اسلام

پیغامبر ِاخلاق ﷺ

رسول کریمؐ رسولِ رحمت ہیں، آپؐ رحمت اللعالمین ہیں، یعنی کل جہانوں کیلئے رحمت ِ مجسم۔ رحمت اور رحم کا وجود تخلیقِ وجود سے پہلے ہے۔ اصول ِ تخلیق و تکوین کے مطابق تخلیق رحم کے پردوں میں تکمیل کو پہنچتی ہے۔ کائنات کا خلاصۂ آدمی ہے، اور آدمی کا جوہر انسانیت ہے۔ انسانیت ایک درجۂ اخلاق ہے۔ آدمیت سے انسانیت تک پہنچنے کی ایک لاکھ چوبیس ہزار کڑیاں سلسلہ بسلسلہ انبیا اکرام کے کردار طے کرواتے رہے۔ آدمیت سے پہلے انسان خود غرضی سے جنگل میں بھٹک رہا تھا۔ خودغرضی کو انسانی اقدارسے کچھ غرض نہیں ہوتی۔ اولادِ ابوالبشر کوخود غرضی کے شہر ِ تعذیب سے نکال کر ایثار و احسان کےشہر ِ تہذیب میں داخل کرنے کا حتمی راستہ سیدالالبشرؐ کے اخلاق ِ حسنہ نے طے کروایا۔ سیرتِ رسولِ پاکؐ میں ملنے والا ہر واقعہ انسانیت کو اخلاق کی اعلیٰ ترین قدروں سے روشناس کرواتا ہے۔ صراطِ مستقیم ‘جو کہ رہِ عدل و اعتدال ہے‘ آپؐ کے نقوشِ پا سے متعین و مزین ہوئی ۔

اخلاق اور آدابِ معاشرت میں بسا اوقات فرق بھی ہے، اِسے سمجھنا از حد ضروری ہے۔ بعض اوقات ہم مروجہ آدبِ معاشرت ہی کو اِخلاق کا نام دے دیتے ہیں۔ آدابِ معاشرت لازم نہیں کہ دائرہِ اخلاق میں بھی آئیں۔ ہر ملک اور معاشرے کے اپنے اپنے رکھ رکھاؤ ہوتے ہیں۔ یعنی انسانی معاشروں کے آدابِ معاشرت میںیکسانیت نہیں۔ ایک ملک کا رکھ رکھاؤ ‘جسے وہ اپنی تہذیب کی بلندی کا نام دیں‘ ممکن ہے کسی اور ملک میں پستی سے تعبیر کیا جائے۔ اخلاق سے مراد محض آداب etiquettes نہیں ہیں، کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں کھانا کھانے کے آداب کچھ اور ہیں، ایک فوجی میس میں کھانے کی ٹیبل پر بیٹھنے کے طور طریقے norms اور ہیں ،اور کسی ڈھابے پر کھانا کھانے کے طریقے بالکل مختلف… اِن کا تعلق اخلاقیات سے نہیں۔ اخلاق کا تعلق انسان کا انسانوں کے ساتھ معاملات کے ساتھ ہے۔ اخلاق اپنی اصل میں کائناتی کلیے ہوتے ہیں، یہ علاقائی، رسمی اور وقتی ضابطے نہیں ہوتے۔ دراصل اِخلاق کا تعلق اللہ اور اُس کے رسول ؐ کی بتائی ہوئی طرزِ حیات کے ساتھ ہے۔ اللہ رب العالمین ہے اور رسولِ رحمتؐ رحمت اللعالمین ہیں۔ اِس لیے رسولِ رحمتؐ کے بتائےہوئے اخلاقی روابط و ضوابط ہر جگہ لاگو کیے جاسکتے ہیں۔ انسانی عقل اپنا تجزیہ خود نہیں کر سکتی ہے، وہ اپنے لیے باالعموم استثنا حاصل کر لیتی ہے۔ اس کی واضح مثال اقوام متحدہ میں پانچ طاقتور اقوام کا اپنے لیے ویٹو پاور کا حق رکھنے کا معاملہ ہے، جہاں کچھ لوگ اپنے لیے استثنا کا حق رکھ لیں، وہاں کہیں نہ کہیں کسی کی حق تلفی ضرور ہوتی ہے۔انسانی عقل کی بنیاد پر بنائے گئے ضابطے صرف جرم روک سکتے ہیں ٗ گناہ سے نہیں۔ گناہ اور ثواب کا تعلق باطن سے ہے اور انسان کے باطن کو ایڈریس کرنے کا فورم دین ہے۔ وحدتِ انسانیت کیلیے لازم ہے کہ راہنمائے قانون و اخلاق عقل کی بجائے وحی کو قرار دیاجائے۔خلاصۂ کلام یہ کہ انسانی عقل جب تک وحی ٔالٰہی کے آگے سر تسلیم خم نہیں کرتی‘ بالعموم خود سری کی مرتکب ہو جاتی ہے۔

اِخلاق‘ اللہ اور رسولؐ کی خوشنودی کیلئے اختیا ر کیا گیا طرزِ گفتار و کردار ہے۔ اگر اِس کا مقصد کوئی دنیاوی فائدہ ہے‘ تو اِس کا فایدہ بس وہی ہے جو ہمیں فوری طور کاروبار یا ملازمت میں حاصل ہوگیا۔ اگرچہ اخلاق کا ظاہری فایدہ بھی ہوتا ہے ٗ لیکن اِس کااصل فایدہ باطنی ہے‘ جو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ہوتا ہے۔ یہاں رہ جانے والا فائدہ ایک اضافی بونس ہے ٗ جو ہمیں ہر نیکی کے ساتھ حاصل ہوتا ہے۔

اخلاق کے حوالے سے مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں’’ اخلاق ایک ایسی راہِ عمل ہے جس پر چلنے والے انسان کا کردار مخلوقِ خدا کیلئے بے ضرر ہو جاتا ہے اور منفعت بخش ہوتا ہے‘‘ گویا اخلاق کا پہلا مرحلہ یہ ہے کہ اپنے ارد گرد انسانوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھا جائے۔ عزیزانِ گرامی! یاد رکھیے! انسان دوسرے انسانوں کیلئے اُس وقت ایک انتہائی ضرر رساں جانور کی شکل اختیار کر لیتا ہے جب وہ غصے اور اِشتعال کی حالت میں ہوتا ہے۔ غصہ ایک ایسا ڈائنامائیٹ ہے جو اِخلاقیات کی ساری عمارت کو بھک سے اُڑا دیتا ہے۔ اِخلاقیات کی سیڑھی پر پہلا قدم رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ دوسروں کو برداشت کیا جائے۔ غصہ ہمیں دوسروں کی ناپسندیدہ باتوں پر آتا ہے، یا پھر اپنی کسی توقع کے ٹوٹنے پر۔ برداشت کا مطلب یہ ہے کہ اپنی توقعات کو حدِاعتدال میں رکھا جائے۔ غصہ اگر ظاہر ہو جائے تو فساد فی الارض ہے، اور اگر دِل میں چھپا کر رکھا جائے تو فساد فی النفس… یعنی یہی غصہ پینترا بدل کر کینہ، بغض، حسد اور نفرت کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ غصے کو اپنے باطن سے نکالنا تزکیۂ نفس کہلاتا ہے۔ تزکیۂ نفس تصوف کا باب ہے۔ تزکیۂ نفس کیلئے عبادت کافی نہیں، بہت سے عابد لوگ مخلوق کے حق میں ظالم دیکھے گئے۔ تزکیہ … دل کا تصفیہ ہے… اور تصفیۂ قلب کا واحد ذریعہ محبت ہے۔ محبت انسان سے ہوتی ہے اور کامل محبت انسانِ کاملؐ سے ہو گی۔

ایک صحابی نے آپؐ سے نصیحت طلب کی، آپؐ نے فرمایا”لاتغضب” ( غصہ نہ کیا کرو)، اُس نے پھر کوئی نصیحت چاہی‘ تو جواب میں یہی فرمایا کہ غصہ نہ کرو، تین مرتبہ یہی فرمایا کہ غصہ نہ کیا کرو۔ دراصل غصہ جہالت کی نشانی ہے۔ حسنِ خَلق اور حسنِ خْلق سے متصف ؐروشن چہرے والے پیغمبرؐ… جہالت کے اندھیرے دُور کرنے کیلئے تشریف لائے۔ رحمت غضب کا متضاد ہے۔ رسولِ رحمتؐ کا اُمتی لوگوں پرکیسے غضبناک ہو سکتا ہے۔ آپؐ کا دین‘ دین ِ اِخلاق ہے۔ آپؐ نے اپنے حسنِ سیرت و صورت سے دین ِاسلام کو عام کیا۔ بے شمار لوگ آپؐ کے چہرہ ٔ انور کی زیارت کی وجہ سے مشرف بہ اسلام ہوئے،تاریخ بھری پڑی ہے ایسے واقعات سے، کتنے ہی ایسے ہیں جو آپؐ کا حُسنِ اخلاق دیکھ کر مسلمان ہوئے۔ وادیٔ حجاز میں ایک تجارتی قافلہ رکتا ہے، اونٹوں کی خرید و فروخت کا بازار لگتا ہے۔ ایک خوبصورت اور وجیہہ قامت انسان اس بازار میں ایک اونٹ پسند کرتا ہے، اونٹ فروخت کرنے والے سے کہتا ہے‘ اونٹ میرے حوالے کردو، میں ابھی کچھ دیر میں رقم لے کر آتا ہوں، یہ کہہ کہ وہ اونٹ کی نکیل پکڑ کر روانہ ہو جاتا ہے۔ اُس کے مسحور کن حسن میں محصور لوگ اُس سے کوئی ضمانت بھی طلب نہیں کرتے۔ کسی نے تشکیک آلود لہجے میں کہا ‘ اگر وہ واپس نہ آیا تو… یہ سن کر ایک پردہ نشیں سنجیدہ خاتون گویا ہوتی ہے‘ وہ ضرور واپس آئے گا، میں نے اُس کا چہرہ دیکھا ہے ، وہ چہرہ کسی جھوٹے کا نہیں ہو سکتا۔ خریدنے والی ذاتِ باکمال اونٹ کے ساتھ ساتھ قافلے والوں کا دل بھی خرید لائی،کچھ ہی دیر میں خریدنے والے درہم لے آئے… اور قافلے والے ایمان! سیرتِ محمدیؐ کی تو بات ہی الگ ہے ، دل کی آنکھ سے صورتِ محمدیؐ دیکھنے والے بھی ایمان لائے بغیر نہ رہ سکے۔

اخلاق دوسروں کی عزتِ نفس ملحوظ رکھنے کا نام ہے۔ اگر ہم اپنی گفتگو اور حرکات و سکنات سے دوسروں کا دل زخمی کرنے کی بجائے انہیں رفو کرنے میں کامیاب ہو گئے تو سمجھ لیں کہ ہم نصابِ اخلاق پڑھنے کے اہل ہو گئے ہیں۔ شیبی خاندان جس کے ہاتھ میں آج کعبۃ اللہ کی چابیاں ہیں، مکی دَور کا واقعہ ہے، دورِ جاہلیت میں اِن کے آبا میں سے کسی نے ایک مرتبہ آپؐ کو کعبتہ اللہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ فتح مکہ کے بعد جب آپؐ کو بطور فاتح کعبۃ اللہ کی چابیاں پیش کی گئیں تو آپؐ نے اسی کلید بردار کو تحفے میں واپس لوٹا دیں، اور فرمایا کہ اللہ کے گھر کی چابیاں اب قیامت تک تمہارے خاندان کے پاس ہی رہیں گی، انہیں تم سے چھیننے والا ظالم ہوگا… سبحان اللہ مااجملک مااحسنک… سیئات کو حسنات میں بدلنے کی خو کوئی سیرتِ مصطفی ؐ سے سیکھے۔ اگر کلید برداری کا اعزاز کسی اور کے سپرد کر دیا جاتا تو کسی کو بھلا کیا اعتراض ہو سکتا تھا، لیکن خُلق ِ مصطفویٰؐ نے گوارا نہ کیا کہ کوئی خاندان اپنے خاندانی شرف سے محروم کیا جائے۔ تصور کیجئے ‘ شیبی خاندان کے دلوں پر کیا بیت جاتی اگر کوئی روایتی فاتح ہوتا اور اُن سے چابیاں چھین لیتا۔

عجز اخلاق کا جوہر ہے۔ فتح مکہ کے موقع پر آپؐ کا سر مبارک عاجزی سے اِس قدر جھکا ہوا تھا کہ بار بار اونٹ کے ہودے سے مس ہوجاتا، آپ نے اس موقع پر اپنی سپاہ کو کسی قسم کے فاتحانہ کلماتِ فخر ومباہات ادا کرنے سے منع فرما دیا، مبادا اہل ِقریش کی دل شکنی ہو۔ ایک علم بردار نے جوشِ جذبات میں کفار کے مغلوب ہونے کے متعلق کچھ کلمات ادا کر دیے، آپؐ نے اُس کے ہاتھ سے علم لے لیا، یہ ایک سرزنش تھی۔ عرب روایات کے مطابق کسی علم دار سے علم کا واپس لے لیا جانا اُس کے لیے انتہائی شرم و ندامت کا باعث تھا، قربان جائیں‘ اُس ذات کے جسے کسی کی دل آزاری کبھی گوارا نہیں ہوئی، آپؐ نے اُس صحابی سے علم لینے کے فوراً بعد اُس کے بیٹے کے سپرد کر دیا، گویا علم دار ہونے کا شرف اُسی خاندان میں باقی رکھا۔ حاتم طائی کی بیٹی ایک غزوہ میں قیدی کی حیثیت سے آپؐ کی بارگاہ میں لائی گئی ،آپؐ نے اُس کیلئے اپنی چادر مبارک بچھا دی، اُسےیہ کہہ کر عزت دی کہ یہ ایک سخی باپ کی بیٹی ہے۔ فرمایا ‘جو اپنی قوم میں معزز ہو‘ تم بھی اُس کی عزت کرو۔ قریش مکہ کے سردار ابوسفیان نے ساری عمر اسلام کے خلاف جنگیں لڑنے میں گزار دی، فتح مکہ کے بعد جب مغلوب ہوا‘ تو آپؐ نے نہ صرف یہ کہ اُس کے سلام اور اِسلام کو قبول کیا بلکہ اُس کی عزت کو یوں برقرار رکھا کہ حرم کعبہ کے بعد اُس کے گھر کو دارالامان قرار دے دیا، عرب کلچر میں کسی کے گھر کو دارالامان قرار دینا گویااُسے انتہائی عزت و شرف دینے کا اعلان ہوتا ہے۔

ایثار و قربانی اعلیٰ ترین اخلاقی اقدار ہیں۔ ایثار اور قربانی کے ابواب میں اپنا وقت اور توجہ بھی شامل ہے۔معاشرے کے کمزور اور پسے ہوئے لوگوں کی طرف متوجہ ہونا، اُن کی خدمت کرنا اور اُن کا سہارا بننا ٗاِخلاقیات کی اعلیٰ اَقدار میں سے ہیں۔معاشرے میں جنہیں کوئی نہیں پوچھتا، جن کی کوئی نہیں سنتا ٗاُنہیں سننا، اُن کی سننا،اور انہماک سے سننا ٗ ایسا طریق ِ اخلاق ہے ٗ جس پر اِخلاقیات بھی رشک کر تی ہے۔ ایک مرتبہ مسجدِ نبویؐ میں رسولِ کریم ؐ اپنے اَصحابِ وفاشعار کے ساتھ مجلس میں محوِ گفتگو تھے، غالباً درس و تدریس کی کوئی محفل آراستہ ہوگی ،کائنات کی بہترین درس گاہ میںبہترین علم کے طالب معلمِ اخلاقؐ سے سبق لے رہے تھے ۔اِتنے میں مسجد کے دروازے پر ایک مفلوک الحال دکھائی دینے والی عورت آتی ہے اور وہیں کھڑے کھڑے اشارے سے آپؐ کو باہر آنے کا کہتی ہے۔ آپؐ اپنی نشست گاہ سے اُٹھے اور باہر دروازے کی جانب قدم کشا ہوئے، وہ عورت سخت دھوپ میں کھڑی کافی دیر تک آپؐ سے باتیں کرتی رہی۔ وہ رسولِ رحمت ؐ کہ جن کی چھتر چھاؤں میں آج پوری انسانیت راحت کناںہے ٗمدینے کی ایک مخبوط الحواس عورت اُنہیں گھنٹوں دھوپ میںلے کھڑی رہی۔ آپؐ بڑے تحمل اور توجہ سے اُس کی بات سنتے رہے۔ بالآخراُس نے تھک کر خود ہی بات ختم کی اور جدھر سے آئی تھی ٗ چلی گئی۔ رسولِ کریمؐ جب اپنی مجلس گاہ میں دوبارہ تشریف لائے تو اصحابِ ذی وقار نے عرض کیا ٗ حضورؐ! آپؐ نے ایسے ہی تردّد کیا، اِس عورت کیلئے اُٹھ کر باہر دھوپ میں تشریف لے گئے، یہ فاترالعقل عورت ایسے ہی بلاوجہ اور بے مطلب باتیں کرتی رہتی ہے۔ قربان جائیں ٗ اُس معلم اخلاق کے ٗ جس کے ذمے قیامت تک کیلئےمعیارِ اخلاق کا میزان قائم کرنا تھا ٗ آپ ؐ نے مسکرا کر فرمایا ٗ اگر میں اِس کی بات نہ سنوں تو اور کون سنے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کی عدم توجہ سے حساس لوگوں کی عقل ماؤف ہوتی ہے، ایک حساس شعورجذباتی محرومیوںکا شکار ہو کر بے شمار نفسیاتی الجھنوں اور بیماریوںمیں گرفتار ہو جاتا ہے۔اگرایسے مریض کی بات تحمل اور خندہ پیشانی سے سن لی جائے تو اُن کا نفسیاتی مرض جاتا رہتا ہے۔ یہ کلیۂ اخلاق بھی ہے اور کلیۂ نفسیات بھی! یہ کلیاتِ اخلاق ہمیں جس پیغمبر کی سیرت سے میسر آئے ہیں ٗ وہ پیغمبرِ اخلاق ہے۔

اِنسانیت کو اُس کے شرف سے آگاہ کرنے والے پیغمبرِ اخلاقؐ کس مرتبہ ٔ اخلاق پر فائز ہیں‘ اِس کی گواہی قرآن میں خود خدا دیتا ہے، رہتی دنیاتک اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے یہ سند اور اعلان جاری ہے… وانک لعلٰی خْلْقٍ عظیم ( بے شک آپؐ اخلاق کی بلندیوں پر فائز ہیں)۔ رسولِ خداؐ پیغمبر اخلاق ہیں، آپؐ کے اخلاق شمار سے باہر ہیں۔ پیغمبر ِ اخلاقؐ کے اخلاق و محاسن بیان کرنے کیلئے صدیاں اور زندگیاں درکار ہیں… آپؐ کے محاسن ِ اخلاق قیامت تک نشر ہوتے رہیں گے، اور جو اِن محاسن پرچلنے کی کوشش کرے گا ‘ وہ حشر میں کامیاب و کامران گنا جائے گا۔ فرمایا گیا‘ بروزِ قیامت میرے نزدیک سب سے زیادہوگا‘ جس کے اخلاق اچھے ہوں گے… اور یہ کہ قیامت کے دن میزانِ عمل میں سب سے بھاری عمل حسنِ اخلاق ہوگا۔ ہم اپنے نامۂ اعمال کو معتبر کرنے کیلئے عبادت و ریاضت کی صعوبتیں اُٹھاتے ہیں، یہی کام اخلاق کے دو بول بولنے سے بھی ہو سکتا ہے… مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ!!

اخلاق اپنی عزت پر دوسرے کی عزت کو ترجیح دینے سے حاصل ہوتا ہے۔ اپنے حق کو مؤخر اور دوسروں کے حق کو مقدم رکھنے سے اِخلاق کی منزل حاصل ہوتی ہے۔ من حیث القوم ‘ہم ابھی اِس منزل سے بہت دُور ہیں۔ لازم ہے کہ تعلیمی اداروں میں تعلیم سے پہلے تربیت پرکام اور کلام کیا جائے۔ تربیت سے مراد تربیتِ اخلاق ہے۔ جس پر اخلاق کا پیغام نہیں پہنچا ٗ سمجھیں اُس تک اسلام نہیں پہنچا۔( عکسںخیال۔۔۔۔ ڈاکٹر اظہر وحید)