ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

پہلی جنگی فلم

تین ہزار سال پہلے پوری دنیا کی آبادی پانچ کروڑ تھی۔ اتنی بڑی زمین پر صرف اتنے لوگ بستے تھے جتنے کہ آج صوبہ سندھ میں ہیں۔ اگر آپ کا خیال ہے کہ اس وقت میں ہر ایک کے پاس زمین یا دولت کا مسئلہ اتنا نہیں ہو گا کہ اس پر لڑائی ہو تو یہ خیال درست نہیں۔ دنیا میں جنگیں ہو رہی تھی۔ ایسی خونریز جنگیں، جن کے نتائج ویسے ہی تھے جیسے آج کے دور کی جنگوں کے ہوتے ہیں۔ قتل و غارت اور شہری آبادی کا بے گھر ہونا۔

اسیریا کی سلطنت موجودہ ایران سے مصر تک پھیلی تھی۔ یہ اس وقت تک کی سب سے بڑی سلطنت تھی اور اس کے پیچھے اسیریا سلطنت کی فوجی طاقت تھی۔ لخیش ایک پہاڑی پر قلعہ بند شہر تھا۔ یہ جودا کی سلطنت کا اہم شہر تھا جو اسیریا سے آزاد تھا۔ یہ شہر اہم تجارتی راستے پر تھا۔ سات سو قبلِ مسیح میں یہاں کے بادشاہ حزقیاہ نے اسیریا کو خراج دینے سے انکار کر دیا۔ یہ ایک بڑی غلطی تھی۔ اسیریا کے بادشاہ سنخرب نے شاہی فوج سے جودا پر حملہ کیا۔ فتح حاصل کی۔ لخیش پر قبضہ کر لیا، اس کا دفاع کرنے والوں کو قتل کر دیا اور یہاں پر رہنے والوں کو شہر سے بے دخل کر دیا۔

عراق کے شہر موصل کے قریب سنخرب کے محل میں اس جنگ کی کہانی پتھر کی آٹھ فٹ اونچی دیواروں پر کسی ہالی وڈ فلم کی طرح کھدی ہوئی آج بھی نظر آتی ہے۔ ہزاروں اداکاروں سے کاسٹ کی گئی فلم۔ اس کے پہلے سین میں بڑی فوج مارچ کر رہی ہے۔ پھر محصور شہر کے گرد خونی جنگ ہے۔ ہم جنگ میں مارے جانے والوں، زخمی ہونے والوں کے مناظر دیکھتے ہیں۔ ہارنے والے شہریوں کو قطاروں میں شہر سے نکلتے کے مناظر ہیں اور فاتح بادشاہ فخریہ انداز میں یہ سب دیکھتا نظر آتا ہے۔ کسی وقت یہ رنگین تصاویر ہوں گے لیکن آج اس پر سے رنگ اتر چکے ہیں۔ محل میں چھت تک کھدے یہ مناظر ایک پراپیگینڈہ فلم بھی ہے اور تاریخی دستاویز بھی۔ ان کو بنانے والے نے یہ فوجی مشق بڑی مہارت سے دکھائی ہے۔ شہر درختوں اور بیلوں سے بھرا ہوا ہے جبکہ دور سے اسیری فوجی، نیزہ باز اور تیر انداز بڑھے آ رہے ہیں۔ لہروں کی شکل میں حملہ آور، یہ اس دیوار کو پار کر کے بالآخر محصور جودین شہریوں کو شکست دے دیتے ہیں۔

جب ڈپلومیٹ پیڈی ایش ڈاوٗن نے یہ دیکھے تو ان کا کہنا تھا، “اس سے مجھے بلقان کی جنگ یاد آ گئی جن کو دیکھ کر کئی بار میری آنکھ سے آنسو نہیں رکتے تھے۔ مجھے ان متاثرین میں اپنی بہنیں، مائیں اور بچے دکھائی دیتے تھے۔ سرب، کرویٹ اور بوسنین چپقلش میں نشانہ بننے والے عام شہری۔ مجھے وہ منظر یاد ہے، وہ روما کا کیمپ جب چالیس سے پچاس ہزار شہریوں کے گھروں کو جلا دیا گیا تھا اور وہ بے یار و مددگار گھر چھوڑ کر نکل رہے تھے۔ ہم بے بس کھڑے یہ سب دیکھ رہے تھے۔ یہ جنگ کا کبھی نہ بدلنے والا خاصہ ہے۔ موت اور بے گھر پناہ گزین۔ جنگ ختم ہو جاتی ہے، ان لوگوں کے دُکھ نہیں۔”

اسیریا کی سلطنت کا مرکز دریائے دجلہ کے کنارے تھا۔ یہاں پر کوئی قدرتی رکاوٹیں نہیں جو دفاع میں مدد کریں۔ لیکن زراعت اور تجارت کے لئے یہ آئیڈیل جگہ ہے۔ اس لئے اسیرین دفاع کے لئے بھاری ذرائع خرچ کرتے تھے تا کہ سرحدیں محفوظ رہیں، بڑھتی رہیں اور دشمن دور رہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والے ہزاروں سال سے تنازعات کی ایک بڑی وجہ اس کا یہ جغرافیہ ہے۔

لخیش اس جنگی مشین کا نشانہ بننے والا ایک شہر تھا لیکن واحد نہیں۔ اسیری جنگوں کا لمبا سلسلہ تھا۔ اس جنگ کی کہانی ہمیں دونوں اطراف سے ملتی ہے۔ جیتنے والوں سے بھی اور ہارنے والوں سے بھی۔ جیتنے والی سائیڈ کی تاریخ سے فقرہ، “جودا کا بادشاہ حزقیاہ میرا حکم ماننے سے انکاری ہوا۔ میں اس کے سامنے گیا۔ اپنی فوجی قوت سے میں نے اس کو کچل کر رکھ دیا۔ اس کے چھیالیس مضبوط دفاع والے شہر اس سے چھین لئے۔ درمیان میں ان گنت چھوٹی آبادیوں کو بھی ختم کر دیا۔ یہاں سے دو لاکھ لوگوں کو نکال دیا جس میں بوڑھے، جوان، مرد، عورتیں تھے۔ ساتھ ان کے گھوڑے، گدھے، خچر، اونٹ، بیل اور بکریاں۔”

یہ وہ لوگ ہیں جن کی فلم ان دیواروں پر کنندہ ہے۔ جن کو اپنے بادشاہ کی بغاوت کی قیمت ادا کرنا پڑی۔ سنخرب کے فوجی مالِ غنیمت اٹھا کر لے جا رہے ہیں جبکہ شکست خوردہ لوگ گھر چھوڑ رہے ہیں۔ اسیریا کی سلطنت میں لوگوں کو گھروں سے بے دخل کرنا ایک عام حربہ تھا۔ جہاں پر بغاوت کا شک ہوتا، وہاں پر ایسا کیا جاتا۔ سلطنتیں اس دور سے یہ حربہ استعمال کرتی آئی ہیں۔ بیسویں صدی میں سٹالن نے اس حربے کو ایک نئی سلطنت کے لئے استعمال کیا۔ کریمیا، تاتاری، انگوش، چیچن، کلموک کے پینتیس لاکھ رہائشیوں پر یہ تکنیک استعمال ہوئی، تین ہزار سال پرانی سلطنت سے زیادہ بے رحمی سے۔ (ان کو کچھ ساتھ لے جانے کی اجازت نہ تھی اور ان میں چالیس فیصد لوگ صرف ٹرانسپورٹ میں مر گئے تھے۔)

سنخریب کی بنائی گئی دیواروں پر کنندہ فلم ہمیں جنگ کی تکالیف کا یاد کرواتی ہے۔ اس فلم میں اگرچہ ہائی لائٹ ان متاثرین کو نہیں کیا گیا بلکہ فاتح بادشاہ کی عظمت کو کیا گیا ہے۔ سنخریب کو بعد میں اس کے دو بیٹوں نے قتل کیا۔ ان میں سے ایک نے اگلی حکومت سنبھالی۔ اس کے پوتے نے مصر پر حملہ کیا اور یہاں کے فرعون طہارقو کو شکست دی۔ جنگ کا ظالم اور بے رحم چکر اور اس سے متاثرہ آبادیوں کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوا۔ اس محل کی دیواروں پر کنندہ فلم جنگ کی بھی یادگار ہے اور ہمارے جنگی فلمیں بنانے کے پرانے شوق کی بھی۔ اسے تاریخ میں ملنے والی اب تک کی سب سے پرانی فلم کہا جا سکتا ہے۔

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...