بلاگ

پلاسٹک کی دنیا

ہماری روز مرہ کی چیزوں میں سب سے ذیادہ استعمال ہونے والی چیز پلاسٹک ہے تقریباً انسانی استعمال کی 60-65 فیصد اشیاء میں پلاسٹک کسی نا کسی صورت میں موجود ہے۔ کپڑے، کراکری، انسولیشن،الیکٹرونکس، پانی کی ترسیل،سٹوریج، ایسڈ اور بیس کی ترسیل، سٹوریج، فرنیچر، پائیپنگ، پیکنگ، زراعت،ٹولز، ہتھیار, سپیس کرافٹ، آٹوموبائیل، فیٹنگنز وغیرہ غرضیکہ آج کہ دور میں آسائش سے لے کر ضرورت کہ ہر ایک چیز میں پلاسٹک کی کلیدی حثیت ہے پلاسٹک پولی مرز پر مشتمل ہوتا ہے اور اس کا نام "پلاسٹک” میٹرئل کی خصوصیت” پلاسٹکسٹی” کی وجہ سے رکھا گیا جس کا مطلب ہے کہ مطلوبہ چیز کو "بغیر ٹوتے مُڑ جانا "

پلاسٹک کی کچھ خصوصیات ہیں جس کے سبب اسے کو زیادہ استعمال کیا جاتا ہے پلاسٹک کو آسانی سے کسی بھی حالت بھی ڈھالا جا سکتا ہے۔ یہ پانی کہ ساتھ کسی قسم کا ری ایکشن نہیں کرتا۔ تیزاب اور اساس اس کو حل نہیں کر سکتے اور ہلکا پائیدار اور کم قیمت میٹریل ہے اس کا لائف بھی دیگر دھاتوں سے ذیادہ ہے۔ دُنیا میں سب سے پہلے پلاسٹک 1862 میں ایک میٹالرجسٹ ایلگزنڈر پارکس نے سیلولز اور نائٹرک ایسڈ کی مدد سے بنایا تھا جسے پارکاسین کہا جاتا ہے جو کہ ایک شفاف اور بہت جلد آگ پکڑنے والا میٹریل تھا اس کو اس وقت کچھ خاص استعمال نہیں کیا جا سکا اور اسی سال واٹر پروف کپڑے اور وون فیبرک بھی بنانے میں کامیاب ہوگئے تھے.

اس کے بعد 1869 میں جب نیویارک کی مینو فیکچرز نے ایوری اس کا متبادل میٹریل بنانے والے کیلئے 10،000 ڈالر انعام کا اعلان کیا تو جون ویزلی ھیاٹ نے ایلگزنڈر پارکس کہ کام کو آگے لے کر چلتے ہوئے سیلولوئیڈ کی مدد سے سنوکر بالز بنائی۔ اُس سے پہلے سنوکر بالز بنانے کیلئے (ایوری- ہاتھی کی دانت) کا استعمال کیا جاتا تھا۔ سیلولوئیڈ اتنا مضبوط اور دیر پاء میٹریل نہیں تھا مگر مٹی کے پتھروں اور ہاتھی کہ دانتوں کی نسبت ہلکا اورکم قیمت تھا اس کہ ساتھ ساتھ سیلولوئیڈ دیگر اشیاء بھی بنانے کیلئے استعمال ہونے لگا کھلونے، کنگھیاں، قلم وغیرہ اس کے بعد 1881 میں جورج ایسٹ مین نے سیلولوز کی مدد سے فوٹو گرافی کیلئے شفاف لچکدار فلم بنائی جس کی وجہ سے فوٹو گرافی عام استعمال میں ہونے والی چیز بن گئی۔

اس کے بعد 1907 میں لیو ایچ بیکلینڈ جنہیں پلاسٹک کا باپ بھی کہا جاتا ہے نے بیکلائ بنایا… جو کہ سستا پائیدار اور نان فلیم ایبل میٹریل تھا اس سے پہلے بنائے گے سبھی پلاسٹک میٹریل ہائیلی فلیم ایبل تھے.. بیکلینڈ نے ماڈرن پلاسٹک انڈسٹری کی بنیاد رکھی بیک لائٹ کاغیر موصل اور حرارت کو کافی حد تک برداشت کرنے والا میٹرئل تھا ایک اچھا انسولیٹر ہونے کی وجہ سے اس کا استعمال مختلف الیکٹرونکس کی اشیاء میں ہونے لگا۔ اس کے بعد 1935 میں ریسرچر ویلیس کروتھر نے سلک کہ متبادل نائیلون بنایا جو کہ پلاسٹک انڈسٹری میں انقلاب تھا مضبوط کپڑے جن کو پیراشوٹ کیلئے اور دیگر انڈسٹری میں فائبر کہ طور پر استعمال کیا جاتا ہے آٹوموبائیل پینٹ، کھیلوں کا سامان اور دیگر سینکڑوں لچکدار چیزیں نائیلون سے بنائی جانے لگی۔

اس کے بعد 1938 میں روئے جے پلانکیٹ نے نیاء ریفریجرینٹ بناتے ہوئے حادثاتی طور پی ٹی ایف ای پولی ٹیٹرفلور ایتھلین (بنائی جو ویکس کی طرح ٹھوس تھا فائر پروف ہونے کی وجہ سے ائرو سپیس اور آگ بجھانگ میں استعمال ہونے والے اوزار بنانے میں کام آنے لگا اس کہ بعد 1950میں پلاسٹک انڈسٹری نے مزید ترقی کی اور ایسے میٹریل بنائے جو میٹل کہ ساتھ بھی استعمال کیے جاسکتے تھے پولی پروپالین، ,ایسیٹل, پولی کاربونیٹ پلاسٹک کی سٹیبلیٹی ان میٹرئل کی وجہ سے مزید بڑھ گئی ان کا استعمال فائر گلاس اور پلاسٹک فرنیچر بنانے میں ہونے لگا.. اس کے بعد 1960 میں پلاسٹک ایک بہت بڑی انڈسٹری بن چکی تھا پی ٹی ایف، پی ٹی ایف ای اوراس جیسے چند مزید حرارت کیلئے مزاحمت رکھتے تھے بنائے گئے جو کہ 1962 کہ سپیس مشن میں بھی استعمال ہوئے۔ اس کے بعد 1977 میں نے نیتھنیل ویتھ پی ای ٹی بنایا جس سے پلاسٹک بوتل بنائی گئی جو آج کی دُنیا کاربونیٹڈ اور نان کاربونیٹڈ ڈرنکس کیلئے استعمال کی جاتی ہیں.

اس کے بعد 1980 کہ بعد تقریباً بنائی جانے والی سب ہی الیکٹرونکس اشیاء پلاسٹک کہ بغیر بنانی ممکن نہیں تھی. انسولیشن سے لے کر سرکٹ بورڈ، سی ڈی، کمپیوٹر چپس سبھی پلاسٹک کی مرہون منٹ ہیں.۔ اور ابھی تک پلاسٹک کی انڈسٹری اسی سپیڈ سے ترقی کر رہی ہے آج کہ دور میں گھریلو استعمال کی اشیاء سے لے کر میڈیکل کہ شعبے میں پلاسٹک استعمال ہورہا ہے ہماری روز مرہ کی اشیاء پلاسٹک کہ بغیر ممکن نہیں لکڑی اور میٹل. کی جگہ بھی روز با روز پلاسٹک لیتا جارہا ہے۔ نیوز کی ریپورٹ کی مطابق 1950 سے لے کر اب تک 9بلین ٹن پلاسٹک بنایا گیا جن میں سے 50% پلاسٹک صرف آخری 13 سال میں بنایا گیا اور پلاسٹک کی مینیو فیکچرنگ لاگت کم ہونےکی وجہ سے صرف 9% پلاسٹک کو ری سائیکل بھی کیا جاتا ہے جبکہ 91% کچرے کی صورت میں موجود رہتا ہے جو کہ آلودگی کا باعث بن رہا ہے۔

حیاتیات کو پلاسٹک سے خطرہ لاحق ہے کچھ پرندے اور آبی جانور پلاسٹک کو خوراک سمجھ کر نگل لیتے ہیں جو ان کی موت کاباعث بنتا ہے. پلاسٹک کا استعمال ہم سب سے ذیادہ روز مرہ کی چیزوں میں ڈسپوزیبل میٹرئل کہ طور پر کرتے ہیں جیسے کہ پیکنگ وغیرہ جو بہت کم وقت کیلئے استعمال کر کہ ضائع کر دی جاتی ہیں جو دن بدن پلاسٹک کی کھپت کو بڑھا رہی ہے جہاں پلاسٹک ہماری زندگیوں کیلئے سہولت کی طور پر استعمال ہو رہا ہے اتنا ہی یہ ہمارے سیارہ زمین کیلئے نقصاندہ بھی ہے۔ تقریباً تمام بنائے گئے پلاسٹک کا 70% کچرے کی صورت میں موجود ہے یہ نقصاندہ اسلئے ہے کیونکہ بائیوڈیگریڈ ایبل میٹرئل نہیں ایک اندازے کہ مطابق 2050 تک 12 بلین ٹن پلاسٹک کچرے کی صورت میں موجود ہوگا. پلاسٹک کو ضائع کرنے کا طریقہ اسکو جلانا ہے اور اسکو جلانے سے ہوائی آلودگی پھیلتی ہے اسلئے اس طریقے کو بڑے پیمانے پر نہیں اپنایا جاسکتا.

ایسے پیکنگ میٹرئل پلاسٹک کی ہی مدد سے بنائے گئے جو کچھ وقت کہ بعد ڈی گریڈ ہوجاتے ہیں مگر اُن کا استعمال نہایت کم پیمانے پر کیا جارہا ہے پلاسٹک اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے بہت ہی کار آمدچیز ہے ہم اسکا استعمال مکمل طور پر ترک نہیں کر سکتے مگر ہمیں چاہیے پلاسٹک بیگ کا غیر ضروری استعمال کم سے کم کر دیں۔ پیکنگ کیلئے استعمال والے بیگ بائیو ڈی گریڈ ایبل بنائے جانے چاہیے اور عام عوام بازار سے سامان لیتے ہوئے کپڑے یا کاغذ کہ بیگ کا استعمال کریں اور پلاسٹک کا جتنا بھی استعمال کیا جائے اسکی اُتنی ہی ری سائیکلنگ یقینی بنائی جائے ورنہ وہ وقت دور نہیں جب پلاسٹک ہماری دُنیا پر قبضہ کرلے گا اور انسان کا خاتمہ اُسی کی بنائی ہوئی چیز سے ہو جائے۔