کالمز

پردے میں رہنے دو ۔۔ از جمیل فاروقی

سلیوٹ ہے ایسے بندے کوجسے خدا نے بار بار وزارت عظمی کا منصب سنبھالنے کا موقع تودیا لیکن نہ تووہ ملک کو سنبھال سکا اور نہ ہی خود کو۔۔ جو کل بھی رو رہا تھا اور آج بھی رو رہا ہے ، جو کل بھی پردہ فاش کرنے کی دھمکی دے رہا تھا اورآج بھی راز فاش کرنے کا منجن بیچ رہا ہے ۔۔ نئی پیکنگ میں پرانا منجن بیچنے کا فارمولہ قطعی نیا نہیں بلکہ برسوں پرانا ہے ۔۔لیکن یہ ایسا منجن ہے جو آج تک بکِ نہیں پایا ۔۔اور ایسے میں ہمارے بھولے بھالے راج دلارے معصومیت سے بھرے میاں نواز شریف صاحب شاید یہ سمجھتے ہیں کہ عوام احمق اور بے وقوف ہیں اور انہیں کچھ سمجھ نہیں آتی ۔۔ اسی لئے توجناب کے مشیر جو کہتے ہیں ۔۔ میاں صاحب وہی بیان داغ دیتے ہیں ۔۔ چاہے تیر نشانے پہ بیٹھے یا نہ بیٹھے ۔

میاں صاحب نے غلطی کرنی ہی کرنی ہے ۔۔۔یہ بھی سچ ہے کہ سیاست دان جب عجیب وغریب بیان دیتے ہیں تو ہنسی آتی ہے لیکن جس طرح کا بیان میاں نواز شریف نے سعودی عرب سے واپسی کے بعد اسلام آباد کے پنجاب ہاوس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے داغا ہے اس پر ہنسی ہی نہیں قہقہے لگانے کو دل کرتا ہے، ان کی سعودی عرب سے ناکام واپسی کے بعد یہ بیان ایسے اَن گائیڈڈ میزائل سے مشابہت رکھتا ہے جو اپنے ریمورٹ سسٹم سے رابطہ منقطع ہونے کے بعد نہ کنٹرول کرنے والے کے کنٹرول میں رہتا ہے اور نہ ہدف سے ٹکرانے کے قابل ۔۔مثال ہے تو بہت بھونڈی لیکن چلئے دئیے دیتے ہیں ، ’دھوبی کا کتا نہ گھرکا نہ گھاٹ کا ‘ ۔۔۔کچھ ایسا ہی میاں صاحب کے ساتھ بھی ہوا ہے ۔۔

اب سعودیہ سے یکطرفہ محبت کے عدم حصول کے بعد ناکام عاشق کے پاس محض خودکشی کے سوا کوئی دوسراآپشن بچتا ہی نہیں اور میاں صاحب کا 3جنوری 2018ء کو داغا گیا اَن گائیڈڈ بیان بھی خودکشی سے کچھ کم نہیں ۔۔میاں صاحب کا کہنا ہے کہ ’پردے کے پیچھے سے کاروائیاں نہ روکی گئیں تو وہ تمام راز ،شواہد اور ثبوت عوام کے سامنے رکھ دیں گے ‘۔۔لیکن شاید وہ یہ بتانا بھول گئے ہیں کہ کچھ دن پہلے تک وہ خود پردے کے پیچھے سے کاروائیاں کرتے ہوئے پکڑے گئے ہیں۔۔ یہ معاملہ چور مچائے شور جیسا ہے لیکن ہے بہت دلچسپ۔

بات یوں ہے کہ دسمبر 2017ء کے آخری ہفتے میں ن لیگی کیمپ کے بیشتر رہنما سعودی یاتر ا کو ایسے نکلنا شروع ہوئے جیسے انہوں نے نیو ائیر نائیٹ دبئی میں نہیں بلکہ ریاض یا جدہ میں منانی ہو۔لیکن یہ معاملہ نیو ائیر نائیٹ سے کہیں زیادہ اپنے نااہل قائد کی ڈوبتی کشتی کو آخری تنکے کا سہارا دلانے کا تھا ۔۔چنانچہ میاں نواز شریف ، شہباز شریف ، خواجہ سعد رفیق ، آصف کرمانی اور دیگر بہت سے نامور حضرات بشمول ناصرخان جنجوعہ اسی غرض سے سعودیہ میں موجود تھے اور طے یہی تھاکہ معاملے کو صیغہ راز میں رکھا جائیگا ۔۔ کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق بھانڈا اس وقت پھوٹا جب میاں صاحب کے اپنے کرم فرماوں میں سے ایک نے برطانوی نشریاتی ادارے کے ایک مخبر کو خبر دی کہ شریف خاندان اپنے اکابرین کے ہمراہ ایک پس پردہ ڈیل کے سلسلے میں سعودیہ میں موجود ہے اور قومی سلامتی کے مشیر جناب ناصرخان جنجوعہ صاحب اس ضمن میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں ۔

ناچیز نے خبر کی تہہ تک پہنچنے کے لئے برطانوی نشریاتی ادارے کی ویب سائیٹ پر چھپنے والی اس کہانی کے خالق سینئیر صحافی وجاہت سعید خان سے رابطہ کیا تو انہوں نے خبر کی تصدیق کی اور ساتھ میں یہ بھی کہہ دیا کہ ممکنہ ڈیل میاں صاحب کی خواہش پر ہونے جا رہی ہے ۔۔ اسے ہم One Sided Love Storyکہہ سکتے ہیں جس میں سعودیہ کا کردار ایسے نکاح خواں کا ہے جو ایک ہی دلہے کی با ر بار شادی سے گریزاں ہے ۔۔ناچیز نے سوال کیا کہ شادی تو دو فریقوں کے بیچ ہوتی ہے ۔۔ اس شادی میں دوسرا فریق کون ہے تو جواب آیا دوسرا فریق وہی ہے جس نے 18جولائی1993ء اور12اکتوبر1999ء کی طرح 28جولائی 2017 ؁ کو میاں صاحب کو دولتی مار کے باہرنکالاہے ۔۔ سمجھنے والے سمجھ گئے ہونگے کہ ناچیز کا اشارہ کس کی طرف ہے ۔۔ اور سچ بھی یہی ہے کہ میاں صاحب وہ نااہل شخص ہیں جو جنرل ضیاء الحق کے بعد نہ تو جنرل مرزا اسلم بیگ کو خوش رکھ سکے اورنہ جنرل آصف نواز جنجوعہ کو ۔

وحیدکاکڑ ان کے گلے میں اٹکے تو پرویزمشرف نے انہیں نکال باہر کیا ۔۔ لفظ شریف سے متاثر ہوکر جنرل راحیل شریف کو چنا تو بھی انہیں لوہے کے چنے چبانے پڑے اور جنرل قمر جاوید باجوہ آئے تو بھی میاں نواز ۔۔’ شریف‘ نہ کہلا سکے ۔۔مرتا کیا نہ کرتا۔۔ خائن اور بددیانت کا طوق لئے شریف خاندان جب سعودیہ سے گڑگڑا کر خودساختہ جلا وطنی اختیار کرنے کی ڈیل کررہا تھا تو اس وقت مریم نواز شریف آمروں کے ملک بدر ہونے اور وقت کے بدل جانے کی نوید سنا رہی تھیں ۔۔یعنی معاملہ دلہا دلہن کا ہی نہیں باراتیوں کے بھی خوش یا ناخوش ہونے کا ہے اورمیاں صاحب کے بچ نکلنے پر ان کے اپنے بھائی میاں شہباز شریف اور مریم نواز ہی خوش نہیں تو عوام کیسے خوش ہو گی ۔۔ خاندان والے تو اصلیت جان ہی چکے تھے ۔۔ اب عوام بھی ان کی اصلیت پہچان چکے ہیں ۔۔ عوام اب جاگ چکے ہیں ۔۔ ان کے سامنے اب دیگر مسائل بڑے چیلنجز کے طور پر موجود ہیں ۔۔ امریکہ کی دھمکیاں ، بھارت کی مکاری ، ایران اور افغانستان کی دہشت ۔۔۔ اب اس مملکت خداد اد کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے اور ہمارے میاں صاحب اپنی رہی سہی عزت اور دولت کو بچانے کے لئے ۔۔ اپنے مشیروں کے نرغے میں ہیں ۔۔ میاں صاحب سے سوال محض اتنا ہے کہ وہ بین الاقوامی دہشت میں گھری اس ریاست سے جڑا کونسا راز افشاء کرنے جا رہے ہیں ۔۔۔ نااہل ترین ہونے کے باوجود تین دفعہ وزیر اعظم بننے کا ۔

جنرل ضیا ء کومیاں شریف کی درخواست پر سیاست میں آنے کا یا اپنی شوگر ملوں میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے دہشت گردوں کو ملازمتیں فراہم کرنے کا۔۔۔ راز تو یہ ہیں۔۔ جو افشا ء ہونے کے لائق ہیں ۔۔ ۔۔بس کردیں میاں صاحب ! یہ شادی اب آپ کے بس کی بات نہیں ۔۔کیونکہ آپ کی باتوں کی تلخی اور لہجے کی کڑواہٹ اس بات کی غمازی کر رہی ہے کہ شادی سے دلہن یعنی دوسرے فریق نے تو انکار کیا ہی ہے ساتھ ہی ساتھ سعودیہ نے بھی نکاح خوانی کے فرائض کی انجام دہی سے انکار کر دیا ہے ۔۔ بات ڈیل کی تو تھی لیکن اس سارے معاملے میں سعودیہ بھی اپنے آپ کو ایک نااہل شخص کے لئے بار بار گندا نہیں کر سکتا ہے اور میاں صاحب کو شہزادہ محمد بن سلمان اور دیگر سعودی سربراہوں کی جانب سے یہ کھلا پیغام دیا گیا ہے کہ کوشش ہمارے بس میں تھی جو ہم نے کر لی ، معاملہ احتساب کا ہے تو جائیے ۔۔ اپنے آپ کو پیش کیجئے اور احتساب عدالتوں کا سامنا کیجئے ۔۔ اور اب بات بن نہیں پا رہی تو میاں صاحب ۔۔ آصف علی زرداری کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے پاوں پر خود کلہاڑی مارنے پر تلے ہوئے ہیں ۔۔ جبکہ روٹھی ہوئی دلہن دُور بیٹھ کر مسکرا رہی ہے۔۔ دھمالیں ڈال رہی ہے اور بار بار ایک ہی گانا گنگنا رہی ہے ۔۔ ارے میاں جی ۔۔۔ پردے میں رہنے دو ۔۔ پردہ نہ اٹھاو ۔۔ پردہ جو اٹھ گیا تو بھید کھل جائیگا ۔ ۔ باقی تو آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے ۔۔۔۔

لکھاری کے بارے میں

جمیل فاروقی

جمیل فاروقی پیشے کے لحاظ سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں۔ نیو چینل کے مشہور پروگرام ’’ حرف راز ‘‘ کے اینکر پرسن ہیں۔
farooqui555@yahoo.com

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment