بلاگ

پدرسری معاشرہ اور وجوہات

پدرسری انداز تقریبا تمام زرعی اور صنعتی معاشروں میں یکساں مقبول رہا ہے چاہے ان میں کئی سیاسی خلفشار بھی پیدا ہوئے، سماجی انقلابات آئے، معاشی اصلاحات ہوئیں۔ مثال کے طور پر مصر کو کئی مرتبہ فتح کیا کیا۔ پہلے آشوری، ایرانی، مقدونیہ، رومن، عرب، مملوک، ترک اور برٹش نے یہاں قبضہ کیا، مگر یہاں ہمیشہ ہی پدرسری معاشرہ رہا۔ مصر میں اس دوران فرعون کا قانون، یونانی قانون، رومن قانون، مسلم قانون، عثمانی قانون اور برطانوی قانون آئے، مگر ان سب نے ان لوگوں سے تعصب برتا جو ‘اصل مرد’ نہیں تھے۔

پدرسری اس قدر ہر جگہ رائج ہے کہ اسے اتفاقیہ شروع ہو جانے والی چیز نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس میں یہ اہم ہے کہ پندرہویں صدی سے قبل جب امریکہ اور افریقہ/ایشیا کے لوگ ایک دوسرے سے رابطے میں نہیں بھی تھے، تب بھی دونوں جگہ پدرسری معاشرے ہی موجود تھے۔ اس بات کے کافی امکان موجود ہیں کہ اگرچہ مختلف معاشروں میں مرد اور عورت کی مختلف تعریف ہوتی ہے، مگر اس کے پیچھے کچھ حیاتیاتی وجوہات بھی ہوں جن کی وجہ سے مردانگی کو زنانہ صلاحیتوں پر فوقیت دی جاتی ہو۔ ہم ابھی ایسی کسی وجہ سے واقف نہیں ہیں۔ اس معاملے میں مختلف نطریات ہیں، مگر وہ سب درست نہیں لگتے۔

۱- جسمانی طاقت: اس معاملے میں سب زیادہ مشہور نظریہ یہی ہے کہ مرد جسمانی طور پر عورت سے زیادہ طاقتور ہیں اور انہوں نے اس سے عورت کو مغلوب بنا لیا ہے۔ اسی طرح کے نظریے کی ایک دوسری قسم یہ ہے کہ کھیتی باڑی اور فصل کی کٹائی سخت جسمانی کام ہیں تو انہیں مردوں نے چن لیا اور اس سے انہیں خوراک پر کنٹرول حاصل ہو گیا، اور اس کنٹرول سے انہیں سیاسی غلبہ بھی مل گیا۔ اس نظریے کے ساتھ دو مسئلے ہیں۔ پہلا مسئلہ یہ کہ مرد عورتوں سے زیادہ طاقتور ہیں، یہ بات مخصوص قسم کی طاقت کے ساتھ ہی بس ٹھیک ہے۔ عورتیں بھوک، بیماری اور تھکاوٹ میں مردوں سے زیادہ برداشت رکھتی ہیں۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ تاریخ میں ہمیشہ کئی وہ کام جن کے لیے کم طاقت چاہیے (پاردی، قانون دان، یا سیاستدان)، ان سے عورت کو دور رکھا گیا اور اسے سخت مشقت کے کاموں (کاشتکاری، دستکاری اور گھریلو کام) میں مصروف کیا گیا۔ اگر سماجی مرتبہ جسمانی طاقت یا سٹیمنا کی بنیاد پر ملتا تو عورت کو اس کے حصے سے کہیں زیادہ ملنا چاہیے تھا۔

درحقیقت تاریخ تو یہ بتاتی ہے کہ جسمانی طاقت اور سماجی طاقت میں معکوس تناسب ہے۔ اکثر معاشروں میں نچلے طبقے والے ہی زیادہ محنت اور مشقت طلب کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر تمام نوع حیات میں ہوموسیپین کی اہمیت اس کے جسمانی خصوصیات کی بنا پر دیکھی جائے تو اس کی پوزیشن فوڈ چین میں درمیان میں بنتی ہے، تاہم وہ اپنی ذہنی و سماجی صلاحیتوں کی بنا پر سب سے اوپر آ گیا۔ اس لیے اس بات کو ماننا مشکل ہے کہ تاریخ میں سب سے اہم اور سب سے زیادہ پائیدار سماجی فرق صرف مرد کی جسمانی طاقت کی بنا پر وجود میں آیا ہو۔

۲- جارحیت: ایک اور نظریہ یہ کہتا ہے کہ مرد جسمانی طاقت نہیں، بلکہ جارحیت کی خصوصیت کی بنا پر حاوی آیا ہے۔ عورت مرد کے ساتھ نفرت، لالچ یا ناجائز فائدہ اٹھانے میں برابری تو کر سکتی ہے، تاہم جب جارحیت کا موقع ہو تو مرد جسمانی تشدد یا لڑائی پر زیادہ آمادہ ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں تمام جنگیں مردوں کا استحقاق رہی ہیں۔ جنگ میں مرد فوجوں کے ساتھ ساتھ سولین معاشرے کو بھی کنٹرول کرتے ہیں۔ پھر اس سے مزید جنگیں جنم لیتی اور مردوں کا کنٹرول معاشرے پر بڑھتا چلا گیا اور اس سے ہر جگہ جنگ و جدل اور پدرسری کے نظام وجود میں آ گئے۔ حالیہ ہارمونز اور ذہنی سسٹم کی سٹڈیز سے پتا چلتا ہے کہ عمومی طور پر مرد عورت کے مقابلے میں زیادہ جارح ہے اور اسی لیے وہ عام فوجی کے طور پر زیادہ بہتر ہے۔ تمام مرد فوجیوں کے ہونے کے باوجود یہ تو ضروری نہیں کہ جو جنگ کو مینیج کر رہے ہیں اور اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں وہ بھی مرد ہی ہوں۔ جیسے تمام کالے افراد جو کھیتوں میں کام کر رہے ہیں، انہیں کنٹرول کرنے کے لیے تمام گورے افراد ہو سکتے ہیں تو مرد فوجیوں پر مشتمل فوج کو عورتوں پر مشتمل گورنمنٹ کیوں کنٹرول نہیں کر سکتی؟

مزید پڑھیں: خواتین، پختون سماج اور پی ٹی ایم

درحقیقت تاریخ میں ہمیشہ اوپری سطح کے آفیسرز عام لوگوں کی سطح سے اٹھ کر نہیں آئے۔ امرا، اور پڑھے لکھے افراد براہ راست آفیسرز رینک میں آتے رہے ہیں۔ افریقہ میں فرانس کی فوج میں اچھے گھرانوں کے فرانسیسی فوجی خال خال ہی تھے ان میں سینیگال، الجیریا اور محنت مزدوری والے فرانسیسی تھے، مگر جن آفیسرز نے جنگ لڑی اور اس کے فوائد حاصل کیے، اس چھوٹے سے طبقے میں امراء ہی شامل تھے۔ یہ سب فرانسیسی مرد کیوں تھے؟ چین میں فوج کو سولین ماتحتی کے اندر رکھنے کی پرانی روایت ہے۔ اس لیے وہ چائنیز جنہوں نے زندگی میں کبھی تلوار نہیں چلائی وہ جنگ کو کنٹرول کرتے تھے۔ چینی کہاوت تھی کہ آپ اچھے لوہے کو کیل بنانے کے لیے ضائع نہیں کر سکتے جس کا مطلب یہ تھا کہ باصلاحیت لوگ سول بیوروکریسی میں آئیں نا کہ فوج میں جائیں۔ یہ سب چائینیز مرد کیوں تھے؟

جنگ کو کنٹرول کرنے کے لیے سٹیمنا چاہیے، مگر اس کے لیے جسمانی طاقت یا جارحیت کی ضرورت نہیں۔ جنگ کسی پب میں ہوئی لڑائی نہیں بلکہ ایک بہت کمپلکس پراجیکٹ ہوتی ہے جس میں ترتیب، تعاون اور طمانیت کا عنصر قائم رکھنا ہوتا ہے۔ اپنے ہاں امن رکھنا، دیگر جگہوں پر دوستیاں بنانا، دوستوں اور دشمنوں کی ذہنی سوچ کا اندازہ رکھنا یہ ساری صلاحیتیں درکار ہوتی ہیں۔ جنگ کسی وحشی جارحیت کا نام نہیں ہے، بلکہ ایسا شخص اس کام کے لیے سخت ناموزوں ہے۔ اس کے لیے وہ شخص زیادہ موزوں ہے جو سازباز کا ماہر ہو۔ اس سے سلطنتیں وجود میں آتی ہیں۔ عورتوں کے بارے میں سٹیریوٹائپ یہ ہے کہ وہ سازباز کی ماہر ہوتی ہیں اور دوسرے کیا سوچ رہے ہیں اس کے بارے میں وہ بہتر اندازہ لگا سکتی ہیں۔ اگر اس سٹیریوٹائپ میں سچائی ہوتی تو عورتیں زیادہ بہتر سیاستدان اور سلطنتیں قائم کرنے والی ہوتیں اور جنگوں میں لڑنے بھڑنے کا کام جوشیلے مردوں کے حوالے ہوتا۔

۳- پدرسری جینز: تیسرا نظریہ یہ ہے کہ لاکھوں برس کے ارتقا کے سبب مرد اور عورت نے مختلف سروائیول اور نسل بڑھانے کے طریقے اپنائے ہیں۔ مرد ایکدوسرے سے مقابلہ کرتے کہ کون عورت کو حاصل کر پاتا ہے اس لیے وہ جیز مرد کی طرف سے اگلی نسلوں میں منتقل ہوئے مقابلہ بازی اور جارحیت کا رجحان رکھتے۔ دوسری طرف عورت کو مرد حاصل کرنے کے لیے مسئلہ نہیں تھا تاہم اسے بچے کو نو ماہ پیٹ میں رکھنا اور اس کے بعد اس کا خیال رکھنا تھا۔ اس دوران اسے خوراک حاصل کرنے کے مواقع کم تھے اور کافی مدد کی ضرورت تھی اس لیے اسے مرد ساتھ چاہیے تھا۔ اپنا اور بچوں کا سروائیول ممکن بنانے کے لیے عورت کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ ان شرائط کو مانے جو مرد کہے اور ساتھ رہے۔ جیسے وقت گزرتا گیا وہ زنانہ جینز اگلی نسلوں کو منتقل ہوئے جو اطاعت گزار تھے۔ اسی لیے مرد سیاست اور بزنس وغیرہ میں زیادہ آرزومند، مقابلہ بازی کا شوق رکھتا ہے، جبکہ عورت بچوں کے لیے زندگی وقف کرتی ہے۔

تاہم وقعاتی ثبوت اس نظریے کے خلاف ہیں۔ بلخصوص مسئلہ یہ ہے کہ عورت کے بیرونی امدار پر انحصار نے اسے مرد کا منحصر ہی کیوں بنایا، دوسری عورت کا کیوں نہیں۔ جانوروں کی کئی قسمیں مثلا ہاتھی اور بونوبو بندر جن میں مادرسری نظام موجود ہے اور چونکہ females کو بیرونی امداد چاہیے وہ بہتر سوشل صلاحیت اپنا کر ایکدوسرے سے تعاون کرتی ہیں اور یوں ایک female نیٹورک وجود میں آتا ہے جس میں ہر فرد اس کے بچے کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ males عموما اپنا وقت مقابلہ بازی اور لڑائی میں گزارتے ہیں، اس لیے وہ سوشل سرکل سے باہر رہتے ہیں۔ عمومی طور ہر بونوبو فیمیل اپنے میل سے طاقت میں کم ہوتی ہے، تاہم کافی ساری فیمیل بونوبوز ملکر میل بونوبو کو پھینٹی لگا دیتی ہیں جو اپنی حدود سے تجاوز کرے۔

اگر یہ بونوبو اور ہاتھیوں میں ممکن ہے تو ہوموسیپین میں کیوں نا ہو سکا؟ ایک نوع حیات جس کی کامیابی ہی تعاون کی مرہون منت ہے، اس میں یہ کیسے ممکن ہوا کہ کم تعاون کرنے والے (مرد)، زیادہ تعاون پر آمادہ (عورت) پر کنٹرول حاصل کر لیں۔ تاحال ہمارے پاس ان سوالوں کے کوئی جواب نہیں ہیں۔ تاہم پچھلی صدی کے دوران ضنفی کرداروں میں انقلاب رونما ہوا ہے۔زیادہ سے زیادہ معاشرے مرد و زن کو برابری کے حقوق، سیاسی و معاشی حقوق دے رہے ہیں۔ جنسیت اور صنفی امتیاز کے حوالے سے سوچ میں تبدیلی آ رہی ہے۔ اگرچہ صنفی امتیاز اب بھی کافی ہے، تاہم اب تبدیلیاں کافی تیز رفتاری سے رونما ہو رہی ہیں۔