بلاگ

پاکستان تھیٹر ڈراما

ڈرامے میں گفتار کی بجائے کردار زیادہ اہمیت رکھتا ہے لیکن محض کردار پر مضبوط گرفت ہی ڈرامے کی کامیابی کی ضمانت نہیں بلکہ اس کی اجزائے ترکیبی میں پلاٹ، آغاز، کردار، مرکزی خیال اور نکتہ عروج جیسے فنی لوازم کی یکساں طور پر تکمیل ضروری ہوتی ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ڈرامے کی ابتداء قدیم زمانے میں رقص و سرود کی محفلوں سے ہوئی جو کسی قبیلے کی فتح یا مذہبی تہوار کے موقع پر منعقد ہوتی تھیں۔ اس کے علاوہ فارس اور مصر میں دیوتاؤں کی پرستش کی خاطر اس قسم کے کھیل کھیلے جاتے تھے۔ ڈرامے کو ناقدین فن تین ہزار سال پرانا فن کہتے ہیں۔

برصغیر پاک و ہند میں پہلا سٹیج ڈرامہ نواب واجد علی شاہ کے دور میں پیش کیا گیا جسے آغا حسن امانت نے 1953 میں اندر سبھا کے نام سے تحریر کیا۔ اس سے قبل سنسکرت میں ہندو دھرم سے موسوم کہانیوں پر مبنی رامائن، مہابھارت اور کالی داس جیسے کھیل اسٹیج پر دکھائے جاتے تھے۔ اردو سٹیج ڈرامہ پیش کرنے میں پارسی سب سے آگے تھے پارس تھیٹریکل کمپنی آف بمبئی، نیو الفریڈ تھیٹریکل کمپنی اور بالی والا تھیٹریکل کمپنی اس دور کے کامیاب تھیٹر مانے جاتے تھے۔

شیکسپیئر کو سٹیج ڈراموں کے حوالے سے جو عروج حاصل ہوا وہ آج تک کوئی حاصل نہ کر سکا۔ ان کے ڈرامے آج بھی شائیقین شوق سے دیکھتے ہیں۔ برصغیر میں آغا حشر کو اردو زبان کا شیکسپئر کہا جاتا ہے۔ آغا حشر ایک بڑے کہانی کار اور ڈرامہ نگار تھے۔ انہوں نے 1929 میں اپنا شاہکار ڈرامہ “رستم و سہراب” لکھا جس نے مقبولیت کے ریکارڈ بنائے۔
اس کے علاوہ مرزا قلیج بیگ، مولانا ظفر علی خان، سعادت حسن منٹو اور عبدالحلیم شررنے بہترین ادبی ڈرامے تحریر کیے۔

اردو ڈراموں میں امتیاز علی تاج بھی اہم مقام رکھتے ہیں۔ انہوں نے کالج کے زمانے سے شیکسپیئر سمیت بلند پایہ انگریزی ڈراموں کے اردو میں ترجمے کیے اور بھر انہیں اسٹیج پر پیش کیا۔ 1929 میں انارکلی کے نام سے ایک کھیل پیش کیا گیا جو اردو سٹیج ڈراموں میں ایک سنگ میل کی حثیت رکھتا ہے۔ اسی کھیل نے آگے چل کر مغل اعظم جیسی کامیاب فلم بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

یہ ان لوگوں کا شوق اور جنون تھا کہ اس زمانے میں جب کہ جدید ٹیکنالوجی کے ثمرات موجود نہ تھے، ایسے ڈرامے پیش کیے۔ ان ڈراموں کی کامیابی کے لیے انتھک محنت اور دماغ کام کرتے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد بھی تھیٹر کی دنیا میں دونوں ملکوں کے معیار پر کوئی خاصہ فرق نہیں آیا تھا۔ اسی طرز کی کہانیوں اور کلچر کو کھیل میں پیش کیا جاتا تھا۔ پھر آزادی کے بعد چھوٹے چھوٹے تھیٹریکل گروپوں کی تشکیل کا دور شروع ہوا جن کی کامیابی میں بڑا ہاتھ خواجہ معین الدین کا تھا۔ ان کے مشہور ڈرامے “لال قلعے سے لالو کھیت تک” اور “مرزا غالب بند روڈ پر” آج بھی پسند کیے جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’’قانون کے آگے‘‘۔۔۔۔ فرانز کافکا کہنا کیا چاہتا تھا؟

پاکستان میں رفیع نے تھیٹر کی بقا میں اہم کردار ادا کیا مگر ریڈیو ٹی وی کی گھر گھر آمد نے یہ سلسلہ ضرور کم کیا۔ 1980 میں عمر شریف نے جب سٹیج کی دنیا میں قدم رکھا تو وہ چھا گئے۔ معین اختر کے بعد پاکستان کو دوسرا حاضر جواب مزاح نگار ملا۔ بڈھا گھر پر ہے، بکرا قسطوں پر، ان کے کامیاب اسٹیج ڈرامے رہے جبکہ پنجابی سٹیج ڈراموں میں اہم کردار ادا کیا لاہورمیں ناہید خانم، مستانہ، ببوبرال، اور امان اللہ نئے انداز سے جلوہ گر ہوئے۔ کچھ عرصہ تو سلسلہ ایسے ہی چلتا رہا پھر تھیٹر کمرشل میں تبدیل ہونا شروع ہو گیا۔ اعلی درجے کی کردار نگاری، کہانی ڈائیلاگ، سب پر زندگی کی ضرورتیں حاوی ہوتی گئیں۔

ایک فنکار جو سب کو ہنسانے کے لئے اسٹیج پر کھڑا ہے اس کے اپنے حالات کیا، اس کے گھر کے حالات کیا ہیں، وہ اندر سے کتنا پریشان ہے، ان سب چیزوں کے ساتھ کم معاوضے نے اسٹیج کا جغرافیہ ہی تبدیل کر دیا۔ شائستگی کی جگہ ڈانس اور خراب زبان نے لے لی۔ اب سٹیج ڈرامے فیملی تفریح کے لائق نہیں رہے۔ دو دہائی تک اس پر جمود طاری رہا۔ البتہ سٹیج ڈراموں کے سنجیدہ افراد نے اچھا کھیل پیش کرنے کی کوشش ضرور کی۔ سابقہ ادوار میں کنگلے پرونے، شرطیہ میٹھے، کالی چادر، کچھ نہ کہواور کوٹھا جیسے ڈراموں نے جو عروج حاصل کیا ویسا عروج تاحال کوئی ڈرامہ حاصل نہیں کر سکا۔

گذشتہ کچھ عرصے سے تھیٹر اور سٹیج پر دوبارہ سے محنت شروع ہوچکی ہے اور تھیٹر کو بہتر کرنے کے لیے اجوکا، ناپا، رفیع پیر، ڈراما پروڈکشن اور کاپی کیٹ والوں نے اچھا اور معیاری کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ بلھا، دارا شکوہ، سوا چودہ اگست، پونے چودہ اگست، آنگن ٹیڑھا، سوشل پاگل اس کی بہترین مثالیں ہیں۔ ان نئے تھیٹر گروپس کی کامیابی کی وجہ محنت، لگن اور قابل لوگوں کی دلچسپی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ معیاری تھیٹر دیکھنے والوں کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان لوگوں کی یہ بھی کوشش ہے کہ معیاری کام کرتے ہوئے نہ صرف شائقین تھیٹر کو مطمئن کیا جائے بلکہ ڈرامے کا اصل مقصد بھی لوگوں تک پہنچے۔

اس ضمن میں پاکستان کے تعلیمی اداروں نے بھی اہم کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی، گورنمنٹ کالج لاہور، ایف سی کالج لاہور، قائد اعظم یونیورسٹی، کراچی یونیورسٹی سمیت دیگر پرائیویٹ اور گورنمنٹ کالجز اور یونیوسٹیوں نے نہ صرف اپنی ڈرامہ سوسائٹیاں متعارف کروائیں بلکہ معیاری کام اور اعلی پائے کے فنکار پیدا کرنا بھی شروع کر دیے۔
تعلیمی اداروں کی اس کاوش سے نہ صرف ٹھیٹر بہتر ہو رہا ہے بلکہ نئی نسل میں تھیٹر دیکھنے اور کرنے کا شعور بھی اجاگر ہو رہا ہے۔ اداورں اور فنکاروں کے اس اقدام سے تھیٹر کی بہتری اور عروج جلد ممکن ہو سکے گا۔