بلاگ

آن لائن دھوکہ دہی

پوری دنیا میں انٹرنیٹ، ایڈورٹائزنگ ٹول کی حیثیت سے تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے .پہلے آن لائن ریڈنگ کے رواج نے فروغ پایا پھر مغرب کی ہواؤں سے آن لائن شاپنگ کا نام بھی انٹرنیٹ پہ سننے کو ملا. ایسے میں حیرت ہوئی بھلا شاپنگ تو وہ ہوتی ہے جو ہم دس دکانیں پھر کر ،بھاؤ تاؤ کرکے نا چاہتے ہوئے بھی دس شاپر اٹھا ہی لیتے ہیں، گھر تک پہنچتے پہنچتے ۔پھر بھلا انٹرنیٹ پہ شاپنگ کیونکر ممکن ہو سکتی ہے ؟نہ چیز کو ہاتھ میں پکڑ کر دیکھا نہ کوالٹی خود چیک کی ۔ بھلا ہو ہماری اس دوست کا جس نے آن لائن بیکنگ کورسز کا پیج بنا کر زبردستی مجھ سے بیکنگ کلاسز کی تعریف لکھوائی ۔اسی کے طفیل یہ پتہ چلا کہ آجکل آن لائن شاپنگ ان ہے مطلب آسان بھی اور فیشن بھی ،فیشن تو اپنے آج تک خود ہی کئے اور شاپنگ امی نے. سوچا کیوں نہ چیک کر کے دیکھیں اور جب آن لائن مارکیٹنگ دیکھی تو دل چاہا ساری دنیا ہی خرید لیں ،کپڑوں سے لے کر گھریلو اشیاء انتہائی کم داموں پر بقول کمپنی اور گارنٹی کے ساتھ .اب میری حالت بھی کسی گاؤں سے امریکہ سدھارے بیوقوف عوام جیسی تھی۔

اصل میں بے وقوف کے ساتھ عوام سننے کی اتنی عادت ہو گئی ہے کہ خالی بے وقوف بھی لکھا نہیں جاتا ،خیر بات ہو رہی تھی آن لائن شاپنگ کی تو پہلی نظر میں تو صرف دیکھ کے خوش ہونے کا دورانیہ اتنا تھا کہ اگلی نشست تک فیصلہ لینا بہتر لگا ۔دنیا کے ہر برانڈ سے لے کر لوکل نشیب و فراز اور دل لبھانے والی تصاویر سے لے کر بے ساختہ خرید لینے والا سامان ایک کلک کا منتظر اور ہوم ڈیلیوری فری کی نوید نے گویا گھر بیٹھے مسائل کو دور کر دینے کی ٹھان لی۔ اسی خوش گمانی میں پہلی ضرورت کی چیز کو ترجیح دینے کا سوچا۔ نظر سلم اور سمارٹ استری پر پڑی ، ٹائیٹل بھی ٹریولنگ آئرن سوچا کہ کیا خزانہ ہاتھ لگ گیا۔ذہن میں وہ سارے حادثے آ گئے جب سفر میں بغیر استری کے کپڑے پہننا بھاری استری کے استعمال سے بہتر لگتا تھا۔یعنی اب جہاں جاؤ ساتھ استری بھی جو اتنی سلم اور جاذب نظر ہو،سو قیمت دیکھے بغیر آرڈر کر دیا جس میں تین دن کا ٹائم درکار تھا۔

مزید پڑھیں: طلاق کا ذمہ دار کون؟

وہ تین دن کپڑوں کی سیلیکشن اور ہینگر کی تعداد میں اضافے کے لئیے کافی تھے ساتھ ہی ایک ٹیبل کو آئرن سٹینڈ بنانے کا بھی انتظام ہو گیا۔تین دن بعد میری صبح اور لوگوں کی شام کے قریب کورئیر سے ایک مختصر سا پیکٹ ملا جس پر کمپنی کا سلوگن نظر آیا،سوچا اتنے چھوٹے لفافے میں تو میگزین آ سکتا ہے استری کیسے آئے گی ؟وفور شوق اور کانپتے ہاتھوں سے سائن کئے . تجسس کی انتہاؤں پہ لفافہ کو چاک کیا اور اندر سے ایک باربی آئرن کو بازیاب کیا ۔

واہ پھر سے بے وقوف بن گئے والا فقرہ گول گول دماغ میں گھومنے لگا۔ استری کا رنگ تو تصویر سے ملتا جلتا تھا مگر سائز کے معاملے میں تو حیرت انگیز کمی واقع ہوئی تھی۔ اس پہ رونا اس بات کا کہ کھلونوں جیسی استری کو اصل استری سے زیادہ قیمت پر لے لیا۔خواب تو ٹوٹتے رہتے ہیں پر اعتبار ٹوٹے تو پھر مشکل سے بحال ہوتا ہے۔ یہ تو آپ بیتی تھی ۔اپنے علاوہ نظر دوڑائی تو ایسے واقعات میں تیزی سے اضافہ دیکھا۔ کچھ آن لائن کمپنیز نے تو پیسے ایڈوانس لے کر ڈیلیوری کی سہولت بھی ختم کر دی اور ہم تو ایسے عقلمند ہیں کہ تقلید کرتےاور تنقید کرتے دماغ کا استعمال کم اور جذبات کا زیادہ کرتےہیں ، نہ ان غیر معیاری اشیاء کے خلاف کوئی آواز اٹھائی گئی اور نہ ہی آن لائن شاپنگ کے کوئی قوانین و ضوابط بنے۔قوانین اگر ہوں بھی تو ہمیں بے وقوف بنانے کے لئیے تردد نہیں کرنا پڑتا ان نام نہاد کمپنیوں کو کیونکہ فراڈ، دھوکہ دہی کی عادی قوم ایسے دھوکے آجکل آن لائن شاپنگ کے نام پر روز کھا رہی ہے۔