پاکستان میں فیملی سسٹم کا زوال

ھمارے زمانے میں ھمارے دادا جی کے کوئی سولہ سترہ بچے اور 4 بیویاں تھیں ،،
بچوں میں سے کسی نے بھی اسکول کا منہ نہ دیکھا ،، اردو پڑھنا بھی سپارہ پڑھ کر سیکھا ،جس نے بھی سیکھا ،،

بچے سر اٹھاتے تو فصلوں اور کھیتوں میں دھکیل دئے جاتے ،، جو گائے دوسرے گاؤں سے جفتی کرا لاتا وہ پرائمری پاس کر لیتا ،جو ہل کی ہتھی پکڑ لیتا وہ میٹرک پاس کر لیتا ،جو کسی مل میں ملازم ھو جاتا وہ ایم اے کر لیتا ،، یوں والدین کا خرچہ کچھ نہیں تھا منافع ھی منافع تھا ،، لہذا والدین کبھی فرسٹریشن کا شکار ھو کر بچوں کی ماں بہن ایک نہیں کرتے تھے ،، راوی چین ھی چین لکھتا تھا ،بچے کی مونچھیں بھیگتی یا مسیں پھوٹتیں تو اسی حویلی میں سے ایک کڑی پکڑ کر اس کے ساتھ بیاہ دی جاتی اور چارپائی اور پانی کی بالٹی چھت پر چڑھا دی جاتی ،، شادیاں عموماً 16 سال کا لڑکا اور 14 سال کی لڑکی کے حساب سے ھوتی تھیں،، سارے دیہات کا تقریباً یہی رواج تھا ،، والدین میں سکھی تھے ،بچے ایک منہ اور دو ھاتھ لے کر آتے تھے ،، بچے دس بھی ھوں تو مونگ پھلی بھی چن کر لاتے تو بھی اپنی اپنی اس دن کی روٹی خود کما کر شام کو گھر آ جاتے تھے ،،

نہ زیور بکتا تھا ، نہ ایجنٹوں کا دھوکا تھا ، نہ نادرا کے دھکے تھے ، نہ والدین کے کوسنے تھے اور نہ اولاد کا ڈیپریشن تھا سالوں میں بھی کوئی معاشی خود کشی نہیں ھوتی تھی ،جو ایک آدھ کیس دو چار سال میں ھوتا وہ عشق کی ناکامی کے سبب ھی ھوتا تھا ،، فرسٹریشن دونوں نسلوں میں نہیں تھی ،،،،،،،،،،،،

پھر دور تبدیل ھوا ،، منگلا نے کشمیریوں کو لندن پہنچایا تو باقی علاقون نے بھی انگڑائی لی ،، لوگوں نے زمینیں بیچیں ، زیور بیچے اور بچوں کو ایران کے رستے یونان اور دبئ کی طرف روانہ کیا گیا ،، کچھ پہنچے کچھ رستے میں ھی خواھشات کے جنگل میں مر کھپ گئے ، جو پہنچے ان کا حال اے ٹی ایم یا گو کیش کارڈ کا سا تھا ،، وہ کما کر بھیجتے گئے اور کوشش کی کہ ان کی اولاد پڑھ لکھ جائے اور کسی اچھے جاب پر لگ جائے ،، تعلیم میں مقابلہ بازی شروع ھوئی کیونکہ انڈیا کے لوگ پڑھے لکھے تھے وہ آفس جاب میں لگتے جبکہ پاکستانی نچلے درجے کے کام کرتے تھے ،،

دیہات میں بجلی آئی تو ڈاولینس کو بھی لائی ،اور دیگر بجلی کا سامان بھی امپورٹ ھوا ، والدین مشین کی طرح کما کر اولاد پر لگاتے چلے گئے اور اپنی جوانی اور اس سے متعلق جزبات کو قربان کر دیا ،، والد 4 ، 4 سال بعد ملک کا چکر لگاتے وہ بھی ایک ماہ کے لئے مہمان کے طور پر آتے ،، ایک ماہ میں بچوں کا کیا پتہ چلتا ھے ،فاتحہ خوانی پوری نہیں ھوتی تھی کہ چھٹی ختم ھو جاتی ،، سہولیات ملیں تو بچے بگڑتے چلے گئے اور والدہ چھپاتی چلی گئ اور مرد اندھا دھند 16 ، 16 گھنٹے کام کر کے کما کر گھر بھیجتے چلے گئے،،

اولاد پر لعن طعن شروع ھوا ، اخراجات کا حساب کتاب شروع ھوا ، تعلیم کو کوسا گیا اور والدین اور بچوں کے درمیان سرد جنگ شروع ھو گئ ،،تعلیم دن بدن ٹف ھوتی چلی گئ وہ آج سے چالیس سال پہلے والی تعلیم نہیں تھی جب انگلش چھٹی کلاس سے شروع ھوتی تھی اور میٹرک تک ھمیں انگلش کے حروفِ ابجد ھی درست کرنا سکھایا جاتا ،، مائی بیسٹ فرینڈ ، مائی فادر ،، ھنگری فاکس اور تھرسٹی کرو پر میٹرک ھو جاتی تھی ،، اب انگلش کچی یعنی کے جی ون سے ھی شروع ھو جاتی ھے ، بستے بڑے ھوتے گئے اور رشتے چھوٹے ھوتے چلے گئے ،، ساری ساری رات پڑھ کر بھی بچہ پاس نہ ھو تو بھی گھر میں اس قدر ذلیل کیا جاتا ،، اس کو لٹرلی ماں بہن سے گالیاں دی جاتیں ، مار اس قدر شدید کہ پڑوسی آ کر چھڑائیں تو چھڑائیں ماں بھی قریب جانے کی ھمت نہ کرے ،، یوں والدین اور اولاد کے درمیان نفرت کی نادیدہ مگر محسوس دیوار بننا شروع ھوئی ،،

ریزلٹ کے دنوں میں نہر کے پلوں پر پولیس پہرہ لگ جاتا ھے کیونکہ ناکام ھونے والے بچے ریزلٹ سن کر گھر جانے کی بجائے قبر میں جانے کو ترجیح دیتے ھیں ،، والدین اپنی جگہ اخراجات کے گوشوارے دکھاتے پھرتے ھیں اور بچہ اپبے جسم پر پڑے نیل کے نشان دکھاتا پھرتا ھے ،، یعنی کہ اس تعلیم کی بجائے ، ان اخراجات کی بجائے کچھ بھی نہ ھوتا تو والدین اور اولاد کا تعلق تو قائم رھتا ،، جب ھر لمحہ ان اخراجات کو کوسا جاتا رھے ،، تو وہ ناسور بن جاتے ھیں ،، ایک عورت بیرون ملک سے آئی تو گاؤں کی ایک غریب عورت کے لئے ایک سوٹ لے کر آئی اور اس کو کہا کہ آپ یہ سلا کرپہن لیں ،، مگر اس عورت نے شاید وہ سوٹ اپنی بیٹی کو دے دیا ھو گا ،، لیکن یہ خاتون جہاں اس غریب عورت کو دیکھتی فورا ً پوچھتی کہ ” ماسی وہ سوٹ ابھی نہیں سلوایا ؟ ” یہانتک کہ ماسی نے اس خاتون کو دیکھ کر ھی رستہ تبدیل کرنا شروع کر دیا ،، پھر وہ ان اوقات مین اس گلی سے گزرتی جب اس خاتون کے رستے میں ملنے کے امکانات نہ ھوتے ،مگر ایک دن صبح صبح بیچاری پکڑی گئ اور اس خاتون نے ابھی ماسی ھی کہا تھا کہ ماسی دونوں ہاتھ جوڑ کر کھڑی ھو گئ ” خدا کا واسطہ ھے اگر ایک سوٹ مجھے دے ھی دیا ھے تو اب مجھے جینے دو ”

یہی حال اولاد کا ھو جاتا ھے کہ خدا کا واسطہ ھے اگر پڑھا ھی رھے ھو تو یہ رات دن کا راگ بھیرویں مت سنایا کریں ، سن سن کر ڈیپریشن ھو گیا ھے ،،
والدین بچے میں نفرت بہت پہلے سے بھر چکے ھوتے ھیں ،، جب اس کی شادی ھوتی ھے اور وہ کمانے لگتا ھے تو والدین سے اس کا رویہ سرد مہری کا ھوتا ھے ،جس سے سمجھا یوں جاتا ھے گویا کہ آنے والی نے کان بھرے ھیں ، ورنہ ھمارا چاند تو ایسا نہیں تھا ،، الغرض والدین سب کچھ داؤ پر لگا کر ، اپنی جوانی کی قربانی دے کر صرف اپنی بے احتیاطی کی وجہ سے بازی ھار جاتے ھیں ،، پھر جو بیٹے تابعدار ھوتے ھیں والدین خواھشات کا ایسا بار ان پر ڈالتے ھیں کہ وہ اپنے بچوں کے حقوق پورے کرنے سے عاجز آ جاتا ھے ،، یوں گھر کے اندر ایک جنگ شروع ھو جاتی ھے جب بیوی اپنے بچوں کا حق بھی پیچھے جاتے دیکھتی ھے ،، والدین ابھی بھی یہی گردان کر رھے ھوتے ھیں کہ ھم نے اتنا لگایا ھے اور اتنا کھپایا ھے ،لہذا سب کچھ ھمارا ھے ،، اور حدیث کوٹ کی جاتی ھے کہ تو اور تیرا مال تیرے والد کے ھو ،، جبکہ شریعت میں اولاد کی موجودگی میں چھٹا حصہ والد کا ھے اور چھٹا حصہ ماں کا ھے بیوی کو اٹھواں حصہ ملتا ھے اور باقی اولاد کا ھے ،مگر اس حدیث کو بیان کر کے اولاد کا حق بھی مار لیا جاتا ھے،،

والد صاحب بیٹیوں کی شادی کے لئے 10 لاکھ اور اٹھارہ لاکھ مانگتے ھیں ،، پلاٹ اور مکان کی قسطیں الگ ھیں ،، گویا پوری کوشش کی جاتی ھے کہ کمانے والے بیٹے کو ھینڈ ٹو ماؤتھ رکھا جائے اور وہ اپنی بیوی اور بچوں کا کچھ بھی نہ بنا سکے ،، بیٹا اپنے بچے پاکستان بھیج کر والدین کے تقاضے پورے کرے تو وھاں اس کے بچے بیمار ھو جائیں تو کوئی اسپتال لے جانے کا روادار نہیں ھوتا ،، بیٹا پیارا ھے اور اس کی بیوی اور اولاد سے دشمنی ھے ،، بیٹا ذھنی مریض بن جاتا ھے والدین اس کا پاکستان ھیں اور اولاد اس کی ھندوستان بنا دی جاتی ھے جن کی خدمت کر کے وہ والدین کا غدار قرار پاتا ھے ،،

پاکستان جاتا ھے تو گھریلو سیاست سے ماحول کو آلودہ کر دیا جاتا ھے ،عین اس وقت جب کھانا لگ چکا ھے ، بچے بیٹے ھوئے ھیں کہ بہن یا بھانجی کا فون آ جائے گا کہ کھانا ھمارے ساتھ کھانا ھے ، اور وہ بھی سب کچھ لگا لگایا بچوں کے سامنے پڑا رہ جاتا ھے اور وہ بھانجیوں کے ساتھ کھانے چلا جاتا ھے ،، بیوی اپنا سا منہ لے کر رہ جاتی ھے اور بہن بھائی کو گھر بلا کر بغلیں بجا رھی ھوتی ھے اور اس ڈھگے کو اس سیاست کی کوئی سمجھ نہیں لگتی ،، اس اولاد میں بھی پھوپھو اور چاچو اور دادا دادی کے خلاف نفرت بھرتی چلی جاتی ھے جو عموماً یہ سمجھا جاتا ھے کہ ان کی ماں بھرتی ھے جبکہ اصل میں باپ اور ددھیال کا رویہ ان میں زھر بھرتا ھے ،،

اب جب باری آتی ھے رشتے ناتوں کی تو پھر ایک دوسرے کے یہاں رشتے کرنے کا امکان ختم ھو چکا ھوتا ھے ،، اور دونوں فریق رشتے باھر ڈھونڈتے پھرتے ھیں ،، دادا دادی اپنی ھی اولاد کو ایک دوسرے کا اس قدر دشمن بنا دیتے ھیں اپنی سیاست کی وجہ سے کہ مزید رشتے داری ممکن ھی نہیں رھتی ، ھر فریق دوسرے سے بدکتا ھے کہ یہ میری بیٹی سے بدلے لے گا ،، اور ایک فریق کہتا ھے کہ انہوں نے پہلے میرا شوھر ورغلائے رکھا تھا اب میں بیٹا ان کو کیسے سونپ دوں ،،

الغرض پاکستان میں برادری سسٹم صرف شناختی کارڈ مین باقی ھے ،، عملی طور پر اپنا وجود کھو چکا ھے ،، کوئی مانے یا نہ مانے حقیقت یہی ھے ،،

-قاری حنیف ڈار –

تبصرے
Loading...