بلاگ معلومات

پاکستان کا نظام انصاف

ابھی خبر دکھائی دی کہ عتیقہ اوڈھو [ اداکارہ ] پر شراب برآمدگی کیس کی سماعت دس ستمبر تک ملتوی کر دی گئی – اس چند سطری چھوٹی سی خبر میں ہمارے نظام انصاف کا المیہ چیخ چنگاڑ رہا ہے ، یہ واقعہ آٹھ برس پہلے پیش آیا تھا جب خاتون ایئر پورٹ پر شراب کی بوتلوں کے ہمراہ پکڑی گئیں ..اور آج آٹھ برس میں عدالت اس کیس کا فیصلہ نہ کر سکی – اس میں تو کوئی دوسری رائے نہیں کہ اتنی تاخیر کے دو اسباب ہی ہو سکتے ہیں کہ استغاثہ یعنی ریاست ایک جرم کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کے باوجود اس کو ثابت کرنے میں ناکام ہے اور یا پھر یہ کے ریاست کے شواہد عدالت کی نظر میں ناقابل اعتبار ہیں …لیکن دونوں صورتوں میں عدالت کی ذمے داری ہے کہ کیس کو ختم کرے ، آخر کس نے ان کے ہاتھ باندھ رکھے ہیں ؟

یہ کیس صرف ایک مثال ہے ورنہ پاکستان کی عدالتوں میں ہر دوسرا کیس اس تاخیر کی مثال ہے – اور ہمارے منصف حضرات اس بات سے بے خبر بنے ہوے ہیں کہ ان کا ، ان کی عدالت کا ، ان کے ادارے کا اور اس نظام انصاف کا عام لوگوں کی نظر میں کوئی وقار نہیں رہ گیا – میں سمجھتا ہوں کہ مقدمات کی تاخیر سے بڑھ کے المیہ اس وقار کو کھونا ہے ، اس اعتبار کی رخصت ہے – آپ کسی بھی راہ چلتے نیم خواندہ سے سال کر لیجئے یا کسی انتہائی پڑہے لکھے فرد سے پوچھ لیجئے ، دونوں کی نظام انصاف اور کرسی انصاف پر بیٹھے افراد کے بارے میں یہی رائے ہو گی اور عدم اطمینان کی ایک سی کیفیت ہو گی –

آپ کو ایک عام سی مثال دیتا ہوں – کسی خاندان یا کاروباری مراکز میں کسی کا آپس میں جھگڑا ہو جائے تو وہ خاندان کے بڑے یا مارکیٹ کے صدر کے پاس جاتے ہیں ..اور اپنا معاملہ ان کے سامنے رکھتے ہیں ..جب فیصلے کی گھڑی آتی ہے تو صاحب منصب یعنی منصف پہلے اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اس کی ذات پر فریقین کو اعتماد ہے یا نہیں ؟ اگر کوئی ایک فریق بھی کسی قسم کے شک کا محض اشارہ بھی کرے تو صاحب عزت اس معاملے سے الگ ہو جاتا ہے – لیکن ہمارے عدالتی نظام میں خال ہی کسی کو منصف پر اعتماد ہوتا ہے ..بس مجبوری کے سبب لوگ ان عدالتوں کی طرف رجوع کرتے ہیں – اس سے المناک صورت حال کسی معاشرے میں ممکن ہی نہیں – صرف دو برس پہلے گوجرنوالہ میں ایک شادی پر ہوائی فائرنگ کرنے پر دو افراد گرفتار ہوے – گرفتاری کے اگلے روز ان کی ضمانت پر رہائی عمل میں آئی ..وہ دونوں وکٹری کا نشان بناتے جب جیل سے باہر آئے تو انہوں نے ایک جملہ کہا تھا ، ان کا کہنا تھا :

ہمیں پاکستانی عدالتوں پر بھروسہ تھا ” ایک بندے کا جرم واضح تھا ، اس کی فائرنگ کی ویڈو تک چینلز نے دکھائی ، پولیس اس پر ان کو گرفتار کر کے لے گئی ، سوال یہ ہے کہ اس کے بعد بھی ان کا یہ کہنا ……….کس اعتماد کو ظاہر کرتا ہے ؟ کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں مجرم جرم کے بعد بھی ” عدالت کی مدد ” سے بچ جانے پر پرامید ہوتا ہے ؟-