بلاگ

پاکستانی معاشرہ اور پڑھی لکھی لڑکی کا مستقبل

نپولین نے ایک دفعہ کہا تھا “تم مجھے پڑھی لکھی مائیں دو، میں تمہیں ایک مہذب اور تعلیم یافتہ نسل دوں گا.” اب اسے خوش قسمتی سمجھیے یا بد قسمتی سمجھیے کہ ہمارے معاشرے نے اس بات کو بہت حد تک سنجیدہ لے لیا ہے. جی ہاں بلکل! ہم تعلیم نسواں کی بات کر رہے ہیں کہ جس سے نسلیں سنورتی ہیں . ہمارے معاشرے میں اول تو لڑکیوں کی تعلیم کو معیوب سمجھا جاتا ہےمگر اب کچھ سالوں سے لوگوں میں شعور آ رہا ہے اور انکو احساس ہو رہا ہے کہ ایک گھر یا معاشرے کی لئے ایک عورت کا باشعور ہونا بہت ضروری ہے۔ ابھی بھی مگر ایسے افراد اور گھرانے موجود ہیں جو سمجھتے ہیں کہ لڑکیوں کو تعلیم دینا انکو بگاڑنے یا ہاتھ سے نکل جانے کا سبب بنتا ہے، اور کسی بھی عورت کو ہم ہاتھ سے نکلنے نہیں دیتے کہ یہ غیرت کو گوارہ نہیں ہے خواہ وہ ہم سے کسی بھی رشتے سے منسلک ہو. اسطرح کی سوچ لا علاج ہے.

اصل کمال تو ان لوگوں کا ہے جن کا خیال ہے کہ عورتوں کی تعلیم صرف ایک مہذب نسل کی پیدائش کے لئے ہے.ایسے لوگ اپنی لڑکیوں کو صرف اسلیے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھیجتے ہیں کہ ان کی آنے والی نسلوں کے ٹیوشن کا خرچہ بچ سکے. مائیں اپنے بچوں کو خود پڑھا سکیں. اعلٰی ڈگری یافتہ خواتین زیادہ سلیقے سے برتن مانجھ سکیں اور گولڈ میڈلسٹ صحیح گول روٹی بنا سکیں. اس بات کا تو ہم تصور ہی نہیں کر سکتے کہ عورتوں کے پاس بھی دماغ ہوتا ہے یا انکو بھی اپنی ذہنی صلاحتییں نکھارنے یا کام میں لانے کا حق حاصل ہے.

والدین اپنی لڑکیوں کی پڑھائی کی فیسیں بھرتے ہیں تاکہ مستقبل میں رشتے اچھے مل سکیں. لڑکے کے والدین پڑھی لکھی لڑکی ڈھونڈتے ہیں کہ وہ اپنی ڈگری سے گھر کو نکھار سکے. 80-90 فیصد گریجوئیٹ لڑکیاں ڈگری حاصل کرنے کے بعد گھر بٹھا دی جاتیں ہیں. ٰیہاں تک کہ لیڈی ڈاکٹرز کی ایک بہت بڑی تعداد ہاؤس جاب کرنے کے بعد گھر بیٹھ کر رشتے داروں کو نسخے دے کر اپنی پریکٹس جاری رکھتی ہیں. اسطرح میڈیکل کالجز کی بہت سی سیٹیں ضائع ہو جاتی ہیں. لڑکے بیچارے داخلے میں 50-50 فیصد کوٹے کے مطالبات کرتے ہی رہ جاتے ہیں کیونکہ اس اہم ڈگری میں داخل طلبا کی بڑی تعداد لڑکیوں پر ہی مشتمل ہوتی ہے. ہاں یہ بات الگ ہے کہ ان ہی بیچارے مردوں کو شادی کے لئے ڈاکٹر بیوی کی ضرورت ہوتی ہے جو نوکری نہ کرتی ہو.

پھر آتی ہیں وہ خواتین جنہیں اپنی ذہنی صلاحیتیوں کا ادراک ہوتا ہے اور وہ انکا استعمال کرنا بھی جانتی ہیں. مگر یہ گویا انکا گناہ بن جاتا ہے اور انہیں اپنے حسب منشاء کام کرنے کے علاوہ سارے امور خانہ داری اسطرح سرانجام دینے ہوتے ہیں کہ جسطرح ایک گھر میں رہنے والی عورت کرتی ہے ،سزا کے طور پر زمانے کی باتیں الگ سننی پڑتی ہیں. ان خواتین کا یہ قصور ہوتا ہے کہ وہ اپنے علم اور اپنی صلاحیتوں کو امانت سمجھتی ہیں اور اس سے نہ صرف اپنے گھر کو بلکہ خود کو اور اپنے معاشرے کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتی ہیں. خود مختاررہنا چاہتی ہیں اور اپنی مرضی کا مقصد حیات حاصل کرنا چاہتی ہیں. بخدا میں عورتوں کے گھر داری کے خلاف نہیں ہوں پر ہمیں یہ سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ خدا نے مرد اور عورت کو یکساں دماغ دیاہے اور ہر انسان میں کچھ نہ کچھ ذہنی صلاحیتیں رکھیں ہیں کی وہ ان سے فائدہ اٹھا سکے پھر چاہے وہ مرد ہو یا عورت ہو.