بلاگ

پانچ سو سالہ خونریزی کی کہانی

"پچھلے 500 سو سال میں مسلمان انسانوں کو ایک وائپر بنا کر نہیں دے سکے جبکہ مغرب نے 500 سال میں انسانوں کو نئی تہذیب دی, ایجادات دیں اور انسانیت کی خدمت کی” ۔۔۔ لبرل اور ملحدین کا مسلمانوں کے خلاف یہ سب سے پسندیدہ جملہ ہوتا ہے ۔جدید مغربی تہذیب انسانیت کے لیے کتنا بڑا ” تحفہ” ہے یہ ایک الگ بحث ہے۔ لیکن پچھلے 500 سال میں مغرب نے انسانیت کی جو خدمت کی اسکی ذرا ایک ہلکی سی جھلک آپکو دکھاتے ہیں۔سب سے پہلے امریکہ کی بات کرتے ہیں ۔

مغرب کو جن دنوں عروج ملا اسی دور میں امریکہ دریافت ہوا یعنی آج سے تقریباً پانچ سو سال پہلے، انکی دریافت سے پہلے ہی وہاں ایک قوم آباد تھی جن کو انہوں نے ریڈانڈینز کا نام دیا۔ ان کی تعداد پر اختلاف ہے بعض ماہرین ایک کروڑ سے اوپر بتاتے ہیں اور بعض دس کروڑ کے لگھ بھگ۔ لیکن دو سے تین کروڑ کی تعداد پر اکثریت متفق ہیں۔ یہ جب وہاں گئے تو وہ پورے امریکہ میں آباد تھے حتی کہ کینیڈا ، وینزویلا اور بولیویا تک پھیلے ہوئے تھے اور تقریبا تمام اچھے علاقوں میں انکی آبادیاں تھیں۔ انہوں نے جاتے ہی انکو ان علاقوں سے بے دخل کرنا شروع کیا۔ ریڈ انڈینرز نے مزاحمت کی لیکن چونکہ وہ بے چارے انکے مقابلے میں نہایت پسماندہ تھے اسلئے بری طرح مارے گئے!

اندازً سو سے دوسو سال کے عرصے میں انہوں نے دو کروڑ کے لگ بھگ ریڈ انڈینز کا قتل عام کیا یہانتک کہ انکی کروڑوں کی آبادی صرف چند لاکھ تک محدود ہو کررہ گئی بعد میں اپنے اس عظیم جرم پر پردہ ڈالنے کے لیے انہوں نے بہت افسانے تراشے اور یہ کہا کہ جیسے ہی یہ لوگ وہاں گئے تو ریڈ انیڈینز کو وباوؤں اور بیماریوں نے گھیر لیااور کچھ موسمی تبدیلیوں نے انکی اکثریت کو فنا کر دیا لیکن حیرت انگیز طور پر یہ خود انہی حالات میں اور اسی دور میں وہاں خوب پھلے پھولے!

آج سے تقریبا دو سو سال پہلے یہ آسٹریلیا میں داخل ہوئے جہاں ابارجینیز نام کی ایک قوم آبادتھی۔ انکا بھی انہوں نے وہی حشر کیا جو ریڈ انڈینز کا کیا تھا اندازً انکی آبادی دس لاکھ سے اوپر تھیں انہوں نے جب انکا شکار شروع کیا تو کچھ عرصے بعد انکی آبادی پورے آسٹریلیا میں دو لاکھ سے بھی کم رہ گئ ابارجینیز قوم کی اس خوفناک تباہی کے لیے بھی انہوں نے وہی قصے گھڑے ہیں جو ریڈانڈینز کے لیے گھڑے تھے لیکن چونکہ انکا دور قریب گزرا ہے اسلئے قتل عام کی بے شمار شہادتیں دستیاب ہیں!

امریکہ کی مقامی آبادی کا صفا یا کرنے کے بعد انکو اندازہ ہوا کہ نئے براعظم میں کاشت کاری اور دیگر کاموں کے لیے مزدوروں کی ضروت ہے جو دستیاب نہیں ہیں۔ تب انکی نظر کرم افریقہ پر پڑی اور پھر دنیا نے تاریخ کی سب سے بڑی انسانی خرید فروخت کا منظر دیکھا انہوں نے براعظم افریقہ پر دھاوا بول دیا وہ وہاں سے انسانوں کو پکڑتے انکو بھیڑ بکریوں کی طرح جہازوں میں بھر بھر کر امریکہ لا تے اور یہاں انکو فروخت کر دیا جاتا ایک اندازے کے مطابق انہوں نے تقریبا ایک کروڑ دس لاکھ سے لے کر ایک کروڑ بیس لاکھ کے درمیان افریقی باشندوں کو غلام بنایا محض چند سالوں کے اندر!

مزید پڑھیں: یہ صلیبی جنگوں کا تسلسل ہے۔

غلام بنانے کے بعد امریکہ میں انکے جسمانی اعضا کاٹ کر جس طرح ان سے کام لیا جاتا تھ وہ بھی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے جب ہر گورے زمیندار کی ٹوکری شام تک افریقی غلاموں کے کٹے ہوئے اعضاء سے بھر جاتی تھی!(اسلام پر یہ غلام اور لونڈی بنانے کے جو الزامات لگاتے ہیں ان پر غور کیجیے گا)اسی دور میں جنوبی ایشیاء اور چین بھی انکی عنایات سے محفوظ نہ رہ سکے جنوبی ایشیا جہاں یہ تاجروں کی صورت میں آئے تھے اسکے حال سے آپ بخوبی واقف ہیں صرف دو مثالیں کافی رہیں گی کہ انکی آمد سے پہلے جنوبی ایشیا کا دنیا کی کل پیداوار میں حصہ تقریبا پچیس فیصد تھا اور جس وقت یہ چھوڑ کرجا رہے تھے تو دنیا کی کل پیداوار میں حصہ صرف دو فیصد کے لگ بھگ رہ گیا تھا۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے کتنا لوٹا ہوگا۔ بنگلہ دیش میں انہوں نے اناج کی پیداوار بند کروا کر تمباکو کی کاشت کروائی جس کی وجہ سے کچھ ہی عرصے میں بنگلہ دیش میں تاریخ کا ایک خوفناک قحط آیا جس سے کم از کم پندرہ لاکھ لوگ ہلاک ہوئے!

انہوں نے افیون کی پیداوار اتنی بڑھا دی کہ اسکی کھپت کے لیے منڈیا نہیں مل رہیں تھیں تب انہوں نے چین کو نشانہ بنایا وہاں جاکر افیون کا زہر چینی قوم میں پھیلانا شروع کردیا جسکا نتیجے میں چین کی تقریبا پوری آبادی نشے کا شکار ہوگئی۔ جب چین کی حکومت نے مزاحمت کی تو انکو شکست دے کر زبردستی کے معاہدے کروائے گئے اور افیون کے بدلے چین سے اناج اور سونے کی شکل میں اصل دولت یورپ منتقل ہونے لگی کیا آپ جنگ افیوں کا حال نہیں جانتے؟ (اس وقت بھی دنیا میں نشے کا سب سے بڑا بیوپاری سی آئی اے کا ادارہ ہے جو اپنے نوے فیصد اخرجات ڈرگز کے بزنس سے پورا کرتا ہے اور افغانستان کو اس کی پروڈکشن فیکٹری بنا رکھا ہے)

پھر ذرا جدید دور آیا تو اسی مغرب نے پہلی اور دوسری جنگ عظیم کی صورت میں دو ایسی جنگیں لڑیں جن میں کم از کم آٹھ کروڑ انسان مارے گئے اور آج بھی مغرب اس وقت کئی ممالک پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام سے حملہ آور ہے اور اس جنگ میں بھی اب تک پندرہ لاکھ کے قریب انسان مارے جا چکے ہیں جن میں سے دس لاکھ سے زائد صرف عراق میں مارے گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دہشت گردوں اور ان سے لڑنے والوں دونوں کو سپورٹ کرتے ہیں۔ اور بر سبیل تذکرہ دنیا میں انسانوں پر ایٹم بم استعمال کرنے والی واحد قوم بھی یہی ہے! یہ ہے اس مغرب کا اصل اور مکروہ چہرہ اور انسانیت کی وہ خدمات جو پچھلے پانچ سو سال میں انہوں نے سرانجام دیں اور انکی ان "خدمات” سے دنیا کا کوئی براعظم اور کوئی خطہ محفوظ نہیں رہا!

وہ نام نہاد دانشور جو الزام لگاتے ہیں کہ مسلمانوں نے سب کچھ تلوار کے زور پر کیا اور انسانوں کا خون بہایا کبھی مغرب کے اس گھناؤنے چہرے سے پردہ نہیں اٹھاتے جس کے دانتوں سے پوری انسانیت کا خون ٹپک رہا ہے! یہ موازنہ بھی کافی دلچسپ ہوگا کہ ان کے غلبے کے بعد مغلوب ہونے والوں پر کیا گزری اور مسلمانوں کے غلبے کے بعد مغلوب ہونے والوں پر کیا گزری ۔۔!