بلاگ

پاک بھارت جنگ ایٹمی نہیں ہو گی

کشمیر کی اندوہناک صورت حال مستقبل قریب میں کسی پاک بھارت جنگ کے امکانات کو بظاہر حقیقت میں ڈھالنے والی لگتی ہے۔ ایسا ہواتو یقینا یہ خطہ تباہی و بربادی کی المناک تصویر بنے گا۔ بے پناہ آبادی، غربت، جہالت اور معاشی بحران دونوں ممالک کیلئے بڑے چیلنج ہیں۔ بہت زیادہ آبادی کے باعث انسانی ترقی کے معکوس پیمانے پہلے ہی کسی انسانی المیے سے کم نہیں۔ ایسے میں یہ جنگی ماحول، یعنی سراسر اوکھلی میں سر۔ بچپن میں صوفی غلام مصطفےٰ تبسم کی بچوں کیلئے لکھی گئی ایک نظم راقم کو بھی ازبر تھی۔ جس میں دو فریق لڑتے لڑتے اپنی چونچ اور دُم گھائل کروا بیٹھتے ہیں۔ وہ نظم دراصل محض بچوں کے لئے نہیں تھی۔ وہ فریق گویا پاکستان اور بھارت ہیں۔ 70 برسوں کی کشمکش اور حرب آرائی نے دونوں ممالک کا بے حد نقصان کیا ہے۔ جنگ سے زیادہ جنگی ماحول خطرناک ہوتا ہے۔ دونوں ممالک اپنے قیام ہی سے کسے ہوئے رسے کیطرح باہم کھچاؤ اور تناؤ کا شکار ہیں۔

ایسے میں انسانی اور سماجی ترقی کا خواب تو سراسر عبث ہے۔ ہوش کے ناخن لازم ہیں مگر صد افسوس عقل کے بخیئے ہیں کہ ادھڑتے ہی جاتے ہیں۔ پہلے شدت پسندی اور مذہبی منافرت کا عفریت برسوں تک ہمیں نوچتا رہا اب یہی کچھ وہاں بھارت میں ہو رہا ہے۔ مذہبی منافرت بے حد خطرناک شے ہے۔ جنگوں اور جنگی ماحول کے طویل تسلسل کے باعث بے انداز پاک بھارت سرمایہ اسلحہ بارود پر صرف ہو چکا۔ دوڑ اب بھی جاری ہے۔ کشمیر، آسام، ناگالینڈ، پنجاب اور جانے کیا کیا علاقے ہیں کہ جنہیں امن کے ساتھ بھارت ملحق رکھ نہیں پاتا اور ادھر ہمارے بلوچستان کو ہم سے الگ کرنے کی سازشیں رچاتا ہے۔ اُس کے بھیجے گئے کلبھوشنوں اور یادوؤں نے ہمارے ہاں کیا کیا ستم نہیں ڈھائے۔ وہ کہاں گئے گاندھی، نہرو کے امن کے نعرے اور سبق۔ اب تو وہاں وحشت ہی وحشت ہے۔ رام راج کے داعی اپنے ہی ایجاد کردہ ظلم کا راج قائم کئے ہوئے ہیں۔ یہ کھچاؤ اور تناؤ ہمہ دم جنگی ماحول کو ہم پر طاری کئے ہوئے ہے۔ حتیٰ کہ اب چلتے چلتے بات ایٹمی جنگ تک آ پہنچی ہے۔ انسانی ذہن شیطانی وسوسوں کی آما جگاہ اور امن کی فاختہ کے پر مسلسل نوچے جا رہے ہیں۔

خطے میں اسلحہ بارود کی اندھا دھند دوڑ کے باعث روس پہلے ہی نحیف ہو چکا۔ افغانستان مسلسل جل رہا ہے۔ ایران اپنے ایٹمی اہداف تقریباً حاصل کر چکا۔ پاکستان اور بھارت اپنے اپنے ایٹمی دانت دنیا کو دکھا چکے۔ ایک چین ہے کہ جس نے تاحال اپنی وار انڈسٹری کے شٹر ڈاؤن کر رکھے ہیں۔ پس پردہ اُس نے کیا کیا بارودی عفریت جمع کر رکھے ہیں قطعی طور پر یہ کوئی نہیں جانتا۔ البتہ چین نے دنیا کو ایک راہ دکھائی ضرور ہے۔ ایٹمی طاقت ہوتے ہوئے اپنے معاشی استحکام کے ذریعے انسانی ترقی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کا صائب رستہ لیا ہے۔

اب چین ہی سے یہ خبر آئی ہے کہ وہ پاکستان اور بھارت کو ایٹمی طاقتیں نہیں مانتا۔ اُن کے دفترِ خارجہ کے ایک ذمہ دار کا کہنا ہے کہ چونکہ دونوں ممالک کے پاس ایٹمی فائرنگ ڈیوائس کی ٹیکنالوجی موجود نہیں چنانچہ وہ جتنے مرضی ایٹمی بم بناتے جائیں جب تک اُن بموں کو پھوڑنے اور چلانے کی ٹیکنالوجی پاکستان اور بھارت کے پاس موجود نہیں یہ بم قریباً قریباً بے سود ہی ہیں۔ اگر چین کا یہ کہنا حقائق پر مبنی ہے تو پھر فوری کسی ایٹمی جنگ کا احتمال تو یوں جانئے کہ جاتا رہا۔ چین البتہ یہ ضرور مانتا ہے کہ پاکستان کو شمالی کوریا سے ملنے والی میزائل ٹیکنالوجی کا فی جدید اور بہترین ہے۔ ایکوریسی کے حوالے سے اس معاملے میں بھارت پاکستان سے ابھی بہت پیچھے ہے یعنی بٹن پش وار میں پاکستان کو ٹیکنالوجی کے حوالے سے برتری حاصل ہے۔ گو یہ کنونشنل وار کا زمانہ نہیں رہا۔ پھر بھی اگر ایسا ہوا تو ماضی قریب کے عملی تجربات کے باعث پاکستان آرمی فائٹ ہارڈنڈ ہو چکی جبکہ بھارتی آرمی مقبوضہ کشمیر میں مسلسل انگیج منٹ کے باعث تھکی ہوئی اور نفسیاتی طور پر بیزار ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسی صورت حال میں پاکستان کو کیا کرنا چاہئے؟ فی الحال اس سوال کا جواب آئندہ پر اٹھا رکھتے ہوئے راقم اس تحریر کو فی الحال یہیں تک محدود رکھتا ہے۔