بلاگ معلومات

پتھر سے کانسی تک

پتھر، لکڑی اور ہڈیاں۔ پتھر کے دور میں یہ میٹیریل تھے جن پر انسان کا انحصار تھا۔ دھاتیں ان سے بنیادی طور پر مختلف ہیں۔ ان کو کسی شکل میں ڈھالا جا سکتا ہے۔ ہتھوڑے سے پیٹا جائے تو مضبوط ہو جاتی ہیں۔ گرم کر دیا جائے تو نرم پڑ جاتی ہیں۔ آج سے دس ہزار سال پہلے سب سے پہلی مرتبہ لوگوں نے ایک نئے پتھر کو کام میں لانے کا طریقہ دریافت کیا۔ یہ سبز پتھر مالاکائیٹ تھا۔ جب اس کو گرم آگ میں ڈالا جاتا تو یہ چمکدار دھات کا ٹکڑا بن جاتا۔ یہ تانبا تھا۔ اس وقت کیا ہی زبردست دریافت ہو گی۔ اب صرف ان پتھروں میں انحصار کرنے کی ضرورت نہیں رہی تھی۔

ان لوگوں نے شاید مختلف پتھروں کو شاید گرم کر کے دیکھا ہو گا۔ دوسرے پتھر گرم ہو کر کچھ نہں کرتے۔ مالاکائیٹ کا یہ خفیہ راز کیمسٹری کی دریافت سے ہزاروں سال پہلے آگ نے افشا کر دیا۔ پانچ ہزار قبلِ مسیح سے تانبے کی پروڈکشن پر ہونے والے تجربات نے اس پراسس سے ٹیکنالوجی کا نیا دور شروع کر دیا۔ کلہاڑیاں اور دوسرے اوزار اور پھر بڑی تہذیبیں۔

اہرامِ مصر ایک مثال ہیں کہ اگر تانبا وافر مقدار میں ہو تو کیا کچھ کر سکتا ہے۔ ان کا ہر پتھر کاٹا گیا ہے اور انفرادی طور پر تانبے کی چھینی سے ان کو تراشا گیا۔ اندازہ ہے کہ دس ہزار ٹن تانبے کی کچ دھات قدیم مصر میں نکالی گئی اور تین لاکھ چھینیاں اس کام کے لئے بنائی گئیں۔ اہرامِ مصر ایک عظیم کارنامہ تھا جو تانبے کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا۔ اس کے لئے بہت سے غلام بھی چاہیے تھے کیونکہ تانبا جس قدر بھی متاثر کن ہو، یہ کاٹنے کے لئے آئیڈیل نہیں۔ کیونکہ یہ اتنا سخت نہیں ہے۔ لائم سٹون کاٹتے وقت یہ جلد کند ہو جاتا ہو گا اور اندازہ ہے کہ چند ہی ضربوں کے بعد اس کو پھر تیز کرنے کی ضرورت پڑتی ہو گی۔

زمین سے دھونڈی جانے والی دوسری دھات سونا تھی۔ یہ نرم ہے۔ اتنا نرم کہ خالص سونے سے انگوٹھی نہیں بنائی جاتی۔ اس پر جلد ہی سکریچ پڑ جاتا ہے۔ اس لئے اس میں تھوڑا اضافہ کسی دوسری دھات کا کیا جاتا ہے، جیسے چاندی یا تانبا۔ یہ تھوڑا سا اضافہ سونے کو سخت کر دیتا ہے۔ بہت سخت۔ تھوڑی سے مقدار میں کسی چیز کا اضافہ کرنے سے خاصیت اس قدر کیسے بدل جاتی ہے۔ یہ میٹیریل سائنٹسٹ کے لئے سب سے دلچسپ ہے۔ سونے کے کرسٹل سٹرکچر کے بیچ میں سونے کے ایک ایٹم کے بجائے چاندی کا ایک ایٹم اس کی فزیکل خاصیت کو بدل دیتا ہے۔مرکب دھاتوں کے مضبوط ہونے کی وجہ ایٹموں کے مختلف سائز ہیں جس کی وجہ سے مکنیکل یا الیکٹریکل ڈسٹرنبیس سے ان کی جگہ سے ہٹنا یا ہلنا مشکل ہو جاتا ہے اور ہمیں یہ مضبوطی کی شکل میں نظر آتا ہے۔ مرکب دھات کا ڈیزائن ان کو جگہ سے ہلنے سے روکنے کا ڈیزائن ہے۔

مزید پڑھیں: نظر نیچی رہے، اور لہجہ شرمندہ

ہم انسانی تہذیب کی شناخت پتھر کے دور سے تانبے تک تانبے سے کانسی تک، کانسی سے لوہے تک خود اپنی شناخت ان میٹیریل کے حوالے سے کرتے رہے ہیں جو مضبوط سے مضبوط تر ہوتے گئے۔ تانبا کمزور ہے لیکن قدرتی طور پر دستیاب ہے اور گھلایا جا سکتا ہے۔ کانسی اس کا مرکب ہے جس میں تھوڑی مقدار میں ٹین یا کبھی آرسینک کا اضافہ کیا جاتا ہے۔ اگر یہ دونوں دھاتیں موجود ہوں تو تانبے کے مقابلے میں دس گنا مضبوط اوزار یا ہتھیار بن سکتے ہیں لیکن ایک مسئلہ یہ ہے کہ ٹین یا آرسینک عام دستیاب نہیں۔ کانسی کا دور لمبے اور پیچیدہ تجارتی راستوں کے بننے کے ساتھ ممکن ہوا۔ ٹین مغربی برطانیہ کے علاقے کارنوال یا پھر افغانستان کے علاقے سے مشرقِ وسطیٰ کے تہذیبنی مراکز تک پہنچتا اور کانسی تیار ہوتی۔ کانسی انسانی تہذیب کے لئے لمبی چھلانگ تھی۔ ایک اگلا مرکب، ایک اگلی چھلانگ جس نے ابھی آنا تھا وہ لوہے میں کاربن کی ٹھیک ٹھیک مقدار میں ملاوٹ سے بننا تھا۔