ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

پاکستان ایک علاقہ جہاں لوگوں کو درد نہیں ہوتا

جب چوٹ لگتی ہے تو درد کا احساس ہوتا ہے، کسی میں برداشت زیادہ ہوتی ہے کسی میں کم۔ سچ پوچھیں تو مجھ میں درد برداشت کرنے کی صلاحیت بالکل نہیں ہے نہ میں کسی کو درد میں دیکھ سکتی ہوں۔ کہتے ہیں اللہ کسی کو اس کی ہمت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا، یہی میرا ایمان ہے، اس لیے ہر بات اللہ پہ چھوڑ دیتی ہوں۔ میرا اللہ تو ہے ناں؟ تو مجھے فکر کرنے کی کیا ضرورت ہے، مگر بات درد کی ہو تو بچوں کی طرح اب بھی رولا ڈال دیتی ہوں۔ درد کی بہت سی اقسام ہوتی ہیں۔ کچھ لوگ اپنا درد تو محسوس کرتے ہیں دوسروں کا نہیں، کسی کا حق مارتے، کسی کا برا کرتے، کسی کا خون کرتے بھی انہیں بالکل احساس نہیں ہوتا، کسی پر تشدد کرتے ذرا بھی ان کا دل نہیں کانپتا کہ اس کو کتنی اذیت ہو رہی ہوگی۔

حال ہی میں ایک وڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں ایک نوعمر لڑکے کو ایک آدمی ننگا کر کے لاٹھی سے اس پر تشدد کر رہا تھا۔ پہلا سین دیکھ کر ہی میں آگے دیکھ ہی نہیں سکی۔ جاگیرداروں کا ملازموں پر تشدد تو بہت عام سی بات ہے۔ اسکولوں کے چھوٹے بچوں پر استادوں کی مارپیٹ بھی رحمت سمجھی جاتی ہے۔ اسی طرح پولیس کا تشدد بھی ہمارے ہاں بہت عام سی بات ہے، بلکہ کوئی پولیس والا تشدد نہ کرے تو اسے پولیس سے الگ سی چیز سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ ساری بات احساس کی ہوتی ہے، پولیس میں بھی بہت سے حساس دل رکھنے والے لوگ ہیں، جن میں کوئی شاعر ہے تو کوئی ادیب، ان سے کسی ظلم کی امید بھی نہیں کی جا سکتی۔ ظاہر ہے ان کا احساس زندہ ہے جو نغموں، شعروں اور کہانیوں کی صورت میں ڈھلتا ہے۔ یہ ہاتھ ظلم نہیں کر سکتے۔ آج کل کے بچے جب اتنا تشدد دیکھ رہے ہیں سہہ رہے ہیں وہ بڑے ہو کر کیا بنیں گے؟ میں یہ سوچ کر ہی کانپ جاتی ہوں۔ اللہ ظلم سہنے اور ظالم بننے سے بچائے جہاں تک بات درد برداشت کرنے کی ہے اور کسی شخص میں درد سہنے کی کتنی صلاحیت ہوتی ہے، اس پر بھی تحقیق ہوئی ہے، اس کے چند ایک واقعات بھی میں نے پڑھے ہیں جو میں یہاں تحریر کر رہی ہوں۔

نیو فاؤنڈ لینڈ میں رہنے والے بلی اسمتھ ایک دن کھیل کے میدان سے واپس گھر آئے تو انہوں نے اپنے جوتے اتارے۔ ایک جوتا تو اتر گیا مگر دوسرا جوتا کسی صورت اتر کے نہ دیا۔ جب بلی اسمتھ نے پاؤں اوپر اٹھا کے غور سے دیکھا تو پتہ چلا ایک کیل اس کے جوتے کے تلوے سے اس کے پائوں کے تلوے میں اندر تک گھسی ہوئی ہے جس کی وجہ سے جوتا پاؤں کے ساتھ اٹیچ ہو گیا تھا۔ شاید کھیل کے میدان سے واپسی پر راستے میں پڑی کوئی کیل جوتے سے گذر کر پاؤں میں چبھ گئی اور چلتے رہنے کی وجہ سے پائوں میں اتنی اندر چلی گئی کہ پاؤں تقریبا جوتے کے ساتھ جڑ گیا، لیکن شدید حیرت کی بات یہ تھی کہ اسے کوئی درد تکلیف محسوس نہیں ہوئی۔ کیا ایسا ممکن ہے؟ کیا ہر کسی کے لیے تکلیف کی شدت مختلف ہوتی ہے؟ اس واقعے پر یقین کرنے کے لیے آپ کو کہیں اور نہیں جانا پڑے گا، ہمارے اپنے ملک پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں برطانوی سائنس دانوں نے ایک گروہ ڈھونڈھ نکالا، یہ لوگ بالکل نارمل نظر آتے ہیں، عام آدمی کی طرح سردی گرمی کا احساس بھی رکھتے ہیں، خوش بھی ہوتے ہیں، غصہ بھی کرتے ہیں، غمگین بھی ہوتے ہیں، روتے دھوتے بھی ہیں لیکن جب درد کی بات آئے تو انجان بن جاتے ہیں، کیونکہ انہیں گر جانے پر درد نہیں ہوتا، دانتوں میں روٹ کنال ان کے لیے ایک پین لیس عمل ہے، اس کے لیے انہیں عام لوگوں کی طرح پین کلر نہیں دینی پڑتی نہ ہی جلن کا احساس ہوتا ہے، اگر بیس بال یا کرکٹ کے بلے سے ان کا سر پھٹ جائے تو انہیں کوئی احساس نہیں ہوتا، حد تو یہ ہے کہ ان کے ہاں کی خواتین بغیر کسی تکلیف اور اذیت کی شکایت کیے بغیر نئی زندگی کو جنم دے دیتی ہیں اور انھیں درد کا احساس تک نہیں ہوتا۔ سائنس دان اسے Congenital Indifference to pain (CIP) کا نام دیتے ہیں۔ الغرض درد کی شدت تو چھوڑیے درد کے احساس سے بھی واقف نہیں۔ برطانیہ میں کیمرج انسٹی ٹیوٹ میڈیکل ریسرچ کے کلینیکل جینٹیسسٹ جیفری ووڈز کا کہنا ہے کہ غالباً بلی اسمتھ انھی چندگنے چنے لوگوں کے گروہ میں سے ایک ہے۔

حیرت کی بات ہے کہ یہ گروہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں موجود ہے اور اکثریت ان سے واقف نہیں اور ان کی تعداد بھی بہت کم ہے۔ ریسرچر ووڈز کے لیے بھی حیرت انگیز تجربہ تھا کہ یہ لوگ آگ پر چل رہے تھے مگر نہ تو انہیں جلنے کا احساس تھا نہ انہیں تکلیف ہو رہی تھی۔ ووڈز دلیل پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ان کی بات پر شک ہے کہ یہ درد کے احساس سے ناواقف ہیں تو پھر ان کے بارے میں بےیقینی اور شک ظاہر کرنے سے پہلے معصوم کھلنڈرے درد و الم سے بے نیاز بچوں کے بارے میں سوچیے۔ کھیل کے دوران کئی طرح کی چوٹ زخم اور تکلیف بچوں کے پسندیدہ کھیل یا مشغلے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ وہ اس وقت تک روتے بھی نہیں جب تک ان کی ماں یا کوئی بڑا انہیں پکڑ کر احساس نہ دلائے کہ تمہیں چوٹ لگی ہے۔ اسے حیرت تھی اس پاکستانی بچے پر جو محض تفریح کے لیے اپنے بازو میں چھری گھسیڑ رہا تھا اور اسے تکلیف کا احساس تک نہ تھا۔ یوں تو یہ بچہ شمالی علاقہ جات کی سڑکوں پر کرتب دکھایا کرتا تھا چھریوں اور سلاخوں کو بازوؤں اور پاؤں کے پار کرنا، آگ پر چل کر دکھانا، لیکن اس کا یہ کرتب شعبدہ بازی نہیں تھی بلکہ جینیاتی طور پر وہ اس درد کے احساس سے عاری تھا۔ کیمبرج یونیورسٹی کے محققین نے شمالی علاقہ جات میں اس لڑکے سے منسلک تین خاندانوں کے چار سے چودہ سال کی عمر کے چھ لڑکوں پر تحقیق کی، جن میں درد نہ محسوس کرنے کی علامات پائی گئیں۔ ماہرین ان پاکستانی بچوں کی مدد سے یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ کون سے جینیاتی عمل ہیں جن کی وجہ سے ان بچوں کو درد نہیں ہوتا۔ ہو سکتا ہے ان بچوں پر تحقیق کی وجہ سے پین کلر اور درد کش ادویات کی دنیا میں انقلاب آ جائے۔

جب میں یہ رپورٹ پڑھ رہی تھی، میرا دھیان کافی سال پہلے ایک واقعے کی طرف گیا۔ ہمارے بچپن میں ایک خاندان نوکری کی تلاش میں ہمارے گھر آیا۔ وہ لوگ جلال پور کے تھے۔ کندن مائی اس عورت کا نام تھا، شوہر کیسا تھا مجھے نہیں معلوم، کیونکہ غیر مردوں کو گھر کے اندر آنے کی اجازت نہیں تھی، اس عورت کے تین بچے تھے، بڑی بیٹی جو جوان لڑکی تھی، ایک نوعمر بیٹا اور ایک آٹھ سال کا بیٹا۔ ہم نے کواٹر دے دیا اور عورت گھر میں کام کرنے لگی۔ تب گھر میں ڈیرے پر آئے مہمانوں کے لیے لنگر پکتا تھا، وہ عورت حقہ بھی پیتی تھی، اینٹوں سے بنے چولہے پر بڑے بڑے توے چڑھتے جن پر ایک وقت میں سات سے دس روٹیاں پکتیں، آمنے سامنے تین چار عورتیں بیٹھ جاتیں اور منٹوں میں روٹیوں کے ڈھیر لگ جاتے۔ ہم بڑی دلچسپی سے دیکھا کرتے۔ سردیاں تھیں، آگ کے پاس بیٹھنا اچھا بھی لگتا، لیکن حیرت اس وقت ہوتی جب وہ عورت چولہے کے اندر انگاروں پر اپنے پاؤں رکھ کر بیٹھ جاتی اور اپنے ہاتھوں سے جلتے انگارے اٹھا کر چلم میں ڈالتی۔ میری دادی نے پوچھا تمھارے ہاتھ نہیں جلتے تو کہنے لگی ننگے پاؤں چل چل کے اور سخت کام کر کے ہماری کھال اتنی سخت ہو جاتی ہے کہ اس پر کوئی تکلیف اثر نہیں کرتی۔ اس کی بیٹی ماچس کی تیلی جلا کر اپنے منہ میں رکھ لیتی، اس کے گالوں سے روشنی نکلتی جب تک تیلی بجھ نہ جاتی۔ اس کا بھائی چارپائی کے پائے پر سر کے بل بالکل سیدھا کھڑا ہو جاتا نہ اس کو درد ہوتا نہ وہ گرتا، چھوٹا بھائی اپنے گلے پر انگلی سے اس طرح ضرب لگاتا اور منہ سے آواز نکالتا کہ لگتا کوئی بین بجا رہا ہے، لوگ اس سے سنتے اور پیسے بھی دیتے، اس بچے کا نام نواز تھا۔ عجیب فنکار گھرانہ تھا، لیکن ان میں ایک خرابی تھی کہ گھر کے برتن غائب ہونے لگے۔ ایک دن کوارٹر کی تلاشی لی گئی تو بوریاں بھر برتن برآمد ہوئے، سو ان کو نکال دیا گیا۔

ان محققین کو جو لوگ ملے ہیں، ہو سکتا ہے غربت نے انہیں بھی سخت جان بنا دیا ہو۔ 2007ء میں یونیورسٹی آف فلوریڈا میں مختلف ملکوں اور نسلوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے گروپ پر کی گئی تحقیق کے مطابق امریکی اور افریقی درد کے لیے ہی نہیں بلکہ کسی بھی قسم کے تکلیف دہ حالات کے لیے بہت حساس ہوتے ہیں۔ یہ لوگ تکلیف پر بہت جلدی ناگواری اور منفی جذبات کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ اس تحقیقی ریسرچ میں61 ہسپانوی، 63 امریکی، افریقی اور 82 غیر ہسپانوی گورے شامل تھے۔ ان سے گرم برتن مس کیا گیا، بہت ٹھنڈے پانی میں ہاتھ ڈبوئے گئےم تکلیف کے جو تجربے کیے گئےم ان میں سب سے کمزور اور حساس غیر ہسپانوی گورے ثابت ہوئے۔تمام تجربات اور مشاہدات کے بعد تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ راجر فلنگم نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جتنا زیادہ نسلی امتاز ہوتا ہے، تکلیف کا احساس بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...