اسلام بلاگ

انجینئر محمد علی مرزا صاحب کے نام کھلا خط

انجینئر محمد علی مرزا صاحب جو مسلمانوں کی تاریخ کی بنیاد پر کم و بیش ہر مسلک کے اکابرین کو کوستے رہنے کی شہرت رکھتے ہیں،سے متعلق بات کرتے ہوئے میں نے فرقہ ورانہ نفرت بڑھانے والی تحقیق کی عدم ضرورت پر چند کلمات کیا لکھے اُنکے چاہنے والے میرے دوستوں نے اتنے میسجز بھیجے کہ فرداً فرداً جواب دینا ناممکن ہو گیا ہے۔ میں نے سوچا ہے کہ بہتر ہو گا انجینئر محمد علی مرزا صاحب کے نام ایک کھلا خط لکھ دیا جائے، یہی میسج بھیجنے والے دوستوں کے لیے جواب بھی بن جائے گا۔دیکھیے سر، آپکا دعوٰی علمی کتابی مسلم ہونے کا ہے،یہی آپکی جماعت کا سلوگن بھی، کہ

نہ میں بابی نہ میں وحابی میں ہُوں مسلم علمی کتابی،

اب اسی سلوگن کے تناظُر میں آپسے ایک ایسی کتاب کا علم شئیر کرتا ہوں جو آپکے اور ہمارے درمیان مشترک ہے۔مقصد آپ کو یہ احساس دلانا ہے کہ آپ شاید نادانستگی میں تمام فرقوں سے کئی گُنا زیادہ بابی بھی ہیں اور آپکا علمی بیانیہ مسلمانوں کے مابین مشترک علمی کتاب قرآن کے علم سے بھی ٹکراتا ہے،کیونکہ آپ کا بنیادی فوکس مختلف بابوں کی لکھی ہوئی تاریخ کی کتابوں میں بیان کیے گئے صرف اُن واقعات پر تحقیق ہے جنسے متعلق مسلم اُمّہ کے مابین چودہ صدیوں سے اختلاف ہے جبکہ ہماری اور آپکی مشترک علمی کتاب اس نام نہاد علمی کتابی روِش سے سختی سے روکتی ہے جو آپ روا رکھے ہوئے ہیں۔

آپ ایک کام کیجیے، ابھی وہ قرآن کھولیے جو آپکے وڈیو لیکچرز میں آپکے سامنے رکھا نظر آتا ہے اور سُورة البقرة کی آیت ایک سو چونتیس نکال کر دیکھیے کہگزر گئے لوگوں کے بارے میں اللہ کیا حکم دیتا ہے۔آپ ضرور یہ آیت قرآن میں دیکھیے گا اس میں اللہ بہت سادہ سے الفاظ میں کہتے ہیں کہ”ایک جماعت تھی جو گزر گئی، اُنکے لیے اُنکے اعمال ہیں تُمہارے لیے تمہارے اعمال ہیں، تم سے نہیں پُوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے؛ارے بھیّا جب مجھ سے یہ سب پُوچھا ہی نہیں جائے گا کہ ابُوبکّرؓ اور فاطمہؓ کے درمیان باغ کی وراثت کا کیا معاملہ تھا یا علیؓ اور معاویہؓ کے درمیان خلافت کے مبینّہ معاملے میں کس فریق کے کیا دلائل تھےاور جب مجھ سے اُس ساری اختلافی تاریخ کا سوال ہی نہیں ہو گا جِس پر بابوں کی کتابوں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر آپ نے دس سال کی محنت سے ہزاروں وڈیوز بنائی ہیں تو آپ ہمیں اس تاریخ میں الجھا کر مختلف مسالِک کے اُن بابوں سے نفرت کی تعلیم کیوں دینے پر تُلے ہیں جو اپنے اپنے اعمال لیے اللہ کے ہاں حاضر ہیں۔

میرے بھائی آپ کو لوگوں کے ایمان پر کام کرنا ہے تو قرآنی عقائد کی یہ کہے بغیر ترویج کیوں نہیں کرتے کہ وحابی دیوبندی بریلویوں اور دیگر کا فلاں فلاں بابا فلاں فلاں عقائد رکھتا تھا جو غیر اسلامی تھے۔کیا آپ نہیں جانتے آپکے اس طریقے سے اصلاح کی جگہ نفرت پھیلے گی،اگر آپ کسی کو یہ کہیں گے کہ تمہارا دادا جھوٹ تو بولتا ہی تھا مکار بھی تھا،تم انکی طرح جھوٹ نہ بولنا نہ ہی مکاری کرنا،تو وہ آپ سے نفرت کرے گا یا محبت یہ الجبرا کا سوال نہیں،اگر آپ اخلاص سے اُسے یہ سمجھانا چاہتے ہیں تو اُسے قرآن و سنّت سے سچ اور اخلاص کی اہمیت اُسکے دادا کی مکاری کے ذکر کے بغیر ہی بتائیں گے۔آپ علمی کتابی تو ہیں ہی اگر دیکھنا چاہتے ہیں کہ اختلافی تاریخ سے روک کر اللہ آپ سے کس کے ماضی پر تحقیق کروانا چاہتا ہے تو اب اللہ کی کتاب کھولیے اور سُورة الحشر کی آیت اٹھارہ پر نظر ڈالیے۔

اس آیت میں اللہ کہتا ہے کہ ہر جان کو دیکھنا چاہیے کہ اُس نے آگے کیا بھیجا ہے۔اب اِن دو آیات کے تناظر میں اپنے ہزاروں وڈیو لیکچرز دوبارہ سنیے اور سوچیے کہ آپ نے آگے مسلمانوں کے مسالِک کے درمیان نفرت بڑھانے والی وڈیوز کے علاوہ کیا بھیجا ہے۔ارے بھیّا آپ اور دیگر لوگ تاریخ پر لڑتے رہیں گے تو قرآن مہجور کیوں نہ ہو گا۔آپ حدیث کی بہت بات کرتے ہیں کیوں نہ آپ کو حضرت مُحمدﷺ کی ایک ایسی حدیث کے الفاظ سُناؤں جو آپﷺ نے ابھی کہے ہی نہیں۔لیکن اس حدیث کا راوی کوئی انسان نہیں خود اللہ تعالیٰ ہے۔اللہ کہتے ہیں کہ نبیﷺ نے یہ الفاظ ابھی کہنے ہیں۔اللہ قیامت کے دن کا ذکر کرتے ہؤے سورہ فُرقان کی تیسویں آیت میں کہتے ہیں کہ رسولﷺ فریاد کریں گےاے میرے رب میری اُمّت نے قُرآن کو مَہجُور کر دیا تھا۔

میں نے اس لفظ کے تشریحی مفہوم پر تحقیق کی تو دل میں ٹیسیں اُٹھنے لگی۔حضرت مُحمدﷺ کے دور میں جب کسی طاقتور اونٹ یا گھوڑے کا غرور ختم کرنا مقصود ہوتا تو چند فُٹ رسی کا ایک سرا اُس کی اگلی اور ایک سرا پچھلی ٹانگ سے باندھ کر اُسے کئی دن چلایا جاتا تھا۔اس رسی کے سروں سے اپنے دو پاؤں بندھے ہونے کی وجہ سے وہ اونٹ یا گھوڑا لڑکھڑا کر آہستہ آہستہ چلنے پر مجبور ہو جاتا تھااور بلآخر اپنی طاقت اور تیز رفتاری کا فخر بھول کر اپنے مالک کے قبضے میں آ جاتا تھا۔ایسے دو پاؤں بندھے مجبور اونٹ کو مہجور کہتے تھے۔

ہجرت یعنی گھر چھوڑنے پر مجبور انسان کو بھی قدیم عربی میں مہجور کہتے تھے۔آپ ان دونوں میں سے جو بھی مطلب لیں کیا آپ کے دل کو نبیﷺ کی یہ فریاد نہیں تڑپاتی۔ذرا تصوُر کیجیے کہ آپ اور میں بھی اُس وقت اپنے نبیﷺ کی طرف شفاعت کے لیے آس بھری نظروں سے دیکھ رہے ہونگےجب نبیﷺ اللہ سے ہماری ہی کوتاہی کی فریاد کریں گے۔وہ ہم ہی تو ہیں جس نے نبیﷺ کے لائے ہوئے زندہ اور طاقتور قُرآن کو تاریخی اختلاف میں اُلجھ اور اُلجھا مہجُور کیا ہے۔

اللہ سورہ روم میں فرماتا ہے کہ ’’اسی کی طرف رجوع کرتے رہو اور اس کا تقویٰ اختیار کرو اور نماز قائم کرو اور مشرکوں میں سے مت ہوجاؤ، اُن مشرکوں میں سے جنہوں نے اپنے دین کو فرقوں میں بانٹ دیا اور گروہ در گروہ ہوگئے۔ ہر گروہ اسی پر مگن ہے جو اس کے پاس ہے‘‘۔یہی وہ مُسلمان نُما فرقوں میں بٹے لوگ ہیں جنہوں نے قُرآن کو مہجور کیا اور جن کے خلاف ہمارے نبیﷺ اللہ سے فریاد کریں گے۔خُدارا اختلافی تاریخ میں اُلجھ کر نبیﷺ کے دین کو لنگڑا کر چلنے پر مجبور مت کیجیے،کیا آپ ابھی بھی نہیں سمجھے کہ آپ کے مرنے کے بعد آپ امتِ مسلمہ کو ایک نیا فرقہ نہیں دیں گے اپنی زندگی میں ہی دے چکے ہیں۔ کسی بھی فرقے کی شروعات سلوگنز سے ہوا کرتی ہے

آپ کی تو ہر وڈیو میں نہ میں وحابی نہ میں بابی وغیرہ کے الفاظ بیسیوں بار دہرئے جاتے ہیں، یہی سلوگن آپکے فرقے کی شناخت بنے گا اور دکھ کی بات یہ ہے کہ آپکے فرقہ ورانہ سلوگن میں ہی مسلمانوں کے ایک گروہ کی ڈائریکٹ اور دیگر کے اکابرین کی توہین جھلکتی ہے۔کیا آپ یہ سب نہیں دیکھتے۔دیکھیے سر، آپ ایک باصلاحیت آدمی ہیں، ابھی بھی وقت ہے،قُرآن خُود سیکھنا اور سکھانا ، اسی کی تشریح پر تحقیق کیجیے اور کروائیے،لوگوں کو یہ کہے بغیر اسکی تعلیم دیجیے کہ مسلمان کہلانے والے انکے دادا پردادا گمراہ تھے۔اکابرین اور عُلماء جنہیں آپ دن رات کوستے ہیں اپنا حساب دیں گے آپ اپنے اور ہمارے حساب کی فکر کیجیے۔آئیے فرقہ ورانہ نفرت بڑھانے والے علم کو اَن سیکھا UNLEARN کر کے قُرآن عقل اور رائج سُنّت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ آئیے صحابہ کے دور کے اسلام مں داخل ہو جائیں۔ مُجھے یقین ہے آپ میری دعوت پر اکیلے میں غور ضرور کریں گے۔اللہ مُجھے اور آپکو تعصب سے نکل کر قُرآن و سُنت پر غوروفکر کی توفیق دے اور ہمیں فرقہ ورانہ علم اور تحقیق سے بےزار کر کے مُحمدﷺ کے لئے ہوئے خالص اور زندہ پیغام کی طرف لوٹا دے۔ آمین …

مُحمد رضوان خالد چودھری