ظنز و مزاح

فوٹوگرافرز کی کیٹیگریز

فوٹوگرافی فیلڈ میں لوگ اپنے رویوں کی وجہ سے بھی پہچانے جاتے ہیں ۔ ان کو مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کیا جا سکتا ہے

1) گُرو : گُرو ھمیشہ گُرو ہوتا ہے ۔ اس کا کام اس کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہوتا ہے۔ گرو کبھی خود نہیں بن سکتا انسان، ہمیشہ بنایا جاتا ہے جیسے ھندومت میں بُت بنائے جاتے ہیں پر کچھ ماہرین اپنے آپ کو خود گرو اناؤنس کر دیتے ہیں چاہے لوگ مخالفت ہی کریں ۔کچھ گرو ایسا برتاؤ کرتے بھی پائے گئے ہیں جیسے علم عالمِ عدم سے ان پر وارد ہوا اور ہنر دنیا میں آنکھ کھولتے ہی آن ملا۔ گرو محفل کی جان ہوتا ہے ، محفل گرمائے رکھتا ہے پر کسی محفل میں زیادہ گرو جمع ہو جائیں تو آگ بھی لگ سکتی ہے۔ "حفظ ما تقدم” سے روایت ہے کہ خود ستائشی کی عادت کے ساتھ ساتھ گرو کینہ پرور بھی ہو جاتا ھے(ان کے لیئے جو ستائش نہیں کرتے) اور "منہ پھٹ” کا فرمان ہے کہ اس نے اس سے دو درجے آگے والے کمینہ پرور بھی دیکھے ہیں۔۔سیانے کہتے ہیں بندہ ایک دفع گرو مشہور ہو جائے تو پھر ساری عمر گرو ہی کہلاتا ہے چاہے پھر عام فہم تصویریں ہی کیوں نہ لینے لگ جائے ، ایسے گروؤں کے بارے افتخار عارف نے کہا تھا "عمر گزر گئی شاخوں کو بے ثمر رہتے” ۔۔۔گرو کی کسی بات سے اختلاف کرنا گناہ کبیرا میں شمار ہوتا ہے اور پاکستان کے آئین کے مطابق کچھ کاموں میں ان کو آرٹیکل 245 کے تحت استثنیٰ بھی حاصل ہے۔ لہذا فضول میں گرو کی بات سے اختلاف کر کے اپنا قیمتی وقت ضائع نہیں کرنا چاہیئے۔ گرو جو بولے سو نہال ۔

2) چیلا : نام سے ظاہر ہے کہ یہ کسی گرو کا مرید ہوتا ہے۔ یہ ایسا جذباتی انسان ہوتا ہے جو گرو کے لیئے لڑنے مرنے تک تیار ہو جاتا ہے۔ انہی مریدین کی وجہ سے گرو اصل میں گرو ہوتا ہے۔ چیلے کا دوسرا کام واہ واہ کرنا بھی ہوتا ہے اس کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ بات کیا کہی گئی ہے ۔ چیلے کی ڈکشنری میں "نہ” کا لفظ نہیں پایا جاتا البتہ کچھ چیلے کچھ عرصے بعد گستاخی کرنے لگتے ہیں ویسے ہی جیسے برسات میں ٹڈی کو بھی پر لگ جاتے ہیں۔ چیلا اصل میں ایک معصوم انسان ہوتا ہے جس کی عقل کے سارے پیچ کس کے بند کر دیئے جاتے ہیں

3) اوور کانفیڈنٹ : یہ اصل میں کچھ نہیں ہوتا لیکن اپنے آپ میں انجمن ہوتا ہے۔ فوٹوگرافی سے متعلق آرٹیکلز پڑھنا اور ویڈیوز دیکھنا اس کا مشغلہ ہوتا ہے۔ یہ اپنے آپ کو زمین پر اللہ کا واحد نائب سمجھتا ہے اور علمی قابلیت پر زیادہ بھروسہ کر کے اکثر رسوا ہو جاتا ہے

4) کنفیوزڈ : یہ بڑے سادہ دل لوگ ہوتے ہیں ۔ کیمرہ یا لینز خریدنے سے پہلے ہر انسان سے مشورہ لیتے ہیں اور سوچ بچار میں وقت گنوا دیتے ہیں پھر کسی نئے موقع کی تلاش میں سرکرداں رہتے ہیں ۔ یہ اکثر زندگی میں ملنے والے سب چانسز سوچ سوچ کے ضائع کر دیتے ہیں اور آپ کو معلوم ہی ہے کہ زندگی میں چانسز بار بار نہیں ملتے سو کئی برسوں کی ریاضت کے بعد بلآخر ایک دو چیزیں خرید ہی لیتے ہیں

5) شارپ : ایسے لوگ بہت عجیب ہوتے ہیں ، آسانی سے سمجھ میں نہیں آتے ۔ یہ کولیکشن کے بہت شوقین ہوتے ہیں۔ نئے پرانے لینز لینا ۔ انہیں دیکھتے رہنا اور ان کے مالک ہونے پر فخر کرنا ہی ان کی زندگی کی اصل خوشی ہوتی ہے۔ ایسے لوگ فوراً نئی چیز کو خریدتے ہیں اور بعد میں مہینوں اپنے آپ کو قائل کرتے رہتے ہیں کہ صحیح فیصلہ کر کے خریدا ہے۔ کسی دوست کے اعتراض کرنے پر بول چال بند کر دیتے ہیں۔ لیکن کم سے کم مشوروں میں اپنا وقت نہیں گنواتے

6)سائیلنٹ : یہ خاموش طبعہ لوگ ہوتے ہیں ، چپ کر کے اپنے تصویر لگاتے ہیں اور سکون کرتے ہیں۔ اب یہ خاموش رہ کے کیا کیا سوچتے رہتے ہیں اس کا اندازہ لگانا ناممکن ہے

7) وانا بی : یہ انگریزی کا لفظ Wanna Be ہے۔ یہ عموماً گریجویشن یا انٹر کے سٹوڈنٹس ہوتے ہیں ان کا سنگین شوق فوٹوگرافی سے زیادہ ماڈلنگ کا ہوتا ہے پر یہ کیمرہ پاس رکھنے کے خواب بھی دیکھتے ہیں۔ امیروں کے بچے فوراً لے بھی لیتے ہیں اور انے واہ تصویریں لیتے رہتے ہیں ۔ ان کی تصویری البموں کے نام بھی کچھ یوں ہوتے ہیں "Ma Fotography , Ma Work , Land-o-Scape” وغیرہ وغیرہ ۔ فطرتً بہت Cool ہوتے ہیں اور ہر کسی کو بھی Cool ہی سمجھتے ہیں۔ انسانوں کی یہ قسم بنا جان پہچان کے فری ہونے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ Hay Dude , Whats Up Man,Like My Page ان کا پہلا فقرہ ہوتا ہے۔ اپنے دوستوں ، جاننے والوں ، گروپ کی تصویروں پر Out Of The World اور اچھی تصویروں پر Nice لکھتے رہتے ہیں

8: جذباتی مرد: فوٹوگرافروں کا یہ طبقہ بہت جذباتی تصویریں دن رات پیش کرتا رہتا ہے ۔ غربت زدہ لوگ ، گلیوں میں کھیلتے ننگے بچے ، فقیر ، ملنگ ، کبڑا ھو کر چلتے بزرگ ، تانگہ بان ، ریڑھی والے ، موچی ، وغیرہ وغیرہ ۔ ان تصویروں کے ساتھ ایک جذباتی قسم کا نوٹ یا کسی گورے کا فرمان چسپاں ہوتا ہے جو تصویر کے اثر کو زائل کر دیتا ہے (اپنی لمبائی کی وجہ سے)۔ یہ بہت سیریس لُک دینے والے فوٹوگرافرز ہوتے ہیں۔

9) غیر سنجیدہ عورتیں:پاکستان میں لگتا ہے صنف نازک کا ایک ہی کام ہے ۔ یہ کبھی اپنی بلی ، کبھی کتے ، کبھی لائٹوں والے Bokeh ، شوز ، جرابیں ، برتن ، کھڑکی ، بارش ، کبوتر الغرض اپنے ارد گرد کی ہر چیز شوٹ کر ڈالتی ہیں۔ یعنی میں نے کسی کو سنجیدہ کام کرتے نہیں دیکھا (سوائے ایونٹ فوٹوگرافرز کے )

10) من چلے : یہ انسانی گروہ ہر ایونٹ ، ملاقاتوں ، پارٹیوں ، ورکشاپوں ، فوٹو واک ، نمائشوں میں شریک ہوتا ہے ، Gossip کے شیدائی ہوتے ہیں اور اسی کی تلاش میں پھرتے ہیں ۔ ان کی ایک خوبی ہر کسی کو "سر” کہنا ہے ۔

11) لیجنڈ :دنیا میں انسان کو یہ خطاب عمر کے آخری حصے میں دیا جاتا ہے کہ تب تک انسان اپنا فن پوری طرح پیش کر چکا ہوتا ہے مگر خوش قسمتی سے ہمارے ہاں کئی نوجوان بھی لِونگ لیجنڈز کہلوانا پسند کرتے ہیں اور کچھ ان کے چیلے بھی انہیں ایسا کہتے شرماتے نہیں ۔۔۔۔ اصلی لیجنڈز کو ہمارے معاشرے میں دور سے ہی سلام کیا جاتا ہے ۔ شائد بہت سے لوگ تو کئیوں کے ناموں سے بھی واقف نہ ہوں گے کہ نمائشی ماحول میں یہ لوگ گم ہو چکے ہیں یا گنوا دئیے گئے ہیں۔ بقول امجد اسلام امجد

فصل گُل کے آخر میں پھول ان کے کھِلتے ھیں ۔۔۔ان کے آنگن میں سورج دیر سے نکلتے ھیں۔

نوٹ : اس مضمون کو سیریس نہ لیجیئے گا یہ ایسے ہی غیر سنجیدہ تاثرات ہیں۔

 

تحریر : سید مہدی بخاری

 

لکھاری کے بارے میں

انتطامیہ اُردو صفحہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment