بلاگ معلومات

ہم اور ہمارا معاشرہ

پاکستان کے حکمران کرپٹ ہیں۔ ناانصافی عام ہے۔ غریبوں کا استحصال ہے۔ الله کا عذاب ہے۔ الله نے خوف اور بھوک میں مبتلا کر دیا ہے۔ جاگیرداروں اور سیٹھوں نے ہمیں اس حال تک پہنچایا ہے۔ اب اللہ ہی ہمیں اس سے نکالے۔ سوائے اللہ کی غیبی مدد کے اب کوئی ہمیں ان حالات سے نہیں نکال سکتا۔یہ ہے وہ کہانی جسے دوہرا دوہرا کر ہم پچھلے 70 سال سے یکے بعد دیگر تاریخ کے نازک موڑ سے گزرتے رہے ہیں۔ سارے عذابوں اور آفات کا ذمہ بھی (نعوذ باللہ) اللہ کے کھاتے میں ڈالا تو ان سب سے بچانے، نجات دلانے اور سب کچھ کرنے کی ذمہ داری بھی اللہ پاک کے سپرد کر کے خود مزے سے سوگئے۔اجِی! ہم تو غریب لوگ ہیں۔ ہماری سنتا کون ہے۔

میں اکیلا اس معاشرے کو کیسے تبدیل کرسکتا ہوں وغیرہ۔سورۃ النساء (چوتھی سورہ، آیت نمبر 98) ہم پاکستانیوں پر پوری اترتی ہے۔ ترجمہ کچھ یوں ہے:’’یقیناََ وہ لوگ جن کو فرشتے اس حال میں وفات دیتے ہیں کہ وہ اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہیں۔ وہ [ان سے] کہتے ہیں تم کس حال میں رہے؟ وہ [جواباََ] کہتے ہیں ہم تو وطن میں بہت کمزور بنادیئے گئے تھے۔ وہ [فرشتے] کہیں گے کہ کیا اللہ کی زمین وسیع نہیں تھی کہ تم اس میں ہجرت کرجاتے؟ پس یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔‘‘آپ ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کیجیے کہ کیا یہ ہمارا حال نہیں؟ ہم نہیں کہتے کہ ملک تو نواز شریف یا زرداری یا آرمی کا ہے، ہم بھلا کیا کر سکتے ہیں؟

جب فرشتے پوچھیں گے کہ کس حال میں رہے تو کیا کہیں گے کہ ایسے ملک سے آئے ہیں جہاں شراب و زنا عام تھے؛ جہاں 42 لاکھ بچوں کو اسکول میسر نہیں تھا؛ جہاں 1500 بچیوں کے ساتھ 5 سال میں اجتماعی زیادتی ہوجاتی تھی وغیرہ۔مانا کہ حکمران اور ظالموں کے کرتوتوں میں آپ کا شاید زیادہ ہاتھ نہ ہو۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ہم اس معاشرے میں رہتے ہوئے بطور فرد کیا کچھ کرسکتے ہیں اور کیسے اپنا حصّہ ڈال سکتے ہیں کہ جب فرشتے پوچھیں “فیما کنتم” [کس حال میں رہے] تو کچھ تو بہتر جواب دے سکیں۔ہر شخص کے کرنے کا کام (اور یہ ہر آدمی کسی کی زیادہ مدد کی بغیر بہ آسانی کرسکتا ہے):1۔ سچ بولیے: آیئے خدا کو حاضر و ناصر جان کر عہد کرتے ہیں کہ صرف سچ بولیں گے اور سچ کے سوا کچھ نہ بولیں گے۔ مَن حیثُ القوم ہم لوگوں نے سچ بولنا اور کتاب پڑھنا اپنے اوپر حرام کرلیا ہے۔ سچ بولنے میں نہ تو آپ کو حکومت کی کوئی سپورٹ چاہیے

اور نہ ہی آرمی کا ساتھ۔ نہ ہی خلیفہ المومنین کا انتظار درکار ہے اور نہ ہی امریکی تعاون۔ آپ خود سوچیے کہ اگر صرف سچ بولنے لگ جائیں تو جھوٹی گواہیاں، جھوٹے مقدمے، ساس بہو اور خاندانی جھگڑے، آفس اور نوکری کے معاملات اور عشق و مستی کے قصّے کتنی حد تک کم ہو جائیں گے۔2۔ قانون کی پاسداری کیجیے: جتنا ہوسکے، جہاں ہوسکے۔ آپ اس ملک کے شہری ہیں اور اس ملک کے قوانین کا احترام آپ پر لازم ہے۔ ٹریفک سگنل پر کھڑے ہونے کےلیے کوئی امیرالمومنین نہیں چاہیے۔ لائن بنانے کے لیے بھی کسی اور کی ضرورت نہیں، اور بجلی کا بل جمع کروانا اور کنڈا نہ لگانا بھی آپ ہی کے کرنے کا کام ہے.3۔ مطالعہ کیجیے: علم مسلمانوں کی گمشدہ میراث ہے۔ خوب پڑھیے، روز پڑھیے

اور جہاں سے چاہیں پڑھیے۔ دنیا کی باگ ڈور ہمیشہ ان لوگوں کے ہاتھ میں رہی ہے جو علوم و فنون میں آگے تھے۔ آن لائن کورسز، کورسیرا اور خان اکیڈمی جیسی ویب سائٹس نے دنیا بھر کے بہترین کورسز، اساتذہ اور لیکچرز آپ کی مٹھی میں دے دیئے ہیں۔ بالکل مفت یا کوڑیوں کے بھاؤ۔ اب بھی اگر آپ نہ پڑھیں تو بڑی ہی بدقسمتی ہوگی۔4۔ اچھے ماں باپ پیدا کریں: جی ہاں! آپ کی بیٹی کل کسی کی بیوی اور ماں بنے گی۔ آپ کا بیٹا کل کسی کا شوہر اور باپ بنے گا۔ انہیں بہترین تربیت دیجیے۔ سن 80ء کی دہائی کے بعد پیدا ہونے والے بچوں اور ہماری نسل میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ لیپ ٹاپ، آئی پیڈ، آئی فون اور سوشل میڈیا پر پروان چڑھنے والی نسل اپنی پچھلی نسل سے صدیوں دور ہے

اور اب یہ نسل کہ جس کی پرورش سوشل میڈیا نے کی ہے اس کے بھی بچے، جنہیں میں مذاق میں ’’فیس بُک کے پوتے‘‘ کہتا ہوں، وہ بھی مارکیٹ میں آرہے ہیں۔ اللہ بچائے جس شخص نے زندگی میں ڈبل روٹی نہ بیچی ہو وہ بھی بلین ڈالر اِسٹارٹ اپ کی بات کرتا ہے۔ مستثنیات (exceptions) ہر معاشرے میں پائی جاتی ہیں مگر جب exceptions کو معمول (روٹین) بنانا چاہیں تو معاشرہ کہیں کا نہیں رہتا۔ اپنے بچوں کی تعلیمی، روحانی، مذہبی اور اخلاقی طور پر جو بہتر سے بہتر تربیت ہو سکے، وہ کیجیے۔ اور کچھ نہیں تو معاشرے کو چند اچھے افراد ہی دے جائیں گے۔ چینی کہاوت ہے کہ دنیا میں ہر شخص کو درخت لگانا چاہیے، کتاب لکھنی چاہیے اور بچے پیدا کرنے چاہئیں

تاکہ وہ دنیا سے جائے تو یہ تینوں صدقہِ جاریہ بنیں اور اس کا نام روشن کریں۔5۔ اخلاق سیکھیے: اچھے سے اچھے اخلاق سیکھیے اور اپنی تربیت یا پروفیشنل ڈیویلپمنٹ پر توجہ دیجیے۔ یاد رکھیے کہ تربیت کی ابتداء ’’نیستی‘‘ سے ہوتی ہے کہ میں کچھ نہیں۔ ذات کا اِدعا بھی تو شرک ہے۔ ایسی جگہ جائیے جہاں نفس پر چوٹ پڑے۔ برصغیر پاک و ہند اور مسلم معاشرے میں یہ دو ستون ہر وقت قائم رہے۔ مفتیان اور علمائے کرام جو حکومت کی قانون سازی میں مدد کرتے رہے اور اولیاء و مشائخ کرام جو لوگوں کے دلوں کو روحانی و نفسیاتی بیماریوں سے پاک کرتے رہے۔ آپ بھی ڈھونڈ کر ایک آدھ مینٹر (mentor) کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرلیجیے اور پھر اس سے نتھی ہوجائیے۔ جو بگاڑ پچھلے 30، 40 سال میں ہوا ہے وہ ایک ورکشاپ یا ٹریننگ سے درست نہیں ہوگا۔ لگے رہیے۔ ہلکے ہلکے بتدریج۔ آپ کے آس پاس کے لوگوں کو آپ میں بدلاؤ خودبخود نظر آئے گا۔6۔ پیسہ کمائیے: پیسہ کمائیے، دل کھول کر کمائیے اور ہر حلال طریقے سے کمائیے۔

اللہ نے اگر آپ پر رزق کھول دیا ہے تو خوب سمیٹیے اور اللہ کی مخلوق کی مدد کیجیے۔ ہمارے ملک میں ایک سے بڑھ کر ایک ثاقب الذہن لوگ موجود ہیں مگر سرمائے کی کمی کی وجہ سے نہ تو وہ کوئی کتاب چھپواسکتے ہیں اور نہ ہی کوئی کاروبار کرسکتے ہیں۔ آپ خوب کمائیے۔ اللہ کےلیے کمائیے تاکہ اس کی مخلوق کی مدد کرسکیں۔7۔ اِدارے بنائیے: کوشش کیجیے کہ کسی ایسے ادارے کی بنیاد رکھ جائیں جو آپ کے بعد لوگوں کو نفع پہنچاتا رہے۔ مثلاََ کوئی اسکول، کوئی واٹر پلانٹ، کوئی یونیورسٹی، کوئی زرعی فارم، کوئی خیراتی ادارہ، کوئی ہسپتال۔ اور اگر ہمت یا وسائل اس بات کی اجازت نہ دیں تو جو لوگ ادارے بنا رہے ہیں ان کا کھل کر ساتھ دیجیے۔ مالی، جسمانی اور اخلاقی اعتبار سے۔

ان کے پیغام کو آگے لوگوں تک پہنچانے میں مدد کیجیے اور ان کےلیے دعا کیجیے۔8۔ دعا کریں: اگر مزید کچھ نہ کرسکیں تو کم از کم گھر میں بیٹھ جائیے اور اللہ کا ذکر کریں۔ 10 ہزار گھنٹوں والا اصول دعاؤں پر لگادیجیے۔ یقین مانیے کہ اگر دعا بھی صحیح مانگنی آجائے اور آپ کسی غار میں جا کر بیٹھ جائیں، تب بھی ایک پگڈنڈی لوگوں کو آپ تک خودبخود پہنچادے گی۔یاد رکھنے کی بات ہے کہ حکومت قانون بناتی ہے اور اس کا نفاذ ممکن بناتی ہے؛ اور عوام اخلاقیات پر کام کرتی ہیں۔ نہ تو محض قانون سے معاشرہ تکمیل پاتا ہے اور نہ صرف اخلاق سے۔ آئیے، مل کر چھوٹے چھوٹے کاموں سے ملک بناتے ہیں۔