معلومات

قیام پاکستان سے نئے پاکستان تک 2 ہزار 500 سے زائد صدارتی آرڈیننسز کا نفاذ آخر کیوں؟

کاروبار سیاست چلانے کے لیے ہر حاکم وقت نے آئین پاکستان سے چھیڑ چھاڑ کا سلسلہ جاری رکھا اور کسی نا کسی جواز کو سامنے رکھ کر آئین پاکستان کی موجودگی میں صدارتی احکامات جاری کئےقانون سازی. کو. اہمیت دینے کی بجائے آرڈیننسز کا. سہارا لیا جاتا رہا.آئین پاکستان کی تحت صدر مملکت کو آئین کے آرٹیکل 89 کے تحت آرڈیننس جاری کرنے کا اختیار حاصل ہے جو عارضی 2 صورتوں میں عارضی قانون سازی کے لیے دیا ہے کہ جب سینیٹ یا قومی اسمبلی کا اجلاس ہورہا ہو یا پھر فوری اقدامات کی ضرورت پڑ گئی ہو۔مگر بدقسمتی سے اس اختیار کو بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے اگر تاریخ پاکستان کا. مطالعہ کیا جائے تو مملکت خداداد پاکستان کے قیام کے بعد سے تقریباً ڈھائی ہزار وفاقی سطح کے آرڈیننسز منظور ہوچکے ہیں۔وزارت قانون و انصاف کی دستاویزات کے مطابق صرف 2008ء سے 2018ء کے درمیان 156 آرڈیننسز جاری ہوئے،

30 اکتوبر 2019 کو صدر مملکت کی جانب سے جاری 8 آرڈیننسز کو. سینٹ میں شدید تنقید کا. سامنا ہے کہ آرڈیننسز کو سینیٹ اور قومی اسمبلی کے بالترتیب 5 نومبر اور 7 نومبر سے ہونے والے اجلاس سے قبل جاری کیا گیا جس کے بارے میں صدر مملکت کو معلوم تھا مگر پھر بھی انہوں نے بغیر دیر کیے ایک ہی روز میں 8 آرڈیننسز جاری کیے۔اگر تاریخ کو. کھنگالا جائے تو لفظ ‘آرڈیننس’ کا مطلب ‘مستند سمت یا حکم’ ہے جو انگلینڈ میں 1642ء سے 1660ء کے مختصر سے عرصے میں قانونی اہمیت اختیار کرگیا۔

یہ وہ دور تھا جس میں بادشاہ اور پارلیمنٹ ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے جس کے نتیجے میں انگلینڈ کے عام آئینی اداروں میں جہاں بادشاہ اور پارلیمنٹ کے اتفاق رائے سے قانون سازی کی جاتی تھی، کو معطل کردیا گیا تھا جس کی وجہ سے رائلز کی رضا مندی کے بغیر منظور کردی قوانین کو آرڈیننس کہا جاتا ہے، 1660ء کے بعد آئینی بالادستی کی بحالی کے ساتھ تمام آرڈیننس ختم ہوگئے اور کوئی نیا آرڈیننس پاس نہیں ہوا۔برطانوی بھارت میں، ‘آرڈیننس’ کی اصطلاح کو سب سے پہلے ہندوستانی کونسلز ایکٹ، 1861ء میں استعمال کیا گیا تھا، قانون کے تحت، بھارت میں عام قانون ساز ادارہ گورنر جنرل-ان-کونسل تھا، ایسا کونسل جس کی سربارہی گورنر جنرل کر رہے تھے اور اس میں برطانوی حکومت کی جانب سے تعینات کیے گئے برطانوی اور بھارتی شہری دونوں شامل تھے۔پاکستان میں آرڈیننس سے متعلق دفعات 1956ء کے آئین کے آرٹیکل 69 میں شامل کی گئیں، 1960ء میں، سر شہاب الدین کی سربراہی میں آئین کمیشن نے آرڈیننس کے خیال پر سخت تنقید کی تاہم جنرل ایوب خان کے تیار کردہ 1962ء کے آئین کے آرٹیکل 29 میں اسے برقرار رکھا گیا تھا، صدر مملکت کو آرڈیننس جاری کرنے کا اختیار 1973ء کے آئین کے آرٹیکل 89 میں مل گیا۔

حقائق یہ تھے کہ سابق صدر اسکندر مرزا نے ایک منتخب بلدیاتی حکومت کو تحلیل کرنے کے لیے ایک آرڈیننس جاری کیا تھا اور اس کی جگہ ایک چنے ہوئے ایڈمنسٹریٹر لایا گیا تھا تاکہ مبینہ طور پر آئندہ انتخابات میں ان کی ری پبلکن پارٹی کو فائدہ پہنچے جسٹس کیکاوس نے اس سراسر غیر ضروری آرڈیننس کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ آرڈیننس بنانے کی طاقت کو معمول کے مطابق استعمال نہیں کیا جاسکتا۔

آئین پاکستان کے مطابق آرڈیننسز کو صرف ایسی قانون سازی کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے،(الف) وفاقی حکومت کو جنگ، قحط، وبا یا بغاوت جیسی ہنگامی صورتحال پر رد عمل دینے کے قابل بنانا ضروری جس کی وجہ سے پاکستان کی عوام کی جان، آزادی، جائیداد داؤ پر لگی ہو،(ب) جہاں پارلیمنٹ کے آخری اجلاس کی توہین کے بعد ہنگامی صورتحال کا رد عمل دیا جارہا ہو یا پھر….(ج) جہاں پارلیمنٹ کے کسی بھی ایوان کے اگلے اجلاس طلب کرنے کا انتظار کرنا پاکستان کے عوام کی جان، آزادی یا املاک کے ناقابل تلافی نقصان کا باعث بنے۔مگر پاکستان میں آرڈیننسز کی فیکٹری لگادی گئی ہر. حکومت نے اس اختیار کا بے دریغ استعمال کیا اسے اپوزیشن کو پھاڑنے اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے جاری کیا.یہ بات عجب ہے کہ ان آرڈیننسز کی مخالفت کرنے والی. اپوزیشن جماعتوں نے اقتدار میں آکر اسے اپنے لئے جائز قرار دیا اور ان آرڈیننسز کے زریعے اپنے انتقام کی آگ کو. ٹھنڈا کرنے کی حتی المقدور کوشش کی.

1956ء کے آئین کے آرٹیکل 69 میں سابق صدر اسکندر مرزا نے آرڈیننسز کا دروازہ کھولا جو 64 سالوں سے حکمرانوں کا پسندیدہ مشغلہ بنا رہا. اور تاحال جاری ہے پی ٹی آئی حکومت نے بھی سابق وزیراعظم میاں نواز شریف دور حکومت میں اپنے صدر ممنون حسین کے زریعے جاری کرائے آرڈیننسز پر اپوزیشن میں رہتے ہوئے شدید تنقید کی اور اسے بادشاہت سے تعبیر کیامگر اب عمران خان کی حکومت میں انکے صدر مملکت عارف علوی بھی آرڈیننسز کا دھڑادھر اجراء شروع کر رکھا ہے جو سابق حکمرانوں کی سی روش سے ہٹ کر. نہیں مگر منصب اقتدار سے دور رہ کر ان اقدامات پر تنقید کیوں کی. جاتی ہے؟؟؟

انہی آئینی مگر غیر پارلیمانی اقدامات کے خلاف ہی مسلم لیگ نواز نے عدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے تاکہ اب ان آرڈیننسز کا بے دریغ استعمال اور اجراء روکا جائے
درخواست میں استدعا کی گئی کہ ‘مذکورہ بالا دلائل کے پیش نظر عدالت سے استدعا کی جاتی ہے کہ آرڈیننس بنانے کی اختیارات کا دائرہ کار ایک بار پھر واضح کیا جائے اور یہ اعلان کیا جانا چاہیے کہ قانون بنانے کا اختیار پارلیمنٹ کا ہے،جس میں حکومت اور حزب اختلاف دونوں شامل ہیں اور جس میں نہ صرف قومی اسمبلی بلکہ سینیٹ بھی شامل ہے حالانکہ انہی کے ادوار میں آرڈیننسز کی فیکٹریاں چلائی گئیں اور یہ لوگ اگر دوبارہ اقتدار میں آنے تو ان. اقدامات کو. پھر اپنے لئے جائز قرار دیں گے.ایسے میں ان دورخی سیاست دانوں کا قبلہ. درست کرنے بارے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے.