ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

پیر گاجی شاہ اور بلی کا مزار از جمیل فاروقی

ملک میں سیاسی بھونچال کا تقاضا تو یہ ہے کہ خان صاحب کی ضمنی انتخابات میں ناکامی کے اسباب گنوائے جائیں لیکن شعور سے وابستہ کچھ لاشعوری مسائل پر بحث لازمی ہے کیونکہ یہ بھی پاکستان ہے۔۔۔ پیرنی صاحبہ سے دعا لے کر وزارت عظمی کا خواب دیکھنا تو کسی حد تک قابل قبول ہے لیکن یہ کسی طور قبول نہیں کہ اکیسویں صدی میں بھی لوگ بلی کی قبر پر سجدے کرتے رہیں ، منتیں مانتے رہیں ۔۔اور ایسے جہلا کے بیچ میں رہتے ہوئے بھی ہمارا یہ ماننا کہ ہم پڑھا لکھا ’نیا پاکستان‘ تخلیق کر رہے ہیں ۔۔قطعی درست نہیں ۔۔ اولیا اللہ اور بزرگان دین کا احترام اپنی جگہ لیکن ان کو بھی اگر یہ معلوم ہو جائے کہ لوگ ان کے پالتو جانوروں کی قبروں سے اولادیں مانگنے لگیں گے تو وہ اپنی حیاتی ہی میں اس بدعت کے فیشن کا پردہ چاک کر جاتے۔۔ یہ معاملہ سندھ کے علاقے دادو کا ہے جہاں سندھیوں کا بھٹو آج بھی زندہ ہے ۔۔ جبکہ ایسی حرکات و سکنات پر پورا پاکستان شرمندہ ہے ۔

شہر کراچی سے تین سو کلو میٹر دورضلع دادو کے سنگلاخ پہاڑی سلسلے کیر تھر کی گود میں پھیلے علاقے ٹنڈو رحیم سے قریبا چار کلومیٹر کے فاصلے پر ایک مزار واقع ہے اسے پیر غازی شاہ یا پیر ’گاجی شاہ جو مزار‘ کے نام سے جانا جاتا ہے ، پیر گاجی شاہ گنج بخش ۔۔صوبہ سندھ کے بڑے بزرگ اور ولی اللہ گزرے ہیں ، آپ 1628 ؁ ء میں اوچ شریف میں پیدا ہوئے ، آپ سید گھرانے کے چشم و چراغ تھے ، آپ کے والد گرامی کا نام سید احمد شاہ تھا اور آپ کا حسب نسب حضرت علی ابن ابی طالبؓ سے ملتا ہے ، سید پیر گاجی شاہ المعروف پیر گاجی شاہ گنج بخش کا اصل نام سید غازی شاہ ہے ۔۔مورخین کے مطابق گاجی شاہ کم عمری میں اپنے والد محترم کے ہمراہ ضلع دادو کی تحصیل جوہی کے شہر ٹنڈو رحیم خان کے کھوسہ قبیلے کے سردار روحیل کھوسہ کے علاقے میں آئے اور یہیں قیام پذیر ہوئے ۔۔اس وقت اس علاقے کے گاوں واہی ، ہلیلی ، ٹنڈو رحیم خان ، ٹوڑی اور گورنڈی پر کھوسہ قبیلے کا بڑا اثرورسوخ تھا اور شاید یہی وجہ تھی کھوسہ قبیلہ میاں نصیر محمد کلہوڑو کی میانوال تحریک کا حامی تھا ، کچھ عرصہ یہاں قیام کے بعد پیر گاجی شاہ کے والد نے حج کا ارادہ کیا تو کھوسہ قبیلے کے ایک سردار سے گزارش کی کہ گاجی شاہ چونکہ کم عمر ہے اس لئے شاید حج کا لمبا سفر برداشت نہ کر سکے توان کی واپسی تک گاجی شاہ کے قیام و طعام کا بندوبست ٹنڈو رحیم کے کھوسہ قبیلے کے ہاں کیا جائے ، چنانچہ کھوسہ قبیلے کے سردار دلشاد کھوسہ کی والدہ کی جانب سے خدمت کی یقین دہانی پر انہوں نے گاجی شاہ کو کھوسوں حوالے کیا اور حج کے لئے روانہ ہوگئے ۔۔ اس دور میں حج کا سفر جان جوکھوں کا کام تھا ۔

انہیں جاتے ہوئے تو سب نے دیکھا لیکن وہ واپس کبھی نہ آئے ۔۔ گاجی شاہ کھوسوں کے ہاں پلے بڑھے، روحانی سلسلے سے تعلق کی وجہ سے لوگ ان کی کرامات کے معترف ہونے لگے اور پھر ایک وقت وہ بھی آیا جب پورے کا پورا کھوسہ قبیلہ پیر گاجی شاہ کا مرید ہوگیا ۔۔ میاں نصیر محمد کلہوڑو پیر گاجی شاہ کے معتقد ہوئے تو انہیں اپنی سپاہ میں جرنیل کے طور پر شامل کر لیا اور اس حد تک عزت بخشی کہ میانوال تحریک کی آزی ( دعائے ارادہ) میں بھی انہیں شامل کیا گیا ۔۔اس زمانے میں خان آف قلات میر احمد اول کے سندھ پر حملے کے خطرات بڑھنے لگے تو میاں نصیر محمد کلہوڑو نے پیر گاجی شاہ کو ٹنڈو رحیم لک ( گزرگاہ) پر مقر رکیا ، اس دوران بھی ان کے درجنوں چاہنے والے ان سے دعا کرنے کی غرض سے آتے رہے ۔۔ملتے رہے اور دعائیں لیتے رہے ۔۔۔آپ بڑے غریب نواز اور سخی تھے ، آپ کے مسکن پر رات دن خاص و عام کے لئے لنگر چلتا تھا ، آپ کے مسکن کے ساتھ ساتھ دھونک کی وادی ہے ، اسی لئے پیر گاجی شاہ کو ’دھونک جو دھنی ‘کا نام بھی دیا گیا ۔۔پیر گاجی شاہ کے پاس ایک اونٹنی تھی جس کا دودھ پیا کرتے تھے جبکہ ایک پالتو بلی بھی تھی جو انہیں بہت عزیز تھی ، 1691 ؁ء میں خان آف قلات نے لک ٹنڈورحیم پر حملہ کیا تو پیر گاجی شاہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر خوب مقابلہ کیا ۔۔ شدید زخمی ہوئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے ۔۔ شہادت کے بعد مریدوں کے لئے پیر گاجی شاہ کی تدفین ایک بڑا مسئلہ تھی ، ہر مرید چاہتا تھا کہ ان کے مرشد کی تدفین اس کے گھر کے احاطے میں کی جائے ۔۔ سو تنازعے سے بچنے کے لئے پیر گاجی شاہ کے جسد خاکی کو ان کی اونٹنی پر سوار کر کے چھوڑ دیا گیا ۔۔ کہا گیا کہ اونٹنی تھک کر جہاں بیٹھ جائے وہیں مزار قائم کیا جائے ۔

اونٹنی کیر تھر کے پہاڑوں پر چڑھتی گئی اور ایک پہاڑی کی چوٹی پر تھک کر بیٹھ گئی ۔۔ وہیں حضرت کا مزار بنایا گیا ۔۔ بعض مورخین لکھتے ہیں کہ اونٹنی بھی ان کی شہادت سے اگلے روز انتقال کر گئی ، جبکہ پیر گاجی شاہ کی بلی جس سے وہ والہانہ محبت کرتے تھے ۔۔ میت کے قریب کھڑے کھڑے گر پڑی اور مرنے پر اسے بھی دفن کر دیا گیا ۔۔عقیدت مندوں نے پیر گاجی شاہ کا مزار تو بنایا ہی۔۔ ساتھ ہی ساتھ احاطے سے باہر اونٹنی اوربلی کی بھی تدفین کر دی۔۔ہر سال بارہ سے پندرہ فروری تک یہاں عرس کا اہتمام کیا جاتا ہے، ہزاروں کی تعداد میں زائرین سندھ ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب سے اس مزار پر حاضری دیتے ہیں، شدت وجد میں اللہ توہار ۔۔ اللہ توہار۔۔ (یعنی اللہ تمہارے سہارے) کا ورد کرتی خواتین ڈھول کی تھاپ پر دھمال کرتی ہیں اورمنتیں مانتی ہیں۔۔یہاں تک تو معاملہ پھر بھی شاید کسی مکتبہ فکر کے پیروکاروں کے لئے قابل قبول ہو لیکن صورتحال مزید افسوسناک اور دلچسپ ہو جاتی ہے جب دور دراز سے آئے زائرین پہاڑی کی چوٹی پر واقع اس مزار کے احاطے کے باہر واقع ایک اونٹنی(جسے مرشد جی اونٹنی یا مرشد کی اونٹنی کا نام دیا جاتا ہے) کی قبر پر زارو قطار روتے ہیں، چومتے ہیں سجدے کرتے ہیں اور اس قبرکے گرد سانس روک کر سات چکر لگاتے ہیں تاکہ ان کی منتیں اور مرادیں پوری ہو سکیں۔ رب کی ربوبیت اور اللہ کی وحدانیت سے دور شرک اور بدعت کی دلدل میں گھرے لوگوں کی بد اعتقادی کا قصہ یہیں تمام نہیں ہوتا ۔۔ اس اونٹنی کے مزار کے قریب ایک بلی کا مزار بھی واقع ہے، اس بلی کو ’مرشد جی بلی ‘یعنی مرشد کی بلی کے نام سے پکارا جاتا ہے ، گاجی شاہ کے مزار کا رخ کرنے والے اس بلی کی قبر پر حاضری دے کر سجدے کرنا فرض اولین سمجھتے ہیں ، انہیں ڈر ہوتا ہے کہ ان کی مرادیں اس وقت تک پوری نہیں ہوں گی جب تک بلی ان سے راضی نہیں ہوگی۔

بلی اور اونٹنی سے متعلق درجنوں داستانیں ہیں اور لوگ ان پر اندھی تقلید کرتے ہیں ۔۔ لیکن اتنی بڑی ہستیوں کو اگر اپنی حیاتی میں بھی اس بات کا گمان گزر جاتا کہ لوگ ان کے وصال کے بعد ان کے پالتو جانوروں کی قبروں کو بھی سجدے کریں گے تو شاید وہ زندگی میں کبھی کسی جانور کو نہ پالتے اور نہ کسی قسم کی بدعت کو فروغ دینے کی حمایت کرتے ۔۔ جید علما ئے کرام اور مختلف مکاتب فکر کے مفتیان کی مزارات کے حوالے سے مختلف آرا ہیں ، دین میں اولیا اللہ کا پنا مقام ہے لیکن بلی اور اونٹنی کی قبر پر حاضری دے کر سجدے کرنا ، منتیں اور مرادیں مانگنا ، یقینی طور پر بدعت ہے اور دین کے طالب علم اور صحافی کی حیثیت سے اس نکتے کو اجاگر کرنا اور لوگوں کو شعور دینا ہمارا فرض اولین ہے ۔۔ ہم اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں ہیں لیکن بلی کی قبر پہ سجدوں اور اونٹنی کے مزار پر طواف جیسے واقعات ہمیں پتھروں کے دور کی یاد دلاتے ہیں۔۔ پالتو جانوروں کی قبروں پر سجدے پتھر کو خدا ماننے کے متردف ہے۔۔یہ دین سے دوری ہے ۔۔اولیا اللہ کا احترام اور عقیدت اپنی جگہ لیکن یہ کہہ کر مذہب کی دکان چمکانا کہ بلی کی قبر پرحاضری دوگے تو اولاد ہوگی ۔۔ اونٹنی کی قبر کے سانس روک کے سات چکر لگاو گے تو جنات قریب نہیں آئیں گے۔۔ یقینی طور پر فریب کا ایک جال ہے ۔۔اور اللہ اس جال کے ماضی اور حال سے بخوبی واقف ہے ۔۔۔ اس جال سے بچئے اور دوسروں کو بھی بچائیے ۔۔

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...