کے معاملے میں Given directions کو ہی فالو کرے ۔اب بھلا ایک انسان بیک وقت مسلمان اور لبرل کیسے ہو سکتا ہے۔
جبکہ ایک انسان بیک وقت حقیقی مسلمان اور گناہ گار مسلمان ضرور ہو سکتا ہے ۔