بلاگ کالمز

جہاز کا سفر

جہاز کا سفر بڑی اچھی چیز ہے۔ ہر شخص کو زندگی میں کم از کم ایک بار ضرور کرنا چاہیے۔ اگر میرا بس چلے تو ملک کے ہر شہری کےلیے لازمی قرار دے دوں۔ ٹکٹ کاؤنٹر سے اُڑنے اور لینڈنگ تک، ہر لمحہ آدمی سیکھتا ہی رہتا ہے۔عبداللہ بھی لائن میں لگا تلاشی کے عمل سے گزر رہا تھا۔ دھات کی ہر چیز باہر رکھنی پڑ رہی تھی۔ وہ سوچنے لگا کہ شاید جنت میں بھی کوئی میٹل ڈٹیکٹر قسم کا گیٹ ہو۔ اگر آپ کے دل میں حسد، کینہ، ظلم، بغض وغیرہ ہوں تو وہ ٹوں ٹوں کرتا رہے اور جب تک جہنم کی آگ اِن تمام ملاوٹوں کو پگھلا کر راکھ نہ کردے، آپ کو آگے جانے کی اِجازت نہ ملے۔

مگر خیر یہ تو دنیا ہے۔ جلد ہی تلاشی سے جان چھوٹی۔ آگے بورڈنگ کاؤنٹر تھا۔ ہر شخص ہاتھ میں اپنا بورڈنگ پاس پکڑے جلدی میں تھا، سامان کاؤنٹر پر چھوڑ کر آگے بڑھتا جا رہا تھا۔ اصل زندگی میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ ہر شخص اپنی واپسی کا بورڈنگ کارڈ لے کر ہی دنیا میں آتا ہے اور یہ بھول جاتا ہے کہ سامان تو کاؤنٹر پر جمع کرانا ہوتا ہے اور وہ بھی ایسا جو منزل پر کام آئے۔ مگر وہ زندگی بھر اپنی ہی جھولی بھرتا رہتا ہے۔ڈیپارچر لاوئج سے آگے بس میں بیٹھے اور جہاز کی طرف چلے، آسمانوں میں اُڑنے والے جہاز تو چھوٹے چھوٹے دکھتے تھے مگر یہاں تو ایک بہت بڑا جہاز تھا۔

جیسے جیسے بس قریب ہوتی گئی، جہاز بڑا ہوتا چلا گیا۔ عبداللہ کا قد، جہاز کے پہیے کے نچلے حصے تک بھی نہیں پہنچ رہا تھا۔ عبداللہ سوچنے لگا کہ بندے اور اللہ کی رحمت میں تعلق بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ بندہ رب سے جتنا قریب ہوتا ہے، اس کی رحمت اُتنی ہی بڑی نظر آتی ہے۔کچھ دیر میں جہاز نے اُڑان بھری۔ عبداللہ کھڑکی سے نیچے جھانکنے لگا۔ لوگ چھوٹے ہوتے چلے گئے، پھر گاڑیاں، عمارتیں، سب بونی ہوگئیں۔ پھر بادل اور پھر کھلا آسمان۔ عبداللہ سوچنے لگا کہ اللہ جو سب سے بڑا ہے، جو ساری کائنات سے بھی اوپر ہے، اُسے کیسا لگتا ہوگا

جب کوئی چھوٹا سا آدمی، کسی چھوٹے سے ملک کے چھوٹے سے شہر میں، اس چھوٹی سی دنیا میں رہتے ہوئے خدا کو چیلنج کرتا ہوگا یا سمجھتا ہوگا کہ دنیا اِس کے دم سے ہے۔ غرور کے ماروں کو سزا کے طور پر ٹیک آف اور لینڈنگ دکھانی چاہیے۔اب وہ جہاز جو کسی بڑی وہیل سے بھی بڑا تھا بالکل چھوٹا لگ رہا تھا۔ اور کمزور اتنا کہ ایک پرندہ ٹکرا جائے تو بھک سے غبارے کی طرح پھٹ جائے۔ہمارے اندر پلتا ہوا فوعونیت اور اَنا کا جِن بھی صرف مخصوص لوگوں، حالات و معاشرے میں ہی چڑھ دوڑتا ہے۔ ذہن کا کینواس وسیع ہو تو اَنا و غرور کے بُت خودبخود راکھ ہوجاتے ہیں۔

تھوڑی دیر میں کھانا سَرو کر دیا گیا۔ کھانے میں مچھلی تھی۔ عبداللہ پھر سوچ میں پڑ گیا کہ اِس غریب مچھلی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا کہ میں جو سمندر کی تہہ میں رہتی ہوں، مجھے آسمانوں میں بادلوں سے اوپر کھایا جائے گا۔ وہ اللہ جو سمندر کی تہہ سے رزق نکال کر آسمانوں پر کھلانے پر قادر ہے، کیا وہ زمین کا رزق زمین پر رہتے ہوئے نہیں پہنچا سکتا؟جہاز سکون سے لگے بندھے راستے پر اڑا چلا جا رہا تھا۔ کاک پٹ میں لگا کمپاس اس کی ہدایت کےلیے کافی تھا جو اسے بھٹکنے نہیں دیتا تھا۔ ہماری زندگیوں کا بھی کمپاس شریعت کے طور پر آیا ہے

مگر ہم اسے دیکھتے ہی نہیں اور بھٹکتے چلے جاتے ہیں۔ مشرکوں کی دعاؤں کی طرح کہ جس سے مانگیں اسے بھی نہیں پتا کہ اس سے مانگا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کی دعائیں تو نہیں بھٹکتیں۔ اللہ پاک سب سنتا ہے، سب جانتا ہے۔جہاز نے اچانک ایک جھٹکا کھایا۔ شاید کسی طوفان سے گزر رہا تھا۔ لوگوں نے پرواہ نہ کی۔ پھر ایک اور جھٹکا، پھر کوئی خاص توجہ نہ دی گئی۔ اب لگا تار جھٹکے اور زور زور سے۔ اب لوگ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔ سیٹ بیلٹس باندھ لیں اور دعائیں مانگنے لگ گئے۔ پھر کچھ ہی دیر میں اُڑان ہموار ہو گئی۔ ہم اپنی زندگیوں میں بھی یونہی کرتے ہیں۔

سرنڈر نہیں کرتے۔ ایک کے بعد ایک چیلنج لینے کو تیار رہتے ہیں۔ آخر پہلے جھٹکے میں ہی اللہ سے رجوع کرلیں تو کیا ہی اچھی بات ہے۔ اللہ کے سامنے بہادری تو کوئی کافر ہی دکھا سکتا ہے۔جہاز نے لینڈنگ شروع کی۔ عمارتیں، گاڑیاں اور لوگ بڑے ہوتے چلے گئے۔ یہ دنیا ہے ہی ایسی، جتنا اِس کے پاس جاؤ یہ اُتنی ہی بڑی لگتی ہے۔اور پھر لوگ بڑھ چڑھ کر سامان حاصل کر رہے تھے۔ سب کو جلدی تھی اور اِسی جلدی میں سب بھول گئے کہ جہاز کسی اور کا ہے، پائلٹ کوئی اور ہے۔ حکم کسی اور کا چلتا ہے، ہم تو بس مسافر ہیں۔