کالمز

’’پیغام دیتی زندگی ‘‘ زندگی میں پیش آنے والے واقعات کو معانی ضروردیں!

کسی جنگل میں ایک شخص رہتا تھا ،جس نے ایک گھوڑا پالا ہوا تھا ۔جب وہ جوان ہوا تو اس کے مسلز اور جسمانی ساخت اتنے خوب صورت اور دل نشین تھے کہ اس کو دیکھنے کے لیے پورا گاؤں امڈ آیا ۔سب نے کہا کہ تو بہت خوش قسمت ہے جو تجھےایسا گھوڑا نصیب ہوا ہے۔اس آدمی نے کہا ’’پتا نہیں یہ خوش قسمتی ہے یا بدقسمتی ‘‘ ،کچھ دن کے بعد وہ گھوڑا بھاگ گیا،گاؤں والے پھرآئے اوراس سے افسوس کا اظہار کرنے لگے۔اس شخص نے کہا ’’پتا نہیں یہ خوش قسمتی ہے یا بدقسمتی ‘‘اس کا یہ جواب سن کر وہ لوگ کافی حیران ہوئے۔کچھ ہی دن گزرے تھے کہ وہ گھوڑا اپنے ساتھ ایک خوب صورت گھوڑی لے کر واپس آیا ۔لوگ پھر اس کے پاس آئے اور کہنے لگے :تم تو بڑے خوش قسمت انسان ہو ،ایک کی جگہ دو گھوڑے،وہ شخص بولا:’’معلوم نہیں یہ خوش قسمتی ہے یا بدقسمتی ‘‘

کچھ ہی دِن گزرے تھے کہ اس کا جوان بیٹا اس اتھری گھوڑی پرسواری کرنے کے غرض سے بیٹھا ،مگر گھوڑی کو وہ برداشت نہیں ہوا اوراس کو پھینک دیاجس سے جوان کی ٹانگ ٹوٹ گئی ۔ گاؤں والے اظہارِ افسوس کرنے آگئے تو اس کا وہی جواب تھا کہ ’’معلوم نہیں یہ خوش قسمتی ہے یا بدقسمتی ‘‘او رلوگ پھر حیران۔۔کچھ عرصے بعد ملک میں جنگ شروع ہوگئی، فوجی آئے اور وہاں کے سب جوانوں کو لے گئے مگرجوان کو چھوڑ گئے۔جنگ کافی دِنوں تک جاری رہی اور جب ختم ہوئی ، لوگ واپس آنا شرو ع ہوئے تو معلوم ہواکہ جنگ میں اس گاؤں کے سارے لوگ مرچکے تھے البتہ ایک جوان زندہ بچا تھا ۔جس کی ٹانگ ٹوٹی تھی ۔

اس کہانی کا مقصد یہ ہے کہ انسان کی زندگی میں کوئی بھی واقعہ یا حادثہ بے کار نہیں ہوتا۔اس کا کوئی نہ کوئی فائدہ ضرورہوتا ہے۔خود میرے ساتھ کئی واقعات ایسے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے وقتی طور پر میں پریشان ہو گیا تھا مگر بعد میں ان واقعات کے جو فوائد نکلے وہ بہت شاندار تھے۔ایسا ہی ایک واقعہ ایف ایس سی کے سال میرے ساتھ پیش آیا کہ پریکٹیکل ایگزام میں استاد نے کرکٹ کے بارے میں پوچھ لیا جبکہ کرکٹ کے بارے میں میری معلومات نہ ہونے کے برابر تھیں ،نتیجتاً نمبر کم ملے اور میں یونیورسٹی (UET)جانے سے رہ گیا۔اس صورتِ حال پر میں بہت دلبرداشتہ ہوا۔ بہرحال ، میں نے اگلے سال دوبارہ امتحان دیا اور پاس ہو گیا ۔

میری دِلی جذبات آج کل یہ ہیں کہ اگر وہ استاد مجھے مل جائیں تو میں ان کو پھولوں کے ہار پہناؤں۔کیوں کہ ان کے ایک فیصلے سے میں اگرچہ وقتی طورپر زندگی میں پیچھے رہ گیا لیکن اس کے بعد میری زندگی میں بے شمار کامیابیاں اسی رُکنے کی وجہ سے آئیں اوراللہ نے مجھ پر فضل وکرم کے جودروازے کھولے وہ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھے۔ قدرت اپنے نظام میں کبھی کبھارانسان کو کچھ دیر کروادیتی ہے کہ تھوڑا سا رُک جاؤ،اس کے بعد بہتراور شان دارملنے والا ہے۔وہ لوگ جو زندگی کو بے کار سمجھتے ہیں ان کی یہ سوچ سو فی صد غلط ہے۔ہر زندگی قیمتی ہے ۔ہاں یہ ہے کہ زندگی کبھی ایک جیسی نہیں ہوتی ،یہ کبھی غم تو کبھی خوشی ہوتی ہے، کبھی رونے کودل کرتاہے تو کبھی ہنسنے کو کبھی بھاگ جانے کو بھی دل کرتا ہے، کبھی بانٹنے کودل کرتاہے اورکبھی بے بس ہوکرسجدہ ریز ہونے کو دل کرتاہے ۔نارمل انسان وہی ہے جس کی زندگی میں ایسے واقعات ہوں ،اگر یہ نہ ہوں تو پھروہ انسان کی نہیں بلکہ روبوٹ کی زندگی ہے ۔

واقعات کو معانی دینے کے فوائد:جب آپ زندگی میں رونما ہونے والے تلخ وشیریں واقعات کو کوئی نام دیں گے تو اس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ آپ کی زندگی سے شکوہ شکایت ختم ہوجائے گا ۔ہم شکوے شکایات اس لیے کرتے ہیں کہ وہ واقعات ہمیں اپنے مطابق نہیں لگتے ،حالانکہ یہ ضروری نہیں کہ ہر چیز انسان کے مطابق ہو تو ٹھیک ہو۔ بعض چیزیں انسان کے مزاج اور ذہن کے مطابق نہیں ہوتیں پھر بھی ٹھیک ہوتی ہیں ۔

دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ آپ کو سامنےوالے انسان کی کیفیت کا بھی علم ہوجائے گا۔غصے میں ہمیں فقط اپنی ذات نظر آرہی ہوتی ہے لیکن جس پر غصہ آیا ہے اگر اس کی حالت کا علم ہوجائے تو انسان حیران رہ جائے کہ یہ تو غصے کی بجائے میرے رحم کا مستحق ہے۔ہم کہتے ہیں کہ جو ساتھ چل رہا ہے وہ تھوڑا تیز چلے مگر جب حقیقت کی آنکھ سے دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتاہے کہ اس کی تو ٹانگیں ہی نہیں ہیں ۔

تیسرا فائدہ یہ ہوگا کہ آپ کے اندر وزڈم(شعور) آئے گا۔یہی وہ حقیقی زندگی کا شعور اور ادراک ہے جو کہ کتابوں میں نہیں ملتا۔ یہ آپ کے اپنے مشاہدے اور تجربے میں ہوتاہے ۔اپنی زندگی میں اس علم پر یقین ضرور پیدا کریں جس کو آپ نے ٹھوکریں کھاکر حاصل کیا ہے۔یہ کتنی افسوس کی بات ہے کہ انسان کو اپنے حاصل کردہ علم پر ہی یقین نہ ہو۔

انسان جب اپنی ماضی کو پرکھتا ہے تو اسے معلوم ہوتاہے کہ ان واقعات میں انسان کی چالاکی،عقل ،عہدے اور منصب کا کمال نہیں بلکہ محض اللہ کا کرم تھا۔اللہ کے کرم پر یہ یقین انسان کو ’’امید‘‘کی دولت سے نوازتا ہےاورپھر وہ اللہ اندھا اعتماد کرنے لگتاہےاور تب اس کو زندگی کی کوئی بھی مشکل ،مشکل نہیں لگتی۔اپنے ماضی پر نظر دوڑانے سے انسان کو ایسے واقعات بھی مل جاتے ہیں جہاں اس کا اختیار ختم ہوتاہے۔ وہ بے بس ہوجاتاہے اور پھر اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتاہے۔جیسے واصف علی واصف ؒ کا قول ہے کہ ’’بے بس انسان کا ایک ہی علاج ہے اور وہ ہے سجدہ ۔‘‘یعنی اللہ کی کبریائی کو مان جانا،کیونکہ بے بسی کے عالم میں کیا گیا سجدہ اتنا طاقت ور ہوتا ہے جو انسان کو سرفراز کردیتاہے۔ وہ وقت کے اندھیروں کواجالوں میں بدل دیتا ہے۔وقت نے ہمیشہ بدلنا ہوتاہے کیونکہ یہ آیا ہی بدلنے کے لیے ہےلیکن انسان کو جس وقت میں جو چیز پسند نہ ہوپھر بھی کرنے کا حکم ہو تویہ دراصل اس کے ایمان کا امتحان ہوتاہے۔کہ وہ اس میں کتنا جھکتاہے ،کتنا رجوع کرتا ہے ، کتنی دعا کرتا ہے اور کتنا اپنے رب کو پکارتا ہے ۔ہمارا اجتماعی مسئلہ یہی ہے کہ ہم اپنے مسائل سو لوگوں کو بتادیتے ہیں مگر اللہ کو نہیں بتاتے،حالانکہ سارا اختیار خالق کے پاس ہےجوکہ سب سے بڑا مسبب الاسباب ہے۔

اپنی زندگی کے واقعات کومعنی ضروردیں۔اپنے آپ سے ہمیشہ پوچھیں ’’Why‘‘ یعنی میں ہی کیوں؟ میں ہی ان حالات سے کیوں گزرا ، میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا؟مجھے یہ کیوں دکھایا گیا،میرے ساتھ میری مرضی کے مطابق کیوں نہیں ہوا؟میری امیدیں کیوں پوری نہیں ہوئیں ؟ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ
ؕ ’’میں نے اپنی امیدوں کے ٹوٹنے سے اپنے رب کو جانا‘‘

آپ کے ساتھ زندگی میں جو بھی کچھ ہوا یا ہورہا ہے ۔ایک بار رُک کرضرور سوچیں کہ یہ سب کیوں اور کس مصلحت کے تحت ہورہا ہے۔آپ کی زندگی کے کچھ تکالیف ایسی ہوتی ہیں جو آپ کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ آپ نے ان سے کچھ سیکھا نہیں ، اس لیے وہ بار بار آپ کی زندگی میں آرہی ہیں ۔قدرت بڑی مہربان ہے وہ بار بار ایک مسئلے کو دُہرارہی ہوتی ہے تاکہ ہم اس سے کچھ سیکھیں ۔شاید ہماری ناقص عقل ان حالات کو سمجھ نہ سکے اور نفس ان پر واویلابھی مچادے ،شاید آپ کو ناشکرا بھی کردے مگر آپ نے اللہ کی رحمت پر مکمل یقین رکھنا ہے اور یہ ایمان رکھنا ہے کہ آپ کا رب آپ کے ساتھ کبھی برانہیں کرے گاکیونکہ وہ آپ سے 70 ماؤں جتنا پیار کرتا ہے۔
رب کی رحمت پر یقین کرکے اس کو اپنا پیمانہ بنائیں اور اسی پیمانے سے اپنے حالات کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔یہ ہمیں کچھ کہہ رہے ہیں ۔کچھ پیغام دے رہے ہیں کہ ہم سے کچھ سیکھو!کیونکہ آج کا واقعہ کل کے لیے بہت بڑاسبق ہے۔

(قاسم علی شاہ)