اسلام بلاگ معلومات

پس منظر کی موسیقی (Background Music) کا حکم

پس منظر کی موسیقی یعنی بیک گراؤنڈ میوزک کے بارے دو طرح کے سوالات موصول ہوتے ہیں؛ ایک یہ کہ اس کا سننا حرام ہے یا نہیں؟ اور دوسرا یہ کہ اس کا استعمال کیسا ہے؟ جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے تو یہ حرام نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میوزک کا استماع حرام ہے نہ کہ سماع یعنی غور سے سننا حرام ہے جبکہ کان میں پڑنا حرام نہیں ہے۔ استماع سے مراد یہ ہے کہ جب آپ توجہ سے میوزک سنیں تو یہ سننا جائز نہیں ہے لیکن اگر آپ کا ارادہ میوزک سننے کا نہیں ہے اور آپ کے کانوں میں آواز پڑ رہی ہے تو آپ پر اس کا کوئی وبال نہیں ہے۔

سنن ابو داود کی روایت میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا جو واقعہ منقول ہے، امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس واقعے سے اس فرق کی دلیل پکڑی ہے اور استماع کو حرام کہا ہے نہ کہ سماع کو۔ اس روایت میں ہے کہ رستے سے گزرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چرواہے کی بانسری کی آواز سنی تو آپ نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے دیں اور رستے سے ہٹ کر چلنا شروع کر دیا۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے لیکن آپ نے انہیں ایسا کرنے کو نہیں کہا۔ اور کچھ آگے جانے کے بعد ان سے پوچھا کہ اب آواز آ رہی ہے تو انہوں نے کہا کہ نہیں۔ تو آپ نے انگلیاں نکال لیں اور دوبارہ رستہ پکڑ لیا۔

تو اگر آپ سڑک سے گزر رہے ہیں اور کسی نے اونچی آواز سے ڈیک لگایا ہے اور آپ کے کانوں میں آواز پڑ رہی ہے تو اس میں آپ پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ آپ نے خبریں سننے کے لیے چینل کھولا ہے جو کہ ایک جائز کام ہے اور اس میں بیک گراؤنڈ میوزک موجود ہے کہ جس کے سننے کا نہ تو آپ کا ارادہ ہے اور نہ ہی اس کی طرف دھیان ہے تو اس میں حرج نہیں ہے۔ رہا دوسرا سوال کہ کیا اناشید یعنی اسلامی نظموں اور ایجوکیشنل ویڈیوز وغیرہ میں بیک گراؤنڈ میوزک استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ مسئلہ عام طور میڈیا میں کام کرنے والے اسلامی ذہن رکھنے والوں کو پیش آتا ہے۔

مزید پڑھیں: معروف کرکٹر محمد یوسف کی قبول اسلام کی کہانی، خود انہی کی زبانی.!

تو اس بارے میں تو عموما یہی مشورہ دیتا ہوں کہ آوازوں کی موسیقی (beat box) بیگ گراؤنڈ میوزک کے طور استعمال کر لیں۔ اور اس کے بارے علماء کے دو موقف ہیں۔ بعض اسے مطلق طور جائز کہہ رہے ہیں کہ ان کے نزدیک اصل حرمت آلات موسیقی سے پیدا ہونے والی موسیقی کی ہے۔ اور جو موسیقی انسان اپنی آواز سے پیدا کرتا ہے تو وہ جائز ہے۔ بعض علماء اسے مطلق طور حرام کہہ رہے ہیں کہ ان کے نزدیک آلات موسیقی بھی حرام ہیں اور ان سے مشابہ آواز جس طرح سے پیدا کی جائے، وہ بھی حرام ہے۔ میرے نزدیک اس میں تفصیل ہے۔ پہلے کمنٹ کی ویڈیو میں آواز سے پیدا شدہ جو موسیقی ہے، وہ جائز نہیں ہے جبکہ دوسرے کمنٹ کی ویڈیو میں جو موسیقی ہے، وہ جائز ہے۔ تو موسیقی ایسی نہ ہو کہ آپ کے جذبات کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لے۔

آسان الفاظ میں جو موسیقی آپ کے جذبات میں ایسے ہل چل مچائے کہ آپ کا تھرکنے کو دل کرے تو یہ حرام ہے، بھلے کسی طرح سے ہی پیدا کی گئی ہو کیونکہ موسیقی کی حرمت کی وجہ ہی یہی ہے۔ بیک گراؤنڈ میوزک میں نیچرل آوازیں جیسے آبشار کی آواز، چڑیا کی چہچہاٹ بھی شامل کی جا سکتی ہے۔ بلکہ وقت کی ایک اہم ضرورت ہے کہ ہم ایسی موسیقی کو کمپوز کریں اور اس کی کمپوزیشن کے اصول وضوابط طے کریں۔ اپنا آرٹ پیدا نہیں کریں گے تو دوسروں سے لینے پر مجبور رہیں گے۔