بلاگ معلومات

پدماوتی ’’ فلم ‘‘ اور حقیقت 

حال ہی میں بھارت میں پدماوتی کے کردار پر بنائی جانے والی فلم ’’پدمات ‘‘ کے نام سے ریلیز کی گئی۔جس پر ہندوستان میں راجپوت برادری کی طرف سے احتجاج اور ہنگامہ رائی کی گئی۔ ان کے مطابق اس فلم میں رانی پدمنی کے کردار کو لیکر مبالغہ آرائی کی گئی ہے اور علاؤ الدین خلجی کو اس کےراجہ عشق میں گرفتار دکھایا گیا ہے۔ جب کے ہندوں کے ہاں ایک طرح سے پدمنی کو دیوی کا درجہ دیا جاتا ہے۔ جب کے فلم پدماوتی میں اصل ناانصافی خلجی کے ساتھ ہوئی ہے۔ اس فلم میں علاؤ الدین خلجی کو ایک ایسے وحشی حکمران کے روپ میں دکھایا گیا ہے جو خوف کی علامات ، علاؤ الدین خلجی اور اس کے خاص غلام ملک کافور (غفور) کے ساتھ جنسی تعلق دیکھایا گیا ہے۔آئیں اس فلم اور پھر حقیقی کہانی کا جائزہ لیتے ہیں۔

پدماوت فلم  پر مختصر تبصرہ کرتے ہیں کیونکہ اصل موضوع تو حقیقی کہانی ہے۔  پدماوت سنجے لیلا بھنسالی نے بنائی ہے اس سے پہلے بھی کئی تاریخی موضوعات پر فلم بنا چکے ہیں ، کہانی اپنے مرکزی کردار رانی پدماوتی کے گرد گھومتی ہے۔ جس کردار کو ’’ دیپیکا ‘‘ نے کیا اور رانی کے شوہر رتن سنگھ  کا کردار شاہد کپور اور علاو الدین خلجی کا کردار رنبیر سنگھ نے نبھایا ہے، ۔رانی پدماوتی  کا تعلق سنگھیال خاندان سے ہوتا ہے، جن کے ملاقات ایک جنگل میں دوران شکار چتوڑ کے راجہ رتن سن سے ہوتی ہے۔ ان دونوں میں پیار اور پھر شادی ہو جاتی ہے۔

علاو الیدین خلجی ، بادشاہ ہندوستان  جلال الدین خلجی کا بھتیجا ہے جو کہ بہت بڑا جنگجو ہے تو سکندر بننے کا خواب دیکھتا ہے،  علاو الیدین خلجی  کو نایاب چیزیں حاصل کرنے کا شوق ہوتا ہے۔ علاو الیدین ایک نایاب شترمرغ لا کر بادشاہ ہندوستان  کو پیش کرتا ہے جس کے صرف ایک پنکھ کی خواہش جلال الدین خلجی  بادشاہ ہندوستان کی بیٹی نے کی ہوتی ہے۔ بدلے میں علاو الیدین اس کی نایاب بیٹی سے شادی کرتا ہے۔ پھر ایک فتح کے موقع پر سارا مال غنیمت کے بدلے میں بادشاہ ہندوستان اس کو ایک نایاب غلام پیش کرتے ہیں اسی موقع پر علاو الیدین خلجی بادشاہ ہندوستان کا قتل کرکے بادشاہ ہندوستان کا تخت حاصل کرتا ہے۔ اور اپنی فتوحات کا سلسلہ جاری رکھتا ہے،

دوسری طرف راجہ رتن سن کے دربار سے نکالا گیا ایک بہت خاص رکارندا  علاو الیدین خلجی کے پاس پہنچتا ہے اور اس کو ایک بہت ہی نایاب رانی پدماوتی کے حسن کے بارے میں بتاتا ہے۔ جس کے لئے  علاو الیدین خلجی ایک جنگ حسن کے نام شروع کر دیتا ہے۔ علاو الیدین خلجی کے خلاف جنگ کے لئے کوئی بھی دوسری ریاست راجی رتن سن کا ساتھ نہیں دیتی۔ یہ اپنی جنگ خود ہی لڑتے ہیں۔  علاو الیدین خلجی صلح کے نام پر اکیلا ہی نہتا چتوڑ قلعہ میں چلا جاتا ہے راجہ رتن سے ملاقات کے دوران رانی پدمانی سے ملنے کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔ اجپوت روایات کے مطابق خواتین کو غیر مردوں کے سامنے نہیں کیا جاتا تھا۔۔ مگر خلجی کی طاقت دیکھتے رتن پدماوتی سے درخواست کرتے ہیں  پدماوتی اس شرط پر راضی ہوتی ہیں کہ آئینہ رکھ کر خلیجی انکو دیکھ سکتے ہیں۔ بعض جگہ آئینہ کا ذکر نہیں ہے کچھ اور طرز کی ملاقات ہے جس میں پانی میں رانی کا عکس نظر آتا ہے۔ ملاقات ہے جس میں پانی میں رانی کا عکس نظر آتا ہے۔ کہانی بھی کچھ مختلف ہے۔۔

کہا جاتا ہے کہ خلجی رانی پدماوتی خوبصورتی دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں۔۔ اور کی نیت ہو جاتی ہے رانی کو ساتھ لجانے کی۔۔۔ اسی لیے رتن سن کو کسی بہانے یرغمال بنا لیا جاتا ہے۔۔۔ اپنے شوہر کو چھڑانے کے لیے رانی پدماوتی ایک گیم کرکے چھڑانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔۔ جس کے بعد خلجی کی طرف سے ایک بڑا حملہ ہوتا ہے۔۔ چتوڑ قلعہ کو گھیر لیا جاتا ہے۔۔رتن سن سمیت راجپوت مرد آہستہ آہستہ مارے جاتے ہیں جس کے بعد اپنی پکڑ سامنے دیکھ کر، رانی پدماوتی دیگر خواتین کے ساتھ راجپوت رویات کے مطابق آگ میں کود کر خود کشی کر لیتی ہیں۔۔۔۔ اور نتیجہ یہ نکالا گیا کہ، خلجی کو باوجود راجپوتوں کو شکست دینے کے ناکام لوٹنا پڑتا ہے ۔۔ کیونکہ جنگ چھڑی ہی رانی پدماوتی کو حاصل کرنے کو تھی۔ کہانی جو بھی ہو، اس کا مرکزی خیال سیم ہی ہے۔۔۔ جس میں علاؤ الدین خلجی کو رانی کی طلب کرتے، اور رانی کو آخری دم تک یہ خواہش پوری نہ کرتے دیکھایا گیا ہے۔ فلم کے تناظر میں دیکھا جائے تو ایک بہت ہی کمال فلم بنائی گئی ہے۔

اس فلم  کا تاریخ سے کوئی بھی تعلق نہیں ہے بلکہ تاریخ کو توڑ موڑ کر پیش کیا گیا ہے، اصل میں تو رانی پدماوتی کا کردار تاریخ میں کہیں بھی نظر نہیں آتا۔ ’’پدماوت ‘‘ نظم پدماوت پر بنائی ہے جو مالک محمد جیاسی نے 1540 میں لکھی تھی۔ ہندو نے اس کردار کو ہی مذہبی روپ دیا ہوا ہے۔ محمد مالک جیاسی کی نظم  جس میں اس نے راجپوتانہ ریاست کی فرضی کہانی بنائی  تھی ، اسی میں ایک رانی کا کردار تخلیق کیا جس نے علاؤ الدین خلجی کی قید میں آنے کے بجائے آگ میں کود کر جان دینا پسند کیا . یہ ویسا ہی فرضی کردار ہے جیسا انگریزوں کی نظموں اور کہانیوں میں رابن ہڈ ہے یا پھر ہمارے ہاں سوہنی ماہیوال ہیں۔دراصل راجپوت ہندوؤں کو یہ گوارا نہیں ہے کہ ، نئی بھارتی جنریشن یہ دیکھے کہ کس طرح ایک ہندو راجپوت کو مسلمان راجہ سے شکست ہوئی تھی۔ خیر یہ بات زیادہ درست معلوم ہوتی ہے کہ، شکست کے بعد خلجی کو بدنام کرنے کے لیے ہی کسی راجپوت نے رانی پدماوتی کا ذکر چھیڑا ہو تاکہ شکست کو چھپاتے، علاؤ الدین خلجی کو ولن ثابت کیا جا سکے۔ اور اسی سنے سنائے واقعہ پر جیاسی صاحب نے پدماوت لکھ دی ہو۔۔ یا پھر سرے سے ہی یہ ساری کہانی بشمول رتن سنگھ خود ساختہ ہو۔۔۔علاؤ الدین خلجی کو ہم جنس پرست بھی قرار دیا جاتا ہے۔۔ اکثریت تحقیقدانوں نے اسے (پدماوت) من گھڑت خود ساختہ قرار دیا ہے۔

اس فلم میں علاء الدین خلجی کو اس طرح پیش کیا گیا ہے جیسے وہ کوئی وحشی، سفاک، جنگلی اور ظالم حکمراں ہو، نوچ نوچ کر کھاتا ہو، عجیب و غریب کپڑے پہنتا ہو۔ لیکن درحقیقت وہ اپنے دور کے بہت مہذب شخص تھے جنھوں نے کئی ایسے اقدامات کیے جن کے اثرات آج تک نظر آتے ہیں۔’  ‘جلال الدين خلجی کے دہلی کا سلطان بننے کے ساتھ ہی ہندوستانی لوگوں کو حکومت میں شامل کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ اسے خلجی انقلاب بھی کہا جاتا ہے۔ علاء الدین خلجی نے اس کام کو آگے بڑھایا اور مقامی لوگوں کے حکومت میں شمولیت کے پیش نظر یہ صرف ترکوں کی حکومت ہی نہیں رہ گئی تھی بلکہ ہندستانیوں کی حکومت بھی تھی۔ جس گنگا جمنی تہذیب کے لیے ہندوستان مشہور ہے اور جسے بعد میں اکبر نے آگے بڑھایا اس کی ابتدا علاء الدین خلجی نے ہی کی تھی۔’

علاء الدین خلجی کی اشیا اور چیزوں کی قیمت پر کنٹرول کرنے کی پالیسی اس دور کا انقلابی قدم تھا اور کسی کرشمے سے کم نہیں۔ علاء الدین خلجی نے بازار میں فروخت ہونے والی ہر شے کی قیمت طے کر دی تھی۔ کسی بھی کسان، کاروباری یا آڑھتی کو مقررہ حد سے زیادہ خوراک رکھنے کی اجازت نہیں تھی اور نہ ہی مقررہ قیمت سے زیادہ پر فروخت کرنے کی اجازت تھی۔ خلجی نے زمینوں میں بھی اصلاح کی تھی۔ ہندوستان پر باہر سے سب سے بڑے حملے منگولوں کے تھے۔ منگولوں نے وسطی ایشیا اور ایران پر قبضہ کر لیا تھا اور ہندوستان پر وہ بار بار حملے کر رہے تھے۔ علاء الدین خلجی کا ایک اہم کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے کامیابی کے ساتھ ان کے ساتھ جنگ کی۔ خلجی طاقتور سلطان تھے۔ ہر بڑے حکمران کے سامنے دو چیلنج ہوتے ہیں۔ پہلا اپنی سلطنت کو بیرونی حملے سے تحفظ فراہم کرنا اور دوسرا اندرونی استحکام فراہم کرنا اور اسے بڑھانا یعنی نئی نئی ریاستوں کو اپنے زیر نگيں لانا اور اقتدار کو قائم رکھنا اور اس کے فوائد نچلی سطح تک پہنچانا ۔ جنگ میں لوگ ہلاک ہوتے ہیں، خلجی کی جنگ میں بھی بڑی تعداد میں لوگ مرے۔خلجی نے کئی منگول حملے ناکام کیے تاہم انھوں نے بہت سے منگول فوجیوں کو دہلی میں رہنے کی اجازت بھی دی اور بہت سے منگول فوجی یہیں کے باشندے ہو گئے تھے۔جب یہیں رہنے والے منگول فوجیوں نے بغاوت کر دی تو خلجی نے شکست خوردہ منگول فوج کے فوجیوں کے کٹے ہوئے سر کی وار ٹرافی کے طور پر نمائش کی اور منگولوں میں خوف پیدا کرنے کے لیے انھوں نے کٹے سر دیواروں چنوا دیے۔تاہم علاءالدین خلجی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے اپنے چچا اور دہلی کے سلطان جلال الدین خلجی کو قتل کروا کر دہلی کا تاج حاصل کیا تھا۔

علاؤ الدین خلجی  اور اس کے خاص غلام ملک کافور (غفور) کے ساتھ جنسی  تعلق دیکھایا گیا ہے۔ کافور دراصل دلی کے سلطان علاؤ الدین خلجی کے غلاموں کے فوجی کمانڈر تھے ۔ تاریخ کی کتابوں میں درج ہے کہ خلجی کے جنرل نصرت خان نے گجرات پر چڑھائی کے دوران ملک کافور کو پکڑ کر غلام بنا لیا تھا اس کے بعد وہ ترقی کرتے گئے۔  ایک غلام کی اتنی ترقی کرنے کی کیا وجہ تھی؟ کیا کافور ہم جنس پرست تھے اور کیا واقعی خلجی اور کافور کے جسمانی تعلقات تھے؟

اس دور میں غلاموں کا اتنی ترقی کرنا کوئی حیرانی کی بات نہیں، اس زمانے میں غلام کے معنی آج جیسے نہیں تھے۔ غلاموں کی سب سے بڑی خصوصیت ان کا مرد ہونا ہوا کرتی تھی کہ وہ کتنے بہادر سپاہی اور کتنے وفادار ہیں۔ کافور میں یہ دونوں خصوصیات تھیں۔ کافور بہت اہم ہو گئے تھے کیونکہ انہوں نے ہی خلجی کے لیے کئی جنگیں لڑیں اور جیتیں۔ ہربنس مکھیا کا کہنا ہے کہ وہ ہم جنس پرست نہیں تھے۔ نہ تو کافور ہم جنس پرست تھے اور نہ ہی خلجی سے ان کا جسمانی تعلق تھا‘۔

اس فلم پر راجپوتوں کی طرف سے احتجاج ہوا ۔جو میرا خیال بھارتی مسلمانوں کی طرف سے ہوتا تو سمجھ میں بھی آتا لگتا۔ پدماوت میں فکشن کی بنیاد پر ایک مسلمان حکمران کو ولن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ علاؤ الدین خلجی کو ملک کافور سے منسلک کر کے ہم جنس پرست بھی دیکھایا جاتا ہے۔۔ جس کے رد میں بھارت کے چوٹی کے تحقیق دانوں نے لکھا ہے کہ علاؤ الدین ہم جنس پرست نہیں تھے۔فلم دیکھنے والوں کے تاثرات سن کر معلوم ہوا کہ فلم میں ہم جنس پرستی کے بابت زیادہ نہیں دیکھایا گیا۔ مگر ایک آدھ جگہ ایسا اشارہ ضرور دیا گیا ہے۔

آخر بات یہ کہ اس فلم کو تاریخ کی بجائے صرف ایک فلم ہی سمجھا جائے۔ جس میں کچھ فرضی کردار ہیں اور کچھ کو توڑ موڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ اس کا تاریخ سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔ علاؤ الدین خلجی  جن کا خواب تھا سکندر  بننا ۔ تاریخ آج بھی ان کو سکندرِ ثانی کے نام سے جانتی ہے۔

تحریر:  جنید اشتیاق