ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جو اُردو بول سکتے ہیں

اونٹ کی کل

انیسویں صدی میں برطانوی آبادکار آسٹریلیا کو کھوجنے نکلے۔ اس برِاعظم کا بڑا حصہ بیابان تھا جہاں کوئی آبادی نہ تھی۔ اس کا گرم اور خشک موسم ان کے گھوڑوں کے لئے موزوں نہ تھا۔ ان آبادکاروں اور تاجروں نے ایک اور جانور کی مدد لی۔ یہ اونٹ تھا۔ ہزاروں اونٹ آسٹریلیا منگوائے گئے تا کہ یہاں کی زمین کو جان سکیں اور تجارتی راستے بنا سکیں۔ ساربان اس علاقے سے گئے جو آج پاکستان کا صوبہ خیبر پختونخواہ ہے۔ ان ساربانوں کی نسلیں آج یہاں پر آباد ہیں۔

بیسویں صدی کے ابتدائی حصے تک ان کا استعمال ہوتا رہا۔ پھر انجن کی ایجاد نے ان کو غیرضروری بنا دیا۔ اونٹ آزاد چھوڑ دئے گئے۔ کئی ملین مربع میل کے علاقے پر پھیلے اس برِاعظم پر جانور زیادہ نہ تھے۔ اونٹ ان حالات سے اچھی مطابقت رکھتے تھے۔ یہ یہاں اچھی طرح پھیلے اور پھلے۔ آج یہاں پر دس لاکھ سے زیادہ اونٹ پائے جاتے ہیں۔ ان کے چوڑے پاوٗں اورْ خوراک ذخیرہ کرنے کیلئے ان کی کوہان ایسے علاقے میں بہت کام آئی جہاں دوسرے ممالیہ کا زندہ رہنا مشکل تھا۔ آج آسٹریلیا سعودی عرب سمیت دنیا بھر کو اونٹ برآمد کرتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اونٹ صحرا کا جانور نہ تھا۔ یہ ایشیا یا افریقہ کا جانور بھی نہ تھا جہاں پر یہ آجکل پایا جاتا ہے۔ اس کی کہانی چار کروڑ سال پہلے شروع ہوتی ہے۔ ایسی جگہ پر جہاں آپ توقع نہیں کریں گے۔ گھنے جنگل سے۔

اس خاندان کا پہلا جانور جسے ہم جانتے ہیں protypolus تھا۔ اس کا ریکارڈ ہمیں شمالی امریکہ کے جنوب مغربی حصے میں ساڑھے چار کروڑ سال پہلے ملتا ہے۔ آج یہاں پر سرخ چٹانیں اور کیکٹس ہیں لیکن ایوسین کے دور میں یہاں بہت بارشیں ہوا کرتی تھیں اور ایک سرسبز جنگل تھا۔ پروٹائیولوپس کے قریبی رشتہ داروں میں بارہ سنگے اور ہرن ہیں۔ یہ آج کے اونٹ کی نسبت ہرن سے زیادہ ملتا تھا۔ جب یہ ہمیں پہلی بار ملا تو اس کے پیر دیکھ کر سائنسدان زیادہ حیران ہوئے کیونکہ یہ ابھی گدیلے نہیں تھے۔ اس کے دانت اور جبڑے آج کے اونٹ جیسے تھے لیکن کوہان نہ تھی اور گردن اتنی لمبی نہیں تھی۔ گائے یا دوسرے جگالی کرنے والے چوپائیوں کے معدے کے چار خانے ہوتے ہیں لیکن اس کے تین تھے، ویسے ہی جیسے آج کے اونٹ کے ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ سے اس کی خوراک گھاس نہیں تھی بلکہ نرم پتے اور پھل تھی۔ ان کی کہانی کی بڑی وجہ ان کا یہ معدہ تھا۔

پروٹائیولوپس اس عہد سے نہیں بچ سکا لیکن اس کا ایک قریبی کزن poebrotherium جو اس سے بڑے سائز کا تھا، وہ یہاں کی بدلتے موسم سے زیادہ مطابقت رکھتا تھا۔ اس کی لمبی ٹانگیں تھی اور کھلے میدان میں اچھی طرح بھاگ سکتا تھا لیکن یہ بھی کھروں پر چلتا تھا۔ یہ شمالی امریکہ کے مغربی حصے میں پھیلا۔ جنگلوں اور چراگاہوں میں۔ یہ بھی پتے کھاتا تھا، گھاس نہیں۔ سوا تین کروڑ سال قبل یہ جانور ریکارڈ سے غائب ہو جاتا ہے۔ لیکن اس کی پشتوں میں ہمیں دوسرے جانور آگے بڑھتے نظر آتے ہیں، جھاڑیوں اور درختوں کی جگہ گھاس والے میدان لے رہے تھے۔ اس دور کو اونٹوں کے عروج کا دور کہا جا سکتا ہے۔ ان کی تیس سے زیادہ انواع جو camelid فیملی کہلاتی ہے، وہ اب شمالی امریکہ میں موجود تھی۔ یہ مائیوسین دور میں شمالی امریکہ کے سب سے زیادہ کامیاب سبزہ خور جانور تھے۔ ان کے چار الگ خاندان تھے جن میں سے camelinae خاندان وہ ہے جو آج کے دور کے اونٹوں کے اجداد تھے۔ ان چاروں خاندانوں میں ایک مشرک چیز ان کے پاوٗں تھے۔ یہ اب گدیلے اور چوڑے ہو چکے تھے۔ ان میں سب سے پہلے ہمیں aepycamylus کا پتہ لگتا ہے جس کی گردن زرافے کی طرح، اونچا قد اور گدیلے پاوٗں تھے۔ یہ پیر کا پچھلا حصہ زمین کے ساتھ پہلے لگاتے تھے اور اس میں بڑے پیڈ تھے۔ نئے ماحول سے ان کی مطابقت اچھی تھی۔ درخت کم ہونے کا مطلب یہ تھا کہ ان کو کھانے کے لئے زیادہ سفر کرنا پڑتا تھا۔ اس کے ساتھ اب ایک نئی جدت آئی جو کہ ان کی چال تھی۔ موجودہ اونٹ کی طرح ایک وقت میں دائیں طرف کی اگلی اور پچھلی ٹانگ ایک وقت میں آگے اور بائیں کی پیچھے اور پھر بائیں سائیڈ کی اکٹھی آگے اور پیچھے۔ یہ ویسی خاص چال تھی جو آج کے اونٹ میں نظر آتی ہے۔ اس چال کی وجہ سے لمبے قدموں پر چلنا شروع کیا اور یہ لمبے فاصلوں کے لئے بہت اچھا تھا۔ یہ چال اس کو غیرمستحکم کر دیتی ہے۔ اس کے گدیلے پاوٗں اس میں استحکام رکھنے میں مفید تھے۔ دوسرے جانور اس لئے ایسے نہیں چلتے۔

ان میں سے سب سے بڑا megatylopus تھا جو ساڑھے گیارہ فٹ اونچا تھا اور یہ وہ پہلا “اونٹ” تھا جس کی کوہان تھی۔ اس کی لمبی گردن کے نیچے کی ریڑھ کی ہڈی ہمیں اس کی کوہان کا بتاتی ہے۔ اس کی وجہ سے یہ ان جگہوں پر رہ سکتا تھا جہاں پر خوراک کی کمی تھی۔

میگاٹائولوپس نے مغربی امریکہ کو مسکن بنایا لیکن اس کے خاندان کا ایک اور ممبر peracamelus وہ پہلا جانور تھا جو شمالی امریکہ سے باہر نکلا۔ یہ بیرنگ لینڈ برج کے ذریعے ایشیا میں داخل ہوا اور اونٹ کی کہانی میں ایک نیا باب کھل گیا۔ اس اونٹ کا پہلا ریکارڈ ہمیں امریکہ میں ایک کروڑ بیس لاکھ سال پرانا ملا ہے جبکہ ستر لاکھ سال پہلے تک یہ سپین تک بھی پہنچ چکا تھا۔ اس کے فوسل ریکارڈ اس دوران میں ہمیں پورے یورپ اور ایشیا میں ملے ہیں جس میں چین، روس، ترکی اور رومانیہ شامل ہیں۔ جس سب سے عجیب جگہ پر ہمیں یہ ملے ہیں وہ شمالی کینیڈا کا السمئیر جزیرہ ہے جہاں سے 2013 میں چونتیس لاکھ سال پرانا فوسل پایا گیا ہے۔ یہ قطبِ شمالی کے قریب ہے۔ اس وقت یہاں کا درجہ حرارت آج کے مقابلے میں کم تھا لیکن یہ برفانی جگہ تھی۔ اس کا کوہان اور اس کے پاوٗں اس موسم کے لئے بھی موزوں تھے۔ کوہان یہاں کی سردی کیلئے اور پاوں برف پر چلنے کیلئے، فر سردی سے بچنے کیلئے۔ اس سخت جان جانور سے جدید اونٹ کا جینس camelus نکلا جو شمالی امریکہ سے باہر کا پہلا کیمیلڈ تھا۔ اس کی پشتوں میں سے آج کے اولڈ ورلڈ کیمل کا ارتقا ہوا۔

کئی ملین سال کے بعد ان کے سفروں کے ساتھی، انسان، کی اس دنیا میں آمد ہوئی۔ جب ان دونوں کی دوستی ہوئی تو ان دونوں نے ایک دوسرے کو ہمیشہ کے لئے بدل دیا۔ ہم نے ان میں سے کچھ کو ایشیا میں سدھا لیا۔ سب سے پہلے سدھایا جانے والا بیکٹرین کیمل تھا۔ یہ دو کوہانوں والا اونٹ وسطی ایشیا میں تھا۔ کئی اونٹ کبھی نہیں سدھائے گئے۔ ڈی این اے کا ریکارڈ ہمیں بتات ہے کہ سات لاکھ سال قبل جو بییکٹرین اونٹ نہیں سدھائے گئے تھے، وہ الگ ہی نوع بن گئے۔ آج دنیا میں یہ صرف ایک ہزار چار سو کی تعداد میں ہیں اور دنیا میں جنگلی اونٹوں کی واحد نوع ہے۔ جزیرہ نمائے عرب اور ہارن آف افریقہ میں رہنے والوں نے ان کی ایک اور نوع کو سدھایا۔ یہ وہ اونٹ ہیں جو انیسیویں صدی میں آسٹریلیا پہنچے۔

جس وقت پیراکیملس ایشیا کی طرف سفر کر رہا تھا، اسی وقت ان میں ایک نوع جنوبی امریکہ کی طرف۔ یہ hemiauchinia تھے جو جنوب کی طرف گئے۔ اس وقت شمالی اور جنوبی امریکہ بھی آپس میں مل چکے تھے۔ یہ جنوبی امریکہ میں اس خاندان کے تمام کیمیلڈ کے جد تھے۔ ان کی اگلی پشتوں میں سدھا کر آج کے لامہ اور الپاکا ہمیں یہاں ملتے ہیں۔ آج پوری دنیا میں اس خاندان کے تمام ممبران یا سدھا لئے گئے ہیں یا ختم ہو چکے ہیں۔ کیونکہ ان کی تمام خاصیتیں انسانوں کے لئے ہر دور میں مطلوب رہی ہیں۔ آج یہ شمالی امریکہ سے کیوں ختم ہو چکے؟ مائیوسین کے دور کے دوسرے حصے میں یہ علاقے سرسبز چراگاہوں میں بدلتے گئے۔ یہ علاقے اونٹ کی نسبت دوسرے جانوروں کے لئے زیادہ بہتر تھیں جن میں سے گھوڑے شامل تھے۔ جب تک یہاں پر انسان پہنچے، اس وقت تک ایک نوع کیمیلوپ یہاں پر موجود تھی۔ اس کو انسانوں نے شکار کیا۔ تیرہ ہزار سال پہلے ایک شکارگاہ سے ہمیں اس کی باقیات ملی ہیں۔ اس کے بعد یہ یہاں سے غائب ہو گئے۔ اپنے آبائی علاقے یعنی شمالی امریکہ میں اونٹوں کا باب انسانوں کی آمد کی بعد ختم ہو گیا۔ دنیا کی دوسری جگہوں پر یہ جانور انسانوں کو ان جگہوں پر لے گیا جہاں ان کے بغیر جانا اس کی مدد کے بغیر ممکن نہ ہوتا۔ اونٹ نے انسانوں کو اور انسان نے اونٹوں کو ان جگہوں سے متعارف کروایا جو ایک دوسرے کی مدد کے ساتھ ہی ہو سکتا تھا۔ ان کی یہ پارٹنرشپ آج بھی جاری ہے۔

ادارتی نوٹ: پوسٹ میں شائع کی گئی رائے مصنف کی ہے اور ادارے کا مصنف کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ بلا اجازت آرٹیکل نقل کر کے شائع کرنا کاپی رائٹ قوانین کے تحت ایک جرم ہے

تبصرے
Loading...