بلاگ

“ پاکستانی ڈرامے یا فرسٹریشن”

دنیا آج مارس پر قدم رکھنا چاہتی ہے اور دوسری طرف ٹرانسفارمرز، انسیپشن، خلا کے بارے میں موویز بنا رہی ہے۔ ٹیکنالوجى کا بادشاہ بن کر ہر دماغ کو سوچنے پر مجبور کر رہی ہے ،قانون، فلسفے، تاریخ، انسانیت، سسپنس پر فلمیں اور سیریز بن رہی ہیں۔

پر وہیں پر ہمارے سینما اور ٹی وی باقاعدہ "فرسٹیشن” کو مزید بڑھا کر قوم کو پیار محبت کی اندھی دنیا میں دھکیل رہے ہیں”” سب ایک ہی کام کر رہے ہیں, ڈائیورسٹی کا رول ہی ختم ہو چکا ہے۔ عمیرہ جی اور ہاشم ندیم کی خیالاتی دنیا ہمیں بہت پسند ہے۔ پر دنیا اصل میں اس سے کہیں زیادہ مختلف, چالاک, ٹیڑھی اور پریشانی کا شکار ہے۔
اس کے فلسفے کے بارے میں کون سمجھائے گا؟ کون سکھائے گا؟ وقت کا استعمال مخمصے والی سوچ میں ہوتا ہے تو آخر پر ہم کچھ دن ایسے لوگوں اور محبوبوں، شاعری اور خیالات کی دنیا میں خود کو غرق کر کے دل ناداں کو دلاسہ دیتے ہیں۔

محبت بس ڈرامے سے شروع ہوتی اور حقیقت تک پہنچتے پہنچتے اس کا دم گُھٹ جاتا ہے پھر ہم عشق کا نام لیے گلیوں میں گھومتے ہیں ، سوچوں میں بند ماں باپ کے گلے کا بوجھ بن جاتے ہیں۔ایسے ڈامے ضرور ہوں لیکن حقیقت زیادہ ہو تا کہ لوگ مخمصے کی دنیا سے باہر نکلیں، رائٹرز انسان کو پرفیکٹ دنیا میں لے جاتا ہے، اور انسان رہ حقیقی دنیا میں رہا ہوتا ہے ،تو حقیقت اور مخمصے میں تھوڑا ہی انتر ہو تو سو بہتر

۲۲ کروڑ لوگوں کو پیار کرنا آتا ہے, اب زندگی کا فلسفہ سکھائیں انہیں!!