معلومات

پاکستان کے بُدھ شاہکار (حِصہ اول)

آج دنیا میں لگ بھگ 4200 کے قریب مختلف مزاہب موجود ہیں جن میں بہت سے ایسے بھی ہیں جن کہ بارے میں کسی کو نہیں معلوم۔ دنیا کے بڑے مزاہب میں سے ایک ”بُدھ مت” بھی ہے جو اپنے ساڑھے پانچ کروڑ پیروکاروں کے سا تھ دنیا کا پانچواں بڑا مزہب ہے۔ دنیا کے1۔7 فیصد لوگ اس مزہب کے ماننے والے ہیں۔ بدھ مت ایک مذہب، ایک فلسفہ ہے جو مختلف روایات، عقائد اور طرز عمل پر مشتمل ہے، اس کی زیادہ تر تعلیمات ”سدھارتھ گوتم” کی طرف منسوب ہیں۔ بدھ مت کو سمجھنے کے لیئے ہمیں پہلے اس مزہب کے بانی ”گوتم بدھ” کو سمجھنا ہو گا۔

سدھارتھ ہمالیہ کی ایک ریاست میں پیدا ہوئے تھے جہاں آریائی قبیلہ ساکیہ (یا شاکیہ) آباد تھا، یہ اس قبیلے کے راجا کے چشم و چراغ تھے ۔ گوتم کی ماں کا نام مایا یا مہامایا تھا۔ گوتم کے سالِ ولادت میں سخت اختلاف ہے۔ عام طور پر 563 ق م بتایا گیا ہے۔ انکے نام پر بھی اختلافات ہیں، بعض لوگوں نے سدارتھ پہلا نام اور گوتم قبائلی نام بتایا ہے۔ گوتم کے بچپن کے حالات مستند کتابوں میں نہیں ملتے ہیں اور جو ملتے ہیں وہ پیروکاروں کی عقیدت سے اس بری طرح متاثر ہوئے ہیں کہ ان کا حوالہ نہیں دیا جا سکتا۔ بہرحال اتنا پتہ چلتاہے کہ انہوں نے رواج کے مطابق علم و فنون اور سپہ گری میں مہارت پیدا کی اور کمسنی میں ہی ان کی شادی یشودھرا سے کردی گئی۔ آخر بعض روایات کے مطابق گوتم کی عمر جب تیس کی ہوئی تو ان میں ذہنی تبدیلی پیدا ہوئی ۔ کچھ طبعی رجحان اور کچھ زندگی کے تلخ واقعات نے گوتم کو مجبور کیا کہ وہ ابدی سکون و مسرت حاصل کرنے کی کوشش کریں اور اس کے حصول کا طریقہ معلوم کرنے کی کوشش کریں۔ روایات کے مطابق گوتم گھرچھوڑ کر جنگل کی طرف نکل گئے۔ جہاں انہوں نے چھ سال مختلف ریاضتوں میں گزارے۔ جس میں گھاس پھونس کھانا، دھیان لگانا، گھنٹوں کھڑے رہنا، کانٹوں پر لیٹ جانا، جسم پر خاک ملنا، سر اور داڑھی کے بال نوچنا اور اس طرح کے دوسرے سخت مجاہدات میں مشغول رہے۔ آخر ان پر یہ حقیقت عیاں ہوئی کہ جسم کی آزادی اور اس طرح کے مجاہدات سے تسکین ناممکن ہے، چنانچہ انہوں نے کھانا پینا شروع کر دیا اور اپنے چیلوں سے یہ کہا کہ ریاضت کے یہ تمام طریقے غلط ہیں۔ چنانچہ وہ انہیں چھوڑ کر چلے گئے۔

چیلوں کے چلے جانے کے بعد گوتم سخت ہیجان میں مبتلا ہو گئے۔ آخر وہ ”بُدھ گیا” میں جو اس وقت غیر آباد علاقہ تھا، ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے۔ اس واقعہ کے بعد انہوں نے تہیہ کر لیا، کہ جب تک ان پر حقائق ظاپر نہ ہوئیں گے وہ اسی طرح مراقبہ میں رہیں گے۔ دفعتاً غروب آفتاب کے وقت ان کے ذہن میں ایک چمک پیدا ہوئی اور ان پر یہ حقائق عیاں ہوئے کہ ”صفائے باطن اور محبت خلق“ میں ہی فلاح ابدی کا راز مضمر ہے اور تکلیف سے رہائی کے یہی دو طریقہ ہیں۔ انہوں نے حیات کے چشمہ موت اور زندگی کا ایک لامتناہی سلسلہ دیکھا۔ ہر حیات کو موت سے اور موت کو حیات سے وابستہ پایا۔

اس نوری کفیت اور انکشاف کے بعد وہ ”بدھ” یعنی روشن ضمیر ہو گئے اور انہیں یقین ہو گیا کہ وہ غلطی اور جہالت کے دھندلکوں سے آزاد ہوچکے ہیں۔ انسانی مصاحبوں کے علاج جان لینے کے بعد وہ بنارس آئے اور وہاں ایک مقام مگادیہ میں قیام کیا۔ ان کے چیلے جو انہیں چھوڑ کر جا چکے تھے وہ یہاں آن ملے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے چیلوں کو اپنی تعلیمات سے روشناس کرایا اور زندگی و موت کے حقائق انہیں سمجھائے۔ آخر وہ ان سے متاثر ہوکر ان کے دین میں داخل ہو گئے۔ ان کی بزرگی و علم کا شہرہ دور دور تک پھیل گیا اور بہت سے لوگ ان کی کرامتوں کو دیکھ کر ان کے مذہب میں داخل ہو گئے۔ یہاں سے گوتم ”راج گڑھ” گئے جہاں گوتم نے کئی سال گزارے۔ وہ ہر سال گرمی اور جاڑے میں تبلیغ کے لیے نکلتے اور برسات میں واپس آجاتے ۔ الغرض چند سال کے اندر گوتم کا مذہب تیزی سے پھیل گیا۔ چوالیس سال تک گوتم اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے رہے اور اس سلسلے میں ہندوستان کے مختلف مقامات پر گئے۔ ان کی حیات میں ان کا مذہب تیزی سے مقبول ہو گیا اور دور دور تک ان کے مبلغین ہندوستان کے ہر حصہ میں پہنچ گئے اور لوگوں کو اس نئے مذہب سے روشناس کرایا۔ عام روایات کے مطابق گوتم نے 80 سال کی عمر میں 384 ق م میں وفات پائی۔ ہندو رسم کے مطابق ان کی لاش نذر آتش کردی گئی۔

دنیا میں گوتم بدھ کے مزہب بدھ مت کے ماننے والے زیادہ تر جنوب مشرقی ایشیائی ممالک ( سِنگاپور، برما، لاؤس، تھائی لینڈ، ویتنام، تائیوان، کمبوڈیا) چین، جاپان،نیپال، بھوٹان، کوریا، سری لنکا، منگولیا اور بھارت میں رہتے ہیں۔ لیکن حیران کُن طور پر اسلامی جمہوریہ پاکستان ، جہاں بدھ مزہب کے پیروکاروں کی تعداد صرف 2000-1500 کے لگ بھگ ہے، بدھ مت کی وسیع اور مُستند تاریخ رکھتا ہے۔ اِسلام، ہندومت اور سکھ مت کے علاوہ ملکِ پاکستان بدھ مت کی عظیم خانقاہوں، سٹوپوں اور قدیم یونیورسٹیوں کا مسکن رہا ہے۔ خیبر پختونخواہ اور پنجاب کے علاقے خاص طور پہ بدھ مت کے زرخیز تاریخی اور ثقافتی ورثے کے امین ہیں۔پاکستان میں بدھ اِزم کی تاریخ قریباً 2،300 سال قدیم ہے جو راجا اشوک کے زمانے سے شروع ہوتی ہے۔ ہند یونانی سلطنت، اشوکا کی میورا سلطنت، کشان کی سلطنت اور پالا سلطنت میں پائی جانے والی کئی بدھ عمارتیں اور انکی باقیات آج کے پاکستان کا حِصہ ہیں۔

پاکستان میں کئی علاقوں سے بدھ مت کے آثارِ قدیمہ دریافت ہوئے ہیں جن میں برتن، مورتیاں، سِکے، کئی روزمرہ کی اشیاء شمیت درسگاہیں، خانقاہیں اور اشوک کے زمانے میں بنائے گئے سینکروں اسٹوپے شامل ہیں۔ پشاور اور ٹیکسلا کے میوزیم بدھ مت کی تاریخ سے بھرے پڑے ہیں۔ لاہور میوزیم میں بھی بدھا کی نادر مورتیاں رکھی گئی ہیں۔ یہ میوزیم انتہائی قیمتی اور قدیم بدھ تاریخ کو سنبھالے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں کئی جگہوں سے بدھ مزہب کے آثار دریافت ہوئے ہیں۔ آئیئے ان کا جائزہ لیتے ہیں۔

گلگت بلتستان : 7ویں صدی کے آخر میں بدھ اِزم نے گلگت بلتستان میں قدم رکھے۔ اِسلام سے پہلے بلتستان کے لوگ بدھ مت اور بون مزہب کے ماننے والے تھے۔ آج بھی اس خطے میں کئی جگہوں پر بُدھ آثار ملتے ہیں جن میں منتھل بدھا کی چٹان اور ہُنزہ کی مقدس چٹان سرِ فہرست ہیں۔

٭ منتھل بُدھا، سکردو:سکردو سے ” ست پارہ جھیل” کی طرف جائیں تو راستے میں ایک سڑک مُڑتی ہے جو 3 کلومیٹر کے سفر کے بعد آپ کو گرینائٹ کی ایک بڑی چٹان تک لے جائے گی جہاں گوتم بُدھا کی مختلف اشکال کُندہ ہیں۔9 صدی کی یہ چٹان آٹھویں اور دسویں صدی کے درمیان بالائی سندھ کی وادی میں قائم بدھ سلطنت کے سنہری دور کی یادگار ہے۔ اس پیلی چٹان پر کُندہ شکلوں میں بُدھا کو اپنے پیروکاروں کے بیچ میں مراقبے کی حالت میں دکھایا گیا ہے ۔ دور دراز واقع ہونے کی وجہ سے یہ جگہ بیسویں صدی تک دنیا کی نظروں سے پوشیدہ رہی۔ سال 1906 میں ایک سکاٹش سیاح ایلا نے اپنی کتاب میں اس چٹان کی طرف دنیا کی توجہ مبزول کروائی اور آج یہ محفوظ حالت میں ہمارے سامنے ہے۔

٭ ہُنزہ کی مقدس چٹان :وادئ ہنزہ میں کریم آباد کے ساتھ ایک چھوٹا سا قصبہ ”ہلدیکش” کے نام سے آباد ہے جہاں ایک پہاڑی کے اوپر، دریائے ہُنزہ کے کنارے بدھ مت کی یہ مقدس کُندہ چٹان موجود ہے جو ہزاروں سال قدیم ہے۔ اِس چٹان کے دو حِصے ہیں اور دونوں پرمختلف تصاویر اور عبارتیں کندہ ہیں۔ یہ جگہ ایک زمانے میں بدھ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے۔ حکومت پاکستان نے اسکو اپنی تحویل میں لے کر محفوظ کر رکھا ہے لیکن دریائے ہنزہ میں آنے والے سیلاب اس قدیم ثقافتی ورثے کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتے رہتے ہیں۔15ویں صدی میں اسلام کی آمد کے بعد بہت سے بدھسٹ، مسلمان ہو گئے اور جو چند ایک بچے تھے وہ "لداخ” کی طرف ہجرت کر گئے جہاں آج بھی بدھسٹس کی اکثریت ہے

خیبر پختونخواہ ؛گندھارا تہزیب کا مسکن ہونے کی وجہ سے خیبر پختونخواہ بدھ مت کا گڑھ تھا اور یہاں جا بجا مختلف خانقاہیں،درسگاہیں، میوزیم اورسٹوپے بکھرے ہوئے ہیں۔ سب سے پہلے ذکر ہو جائی اس قدیم بدھ تہزیب کا جس کی بدولت بدھ مزہب یہاں تک پھیلا۔

٭ گندھارا :گندھارا بُدھ مت کی ایک قدیم سلطنت تھی جو شمالی پاکستان میں خیبر پختونخوا او پنجاب میں پوٹھوہار کے کچھ علاقوں پر مشتمل تھی۔ پشاور، ٹیکسلا، تخت بھائی، سوات ،دیر اور چارسدہ اس کے اہم مرکز تھے۔ یہ دریائے کابل سے شمال کی طرف تھی۔ گندھارا چھٹی صدی قبل مسیح سے گیارہویں صدی تک قائم رہی۔گندھارا کا ذکر رگ وید اور بدھ روایات دونوں میں موجود ہے۔ چینی سیاح ”ہیوں سانگ” (جو یہاں زیارتوں کے لیے آیا تھا) نے تفصیل سے اس کا ذکر کیا ہے۔ کشان دور گندھارا کی تاریخ کا سنہرا دور تھا۔ کشان بادشاہ ”کنشک” کے عہد میں گندھارا تہزیب اپنے عروج پر پہنچی۔ گندھارا بدھ مت کی تعلیمات کا مرکز بن گیا اور لوگ یہاں تعلیم حاصل کرنے آنے لگے۔
پانچوں صدی میں ہُن حملہ آوروں کے آنے سے یہاں بدھ مت کا زوال شروع ہو گیا۔ محمود غزنوی کے حملوں کے بعد گندھارا بھی تاریخ سے محو ہو گیا۔ گندھارا کی سرحدیں وادئ کابل سے لیکر دریائے سندھ کے پار تک تھیں جس میں صوابی، سوات، مردان اور راولپنڈی تک کے علاقے شامل تھے۔ عرب مورخین گندھارا کی ہندوستانی سلطنت کو قندھار (گندھار) کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ بدھ مذہب کی کتابوں میں بھی گندھارا کا ذکر ملتا ہے۔ گوتم بدھ کے زمانے میں ٹیکسلا کی شہرت ایک علمی مرکز کی تھی، جہاں دور دور سے لوگ حصولِ علم کے لیے آتے تھے۔

٭تختِ بھائی، مردان :اب ذرا ذِکر ہو جائے کندھارا تہزیب کے اس مرکز کا جس نے دور دور سے سیاحوں کی توجہ اپنی جانب کھینچی ہے ۔ یہ ذِکر ہے ضلع مردان کی تحصیل تختِ بھائی کا جہاںتخت بھائی بازار سے 2 کلومیٹر دور ایک چھوٹی سی پہاڑی کے اوپر موجود گندھارا کی بہترین طرزِ تعمیر کی حامل بدھ خانقاہ اور اس کے آثار واقع ہیں جو جو عالمی ثقافتی ورثے کا حِصہ ہے۔تخت نام کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ یہ ایک پہاڑی پر واقع ہے اور بھائی (فارسی میں پانی کو کہتے ہیں ) اس لیے کہ اس کے ساتھ ہی ایک دریا بہتا تھا۔ تخت بھائی ضلع مردان کا سب سے زرخیز علاقہ ہے۔ اس زمین کی زرخیزی کے پیشِ نظر ایشیا کا پہلا شکر خانہ یا شوگرمل برطانوی راج میں یہاں بدھ خانقاہ کے نزدیک بنائی گئی تھی۔

یہ جگہ بدھ مت کی قدیم تہذیب و تمدن کے بارے میں نہایت مفصل معلومات و شواہد فراہم کرتی ہے۔ اس گاؤں کی بنیاد ایک قدیم قصبے کی باقیات پر رکھی گئی تھی، وہ باقیات آج بھی عمدہ حالت میں موجود ہیں۔ یہاں پائے جانے والے قدیم زمانے کے سکوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں بدھ مت اورہندو دھرم کے لوگ آباد تھے۔ یہاں تعمیر کی گئی عمارتیں جو راہبوں کے لیے بنوائی گئی تھیں، ہر لحاظ سے تمام تر ضروریات ِ زندگی سے آراستہ تھیں۔ پہاڑی کے اوپر رہنے والوں کے لیے بھی فراہمیٔ آب کا انتظام تھا۔ عمارتوں کی دیواروں میں ہوا کی آمد و رفت کے لیے روشندان اور رات میں تیل کے چراغ روشن کرنے کے لیے طاقیں بھی بنائی گئی تھیں۔ کھدائی کے دوران یہاں جو چیزیں دریافت کی گئی ہیں، اُن میں بدھ مت کی عبادت گاہیں، صومعہ، عبادتگاہوں کے کھلے صحن، جلسہ گاہیں، بڑے بڑے ایستادہ مجسمے اورمجسموں کے نقش و نگار سے مزین بلند و بالا دیواریں شامل ہیں۔ پہلی مرتبہ تخت بھائی کی تاریخی حیثیت کی طرف توجہ 1836ء میں فرانسیسی آفیسر جنرل کورٹ نے مبذول کرائی تھی جبکہ تحقیق اور کھدائی کے کام کا آغاز 1852ء میں شروع کیا گیا۔تاریخ، نوادرات اور آثارِ قدیمہ سے محبت رکھنے والوں کے لیئے یہ ایک نہایت بہترین جگہ ہے

٭ سیری/سہری بہلول:تخت بھائی کے قریب، مالاکنڈ مردان روڈ پر واقع یہ سائیٹ 1980 سے یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی لسٹ میں شامل ہے۔ شہرِ بہلول یا سہری بہلول کے آثار دراصل کشان دور میں بسائے گئے ایک قدیم قلعہ بند شہر کو ظاہر کرتے ہیں۔ لفظ سیھری بہلول کی کئی لوگوں نے مختلف انداز میں تعریف کی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک ہندی لفظ ہے، جس کے معنی ہیں “سر بہلول“ جو علاقے کے ایک سیاسی و مذہبی شخصیت تھے۔ تاہم یہ نام اتنا پرانا نہیں کہ جتنا پرانا یہ گاؤں ہے۔
یہاں موجود بُدھا کی باقیات کر مکمل طور پر نہیں کھودا گیا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ مقامی افراد نے اپنے گھروں میں بھی غیر قانونی کھدائیاں کر کہ اس سائیٹ کو نقصان پہنچایا ہے۔یہاں سےعام طور پر برتن، مورتیاں، زیوراور سِکے دریافت کیئے گئے ہیں۔ یہ جگہ ایک بلند ٹیلے پر واقع ہے جس کے ارد گرد زرخیز کھیت کھلیان ہیں۔ اس جگہ کو حکومتی اور بین الاقوامی سرپرستی کی اشد ضرورت ہے۔

٭ شہباز گڑھی و جمال گڑھی ، مردان :مردان شہر سے 12 کلومیٹر شمال میں واقع شہباز گڑھی، پہاڑوں سے گھرا ایک حسین و سرسبز گاؤں ہے جہاں کچھ اونچائی پہ تیسری صدی ق م میں اشوکا دور کی ایک کُندہ چٹان واقع ہے۔ دو بڑے بڑے ٹکڑوں پر مشتمل اس چٹان میں کُندہ عبارتیں قدیم رسم الخط ”خروشتی” میں لکھی گئی ہیں۔ اس کی تاریخی اہمیت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پورے جنوبی ایشیاء میں قدیم دور کی عبارتوں اور رسم الخط کی یہ پہلی مثال ہے۔ یہ چٹان بھی یونیسکو کے علامی ثقافتی ورثے کا حِصہ ہے۔
مردان کے شمال میں 13 کلومیٹر دور واقع ”جمال گڑھی” قدیم زمانے کی ایک بُدھ خانقاہ رہی ہے جو غالباً پہلی سے پانچویں صدی تک قائم رہی ۔ جمال گڑھی کے کھنڈرات کو 1848 میں برطانوی ماہر آثارِ قدیمہ سر الیگزینڈر کُننگھم نے دریافت کیا تھا۔ یہاں ایک سٹوپا بھی موجود تھا جو کسی خاص اہمیت کا حامل نہیں۔ جمال ڈھیرئی کے کھنڈرات سے دریافت کیئے گئے مجسمے اور بت آج برٹش میوزیم اور کلکتہ میوزیم کی رونق ہیں جبکہ خانقاہ سے دریافت شدہ خروشتی رسم الخط کا نمونہ پشاور میوزیم بھیجوا دیا گیا تھا۔

٭ پُشکلا وتی، چارسدہ:گندھارا سلطنت کا پائہ تخت، پُشکلاوتی، کے کھڈرات آج کے چارسدہ شہر سے کچھ باہر دریائے کابل اور سوات کے سنگم پر موجود ہیں۔ پُشکلاوتی سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں ” کنول کے پھول کا شہر”۔ ہندوؤں کی مقدس کتاب ”رامائن” کے مطابق اس شہر کی بنیاد راجا رام کے بھتیجے پشکلا ( جس کے بھائی تاکشا کے نام پر ٹیکسلا کا شہر آباد ہے) نے دریائے سندھ کے مغربی جانب رکھی تھی۔ پشکلاوتی کے کھنڈرات میں دو شہروں کی باقیات اور کئی سٹوپے شامل ہیں۔
یہاں دریائے کابل کی تین شاخیں آپس میں ملتی ہیں۔ اس خاص جگہ کو ”پرانگ” کہا جاتا ہے جو مقدس خیال کی جاتی ہے ۔ اسکے شمال میں چارسدہ کا قبرستان واقع ہے جسے دنیا کے بڑے قبرستانوں میں سے ایک مانا جاتا ہے۔

٭ وادئ زیریں سوات:زیریں سوات کی وادی ضلع سوات،ضلع لوئر دیر اور مالاکنڈ پر مشتمل ایک اہم تاریخی علاقہ ہے جہاں آریائی لوگوں کے ابتدائی دور کے آثار موجود ہیں۔ دریائے سوات کی جنوبی وادی کئی ہزار سال سے حملی آوروں کی آماجگاہ رہی ہے یہاں چکدرہ برج سے لے کر سیدو شریف تک گندھارا کے آثار، بدھ خانقاہیں اور شاہی عمارتیں بِکھری ہوئی ہیں۔ زیادہ تر قدیم تاریضی جگہیں بریکوٹ سیدو شریف اور اوڈیگرام کے آس پاس ہیں۔

٭ بری کوٹ، سوات:وادئ سوات کا دروازہ بریکوٹ، دریائے سوات کے کنارے آباد ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ سکندرِ اعظم کے بسائے گئے شہر ”بزیرہ” کے آثاروں پر آباد ہے جسے ایک اطالوی ٹیم 1984 سے کھود رہی ہے۔ یہاں دریافت ہونے والی قابلِ توجہ اشیاء میں سے اپنے گھوڑے پر سوار، سدھارتھ بُدھا کا بڑا سبز مجسمہ اور چٹان میں کھدی دو شیروں والے سٹوپے کی شباہت شامل ہیں۔ ایک اور شاہکار شراب کے یونانی دیوتا ”ڈیانوسس” کا مجسمہ ہے جس میں گھنگریالے بالوں والے، تخت نشیں اس دیوتا نے ایک ہاتھ میں جام اور دوسرے میں بکرے کا سر اُٹھا رکھا ہے۔کشان سلطنت میں یہ شہر ایک بڑی منڈی کے طور پر ابھر کہ آیا لیکن 3 صدی میں آنے والے پہ در پے زلزلوں نے اسے تباہ کر دیا اور شاید اسی وجہ سے بزیرہ کا شہر ختم ہو کر رہ گیا۔

٭ سیدو شریف، سوات:سیدو اور اس سے ملحقہ شہر منگورہ کے آس پاس کئی بدھ متبرک مقام واقع ہیں جن میں علی گرامہ، بتکارہ 1 اور 2، متلائی اور دریائے جمبیل کی وادی شامل ہیں۔

٭ اوڈیگرام : اوڈیگرام، سیدو شہر سے 8 کلومیٹر دور واقع ہے۔ برٹش ماہر آثارِ قدیمہ اسٹین نے اسے ”اورا” شہر قرار دیا ہے جہاں سکندرِ اعظم نے ایک جنگ لڑی تھی۔ 1950 میں اطالوی ماہرین کی زیرِ نگرانی یہاں کھدائی کا کام شروع کیا گیا۔ شاہی ہندو دور میں یہ سوات کا دارالسلطنت تھا۔

٭ منگلور کی چٹان، سوات:سوات کے شہر منگورہ سے قریباً 9 کلومیٹرمشرق میں منگلور ( یا منگلاوار) واقع ہے جو تحصیل بابوزئی کا ایک قصبہ ہے۔ ہے تو یہ پاکستان کے عام قصبوں کی طرح لیکن اسکی ایک خاص بات ہے۔ وہ یہ کہ سوات کے اس قدیم دارالسلطنت میں دوسرا بڑا چٹان میں کھدا ہوا بُدھا کا مجسمہ موجود ہے۔ اس وادی میں بنجوٹ، سلدارہ، ننگڑیال اور جہان آباد کے علاقوں میں کئی بُدھا کے مجسمے موجود ہیں جن میں زیادہ تر چٹانون میں کُندہ ہیں۔ یہاں سب سے مشہور مجسمہ جہان آباد کا ”سخورائی بدھا” مجسمہ ہے۔ یہ وادی آثارِ قدیمہ سے محبت رکھنے والوں کے لیئے ایک جنت ہے۔

٭ بت کڑہ سٹوپا، مینگورہ : مینگورہ کے نزدیک واقع بت کڑہ کا سٹوپا میورا کے راجا اشوک نے بنوایا تھا۔ اس سٹوپے کی کھدائی اطالوی ماہرین آثارِ قدیمہ نے 1956 میں کروائی۔ یہاں سے ایک بڑی تعداد میں نکالے جانے والے آثآرِ قدیمہ کی باقیات کو اٹلی کے شہر ”تورینو” کے میوزیم میں رکھا گیا ہے۔

٭ چکدرہ :ضلع لوئر دیر کا دوسرا بڑا شہر چکدرہ ، دریائے پنجکوڑہ اور دریائے سوات کے سنگم پر واقع ہے۔ 3500 سال سے ایک اہم مرکزی شہر ہونے کے ساتھ ساتھ یہ شہر گندھارا سلطنت کے آثارِ قدیمہ اور ہندوؤں کے قلعوں کے حوالے سے بھی شہرت رکھتا ہے۔ یہاں دم کوٹ ہِل کی چوٹی کی کھدائی سے ملنے والے برتن اور زیورات سوات کے سیدو شریف میوزیم میں رکھے گئے ہیں۔ 65-1962 میں احمد حسن دانی نے کھدائی کے دوران یہاں سے پہلی صدی کا قدیم بدھ سٹوپا اور خانقاہ دریافت کیئے ہیں۔ اس چٹان کے نیچے بھی کندہ بدھ عبارتیں ملی ہیں۔

چکدرہ سے کچھ شمال میں اُچ کے دیہات کے قریب گُل آباد میں بھی ”آندند ڈھیرئی” کے آثارِ قدیمہ دریافت ہوئے ہیں۔ چینی زائر ”ژوان زینگ” کے مطابق اس جگہ سے ایک واقعہ منسوب ہے وہ یہ کہ یہاں آئے قحط سے لوگوں کو بچانے کے لیئے بُدھا نے اس وادی میں مرے ہوئے اژدھا کا روپ دھار لیا تاکہ بھوکے لوگ اس اژدھے کو کاٹ کر اپنا پیٹ بھر سکیں۔

آندند ڈھیرئی سے کچھ دور ”نِموگ رام” بدھ خانقاہ اور سٹوپا کے کھنڈرات واقع ہیں۔ یہاں پر تین سٹوپا موجود ہیں جو بدھ مت کے تین اصولوں بُدھا ایک استاد، دھرم اور سنگھ (بدھ مت کے بھکشووں کی جماعت جنھوں نے دنیا سے مکمل طور پر ناتا توڑ کر حصول نروان کے لیے اپنے کو وقف کر دیا تھا )، کو ظاہر کرتے ہیں ۔ یہاں دریائے سوات کے پُل سے آدھا کلومیٹر دور واقع ”دیر میوزیم” میں بُدھ اور ہندو سلطنتوں کی نادر اشیاء سمیت مقامی ثقافت کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

٭ عزیز ڈھیرئی ، صوابی :عزیز ڈھیرئی ، ضلع صوابی میں گنگو ڈھیرئی نامی قصبے سے 3 کلومیٹر دور واقع ہے۔ یہ جگہ 1976 میں دریافت کی گئی تھی لیکن اس کی کھدائی 1993 میں شروع کی گئی۔ یہ جگہ چند وجوہات کی بنا پر بہت اہم ہے جیسے کہ یہاں آپ کو قدیم زمانے کی باقاعدہ منصوبہ بندی سے بسائی گئی بستیاں ملیں گی اور یہ گندھارا تہزیب کی وہ جگہ ہے جو آپ کو بغیر کسی رکاوٹ کے، دوسری صدی ق م سے لے کر اسلامی سلطنت تک کی تمام ثقافتی تصویر پیش کرتی ہے۔ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ آثارِ قدیمہ کی مدد سے جب یہاں کی کھدای کی گئی تو کئی چیزیں اور تہیں دریافت ہوئیں جواس جگہ کی گندھارا سلطنت میں اہمیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ یہاں ایک جگہ کو ”متبرک مقام” کا نام دیا گیا ہے جہاں کئی سٹوپے واقع ہیں جن کے درمیان ایک بارانی نالا گزرتا ہے۔ یہاں مزہبی عبادتگاہوں کے ساتھ ساتھ رہائشی علاقے بھی دریافت کیئے گئے ہیں۔

٭ ہُنڈ، صوابی :قلعہ اٹک سے 15 کلومیٹر دور دریائے سندھ کے مغربی کنارے واقع ضِلع صوابی کا یہ چھوٹا سا قصبہ بُدھ تاریخ میں ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں سے سکندرِ اعظم اور اسکی فوجوں نے اباسین کو عبور کیا اور پنجاب پر حملہ آور ہوئے۔ 11 ویں صدی تک ہندو شاہی حکمرانوں کے زیرِ حکومت ہُنڈ ، گندھارا سلطنت کا آخری پائہ تخت تھا ( جو تقریباً 300 سال تک ہندو شاہی ریاست کا صدر مقام رہا) جس کے بعد یہاں محمود غزنی کی حکومت شروع ہوئی جبکہ ہندو سلطنت کے صدر مقام کو کوہِ نمک کے علاقے نندنہ منتقل کر دیا گیا۔ بادشاہ اکبر کے بنائے گئے ایک قلعے کے کھنڈرات اب بھی یہاں موجود ہیں۔اسکی شان و شوکت کو ختم کرنے کی لیئے مغلوں نے سندھ کے اُس پار اٹک کا شہر بسایا جس نے بتدریج اس شہر کی اہمیت کم کر دی اور آج ہنڈ ایک چھوٹا سا قصبہ ہے۔ یہاں سے دریافت شدہ دیواروں کے ٹکڑے ، سِکے اور سنسکرت رسم الخط کے نمونوں کو پشاور میوزیم میں رکھا گیا ہے۔

٭ کنشک سٹوپا پشاور :پشاور شہر کے نواح میں واقع یہ سٹوپا 2 صدی ق م میں کشان سلطنت کے حکمران کنشکا نے بدھ مزہب کی باقیات کو محفوظ رکھنے کے لیئے تعمیرکروایا تھا۔ کھدائی کے بعد بُدھ مت کی متبرک اشیاء کو برما کے شہر ”مانڈلے” منتقل کر دیا گیا۔ بدھوں کے مطابق گوتم بُدھا نے مرنے سے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ اس جگہ کنشکا اپنے نام سے ایک اونچی عمارت بنائے گا۔ہُن حکمرانوں نے اس سٹوپے کو بھی نہ بخشا۔ لیکن اس کی پتھریلی بنیاد پر لکڑی سے اسے دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ سب سے اوپر تانبے کی 13 تہوں سے نقش نگاری کی گئی۔ یہ اپنی طرز کا ایک منفرد سٹوپا تھا جو مینار کی شکل میں بنایا گیا تھا۔ اس جگہ کی کھدائی ڈیوڈ سپونر کی زیرِ نگرانی 1908 میں شروع کی گئی اور اس کہ تہہ سے نہایت قیمتی چھ کونوں والا صندوقچہ برآمد کیا گیا۔ اس صندوقچے میں بُدھا کی ہڈیوں کے تین حِصے رکھے تھے جو برما کے شہر مانڈلے بھیج دیئے گئے جبکہ صندوقچے کو پشاور میوزیم کی زینت بنا دیا گیا۔پشاور میں گنج گیٹ کے باہر واقع آج بھی یہ جگہ حکومت اور محکمہ آثارِ قدیمہ کی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے

٭بھامالا سٹوپا، ہری پور :ضلع ہری پور میں خانپور کے ساتھ بھامالا کے کھنڈرات واقع ہیں جو ایک زمانے میں ”بہامالہ بُدھ کمپلیکس” کا حِصہ ہوا کرتا تھا۔ اس سائیٹ کو 1929 میں سر جون مارشل اور سر سفیان ملک نے مل کر کھودا تھا۔ اس کھدائی کو 2017 میں بند کر دیا گیا ہے۔ یہ جگہ بھی یونیسکو کی ”عالمی ثقافتی ورثہ” کی فہرست میں شامل ہے۔ اس فہرست میں جگہ بنانے کے بعد یہاں بحالی کا بہت کام ہا ہے اور بلا شبہ یہ ٹیکسلا وادی کی بہترین طریقے سے محفوظ کی گئی جگہ ہے۔یہاں موجود مرکزی سٹوپا ایک صلیب کی شکل کا ہے اور پوری ٹیکسلا وگندھارا کی وادی میں اس مخصوص شکل کا یہ سب سے بڑا محفوظ سٹوپا ہے۔ صلیب نما اس سٹوپے پر کسی قدیم اہرام کا گماں ہوتا ہے۔ اس کے اردگرد بھی تقریباً 19 چھوٹے چھوٹے سٹوپے واقع ہیں جو اسکی دلکشی میں اور اضافہ کرتے ہیں ۔

٭ آہن پوش ، اورکزئی :اورکزئی ایجنسی میں واقع اس جگہ کھودی گئی بدھ خانقاہ اور سٹوپے سے بُدھ دھرم کی کئی متبرک اشیاء دریافت ہوئی ہیں۔ ان میں کندھارا کا سُنہری تعویز، کشان کے بادشاہ کنشکا اور سلطنتِ روم کے بادشاہ تراجن کے دور کے سونے کے سکے جن پر گوتم بدھ کی تصویر بنی ہے، شامل ہیں۔ بدقسمتی سے یہ قیمتی اشیاء آج مرٹش میوزیم کا حصہ ہیں۔

٭ شپولا سٹوپا، خیبر :پشاور سے طورخم کی طرف جائیں تو علی مسجد اور لنڈی کوتل کے بیچ ایک ”زرائے” نام کا گاؤں آتا ہے جہاں سڑک کے ساتھ ہی ایک تنگ پہاڑی گزرگاہ کے کنارے ایک قدیم سٹوپے کے کھنڈرات نظر آتے ہیں۔ یہ خیبر ایجنسی کا شپولا/ سپھولا سٹوپا ہے۔ پتھروں سے بنے اس سٹوپے کا اب صرف گنبد ہی باقی ہے اور وہ بھی قابلِ رحم حالت میں۔ تاریخ دانوں کہ مطابق دوسری صدی کا یہ سٹوپا کشان سلطنت کے آخر میں بنایا گیا ہو گا۔ خیبر پاس اور اس کے آس پاس کے علاقے کا یہ سب سے مکمل سٹوپا تھا جس سے کافی مقدار میں پتھر گِر چکے ہیں۔ یہاں ملنے والی باقیات کو پشاور میوزیم میں رکھا گیا ہے۔ آج یہ جگہ فرنٹیئر کانسٹیبلری کے زیرِ انتظام ہے۔

٭ پشاور میوزیم ، پشاور :ذکر ہو گندھارا تہزیب کا اور پشاور کے عجائب گھر کو نہ یاد کیا جائے یہ ممکن نہیں۔ دنیا میں بدھ ازم اور بدھ سلطنتوں سے متعلق قدیم اشیاء کا سب سے بڑا مسکن یہ میوزیم 1907 میں بنایا گیا تھا۔ پشاور شہر کا میوزیم اپنے اندر بُدھا کے سینکڑوں نایاب مجسمے، قدیم سٹوپے اور انکی باقیات، سِکے، تاریخی و نادر اشیاء جیسے برتن، مہریں، زیورات وغیرہ اور خانقاہوں کے کھنڈرات محفوظ کیئے ہوئے ہے۔ یہاں آپ گندھارا گیلری میں خیبر پختونخواہ کے کونے کونے سے دریافت کر کے لائے گئے مختلف حالتوں اور مراقبے میں بیٹھے بدھا کے مجسمے اور درباروں کے مناظر دیکھ سکتے ہیں۔ یہاں گوتم بدھا کے مجسموں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے جو نہ صرف بیرونِ ممالک کے سیاحوں بلکہ تاریخ اور آثارِ قدیمہ سے لگاؤ رکھنے والوں کو بھی اپنی جانب کھینچتی ہے

(جاری ہے)