بلاگ

پانی کا تحفہ

"یہ لوگ یہاں برف میں کیا کر رہے ہیں؟” احمد کے لہجے میں حیرانی تھی۔ میں نے مڑ کر اُس طرف دیکھا تو کچھ لوگ پھاوڑے لئے برف کھود رہے تھے۔ اُن کے پاس رسیاں اور دوسرے آلات بھی موجود تھے۔ یہ سردیوں کے دن تھے۔ ہر طرف برف ہی برف تھی۔ اور اس سردی میں اتنی صبح ان لوگوں کو یہاں برف کھودتے دیکھ کر عجیب سا لگ رہا تھا۔

"پتا نہیں۔۔۔ چلو آؤ انہی سے پوچھتے ہیں۔” میں نے کچھ دیر غور سے ان کی طرف دیکھنے کے بعد احمد سے کہا، اور ہم دونوں ان کی طرف چل پڑے۔احمد اور اس کے والد شہباز صاحب کے ساتھ میری ملاقات کل رات ہی ہوئی تھی۔ سردیوں کی چھٹیوں میں میں پاکستان آیا ہوا تھا تو گھومنے پھرنے اور برف باری دیکھنے میں اس پہاڑی علاقے میں آ گیا۔ کچھ دوستوں کے ساتھ پروگرام تھا، لیکن انہیں کسی وجہ سے دیر ہو گئی تھی، اور دو دن بعد یہاں پہنچ رہے تھے۔ اس موسم میں یہاں بہت کم لوگ آتے تھے۔ اس لئے زیادہ تر ہوٹل خالی پڑے ہوئے تھے۔ مجھے ایک اچھے ہوٹل میں بہت سستے داموں کمرہ کرائے پر مل گیا۔ میرے ساتھ والے کمرے میں ایک صاحب اپنے گیارہ بارہ سالہ بیٹے کے ساتھ ٹھہرے ہوئے تھے۔ تعارف ہوا تو پتا چلا کہ ان کا نام شہباز اور بیٹے کا نام احمد تھا، اور ہم نا صرف ایک شہر سے تھے، بلکہ انہوں نے ابھی ابھی ہمارے محلے میں ایک گھر خریدا تھا، جہاں وہ جلد ہی شفٹ ہونے والے تھے۔

شہباز صاحب کا پھلوں اور سبز یوں کا تھوک کا کاروبار تھا، اور وہ اسی سلسلے میں کسی کام سے یہاں آئے ہوئے تھے، لیکن احمد نے ضد کی اور ساتھ چلا آیا۔ اب شہباز صاحب تو اپنے کاروبار میں مصروف تھے، لیکن احمد سارا دن کمرے میں بور ہوتا رہتا۔ "یار! اگر ہو سکے تو کل کہیں گھومنے پھرنے نکلو تو احمد کو بھی ساتھ لے جانا۔ ” باتوں باتوں میں شہباز صاحب نے کہا۔میں نے احمد کی طرف دیکھا تو وہ امید بھری نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھا۔ "جی ضرور” میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ویسے بھی میرا کوئی خاص پروگرام نہیں تھا، جب تک میرے دوست یہاں نہ پہنچ جاتے۔کافی دنوں تک موسم خراب رہنے کے بعد محکمہ موسمیات کے مطابق اگلی صبح کے شکل دکھانے کا امکان تھا۔ چنانچہ ہم نے قریبی پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر وہاں سے سورج کے استقبال کا پروگرام بنایا، اور صبح ہی صبح نکل کھڑے ہوئے۔

برف کے دریا سے اُگتے اس طلسماتی نارنجی گولے کا نظارہ بلاشبہ میری زندگی کے سب سے بہترین نظاروں میں سے ایک تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جسے پوری دنیا پر کسی نے چاندی کی ایک پرت پھیلا دی ہے، اور اس پرت پر کھیلتی سورج کی شعائیں اس نظارے کی خوبصورتی میں مزید جان ڈال رہی تھیں۔ کافی دیر تک ہم اس کے سحر میں کھوئے رہے۔ اس کے بعد بھوک نے ستایا تو ہم نے ہوٹل واپسی کا پروگرام بنایا۔ ابھی آدھے رستے ہی پہنچے تھے کہ ان لوگوں پر نظر پڑ گئی اور تجسس سے مجبور ہو کر ہم ان کی طرف چل پڑے۔

اسی وقت ان میں سے ایک کی نظر ہم پر پڑی اور وہ ہماری طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں جلدی جلدی کچھ کہنے لگا ، جس پر ان سب نے چونک کر ہماری طرف دیکھا اور چلانے کے انداز میں کچھ بولنے لگے۔ وہ ہاتھ گھما گھما کر کچھ اشارے بھی کر رہے تھے۔ میں رک گیا اور ان کی بات سمجھنے کی کوشش کرنے لگا۔ لیکن فاصلہ کافی ہونے کی وجہ سے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔ احمد مجھ سے چند قدم آگے تھا۔ اچانک اس کے منہ سے ایک چیخ نکلی اور وہ زمین میں دھنستا چلا گیا۔

میں دوڑتا ہوا احمد کے قریب آیا۔ اس جگہ برف مختلف ٹکڑوں میں بٹ گئی تھی ، جس کی وجہ سے احمد کی ایک مکمل طور پر برف میں دھنس گئی تھی، اور وہ کہنی کے بل زمین پر گر ا ہوا تھا۔ میں نے تھوڑا دور رہتے ہوئے احتیاط سے اس کا بازو پکڑا اور کھنچنا شروع کیا۔ ان لوگوں نے بھی احمد کو گرتے دیکھ لیا تھا، اور وہ رسیاں وغیرہ لے کر ہماری طرف دوڑ ے تھے۔ اس دوران شاید خوف اور درد سے احمد مسلسل کراہ رہا تھا۔جب تک وہ لوگ ہم تک پہنچتے، میں نے جیسے تیسے کر کے احمد کو برف سے باہر کھینچ لیا تھا۔ اس کی ٹانگ پر کچھ خراشیں آئی تھیں، لیکن وہ کسی بڑی چوٹ سے محفوظ رہا تھا۔ اور اس کے کپڑے پانی سے نچڑ رہے تھے۔ اس وقت مجھے پتا چلا کہ برف کے نیچے وہاں پانی ہی پانی تھا۔

"آپ نے بڑی غلطی کی۔۔۔ خوش قسمت ہیں کہ بچ گئے۔” ان میں سے ایک نے ہمارے آتے ہی کہا۔ ” اس طرح کے حادثے کی صورت میں قریب نہیں جانا چاہئے، بلکہ دور سے کوئی رسی وغیرہ پھینک کر گرنے والے کو بچانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اور دوڑنا تو بالکل بھی نہیں چاہئے۔ اگر وہاں سے برف مزید ٹوٹ جاتی تو آپ دونوں اس یخ بستہ پانی کے اندر ہوتے۔” وہ بولتا چلا گیا۔ اسی دوران اس کے ساتھی نے احمد تو ایک کپڑا دیا اور اسے کہا کہ وہ اپنے آپ کو خشک کر لے اور گیلی شلوار اتار کر وہ کپڑا باندھ لے۔ ٹھنڈ کے مارے احمد کے منہ سے سسکیاں نکل رہی تھیں۔

"بات تو آپ کی ٹھیک ہے، لیکن یہ برف کے نیچے پانی کہاں سے آگیا؟” میں نے کچھ سوچتے ہوئے سوال کیا۔”یہ دراصل ایک جھیل ہے، جس کی تہہ پر سردیوں میں برف جم جاتی ہے۔ مقامی لوگ یہاں مچھلیاں پکڑنے آتے ہیں، اور انہیں اس کی جگہ کا اچھی طرح علم ہے۔ آپ شاید باہر سے آئے ہیں، اور شاید آپ نے وہ بورڈ بھی نہیں دیکھا جو جھیل کی حدود شروع ہونے پر اس لیمپ کے ساتھ لگا ہوا ہے۔” اس نے ہمارے پیچھے لگے ایک بورڈ کی طرف اشارہ کیا، جس پر پہلے ہماری نظر ہی نہیں پڑی تھی۔
"تو آپ لوگ یہاں مچھلیاں پکڑ رہے تھے؟” میں نے سوال کیا۔

"ہاں! برف کے موسم میں ہمارے زیادہ تر رستے وغیرہ بند ہو جاتے ہیں۔ اس وجہ سے غذا کی آمدو رفت بھی رک جاتی ہے۔ ایسے موسم میں گرمیوں کی جمع شدہ خوراک اور یہ مچھلیاں ہی ہمارا سہارا ہوتی ہیں۔ ہم ایک محفوظ جگہ کا انتخاب کر کے وہاں سے برف توڑنے کے بعد جال اور رسیوں کی مدد سے مچھلیاں پکڑ لیتے ہیں۔” اس نے اپنے سامان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

میں ان سے مزید باتیں کرنا چاہتا تھا، لیکن سردی سے احمد کی حالت خراب ہو رہی تھی، اس لئے ہم نے ان کا شکر یہ ادا کیا اور واپس ہوٹل کی طرف چل پڑے۔ ان لوگوں کے گھر ہمارے ہوٹل کے قریب ہی تھے۔ اس لئے انہوں نے ہمیں کہا کہ وہ کسی وقت وہاں سے گزرتے ہوئے اپنا کپڑا واپس لے لیں گے۔ہم ہوٹل واپس پہنچے تو افتخار صاحب اپنے کاروبار کے سلسلے میں نکل چکے تھے۔ گرم پانی سے نہانے کے بعد احمد نے کپڑے تبدیل کیے اور لحاف میں گھس گیا۔ میں بھی ان کے کمرے میں آ گیا اور ناشتا ہم نے وہیں منگوا لیا۔

"بھائی، مجھے ایک چیز کی سمجھ نہیں آئی۔۔۔ برف کے نیچے موجود یہ پانی جمتا کیوں نہیں؟ اور دوسرا یہ کہ اتنے ٹھنڈے پانی میں مچھلیاں کیسے زندہ رہ لیتی ہیں؟” کھانا کھاتے کھاتے احمد نے سوال کیا۔”بہت ہی زبردست سوال ہے۔ یہ مچھلی کھاؤ پھر بتاتا ہوں۔ ” میں نے ہنستے ہوئے مچھلی کا ایک اور ٹکڑا اس کی پلیٹ میں ڈال دیا۔”تم یہ تو جانتے ہی ہو گے کہ مادے کی عام طور پر تین حالتیں ہوتی ہیں۔” کچھ لمحوں بعد میں نے سو الیہ انداز میں کہا۔”جی۔۔۔ ٹھوس، مائع اور گیس۔۔۔ جیسے برف، پانی اور بھاپ!” اس نے جھٹ سے جواب دیا۔

"زبردست! اور تم یہ بھی جانتے ہو گے کہ ہم جب کسی بھی مائع کو گرم کرتے ہیں تو وہ پھیلتا ہے، جس سے اس کی کثافت کم ہو جاتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہ کم وزنی ہو جاتا ہے، یہاں تک وہ گیس میں بدل جاتا ہے۔ اسی طرح جب ہم کسی مائع کو ٹھنڈا کرتے ہیں تو وہ سکڑتا ہے، جس سے اس کی کثافت بڑھ جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ جم کر ٹھوس حالت میں بدل جاتا ہے۔” احمد نے سر ہلا کر مجھے بتایا کہ وہ اس بارے میں جانتا تھا۔

"پانی کے ساتھ بھی بالکل ایسا ہی ہے۔ جب ہم اسے 100 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم کرتے ہیں تو یہ بھاپ میں بدل جاتا ہے، جبکہ اگر ہم اسے 0 ڈگری سینٹی گریڈ تک ٹھنڈا کریں تو یہ جم کر برف بن جاتا رہے۔ لیکن پانی کی ایک عجیب خاصیت ہے جو کسی دوسرے مائع میں نہیں پائی جاتی۔ جب پانی کو ٹھنڈا کیا جاتا ہے تو یہ سکڑتا ضرور ہے، لیکن صرف 4 ڈگری سینٹی گریڈ تک۔۔۔ اس کے بعد یہ دوبارہ پھیلنا شروع کر دیتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ 4 ڈگری سینٹی گریڈ پر پانی کا وزن سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ برف سے بھی زیادہ وزنی۔۔۔” میں نے چائے میں شکر حل کرنے کے لئے ایک وقفہ لیا۔ احمد بے چینی سے میری طرف دیکھ رہا تھا۔

"اب ہوتا یہ ہے کہ اس طرح کے سرد علاقوں میں جب ٹھنڈ پرتی ہے تو جھیلوں اور دریاؤں کی سطح کا پانی ٹھنڈا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ جیسے جیسے یہ ٹھنڈا ہوتا جاتا ہے، یہ وزنی ہونے کی وجہ سے نیچے بیٹھتا جاتا ہے اور نیچے والا پانی اوپر آ جاتا ہے۔ ایسا ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ سارے پانی کا درجہ حرارت 4 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ اس کے بعد جب سطح کا پانی مزید ٹھنڈا ہوتا ہے تو یہ دوبارہ ہلکا ہو نے لگتا ہے، جس کی وجہ سے یہ نیچے نہیں جاتا اور ٹھنڈا ہوتے ہوتے برف بن جاتا ہے۔ اب سطح پر موجود برف ایک انسولیٹر (Insulator) کے طور پر کام کرتی ہے اور ٹھنڈ کو اپنے اندر سے آسانی سے گزرنے نہیں دیتی، جس کی وجہ سے نیچے والا پانی کبھی نہیں جمتا۔ ” میں نے بات مکمل کی اور دوبارہ چائے پینے لگا۔

"جی یہ تو ٹھیک ہے ، لیکن پانی 4 ڈگری سینٹی گریڈ پربھی بہت ہوتا ہے ۔ اتنے ٹھنڈے پانی میں مچھلیاں کیسے رہتی ہیں؟ مجھے تو سردی میں نہانے سے بھی بہت ڈر لگتا ہے۔” کچھ دیر سوچنے کے بعد احمد نے سوال کیا۔”تم نے شاید بیالو جی میں پڑھا ہو کہ جسمانی درجہ حرارت کی بنیاد پر جانوروں کی دو اہم اقسام ہیں۔” میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ” کچھ وہ جانور ہیں جو اپنے جسم کا ایک خاص درجہ حرارت برقرار رکھتے ہیں۔ ایسے جانوروں کو ہم گرم خون والے جانور (Warm-Blooded Animal) کہتے ہیں۔ ”

"جی۔۔۔جیسے کہ انسانوں کے جسم کا طبعی درجہِ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب ہے۔” احمد نے میری بات مکمل ہونے سے پہلے ہی جواب دیا۔”بالکل ٹھیک! لیکن اس کے مقابلے میں پانی میں رہنے والے اکثر جانور سرد خون والے (Cold-Blooded) ہوتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے جسم کا درجہ حرارت برقرار نہیں رکھ سکتے بلکہ یہ ماحول کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ان جانوروں کی سردی نہیں لگتی، جبکہ نقصان یہ ہے کہ اگر درجہ حرارت بہت زیادہ کم ہو جائے تو ان کا جسم بھی فوراً جم جاتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ جانور اتنے ٹھنڈے پانی میں بھی رہ لیتے ہیں۔ اگر پانی اس سے بھی ٹھنڈا ہو جائے تو کچھ مچھلیاں ایسے مادے خارج کرتی ہیں جو انہیں جمنے سے روکتے ہیں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ دیر تک زندہ رہ سکیں۔۔۔ دراصل زندگی بہت سخت جان چیز ہے، یہ اتنی آسانی سے ہار نہیں مانتی !” میں نے ڈرامائی انداز میں بات ختم کی۔

"جی۔۔۔ آپ کی یہ بات بالکل ٹھیک ہے! میں نے حال میں ہی ایسے جانوروں کے بارے میں بھی کہیں پڑھا تھا جو ہزاروں سال برف میں قید رہنے کے بعد بھی زندہ رہے۔” احمد نے پر جوش انداز میں کہا۔”ہا ں، یہ بات اپنی جگہ ٹھیک ہے،لیکن اگر پانی کی یہ عجیب سی خاصیت نہ ہوتی تو شاید ہی کوئی آبی جانور زندہ رہ پاتا، جس سے دوسرے مچھلی خور جانور اور انسان اپنی خوراک حاصل نہ کر پاتے اور ان علاقوں میں زندگی اور بھی مشکل ہو جاتی۔ اس لئے ایک طرح سے یہ ہم سب کے لئے پانی کا ایک انمول تحفہ ہے۔” میں نے چائے کا کپ ختم کر کے میز پر رکھتے ہوئے کہا۔ احمد میز پر موجود پانی کے جگ کو گھور رہا تھا۔

اسامہ زاہد